تحریر: جوش ہولرائڈ،  ترجمہ: ولید خان|
مخصوص حالات میں چیزیں اپنے الٹ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نئے صدر کی آمد سے پہلے یہ عمارت امریکی سیاسی انتظام میں اعتماد اور استحکام کی علامت تھی۔ آج یہ عمارت دیوہیکل سیاسی انتشار کا منبع بن چکی ہے۔ صدر ہونے کی منطقی حیثیت میں ٹرمپ کسی بیوڑے کی طرح تواتر سے یکے بعد دیگرے ایک اسکینڈل سے دوسرے کی جانب لڑ کھڑاتا جا رہا ہے لیکن ہر نئے تنازعے کے نتیجے میں وہ امریکی سماج میں موجود تضادات کو پہلے سے زیادہ گہرا اور واضح کرتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے سماجی انتشار کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

روس سے محبت بھرا پیغام

ٹرمپ کی الیکشن کمپین اور روسی حکام کے درمیان مبینہ تعلقات کے تنازعے پر ریاست میں بڑھتے خلفشار پر ولادیمیر پیوٹن کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ گزشتہ مہینے ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی مشیر مائیکل فلین کو منصب سنبھالنے سے پہلے ہی روسی سفیر کے ساتھ گفتگو کے حوالے سے جھوٹ بولنے پر برخاست کر دیا گیا۔ ٹرمپ کے مقرر کردہ اٹارنی جنرل جیف سیشن کو ٹرمپ کمپین میں کریملن کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تفتیش سے خود کو علیحدہ کرنا پڑا۔ الیکشن کمپین میں روسی سفیر سے ملاقات کے حوالے سے جھوٹ بولنے کے بعد ٹرمپ اب خود سب کی نظروں میں ہے۔

عام حالات میں یہ خبر کہ امریکی صدر اپنی ہی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں ایک مخالف بیرونی قوت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے زیر تفتیش ہے، ایک بہت بڑا سکینڈل ہوتی۔ لیکن آج کے حالات کسی صورت عام نہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے ان الزامات پر رد عمل تنازعات کی سب سے بڑی جڑ بن چکے ہیں۔ 4 مارچ کو ٹرمپ نے کچھ ٹوئٹ کیے جن میں اس نے سابق صدر باراک اوبامااور FBI پر انتخابات سے پہلے ٹرمپ ٹاور میں اپنے فون ’’ٹیپ‘‘ کرنے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی ساتھ ’’میکارتھی ازم‘‘ اور ’’نکسن/واٹرگیٹ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے الزامات کو اور بھی سنگین بنا دیا۔

یہ حیران کن نہیں کہ ان الزامات نے پہلے سے انتہائی حساس صورت حال کو اور بھی گھمبیر کر دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اپنے ایک مضمون ’’ٹرمپ طرز حکومت کو کشیدہ کر رہا ہے‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ مسٹر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سوائے افواج کے، تمام امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ کم و بیش کھلی جنگ کر رہا ہے۔ ان میں خفیہ اداروں سے لے کر وزارت خارجہ اورسول سروس کے تقریباً تمام ادارے شامل ہیں۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کیا ایک ایسا نظام، جس کی بنیاد ہی تعاون پر ہے، اس طرح کے حالات میں فعال رہ سکتا ہے۔ ‘‘

ریاست اپنے ہی صدر کے ساتھ تصادم کا شکار ہے۔ ایسی کوئی بھی خوش فہمی کہ ٹرمپ انتخابات کے بعد اپنے رویے اور طرز گفتگو میں تبدیلی لے آئے گا(جس کا اشارہ اس کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں تقریر میں تھا)اب دم توڑ چکی ہے۔ اس کے بجائے وہ ہر مخالفت کا جواب پہلے سے زیادہ جارحانہ انداز میں دے رہا ہے۔ عدم استحکام در عدم استحکام ہے۔ ریاست کے منتخب شدہ اور غیر منتخب شدہ دھڑوں کے درمیان یہ بے پناہ تناؤ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہ سکتا، اس تضاد کو جلد یا بدیر حل ہونا پڑے گا۔ لیکن اس ضمن میں چاہے کوئی بھی قدم اٹھایا جائے، جو کاری ضرب مجموعی طور پر پوری ریاست کی نام نہاد سا لمیت اور بالا دستی پر لگ چکی ہے، اس کا اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ ریپبلیکن سینیٹر بین ساسے نے اس صورتحال کو ’’ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کا بحران‘‘ قرار دے دیا ہے۔

دوسری طرف نام نہاد ’’خفیہ ریاست‘‘کی طرف سے موجودہ نظام کی حفاظت کا ہر قدم صرف اس کے اپنے کردار کو ہی افشا کر رہا ہے جس کی وجہ سے ریاست کے دونوں دھڑے مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت، اور اس حقیقت کے امریکی عوام پر اثرات ہی وہ سب سے سنجیدہ مسئلہ ہیں جو اس وقت امریکی حکمران طبقے کو درپیش ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مندرجہ بالا مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اس طرح کے دعوؤں کے حکومتی اداروں پر اعتماد کے حوالے سے خوفناک اثرات پڑ رہے ہیں جس کے بغیر یہ ملک (اسے سرمایہ داری سمجھا جائے) چل نہیں سکتا۔ ‘‘

جھوٹی خبریں

صرف ریاستی ادارے ہی صدر کے ساتھ تنازعات میں مصروف نہیں۔ اس وقت ٹرمپ اور زیادہ تر ذرائع ابلاغ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی امریکی حکمران طبقے کیلئے ایک اور درد سر بنی ہوئی ہے۔ 16فروری کو اپنی عجیب و غریب لیکن دیدہ دلیری سے بھرپور پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق خبروں کو ’’جھوٹی خبریں‘‘ قرار دیا، ایک ایسی سوچ جس کی پریس کانفرنس کے ابتدائی کلمات میں بھی عکاسی تھی۔ جب اس سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا تمام منفی نیوز رپورٹوں کو ’’جھوٹی خبریں‘‘ قرار دے کر وہ امریکی عوام کا پریس کی آزادی پر اعتماد ختم نہیں کر رہا تو اس کے جواب میں ٹرمپ نے صرف یہ کہا کہ ’’ میں یہی کرتا ہوں۔ ‘‘ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تنازعات جو ماضی میں کسی بھی سیاستدان کا کیریئر تباہ کردیتے تھے ٹرمپ کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس حوالے سے کئی تجزیہ نگار اور ماہرین ’’بعد از سچائی‘‘(post truth) دور گردانتے ہوئے اسے مکاری اور سازش کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جس کا ’’ماسٹر مائینڈ‘‘ پیوٹن ہے۔ لیکن حقیقت میں ٹرمپ موجودہ بحران کی وجہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی پیداوار بھی ہے۔

امریکی عوام کا ذرائع ابلاغ پر اعتماد پچھلی ایک دہائی سے تواتر کے ساتھ گرتا آ رہا ہے۔ ستمبر 2016ء میں گیلپ کے ایک سروے کے مطابق، انتخابات سے پہلے صرف 32فیصد لوگوں نے کہا کہ ان کا ذرائع ابلاغ پر ’’بے حد‘‘ یا ’’کچھ کچھ‘‘ اعتماد ہے جو کہ 1972ء سے شروع کیے گئے اس سروے کی سب سے کم ترین شرح ہے۔ اعتماد کی شرح تمام سماجی پرتوں میں گری ہے لیکن یہ خاص طور پر ریپبلکن اور 49-18سال کی عمر کے لوگوں میں سب سے زیادہ ہے۔ عوام کے اس نامیاتی عدم اعتماد کے نتیجے میں ٹرمپ کو ذرائع ابلاغ میں اپنی نامزدگی کی شدید مخالفت کے باوجود بغیر کسی نقصان کے جیتنے کا موقعہ ملا۔ اور اس وقت یہی وہ بحران ہے جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ ایک بند گلی میں آن کھڑی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد ’’بعد از سچائی‘‘ دور کا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک کے نام نہاد ’’آزاد ذرائع ابلاغ‘‘ کی سچائی کو مسخ کرنے یا صریحاً جھوٹ بولنے کی آزادی کو اب عوام نے جھٹلا دیا ہے۔ جب ٹرمپ یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’بدقسمتی سے واشنگٹن، نیو یارک، لاس اینجلس میں خاص طور پر ذرائع ابلاغ عوام کی ترجمانی کرنے کے بجائے خاص مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان افراد کی ترجمانی کرتے ہیں جو ایک برباد نظام سے منافع کما رہے ہیں‘‘، تو وہ اسی بڑھتے ہوئے غم و غصے کو بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

لینن نے کہا تھاکہ’’حقائق بہت ڈھیٹ ہوتے ہیں‘‘ اور یہی ٹرمپ کی بد قسمتی ہے۔ ٹرمپ کے پاس عالمی معاشی بحران کا کوئی حل نہیں؛ وہ صرف بڑی اجارہ داریوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ اور درآمدگیوں پر ٹیکسوں کی بھرمار کی بڑھک مار سکتا ہے جس کے مستقبل میں تباہ کن اثرات ہوں گے۔ اس اثنا میں اس کے ’’ایگزیکٹیو احکامات‘‘، جن میں مسلمانوں کے خلاف پابندیاں اور میکسیکو کے ساتھ دیوار بنانے کو شروع کرنے کے احکامات بھی شامل ہیں، پہلے سے موجود عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکائیں گے۔ ٹرمپ بالآخر اپنے آپ کو نہ صرف عدم اعتماد کا شکار حاوی میڈیا کے حملوں کی زد میں پائے گا بلکہ اپنی حمایتی پرتوں کے ہاتھوں بھی مجروح ہو گا جو اس کی بیوقوفانہ گیدڑ بھبکیوں کو حقیقت کا روپ نہ دینے کی صلاحیت سے تنگ آ چکے ہوں گے۔ اس انتشار میں، اس نظام کے پاگل پن اور کرپشن کے خلاف بڑی تیزی کے ساتھ ایک حقیقی متبادل کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟

ایک نئی سیاسی پارٹی

ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ساری دنیا میں سرمایہ داری کے بنیادی تضادات کی وجہ سے موجودہ نظام میں پڑنے والی دیو ہیکل دراڑیں دہائیوں پرانے طاقتور اداروں کو یکے بعد دیگرے بحران میں دھکیلتی چلی جا رہی ہیں۔ حکمران طبقہ اب ماضی کی طرح حکمرانی کرنے کے قابل نہیں رہا؛ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں بے پناہ انقلابی امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ بند گلی میں کھڑی امریکی ’’جمہوریت‘‘ اور عوام کی جانب سے رد کردہ ڈیموکریٹس کی’’کم تر برائی‘‘ کی رٹ کا نتیجہ ہے۔ ابھی سے ہی، اپنی بے پناہ ہلا شیری اور کانگریس پر مکمل ریپبلکن کنٹرول کے باوجود، ٹرمپ کا صورتحال پر اتنا ہی کنٹرول ہے جتنا اس کے مخالفین کا۔ یہ ٹرمپ اور اس کی پالیسیاں نہیں ہیں جن کی وجہ سے امریکی بورژوازی خوفزدہ ہے، یہ عوامی رد عمل ہے، جس کا ایک منظر ہم نے جنوری میں دیو ہیکل خواتین مارچ کی صورت میں دیکھا تھا جس کی وجہ سے حکمرانوں پر لرزہ طاری ہے۔ ’’سماجی تحریکوں کے قبرستان‘‘ ڈیموکریٹس کے اندرونی انتشار کی وجہ سے اس بات کی اب کوئی ضمانت نہیں رہی کہ ایسی کوئی بھی تحریک قابل قبول ’’محفوظ‘‘ راستوں پر ڈال کر زائل کر دی جائے گی۔

دیو ہیکل امریکی محنت کش طبقہ پل بھر میں بآسانی ٹرمپ، دائیں بازو کے متبادل اور پوری فرسودہ اسٹیبلشمنٹ کو پرے پھینک سکتا ہے لیکن اس کے لیے اسے لبرلزم اور سامراجیت کی دم چھلا سیاست سے علیحدگی اختیار کرنی ہوگی۔ ٹرمپ کے خلاف جدوجہد ایک نئی تحریک کی نشاندہی کر رہی ہے جس کی بنیاد پر سماج کو از سر نو استوار کیا جا سکتا ہے۔ اس تحریک کو ایک نئی سیاسی پارٹی چاہیے! ہر گلی اور محلے، ہر سکول اور یونیورسٹی، ہر فیکٹری میں ایک سوشلسٹ پروگرام کے گرد منظم کروڑوں لوگ، جو اس نظام کو رد کر چکے ہیں، امریکہ اور اس کے ساتھ پوری دنیا کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس جدوجہد میں امریکی محنت کشوں کو امریکہ، برطانیہ اور ساری دنیا میں عالمی مارکسی رجحان کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh