تحریر ۔ دانیال رضا

 چودہ مارچ  2017 کو انصاف کی یورپی عدالت نے کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ کسی قسم کی ظاہری مذہبی علامت پہننے سے اپنے ملازمین کو منع کر سکتی ہیں۔اس حکم نامے کے تحت اب یورپی کمپنیاں اپنے ملازمین کو حجاب پہننے سے  روک سکتی ہیں  اور  حجاب  پہنے پر  کسی بھی عورت کو اس کے کام سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔  

اس مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بلجیئم میں کمپنی جی فور ایس نے ایک ریپشنسٹ کو حجاب پہننے پر ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔ جسے عدالت میں چیلنج  کیا گیا تھا ۔دفاتر میں حجاب پہننے کے معاملے پر یہ  یورپی عدالت کا پہلا فیصلہ ہے ۔ جو عورتوں میں پردے کے رجحان کو کم نہیں بلکہ بڑھنے اور عورتوں کی آزادی کو کم کرنے کا فیصلہ ہےکیونکہ اب باپردہ عورتوں پر ملازمتوں کے دروازے بند ہو جائیں گئے اور انکی معاشی آزادی ہی جو انکی سماجی آزادی ہے بالکل ختم ہو جائے گئی ۔ 

اسی دن پاکستان میں ہولی کا تہوار منایا گیا اور  کراچی  میں ہندو ں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم نواز شریف نے نہایت بھونڈے طریقے سے  مذہب  اسلام  کی ایک لبرل شکل بنا کر پیش کر رہے تھے جبکہ اس کے خلاف پنجاب حکومت ، پنجاب میں حجاب کو لازمی قرار دینے کی  درخواست پیش کر رہے تھے ۔اور حجاب کرنے والی طالبات  کو پانچ نمبر اضافی   دینے کی بھی   دوخواست کی گئی ۔

اس سے ایک دن قبل امریکہ میں حجاب کا عالمی دن منایا گیا ۔

حجاب اور عورت کے پردے پر  وہ  مردو زن  باتیں کررہے ہیں ، قوانین بناتے ، فیصلے کرتے  اور قرادر دایں پیش کرتے ہیں جنکا  حجاب سے دور کا بھی  کوئی واسطہ  ہی نہیں ہوتا انکو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ  اصل میں حجاب یا   پردہ کیا ہے اور  کون سی عورتیں یہ کیوں کرتی ہیں  اس لیے یہ حکمران حجاب کو  بڑے مصنوعی طریقے سے دیکھتے ہیں اور اسے پیش کرتے ہیں جبکہ  موجودہ  معاشرے میں  عورت کی محرومی کے ٹھوس جواز موجود ہیں جسکی ایک شکل پردے یا حجاب کی شکل میں نظر آتی ہے جس میں عورت کو آدھی ، کمزور ، ناقص علم وعقل ، چادر چادیواری وغیرہ کی اہل قرار دیا جاتا ہے  ۔ اس لیے  عورتوں میں حجاب  کیوں ہے کو سمجھنے اور  اسے اجاگر کرنے  کی بجائے  اس  پر  سیاسی  اور معاشی دھندے کیے جاتے ہیں ۔  جس سے موجودہ نظام میں جنسی بنیادوں پر محرومی  کے مسائل کو دبایا  جاتا ہے  اور طبقاتی  استحصال کے ساتھ ساتھ درجاتی استحصال کو قائم رکھنے  کے لیے اس کو  ایشو بنا یا جاتا ہے اور عوامی تحریکوں  کو تقسیم اور تفریق  کرنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ غیر اسلامی  اور  سیکولر ممالک میں بھی خواتین  پر ظلم و زیادتی کا زریع بن چکا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ٹیکسٹائل کی اجارہ داریاں  اس پر مالیاتی دھند ے کر رہی ہیں ۔

پاکستان میں تو مذہب اور معاش کے جبر نے برصغیر کی آزاد تہذیب و ثقافت کی کسی کنواری لڑکی کی طرح  عزت لوٹ کر اسے خاکستر کر دیا ہے۔

یورپ  میں بھی بڑی بے روزگاری  ، اجرتوں میں کمی اور خاص طور پر  مساوی کام کے عورتوں کی مردوں کی نسبت 25 فیصد کم اجرت  اور مسلسل ریاستی کٹوتیوں سے گرتے معیار زندگی  نے اور کسی متبادل کی عدم وجودگی نے  عوام میں معاشی عدم تحفظ کو بڑھایا ہے جن میں تارکین وطن سب سے زیادہ متاثر ہو رہے  ہیں   جس سے  ماضی کے تعصبات کو زندہ  ہونے کے جواز مل رہے ہیں ۔اسلام کے لیے اور اس کے خلاف تحریکیں ، نسل پرستی ، قومی تعصب ،مہاجرین پر حملے یہ سب موجودہ مالیاتی نظام کی ناکامی اور حکمرانوں کی نااہلیت ہے جو ترقی یافتہ سماجوں کو بربریت میں دھکیل رہے ہیں ۔

اسلام کے نام پر  مسلسل دہشت گردیاں جس کی پشت پناہی بے شک عالمی حکمران اور ریاستیں   ہی   کر رہی ہیں  اور اس کے ساتھ   یورپ میں  مقیم غیر ممالک کے محنت کشوں کی  سیاسی اور اقتصادی کمزور حالت  نے  انہیں  اپنی پسماندہ  تہذیب و ثقافت  کی طرف رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ جس میں یورپی سرمایہ دارانہ نظام کی  کمزوری  ہے جو غیر ملکی مزدوروں کو اپنے معاشرے میں ضم نہیں کر سکے ۔

مغرب میں  بہت سے  اسلامی  تارکین وطن   کا اپنے آپ کو مقامی لوگوں میں شامل نہ کرنا  ، زبان پر عبور حاصل نہ کرنا  اور خاص طور پر یہاں کی  سوشل اور مزدور تحریکوں کا حصہ نہ بننے نے ان کے اندر تنہائی اور بیگانگی کی کیفت پیدا ہوتی ہے  جس سے یہ مذہب میں پناہ  ڈھونڈتے ہیں  جس کا شکار سب سے زیادہ انکی خواتین ہیں جو حجاب یا پردے میں عام نظر آتی ہیں ۔

نفسیاتی سائنس کی رو سے   پردہ  یا حجاب  خواتین میں  سماجی کمتری کا احسا س    ہے جو   ان میں  سماجی احساس محرومی  کو جنم  دیتا اور اسے مزید ابھارتا   اور مضبوط کرتا ہے ہے  اس کے  علاوہ  ،  کسی بھی سماج میں معاشرتی  نابرابری   یا درجاتی تفریق     انسانی شعور اور سماجی کردار  کو بگاڑ دیتے ہیں   ۔جس سے   سماجی رویے  اکثر غیر متوازن  ہوجاتے ہیں   اور ان میں  احساس کمتری یا احساس برتری  کی اخلاقی  غلاظت   امڈ آتی ہے  اور انسانی رویے اور کردار متواز ن نہیں رہتا   جس سے انتہا پسندی اور مفاد پرستی    جیسے سماج دشمن رویے   عام معمول بن جاتے ہیں    ۔جو نہ صرف ازواجی زندگی ، خاندانی رشتے بلکہ تمام سماج کی بربادی کا سبب بنتے  ہیں  ۔ انتشار اور خلفشار سماج کی ہر رگ میں دوڑنے لگاتا ہے جس سے انسان اور سماج دونوں بیمار ہو جاتے ہیں ۔

خواتین  کی   زنجیریں   چادر اور چار دیواری  میں  صرف  اسلام  کا ہی  قصور نہیں ہے بلکہ یہ  منڈی   میں مردانہ حاکمیت کے سماج کا  جرم ہے جس نے عورت کو ایک سیکس کی جنس بنا کر   اسکی آزادی کو گھر میں   گھو نٹے سے باندھ دیا ۔اس لیے کہ عورت کا حجاب  ہر مذہب میں تقریبا  اسلام کی طرح ہی ہے بس اسلام میں زرا  زیادہ ہے ۔   مذہبی  عیسائی عورتیں بھی پردہ کرتی ہیں ،  جیسے  نن ،  پادری عورتیں، یہودی خواتین  بھی  پردہ کرتی ہیں   لیکن  ہندو عورتوں میں پردہ   شاید کچھ کم اس لیے ہے کہ ہندو مذہب مدرسری اور پدر سری نطام کے عبوری دور  کی پیداوار ہے جب مرد مکمل طور پر حاکم نہیں ہوا تھا ۔ اس لیے جوں جوں منڈی کے نظام میں پیداواری زرائع  پر  مردانہ حاکمیت مضبوط ہوتی گئی  معاشی اور سماجی طور پر عورت کمزور  اور محکوم  ہوتی چلی  گئی اور اسلام کیونکہ قدیم مذاہب میں سب سے آخر میں آیا تھا ۔   تب تک مین شاونزم سماج  کو مکمل طور پر جکڑ چکا تھا    اس لیے اس میں عورت پہلے سے  زیادہ مجبور اور لاچار ہوگئی ۔ جو اس کے حجاب  کی کیفیت سے واضح   ہوتا ہے ۔

آج کل تو حجاب ایک تماشا   اور بڑا  ٹریڈ مارک بن گیا ہے جہاہل اور بے ہودہ  افراد  باپردہ عورتوں کو پاکیزہ اور مقدس خیال کرنے لگے ہیں چاہیے یہ   بے چاری  ظلمتوں کی ماری  کوئی رنڈی  ہی ہو  جو اپنے مردانہ سماج کے  گناہ اس پردے میں چھپائے  بیٹھی ہو ۔ جبکہ سماجی زوال کی  بلندی  سے  شعوری پسماند گی   رواج پا گئی ہے    اور ملا کی دوکان چمک اٹھی ہے جس نے   عورت کے پردے  کو  ایک بڑی  مارکیٹ  بنا دیا ہے ۔ اب بڑے بڑے سرمایہ کار اور عالمی  ا جاراہ داریاں  حجاب کی  منڈی میں  بڑی بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہیں  اور ملبوسات کے مغربی برانڈز کی جانب سے خواتین کے لیے اسلامی حجاب یا عبایا کو اب فیشن ایبل ہیڈ اسکارفس  کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں معروف اطالوی ڈیزائنر ڈولچے اينڈ گبانا بھی پیش پیش ہيں۔ سویڈش کمپنی ایچ اینڈ ایم کی پاکستانی اور مراکشی نژاد ایک برطانوی نوجوان لڑکی ماریا ادریسی ایک اسلامی ماڈل کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہے۔ مینگو نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ماہ رمضان کے لیے خصوصی اسلامی اور سیکسی  ملبوسات متعارف کرائے ہیں۔ اسی طرح ’ڈی کے این وائی‘ نے بھی اسلامی طرز کی ملبوسات پر توجہ دینی شروع کر دی ہے جبکہ مارک اینڈ اسپینسر اپنی مسلم خواتین صارفین کے لیے بُرکینی فروخت کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے جسم کو مکمل طور پر ڈھک کر سوئمنگ کی جا سکتی ہے۔

جرمن فیشن ڈیزائنر وولفگانگ یوپ ایرانی دارالحکومت تہران میں اپنی ایک دکان کھولنا چاہتے ہیں۔ وہ    بھی اس اسلا می عالمی  مارکیٹ میں اپنی دوکان چلنے کے لیے کہتے ہیں کہ ان کی نظر میں اسلامی لباس خواتین کی آزادی کا عکاس ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’ میرے لیے مشرقی لباس، ثقافت اور اِن کا انداز انتہائی پرسرار اور جنسی حوالے سے بہت پر کشش ہے۔‘‘ ایچ اینڈ ایم کی ماڈل ماریا ادریسی کے مطابق، ’’وہ قرآن پر ایمان رکھتی ہیں۔ تمام مردوں اور عورتوں کو پردہ کرنا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہيں کہ ان کے خیال میں حجاب کو نارمل ہونا چاہیے۔ ماریا کے بقول اس مقصد کے لیے حجاب کا  سیکسی اور پر کشش دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔

  اسلامی حجاب یا پردے کو  غیر اسلامی ملٹی نیشن کمپنیوں خوب استعمال کر کے خوب کمائی کر رہی ہیں جس کو ملا اپنے دھندے کے لیے لازمی قرار دیتا ہے ۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اسلامی حجاب کے عالمی کاروبار کسی کفر  کی وجہ سے نہیں بلکہ ملا کے اسلام کی وجہ سے قائم  ہیں جو کمزور اور مظلوم  عورت کی بے بسی پر  حجاب کے دھندہ کرتے ہیں۔

عورت کی حقیقی آزادی اسکی سماجی آزادی سے منسلک ہے جو مکمل معاشی تحفظ اور اس میں سر گرم حصہ لیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ عورت کی آزادی کو کسی بھی معاشرے میں انسانی زندگی کی تعمیر وترقی کے لیے بنیاد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ آزاد ماں کے بغیر کوئی نسل اور قوم آزاد ہونے کا حق نہیں رکھتی۔ اس لیے تمام فلسفر اور دانش مند ہر سماج کے تجزیے کے لیے عورت کی سماجی آزادی کو معیار بناتے ہیں

0
0
0
s2smodern

Comments   

+1 #4 محمد جمیل کراچی PK 2017-03-28 18:09
Excellent Article On Hajab and Women
Quote
+2 #3 افتخار محمدْ۔ کویت 2017-03-26 16:43
دانیال صاحب زبردست ۔ آپ مسائل کو بڑی گہرائی اور منطق سے بیان کرتے ہیں ۔ میں آپ کے تمام مضمامین اپنے دوستوں کو بھی میل کرتا ہوں ۔اور وہ بھی آپ کا ہر مضمون بڑی سنجیدگی سے پڑھتے ہیں ۔
Quote
+2 #2 M.Akmail - USA 2017-03-26 16:37
معذرت سے لیکن آج کی اصل حقیقت یہی ہے ہر چیز پر دھندہ ہوتا ہے۔ دانیال صاحب آپ دھندے کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں ۔ :-)
Quote
+3 #1 khurshid 2017-03-26 12:25
Danial you have done a great job
thanks a lot for writing and publishing this article
Quote

Add comment


Security code
Refresh