تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: ولید خان|

ہسپانوی حکومت نے کیٹالان کی حکومت 16 اکتوبر، پیر کے دن صبح 10:00 بجے کی ڈیڈ لائن کو دی تھی تاکہ وہ واضح کریں کہ آزادی کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے یا نہیں۔ پچھلے ہفتے بھیجی گئی یہ جواب طلبی، آرٹیکل 155 کے لاگو کرنے کیلئے ایک قانونی ضرورت تھی، جس کے مطابق کیٹالونیا کی خود مختاری معطل کی جانی ہے۔ ایک مرتبہ پھر، کیٹالونی صدر پوئمونٹ نے گول مول جواب دیا ہے۔

پچھلے ہفتے 10اکتوبر، منگل کے دن کیٹالان کے صدر نے گو مگو کی کیفیت میں کیٹالان کے ایک جمہوریہ ہونے کا اعلان کر دیا لیکن ساتھ ہی اس اعلان کو معطل بھی کر دیا۔ اگلے دن ہسپانوی حکومت نے کیٹالان کے صدر کو ایک تحریر کردہ ’’requerimiento‘‘ (جواب طلبی) بھیجا۔ اس میں راجوئے نے پوئمونٹ کو دو ڈیڈ لائنیں دیں:

 16 اکتوبر پیر کے دن صبح 10:00 بجے تک کیٹالان حکومت کو واضح الفاظ میں ہر صورت بتانا ہے کہ انہوں نے آزادی کا اعلان کیا ہے یا نہیں اور بذات خود کیا پوئمونٹ کی پارلیمنٹ میں تقریر کا مطلب آزادی کا اعلان ہے، چاہے اس پر عملدرآمد کیا گیا یا نہیں۔ جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں ہونا چاہیے۔ کسی بھی اور جواب کا مطلب ’’ہاں‘‘ لیا جائے گا!

 اور اگر جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر کیٹالان حکومت کیلئے حکم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 155 کے مطابق، اس اعلان کو واپس لیا جائے، آزادی کے اعلان کیلئے کسی قسم کی بھی سرگرمی کو فوری طور پر بند کیا جائے اور 19 اکتوبر، صبح 10:00بجے تک ہسپانوی آئین کو مکمل طور پر بحال کر کے اس کا اطلاق کیا جائے۔

ہسپانوی ریاست کی طرف سے جاری کردہ یہ انتباہ ایک واضح دھمکی تھی کہ آرٹیکل 155 کا اطلاق کیا جائے گا، جس کے مطابق ریاست کو کیٹالان کی خود مختاری میں مداخلت کی اجازت مل جائے گی۔ 

پچھلے ہفتے کیٹالان کے صدر نے معاملے کو الجھا کر کیٹالونی سرمایہ داروں، یورپی یونین اور خود پوئمونٹ کی اپنی پارٹی PDECAT کی قیادت کے اہم حصوں کے شدید دباؤ کے نتیجے میں مذاکرات کی اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس فیصلے کو تحریک کے بائیں بازو کے ریڈیکل حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ CUP نے آزادی کے فوری اعلان کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر فیصلہ فوری نہ کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ اگر CUP نے اپنی اس دھمکی کو حقیقت میں ڈھال لیا تو پوئمونٹ حکومت کی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ پوئمونٹ کی ’’حکمت عملی‘‘ کے حوالے سے اس کی اپنی پارٹی PDECAT میں کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ پوئمونٹ کے تذبذب اور ریفرنڈم کے نتائج کے دباؤ میں کیٹالان کی قومی اسمبلی (ANC) میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ANC کے سیکرٹریٹ کا مطالبہ ہے کہ آزادی کا فوری اعلان کیا جائے جبکہ اسی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری کا پوئمونٹ کی طرف رویہ مصالحانہ ہے۔

آزادی پسند تحریک کے اندر پچھلے چند دنوں سے مطالبہ بڑھ رہا ہے کہ عام کارکنان منظم ہوں، جواب دہی اور جواب طلبی کا واضح طریقہ کار موجود ہو اور یورپی یونین، عالمی ثالثوں وغیرہ کی بجائے منظم عوام پر انحصار کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ تحریک میں سابق کیٹالونی صدر آرتر ماس (جسے CUP کے دباؤ میں فارغ کردیا گیا تھا)، کیٹالونی بورژوازی اور دیگر کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔

CUP اور Endavant-OSAN، دونوں نے اس حوالے سے سخت اعلامیے جاری کئے ہیں۔ CUP سے منسلک نوجوانوں کی تنظیم آران کے نمائندے مار آمپوردانیس نے ایک بہت سخت آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا، ’’ سڑکوں پر تحرک اب اور زیادہ، جمہوریہ کے دفاع کی کمیٹیاں (CDR’s) اب اور زیادہ‘‘۔ آرٹیکل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ CDR’s کو مزید مضبوط کرنے اور ان کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے اور اداروں سے باہر لوگوں کے تحرک کیلئے ان کا اپنا سیاسی لائحہ عمل ہونا چاہیے۔

اسی دوران ہسپانوی ریاست کے قانونی اور جبری حملے تابڑ توڑ جاری ہیں۔ANC اور Omnium کے قائدین (جورڈی سانچیز اور جورڈی کوئزارت)اور کیٹالونی پولیس موسوس کے میجر تراپیرو کو جواب طلبی کیلئے میڈرڈ میں نیشنل آڈیینس کی خصوصی عدالت(جو ریاست کے خلاف تمام جرائم کا جائزہ لیتی ہے) نے دوبارہ 20ستمبر(جب ہزاروں لوگوں نے کیٹالونی حکومتی اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور کیٹالونی حکومتی عمارتوں کی تلاشی لینے سے سول گارڈ کو روکنے کی کوشش کی تھی) سے متعلق ’’سرکشی‘‘ تحقیقات (عوامی بغاوت کی شروعات)کے حوالے سے طلب کر لیا ہے۔ مقدمے کے باقاعدہ آغاز سے پہلے انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا پھر قبل از گرفتاری ضمانتوں کیلئے بہت بھاری رقوم بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔

آرٹیکل 155 کو لاگو کرنے کیلئے راجوئے مختلف تجاویز پر غور کر رہا ہے (PSOE کی مکمل حمایت کے ساتھ، جس سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ’’آئینی اصلاحات کیلئے ایک پارلیمانی کمیشن‘‘ بنایا جائے گا، جو بے فائدہ اور بے نتیجہ ہو گا)۔ ان تجاویز میں کیٹالونی حکومت کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت، ہسپانوی حکومت کے کسی وزیر کے ذریعہ براہ راست حکومت یا پھر کئی غیر منتخب سیاسی پارٹیوں پر مبنی ایک مخلوط حکومت زیر غور ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اوپر سے لاگو کیا گیا نظام حکومت چھ ماہ تک چلے گا اور پھر انتخابات کروائے جائیں گے۔ نئے انتخابات ،ایک یا کئی کیٹالونی آزادی پسند سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے کر کرائے جائیں گے تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے۔ پارٹیوں کو،’’جن کے پروگرام میں ایک کیٹالونی جمہوریہ شامل ہے‘‘، غیر قانونی قرار دینے کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں جن میں پاگل ہسپانوی قوم پرست سیودادانوس اور اب کیٹالونی PPالبیول کا لیڈر بھی شامل ہیں۔

حقیقت میں پوئمونٹ کے پاس آج کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔ یا تو وہ تحریک کو دھوکہ دے کر ایک غدار کے طور پر اپنا سیاسی کیریئر ختم کر دیتا یا پھر ڈٹا رہتا اور ہسپانوی ریاست کے ہاتھوں برطرف ہو جاتا، شاید جیل بھی جانا پڑ جاتا۔ پہلی آپشن میں یہ حقیقت بعید القیاس قرار نہیں دی جا سکتی کہ تحریک پوئمونٹ کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی جس کے بعد کیٹالان جمہوریہ کی جدوجہد کو ایک بائیں بازو کی ریڈیکل قیادت میسر آ سکتی تھی۔ دوسری آپشن میں ریاستی جبر کا یقیناً شدید عوامی مخالفت کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا جس کے نتیجے میں تحریک اور بھی زیادہ ریڈیکل ہو سکتی تھی ،جس میں دوبارہ سے قومی پہیہ جام اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا تھا اور CDR’s اور زیادہ موثر انداز میں منظم ہو سکتی تھیں۔

انہی وجوہات کی وجہ سے پوئمونٹ نے ایک بار پھر سے معاملے کو اور زیادہ الجھا دیا ہے تاکہ کچھ وقت میسر آ سکے اور ہسپانوی ریاست کو جبر کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ راجوئے کی جواب طلبی کے جواب میں پوئمونٹ نے ایک خط لکھا ہے جس میں یکم اکتوبر کے ریفرنڈم کا ذکر کیا گیا ہے اور کس طرح ’’20 لاکھ سے زائد کیٹالونیا کے لوگوں نے (کیٹالونی) پارلیمنٹ کو آزادی کا اعلان کرنے کا اختیار دیا‘‘، لیکن پھر خط آگے یہ نہیں بتاتا کہ کیٹالونی پارلیمنٹ نے اس اختیار کا کیا کیا۔ پھر وہ لکھتا ہے کہ ’’میری حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر مذاکرات کئے جائیں‘‘۔ خط کا اختتام، راجوئے سے دو درخواستوں پر مشتمل ہے:’’کیٹالونی عوام اور حکومت کے خلاف جبر کو ختم کیا جائے‘‘ اور ’’پہلی فرصت میں ایک میٹنگ کی جائے جس میں ہم کچھ ابتدائی معاہدوں کے حوالے سے بات کر سکیں‘‘۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ کیٹالان جمہوریہ کا اصل اعلامیہ (جس پر کیٹالونی پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد ایک الگ کمرے میں آزادی پسند ممبران پارلیمنٹ نے دستخط کئے تھے )خط کے ساتھ بھیجے گئے دستاویزات میں شامل نہیں ہے۔

جیسا کہ پہلے سے توقع تھی، پوئمونٹ کے خط کا ہسپانوی صدر راجوئے نے فوری جواب دیا جس میں اس نے کہا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ آپ نے 11 اکتوبر کی جواب طلبی کا کوئی جواب نہیں دیا‘‘ اور دوبارہ خبردار کیا کہ پوئمونٹ کے پاس ابھی بھی دوسری ڈیڈ لائن کے ختم ہونے تک کا وقت ہے۔ تند و تیز لہجے میں لکھا گیا خط پوئمونٹ پر یہ واضح کرتا ہے کہ یورپی یونین کے اداروں نے اس معاملے میں میڈرڈ کی حمایت کی ہے۔ خط کا اختتام ایک بار پھر دھمکی پر ہوتا ہے: ’’ یہ ابھی بھی آپ کے اختیار میں ہے کہ تعلقات کو معمول پر لا کر وفاداری کا ایک نیا دور شروع کیا جائے جو آپ سے سب مطالبہ کر رہے ہیں۔ ورنہ آئین کی مکمل بالادستی (آرٹیکل 155 کا لاگو ہونا اور اس کے نتائج) کے صرف آپ ذمہ دار ہو گے‘‘۔ سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ ’’ چپ کر کے عمل کرو یا مرنے کیلئے تیار ہو جاؤ‘‘۔ یہ ایسی زبان تو نہیں جس میں مذاکرات کئے جا سکیں!

اس ساری صورتحال میں تین پہلو انتہائی اہم ہیں:

1۔ ہسپانوی ریاست کا کیٹالان کے حق خود ارادیت کو ختم کرنے کا عزم۔

2۔ کیٹالونی حکومت کی قیادت سنبھالے بورژوا اور پیٹی بورژوا سیاست دانوں کا ایک آزاد جمہوریہ کے حصول کیلئے عزم (حالانکہ عوامی تحریک اور ریاستی جبر کے دباؤ کے نتیجے میں آج یہ وہاں کھڑے ہیں جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے)۔

3۔ عوامی بغاوت، جو بحران کو ایک نئے موڑ پر لے جا سکتی ہے۔

آخری پہلو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ 20 ستمبر کو عوامی بغاوت نے ریاستی جبر کو چیلنج کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پھر یکم اکتوبر کو عوامی بغاوت، جس میں پولنگ سٹیشنوں پر قبضے اور ان کی حفاظت شامل تھی، نے ریفرنڈم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کیٹالان میں پہیہ جام کے دن، 3اکتوبر کو عوامی بغاوت نے کیٹالونی بورژوا اور پیٹی بورژوا سیاست دانوں کی مخلوط حکومت کو مجبور کیا کہ وہ کسی بھی شکل میں آزادی کا اعلان کریں۔ لیکن جیسے ہی عوامی دباؤ کمزور پڑا، یورپی یونین اور کیٹالان کے سرمایہ داروں اور بینکاروں کا دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا جس کا نتیجہ 10 اکتوبر کا ناقابل فہم اعلامیہ ہے۔

آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ عوامی تحریک کیٹالونی حکومت کے تسلط سے باہر نکلے اور اپنے ایجنڈے پر اپنے آپ کو منظم کرے۔ اس حوالے سے ایک بہت اہم قدم ریفرنڈم دفاعی کمیٹیوں کاقومی سطح پر اکٹھ تھا (پچھلے چند ہفتوں میں عوامی سطح پر بنائی گئی کمیٹیاں جن کا یکم اکتوبر کو متعدد پولنگ سٹیشنوں کے دفاع میں اہم کردار تھا)۔ پچھلے ہفتے کے دن 91 ریفرنڈم دفاعی کمیٹیوں کے 200 مندوبین سابادیل میں یہ بحث کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے کہ آرٹیکل 155 کے لاگو ہونے کی صورت میں اگلا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ میٹنگ کے بعد ایک مختصر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ہسپانوی ریاست کے مزید جبر سے مقابلے کیلئے عوامی تحرک کی کال دی گئی(جیسا کہ آرٹیکل 155 کے لاگو کرنے کی کوشش یا نیشنل آڈیئنس کے سامنے جوب طلبی کیلئے کسی کی گرفتاری)۔ 

ہم پہلے بھی متعدد بار اپنا موقف ر کھ چکے ہیں کہ 1978ء میں قائم کردہ سیٹ اپ کے تناظر میں، کیٹالان جمہوریہ کا قیام ایک انقلابی قدم ہے جس کو PDECAT کے کمزور اور متزلزل بورژوا سیاست دان پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے(ان سیاست دانوں کو کیٹالونی بورژوازی کی بھی حمایت حاصل نہیں)۔ صرف سرمایہ دارانہ کٹوتیوں کے جبر کو ختم کرنے کے خلاف جدوجہد کے ساتھ کیٹالونیا جمہوریہ کی جدوجہد کو جوڑتے ہوئے ہی ان قوتوں کا اجتماع کیا جا سکتا ہے جو اس جدوجہد کو کامیاب کرا سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ CUP کے کامریڈ (تحریک کا سرمایہ داری مخالف ونگ) اس سوال کو اپنی جدوجہد میں اولین ترجیح دیتے ہوئے صبر کے ساتھ تحریک کی اکثریت کو اس موقف پر جیتیں۔ ایک ایسی کیٹالان جمہوریہ، جس کے پاس پچھلی ایک دہائی میں لاگو کی گئی خوفناک کٹوتیوں کی پالیسیوں (PP اور PDECAT دونوں کا یہی پروگرام ہے)کے متبادل ایک پروگرام موجود ہو، تو وہ کامیابی کے ساتھ ان ہسپانوی بولی والے کیٹالونی محنت کشوں کو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں جو ابھی تک تحریک کا حصہ نہیں ہیں ۔ حتیٰ کہ ایسے پروگرام کے ذریعے باقی ہسپانوی ریاست کے ہسپانوی محنت کشوں کی بھی حمایت جیتی جا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات اور 2015ء اور 2016ء کے ہسپانوی عام انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کیٹالان اور تمام بڑے شہروں میں ایسی بھاری اکثریت موجود ہے جو سرمایہ دارانہ کٹوتیوں کے شدید خلاف ہے اور وہ کسی بھی متبادل پروگرام کی حمایت کیلئے تیار ہوں گے۔ کیٹالان جمہوریہ کی جدوجہد صرف اسی راستے کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ تحریک میں ان لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو پچھلے کئی ہفتوں کے واقعات سے دور رس نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ،’’صرف عوام ہی عوام کا تحفظ کر سکتی ہے‘‘، ایک عوامی تحریک ہی ریاستی جبر کو منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ’’عالمی ثالثوں‘‘ پر کسی صورت بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سرمایہ داری کی لونڈی یورپی یونین پر ،کہ ان میں سے کوئی کیٹالونی عوام کے حق خودارادیت کے حق کا تحفظ کرے گا۔ تیسرا یہ کہ PDECAT کی قیادت پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد، خاص طور پر وہ لوگ جو قیادت میں دائیں جانب کھڑے ہیں اور کیٹالان بورژوازی کے ساتھ قریبی تعلق میں ہیں۔یہ ایک مثبت صورتحال ہے جس کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh