تحریر ۔ دانیال رضا

آٹھائیس اکتوبر دو ہزار بارہ کو فرینکفرٹ میں اکتوبر انقلاب کی سالگرہ پر ایک تاریخ ساز شاندار پروگرام جرمن اور اردو دو زبانوں میں ہوا تھا جس میں جرمن اور پاکستانی کیمونٹی کی ایک بڑی تعددا نے شرکت کی اس پروگرام میں دانیال رضا نے اپنا مقالہ ،،روس ۔ بالشویک ازم سے سٹالنزم تک ،، ۔ پڑھا جو مندرجہ ذیل ہے اور یہ مختلف مقامی اور  عالمی اخبارات میں شائع بھی ہوا تھا جو آج بالشویک انقلاب کی سوویں سالگرہ پر اس مقالے کو ایک بار پھر من وعین شائع کیا جا رہا ہے ۔

کوئی مستقبل اپنے ماضی سے کٹ کر نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ماضی نہیں اس کا کوئی مستقبل بھی نہیں جبکہ عوام ہمیشہ زمانے اور وقت سے ہی سیکھتے ہیں اور اسی تناظر میں آج کے پروگرام کا موضوع ،، بالشویک انقلاب کے پچانویں سال،، ہے ۔ یہ بالشویک انقلاب باذات خود تو نوماہ پر محیط تھا لیکن اس کی تاریخ سترسالوں پر دراز تھی ۔ لیکن میں کوشیش کروں گا کہ آج کے کم ترین وقت میں اس کا مختصر جائزہ پیش کر سکوں ۔

عام طور پر سماج پر حاوی سوچیں اور نظریات ہمیشہ حکمران طبقات کی طرف سے مسلط کردہ ہوتے ہیں ۔ جس کے لیے وہ تمام سماج اور ریاست کو اپنے مفادات کی آبیاری کے لیے منظم کرتے اور ترتیب دیتے ہیں جس میں پارلیمنٹ ، عدلیہ ، فوج ، انتظامیہ ،زرائع ابلاغ ، تعلیمی ادارے ، سیاسی اور سماجی پارٹیاں یہ تمام حکمران طبقات کی سوچ اور حکمرانی کو قائم رکھنے کے آلہ کا ر ہوتے ہیں ۔ لیکن جب بھی کسی سماج میں عوام کی زندگیاں تنگ ہوتی ہیں ، سماجی گھٹن بڑھتی ہے اور رائج الوقت نظام اس کے ازالے میں ناکام اور نامراد ہوتا ہے تو اسکے خلاف عوامی مذاحمتیں اور بغاوتیں ابھرتیں ہیں اور انقلابات برپا ہوتے جو سماج کو ترقی اور آزادی کی نئی اور عظیم سطحوں سے روشناس کرتے ہیں اسی لیے انقلابات تاریخ میں غیر معمولی واقعات کہلاتے جو ہر روز نہیں ہوتے ۔ یہ معروض اور داخلی عوامل کے جدلیاتی امتراج اور ملاپ سے جنم لیتے ہیں اور انقلابی پارٹی کی قیادت میں ہی اپنے حقیقی مقاصد سے ہم کنار ہوتے ہیں عام حالات میں یہ ان مٹ نظر آنے والا زمانہ اور وقت سب کچھ بدل کر رکھ دیتے ہیں انسانی تاریخ ایسے واقعات اور ا نقلابات سے بھری پڑی ہے ۔ ٹراٹسکی لکھتا ہے کہ جب عوام اپنے سروں پرمسلط نیلے آسمان کو اوپر سے دیکھنا شروع کر دیں گئے جو پیلا ہے تب انقلاب پربا ہوتا ہے ۔ اکتوبر انیس سو سترہ میں بھی روس کی سر زمین پر یہی ہوا تھا جہاں پیرس کیمون کے بعد بالشویک پارٹی نے لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں دنیا کے عظیم ترین سوشلسٹ انقلاب سے مارکسزم کی سچائی پر مہر ثبت کی ۔

ترقی پذیر ممالک کے جہاں بہت سے سیاسی اور سماجی  درد ناک المیے ہیں وہاں علمی اورذہنی المیے بھی کم نہیں ہیں جو ان سماجوں میں غیر مساوی ٹھوس سماجی حالات کے خلفشار اور پسماندہ ثقافت سے جنم لیتے ہیں ۔ جس سے اکثروبیشتر روائتی دانشوار اور عالم و فاضل بھی مقامی اور عالمی حالات کا حقیقی تجزیہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت کھو دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے نام نہاد دانشوار حضرات بالشویک انقلاب کے تمام عمل اور ارتقا کو بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔ عالمی مالیاتی نظام کے بحرانوں نے تو ویسے ہی سرمایہ داری کے عالمی ماہرین اور دیوتاوں کی مت ماری دی ہے اور وہ ہر سچائی اور حقیقت معلوم ہونے کے باجود  اسے بیان کرنے سے معزور ہیں ۔ جس سے تاریخ اور فلسفے کے طالب علموں کو یہ معلوم ہو سکے کہ بالشویک انقلاب کیوں اور کیسے آیا روسی سماج میں اسکی گنجائش کیونکر بنی اور ستر سال بعد اس کی ٹوٹ پھوٹ اور زوال پذیری میں کن ٹھوس حقیقی عوامل کا عمل داخل تھا ۔ کیونکہ سماجی سائنس کا ہر طالب علم یہ جانتا ہے کہ کوئی بھی واقعہ اپنی ضرورت کے بغیر جنم نہیں لیتا اور اسکے پس منظر میں حالات و واقعات کا ایک اٹوٹ لیکن تغیر پذیر تسلسل ہو تا ہے اور ہر واقعہ کسی مقدار کی معیا ر میں تبدیلی کا ہی اظہار ہوتا ہے ۔

روسی سماج میں تبدیلی کے تاریخی پیچیدہ عمل کی وضاحت نہ کرنے کی صلاحیت مقامی اور عالمی روائتی دانشواروں کو استحصالی حکمرانوں کی پیچ پر کھلنے پر مجبور کر دیتی ہے جس سے یہ سوشلزم اور انقلاب کے خلاف در انقلابیوں کی بڑک بازی کا حصہ بن جاتے ہیں اور انہی کے میدان اور پیچ پر شیخ چیلیوں کی طرح سوشلزم کے خلاف چوکے چھکے مارتے نظر آتے ہیں انکا عوام اور عوامی تحریکوں سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عوام کی مخالف ٹیم میں کھیلنے والے ہیں جسکا محنت کش عوام کو بڑی جرات سے بے باک مقابلہ کرنا ہوگا ۔ انہی سرمایہ کے آگے سجدہ ریز دانشواروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ گرنے والا گہرائی نہیں دیکھتا اور آخیر میں یہی ترقی پسند اور نام نہاد انقلابی عوام کو شعودری یا لا شعوری طور پر مایوسی ، پسماندگی اور رجعتی پرستی کا درس دینے لگتے ہیں مرتا پاکستانی سماج آج انہی سٹالنیسٹوں ، ترقی پسند دانشواروں اور صحافیوں کا ڈاسا ہوا ہے ۔

لیکن اگر ہم واقعی بالشویک انقلاب کے عروج و زوال کی داستان کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہتے ہیں اور دنیا میں کہیں بھی کسی تبدیلی کے طلب گار ہیں تو پھر ہمیں کیمونسٹ مینی فسٹو سے آغاز کرنا ہوگا اور لیون ٹراٹسکی کی کتاب ،، انقلاب سے غداری کے ساتھ ساتھ ٹیڈ گرانٹ اور ایلن وڈ  کی کتاب ،، روس انقلاب سے رد انقلاب تک ،، کاگہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا جس کے بعد ہی ہم اس اہل ہو سکیں کے کہ علم اور شعور کی بنیاد پر بالشویک انقلاب کے متعلق سچائی کہہ سکیں ۔

بالشویک انقلاب پر آج ہم یورپ کے حکمران  ملک اور میٹروپول سٹی فرینکفرٹ میں اس لیے بحث کر رہے ہیں تاکہ مستقبل قریب میں یورپ اور پاکستان میں اٹھنے عوامی تحریکوں اور سرکشیوں کو ایک درست سمت دینے کے لیے پاکستان اور یورپ میں عوامی انقلاب کی جدوجہد کو عالمی مزدور تحریک سے منسلک کر کے منظم کر سکیں ۔ کیونکہ پاکستان کے انقلاب کا حقیقی دفاع ا ور اسکے استحکام کی ضمانت پاکستان کے اندر سے زیادہ باہر سے ہونے والی جدوجہد کرئے گی اورآج کا یہ پروگرا م اسی کی کڑی ایک ہے۔

جنوری انیس سو انیس میں جان ریڈ نے لکھا تھا ،، بالشویک ازم کے بارے میں کسی کی کوئی بھی رائے کیوں نہ ہو لیکن یہ ایک ناقابل ترید حقیقت ہے کہ روسی انقلاب انسانی تاریخ کے عظیم واقعات میں سے تھا اور بالشویکوں کا اقتدار عالمی اہمیت کا مظہر تھا جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ،، ۔

کسی بھی انقلاب میں ہمیشہ انقلابی پارٹی بنیادی اہمیت اور حیثیت کی حامل ہوتی ہے جس کے بغیر دنیا کا کوئی انقلاب ممکن اور مکمل نہیں ہوسکتا ۔ اگر ممکن ہوتا تو عرب ، مڈل ایسٹ ، لاطینی امریکہ اور یورپ کی حالیہ عوامی تحریکیں اور بغاوتیں کب کی کسی جانی اور مالی نقصان کے بغیر انقلاب برپا کر چکی ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی میں یہ انقلابی عمل مزید پیچیدہ اور پرتشدد ہو گیا ۔ دیر یا بادیر ان انقلابی تحریکوں کو کسی نہ کسی رخ لازمی بیٹھنا ہوتا ہے انقلاب یا پھر رد انقلاب کی فتح کی صورت میں ۔ کیو نکہ کوئی بھی سماج زیادہ لمبا عرصہ تک ہیجانی کیفیت میں نہیں رہ سکتا ۔ حالیہ دنیا میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں کو ابھی کسی رد انقلاب کا سامنا نہیں ہے بلکہ انقلابی قیادت کی عدم موجوگی میں یہ انقلابی عمل لمبا اور گھمبیر ہو گیا ہے جس سے مستقبل میں کئی مرحلے آئیں گئے ۔ انقلاب اور رد انقلاب کے درمیان واضح جنگ مختلف شکلیں اختیار کر ئے گئی اور آخیر میں لازما اسکا فیصلہ کسی ایک کی جیت میں نکلے گا ۔ آج کے عالمی حالات دیکھ کر لیون ٹراٹسکی کا یہ فقرہ سچ ثابت ہوتا ہے کہ ،، آج کا عالمی اشتراکی انقلاب قیادت کے بحران میں سمٹ گیا ہے ،، ۔

کیمونسٹ مینی فسٹو میں کارل مارکس لکھتا ہے کیمونسٹ کھبی بھی تعصب پسند اور تفرقہ پرور نہیں ہوتے ۔ وہ مزدورں اور عوام کے مقابلہ میں کبھی اپنی الگ فرقہ وارانہ پارٹیاں نہیں بناتے بلکہ یہ ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ اور انکے شانہ بشانہ انقلابی جدوجہد کو اجتماعی طور پر آگے بڑھتے ہیں ۔ لینن کہتا ہے کہ انقلابیوں کا صرف یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے نظرایات کا مستقل مزاجی اور صبر سے مسلسل پرچار کریں ۔

انقلابی پارٹی ٹھوس نظریہ پر قائم ہوتی ہے لیکن اس کی حکمت عملی لچکدار ہو تی ہے طریقہ کار پر مصالحت اور تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن نظریات نا قابل مصالحت ہوتے ہیں ۔ اکتوبر( نئے کینڈر کا نومبر) ا1917 کے اشتراکی انقلاب کی کامیابی میں بھی بالشویک پارٹی کا مارکسی نظریہ اور اس پر تعمیر درست لائحہ عمل ہی تھا جسکی فتح اکتوبر انقلاب کی صورت میں واقع ہوئی ۔ بالشویک انقلاب ٹراٹسکی کے نظریہ مسلسل انقلاب کی سچائی اور منشویکوں کے قومی جمہوری انقلاب کی تردید کا ثبوت بھی تھا ۔

منشویکوں کا خیال تھا کہ روس میں پہلے بورژوا یا قومی جمہوری انقلاب کی ضرورت ہے جس کے بعد سوشلسٹ ا نقلا ب کیا جاسکے گا ۔ لیکن ٹراٹسکی اس کے خلاف تھا اس کے نزدیک سامراجی ممالک کے عالمی منڈی پر قبضے اور جکڑ نے مزید صنعتی انقلابات جو یورپ میں برپا ہوئے تھے کا راستہ روک دیا ہے ۔ کیونکہ صنعتی ترقی یا زرائع پیداوار کی جدیدیت نے سرمایہ داری میں زائد پیداوار کے بحرانوں کو جنم دیا ہے جسے عالمی حکمران کنٹرول کرنے میں نااہل اور بے بس ہیں جس سے وہ اب ترقی پذیر ممالک میں صنعتی انقلاب برپا کرنے کی بجائے یہاں کی ستی لیبر اور خام مال استعمال کر کے اپنے شرح منافع کو بڑھتے ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک کا حکمران طبقہ تاریخ میں دیر سے داخل ہوا جس سے یہ عالمی اجاردایوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے ان ملٹی نیشنل  کی عالمی جکڑ میں ترقی پذیر ممالک کا حکمران طبقہ سرمایہ درانہ انقلابات کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اب اسکی زندگی کا انحصار اور دارومدار عالمی منڈی کے حکمرانوں کی گماشتگی،غلامی اور ایجنٹی پر ہے جو وہ کر رہا ہے یہ یہی کر سکتے ہیں اور یہ یہی کریں گئے اس لیے اب بورژا ا نقلاب کا فریضہ بھی مزدور طبقے کو ہی براہ راست سوشلسٹ انقلاب کے زریعے ہی ادا کرنا ہو گا ۔

روس میں قومی جمہوری انقلاب نہیں بلکہ سوشلسٹ انقلاب کرنا ہو گا یہ نظریہ وقت کی کسوٹی پر درست ثابت ہوا جو ٹراٹسکی کا مسلسل انقلاب کا نظریہ تھا جیسے بعد میں اپریل تھیسیز کا نام دیا گیا ۔اس پر لینن نے اتفاق کیا اور بالشویک انقلاب کا عمل اسی کا مظہر تھا ۔

روسی انقلاب کسی علاقے یا قوم کا انقلاب نہیں تھا بلکہ عالمی انقلاب کا حصہ تھا اسی لیے لینن نے اسکا نام یو ایس ایس آر رکھا تھا تاکہ آنے والے وقت میں تمام دنیا کا یہی نام ہو ۔یعنی یونائیٹڈ سوشلسٹ سوویٹ رپبلک ، کیونکہ مارکسزم انٹر نیشنلزم کے علاوہ کچھ نہیں ہے اگر ہے تو پھر یوٹوپیائی اور جھوٹ ہے یا پھر سٹالنسٹ ملائیت ہے ۔ بالشویک انقلاب برپا ہونے کے بعد لینن نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ آج عالمی سرمایہ داری اپنی کمزور ترین کڑی سے ٹوٹ گئی اور اس بالشویک انقلاب کی بقائے کی ضمانت ماسوائے ایک عالمی سوشلسٹ انقلاب کے کوئی نہیں دے سکتا ۔

آج بہت سارے دانشوار اور سٹالنسٹ جو ماضی کے مزاروں سے بدتر ہیں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ آج پاکستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب نہیں آ سکتا کیونکہ یہاں نہ تو صنعتی مزدور ہے اور نہ ہی پڑھ لکھے افراد جو انقلاب کو سمجھ سکیں اور اسکو عملی شکل دے سکیں ۔ جو یہ کہتے ہیں وہ انقلاب کے بارے کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی اسے کرنا اسے برپا کرنا چاہتے بلکہ یہ اس سے خوف زدہ ہیں، کیونکہ انکے مالی مفادات اور عیاشیاں موجودہ لوٹ اور استحصال کے نظام سے وابسطہ ہیں جس وجہ سے وہ غلط بیانی سے کا م لیتے ہیں جھوٹ اور فریب کا پرچار کرتے ہیں۔ بالشویک انقلاب ایسے روسی سماج میں آیا تھا جو کہ موجودہ پاکستان سے بھی تباہ حال اور پسما ندہ تھا ۔پہلی عالمی جنگ نے روسی سماج کی انیٹ سے اینٹ بجا دی تھی ۔ انقلاب کے بعد جنگ کی تباہی سے جو بچا کچھا برباد روسی سماج بالشویکوں کے پاس آیا وہ زار شاہی کی نسبت 57 فیصد تباہ حال تھا یعنی 42فیصد جو تباہی کے بعد بچا تھا وہ کمزور اور لاغر سماج بالشویکوں کو اقتدار میں ملا ۔ سرکاری اعدوشمار کے مطابق روس میں ستر فیصد ناخواندگی تھی اور پاکستان میں یہ اعدوشمار کہیں بہتر ہیں ۔

روس میں انقلاب کے وقت صنعتی مزدور  تین اعشاریہ کچھ فیصد تھے جو چار فیصد سے ہر صورت کم تھے جبکہ پاکستان میں آج صنعتی مزدور پانچ فیصد سے ہر صورت زیادہ ہیں ۔اور اگر یہ چار فیصد بھی ہو ں تو پچانوں سال قبل کی صنعت اور آج کی جدید صنعت میں زمین آسمان کا فرق ہے جس سے ، جو زرائع پیداوار کی سماجی طاقت پہلے تین فیصد مزدوروں کے پاس تھی آج یہ طاقت یقیناً ایک فیصد سے بھی کم صنعتی مزدورں کے پاس ہو گئی بلکہ اس سے کہیں زیادہ سماجی طاقت سکڑ کر آج کم تعداد کے صنعتی مزدروں کے پاس منتقل ہو چکی ہے ۔ اس کم ترین سماجی ترقی اور معیار کے باوجود بھی روسیوں نے دنیا کے جدید ترین سوشلسٹ انقلاب کو ممکن بنایا ۔ اور ایک تباہ و برباد سماج کو بیس سالوں میں دنیا کی سپر پاور بنا کر حیران کردیا ۔ انیس سو پچاس میں روس کی جی ڈی پی امریکہ کے مقابلہ میں آٹھاون فیصد زیادہ تھی ۔ یہ کم ترین وقت میں تیز اور بلند ترین سماجی ترقی تھی جو پہلی بار روس کے اشتراکی انقلاب کے بعد اس زمینی کرہ ارض پر انسانی تاریخ نے دیکھی تھی جسکا پہلے کھبی تصور بھی نہ تھا ۔ کیونکہ سرمایہ داری کی تقریبا ساڑھے تین سو سالہ تاریخ میں اس بلند سطح پر تیز ترین ترقی کھبی ممکن نہیں ہو سکی اور اب تو ویسے ہی ناممکن ہے کیونکہ آج کل اسکی زندگی کا اور ٹائم چل رہا ہے ۔ یہ سب سوشلسٹ انقلاب کے ثمرات تھے ۔،، جن سب کو یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ،، ۔ اس کے باوجود کہ بالشویک انقلاب کی زوال پذیری کا عمل انیس سو تائیس میں جو زف سٹالن کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی شروع ہو چکا تھا ۔ جس نے انٹی مارکسزم اور انٹی لینن ازم نظرایات اور اقدامات سے ہر وہ کام کیا جو انقلاب اور سوشلزم سے غداری تھا۔ جس سے انسانی تاریخ میں پہلی بار پرولتاریہ بوناپارٹسٹ ریاست ابھری جو منصوبہ بند معیشت کی بالائی سطح پر افسر شاہی کی آمریت تھی جس نے کسی جونک کی طرح انقلاب اور اسکی حاصلات کو چوس کر تباہ کرنا شروع کر دیا ۔ جس کا انجام انیس سو بانویں میں یلس کی فوجی بغاوت کی صورت میں سامنے آیا جو سوشلزم نہیں بلکہ سٹالن ازم کے نظریات اور اسکی پالیسیوں کا دیوالیہ تھا ۔ لینن نے بالشویک انقلاب کو استحکام دینے کے لیے اور افسر شاہی کی آمریت سے بچانے کے لیے جن چار بنیادی اصولوں کو واضح کیا تھا ان میں ۔

پہلا ۔ تمام حکومتی اور ریاستی اہلکاروں میں تمام عہدوں کے لیے آزادانہ جمہوری طریقہ انتخاب رائج کیا ۔

دورسرا ۔ تمام عہدیدران کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے سوویٹوں یا پنجائتوں کو واپس بلانے کا حق ۔

تیسرا ۔ کسی افسر کی تنخواہ عام ہنرمند سے زیادہ نہیں ہو گئی ۔

چوتھا ۔ ریاست اور سماج کو چلانے میں تمام لوگ کو برابری کا حق حاصل ہو گا اور سب اس میں باری باری حصہ لیں گئے ۔اسی بنیاد پر لینن نے کہا تھا کہ ایک وزیر اعظم باورچی بن سکتا ہے اور ایک باورچی وزیراعظم بن سکتا ہے ۔

لیکن سٹالن نے بالشویک انقلاب کی ترقی و تعمیر اور پھیلاو تک کے ان عبوری اصولوں سے ہی نہیں بلکہ سوشلزم کے بنیادی نظریات سے بھی مکمل انحراف اور غداری کی اور انیس سو آٹھائیس 1928میں منشویکوں کے رد انقلابی نظریے قومی جمہوری انقلاب یا مرحلہ وار انقلاب کی تھیوری کو تیسری انٹرنیشنل کا اصول بنا کر بے شمار ترقی پذیر ممالک کے سوشلسٹ انقلابوں کو شکست سے دو چار کردیا گیا اور یہاں کی سوشلسٹ پارٹیوں کو انقلاب کی جدوجہد سے روک کر قومی بوژوازی کی تلاش میں لگا دیا جو کسی انجانے ٹرک کی بتی تھی ۔ یہ قومی جمہوری انقلاب کا نظریہ ایک عالمی انقلاب کی راہ میں بڑی روکاوٹ بن گیا اور پاکستان کا 1968 کا سوشلسٹ انقلاب بھی اسکی بلی چڑھ گیا کیونکہ پاکستان کی کیمونسٹ پارٹی روس کے آگے سجدہ ریز تھی 1967 کی انقلابی تحریک شروع کر کے اس کے عروج پر اسکی قیادت سے روس کے احکام پر پیچھے ہٹ گئی اور تحریک کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے قبضہ کر لیا اور یہ انقلاب ناکام ہوا جس کی سزا آج بھی پاکستان اپنے خون اور اذیت سے بھگت رہا ہے۔

انیس سو ترتالیس1943 میں سٹالن نے ورزویلٹ اور چرچل سے امن بقائے باہمی کا معاہدہ کر کے مزدوروں کی تیسری عالمی تنظیم کو توڑ دیا اور دنیا بھر میں تمام کیمونسٹ پارٹیوں کو سامراج کے خلاف جدوجہد سے روک دیا گیا ۔ اسی وجہ سے ہندوستان کاایک کامیاب سوشلسٹ انقلاب ناکام ہوا کیونکہ انیس سو چھیالیس 1946کی برصغیر پاک وہند کی انقلابی تحریک جس نے برطانوی سامراج کے لیے ہندوستان کی زمین تنگ کردی تھی جو ایک اشتراکی انقلاب کی مانگ تھی ۔ لیکن انڈین کیمونسٹ پارٹی کو سامراج کے خلاف جدوجہد کی ماسکو افسرشاہی کی طرف سے اجازت نہیں تھی جس سے سی پی آئی نے ہندوستان میں انیس سو چھالیس1946 کے انقلاب کی قیادت کرنے سے انکار کر دیا جو برطانوی سامراج کی عبرت ناک  شکست بن چکا تھا۔ اب بپھری ہوئی عوامی تحریک نے کچھ تو حاصل کرنا ہی تھا انقلاب نہیں تو رد انقلاب ہی سہی ۔ جس کے نتیجے میں ہندوستان ٹوٹ گیا ۔ معصوم لوگوں کا قتل عام ہوا۔ ایک زندہ جسم کو بے رحیمی سے کاٹ دیا گیا جس سے آج بھی خون رس رہا ہے اور اس کے یہ زخم ایک سوشلسٹ انقلاب کے بغیر کھبی نہیں بھریں گئے ۔ پاکستانی اور انڈین عوام کو آج بھی انیس سو چھیالیس کا انقلاب کامیاب نہ کرنے کی سزا مل رہی ہے کیونکہ وقت بہت بے رحم ہوتا ہے یہ کسی پر ترس نہیں کھاتا ۔ اس کے ہاں ہر جرم کی سزا ہوتی ہے اور کوئی جرم قابل معافی نہیں ہوتا اور انڈیا پاکستان کی سماجی بربادی اور بے رحم ظلم وجبر اسی بٹوارے کے جرم کی سزا ہے  ۔

سٹالن کے رد انقلاب کے باوجود منصوبہ بند ی پر مبنی سوشلسٹ معیشت نے روس کو دنیا کی دوسری بڑی طاقت بنادیا ۔ تاریخی عمل ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں اس لیے سوشلزم کی سچائی اور سٹالنزم کی ناکامی کو ثابت ہونے میں ستر70 سال کا عرصہ لگ گیا ۔ لیکن لینن اور اسکا ساتھی ٹراٹسکی جو ریڈ آرمی کا کمسار بھی تھا ۔ انیس سو تائیس 1923سے پہلے ہی دونوں سٹالن کی غداری کی پھاپ گئے تھے ۔اور انہوں نے سٹالن اور اسکی پروردہ افسر شاہی کے خلاف جدوجہد شروع کر دی تھی ۔ جس کی پاداش میں لینن کو حکومتی معاملات سے ایک طرف کر دیا گیا جس میں لینن پر فالج کے حملہ نے خاص کردار ادا کیا اور آخیر کار انیس سو چوبیس1924 میں ولادی میر لینن کا انتقال ہو گیا جس نے سٹالن افسرشاہی کی آمریت کو مزید مضبوط کرنے کا موقعہ فراہم کیا ۔ کمزور سماجی حالت نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا ۔

لینن اپنی زندگی میں ہر افسر شانہ قدر اور سوچ کے خلاف ناقابل مصالحت لڑا ۔ مئی انیس سو آٹھارہ1918 کو عوامی کونسل کے منیجر نے لینن کو اسکی مقر رکردہ تنخواہ سے زیادہ تنخواہ دینے کی کوشیش کی جس پر لینن نے یہ لینے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ اسکو خوب ڈانٹا اور کہا کہ تم منیجر رہنے کے قابل ہی نہیں ہو ۔ لینن ایک سرونٹ کواٹر میں رہتا تھا جہاں سردیوں میں مناسب ہیٹر کا بندونست نہیں تھا جس وجہ سے وہ کئی بار بیمار بھی ہو گیا ۔انقلاب کے بعد ایک بار بیماری میں ڈاکٹر نے اسکو زیادہ دوھ پینے کو کہا لیکن اس نے اپنے حصے سے زیادہ دوھ لینے سے انکار کر دیا اس نے کہا کہ اگر میں مقرر کردہ دوھ سے زیادہ دوھ لوں گا تو وہ کسی کا حق ہو گا میں کسی کا حق مارنے سے بہتر سمجھتا ہوں کہ مر جاوں ۔ لینن ہمیشہ حجام کی دوکان میں بھی اپنی باری کا انتظار کرتا تھا اور کھبی بھی اپنی باری سے پہلے آگے نہیں گیا تھا ۔

انیس سو تائیس 1923میں سٹالن نے جارجیا کی پارٹی میں بالشویکوں کو برطرف کر کے پارٹی پر مفاد پرست ٹولے کی مدد سے قبضہ کر لیا اور اسی طریقے سے یہ مرکزی پارٹی کی جنرل سیکرٹری شپ تک غیر قانونی اور ناجائز ہتھکنڈوں سے پہنچا ۔ انیس سو بائیس 1922 میں لینن نے لکھا کہ کہ افسر شاہی ہمارا گلہ کاٹ رہی ہے ۔ لینن کے بعد اس کا ساتھی ٹراٹسکی سٹالنیسٹ افسر شاہی کی آمریت کے خلاف آخیر ی دم تک لڑا ۔اس نے اپنی کتاب انقلاب سے غداری میں لکھا کہ ،، اگر سوشلسٹ معیشت پر سے سیاسی آمریت کی حکمرانی ختم نہ کی گئی تو بد انتظامی کی وجہ سے معیشت تباہ ہو جائے گئی جس سے سرمایہ داری کے رشتے دوبارہ استوار ہوں گئے جسکو ستر سال کا عرصہ لگے گا ،، ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ اسی وجہ سے سٹالن بالشویکوں کا دشمن ہو گیا تھا جس نے سٹالن کی قیادت کو مان لیا وہ بچ گیا اور جس نے نہیں مانا وہ قتل کردیا گیا اور اسی زمن میں ماسکو ٹرائل کا آغاز کیا گیا۔

انیس سو اناتیس 1929میں بالشویک پارٹی کی سنٹرل کمیٹی جس نے انقلاب کیا تھا اس میں سے صرف سٹالن خود زندہ تھا بقیہ کامریڈوں کو سٹالن نے قتل کر وادیا ۔ جب مراعات کے لیے حکمرانی قائم ہوتی ہے تو پھر یقینی طور پر اس میں بداعنوانی کے ساتھ ساتھ اقتدار کی کھنچا تانی بھی شروع ہو جاتی ہے جو ہمیں سٹالن کے دور میں ہی نظر آتی ہیں ۔ سٹالن کی موت کے بعد جس کو چند لوگ قتل بھی لکھتے ہیں ۔اور چند لکھتے ہیں کہ اگر سٹالن نہ بھی مرتا تو اس کو قتل کر دیا جانا تھا ۔ جسکا اظہار ہمیں انیس سو آٹھاون 1958میں خروشیف کی پالیسیوں سے نظر آتا ہے جس نے لینن کی وہ دستاویز ات اوپن کیں جس میں لینن نے سٹالن کو اس کے عہدے سے برطرفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ تما م پالیسیاں بیوروکریسی کی آمریت کو قائم رکھنے کے لیے پیش کی گئیں نہ کہ اسے ختم کرنے کے لیے ۔ افسرشاہی کی بڑھتی بد انتظامیوں اور بداعنوانیوں نے معیشت کی کمر توڑ دی اور جب گوربا چوف اقتدار میں آیا تو روسی معیشت تباہی کے آخیری دھانے پر پہنچ چکی تھی ۔ اس نے گلاسناٹ اور پیرا سٹاییکا کے اقدامات کیے جس میں معاشی آزاد پالیسیوں اور جمہوری نام نہاد آزادیوں کا اعلان کیا گیا ان اصلاحات سے بھی افسر شاہی کو بچانا ہی مقصود تھا لیکن اس بار بہت دیر ہو چکی ہے روسی سماج اس پھٹنے والے غبارے کی مانند ہو چکا تھا جس میں سوئی مارنے سے اس میں سے ہوا نہیں نکلی بلکہ یہ پھٹ جاتا ہے اور گلاسناٹ اور پیرا سٹاییکا سے بھی ایسا ہی ہو اور یلس کی فوجی بغاوت نے دنیا میں سٹالنزم کے طلسم کو بھی ٹوڑ دیا پھر اس جبر تلے جو کچھ کیا گیا وہ سب ننگا ہو گیا اور اس سے آزاد ہو گیا ۔

 دیوار برلن ٹوٹ گری ، مشرقی جرمنی اور مشرقی یورپ نے بھی سٹالنزم کو مسترد کر کے مارکسزم کی سچائی کا لوہا منوایا اور سٹالنزم کے پردے میں چھپی مارکسزم کی حقیقت کو آشکار کیا جس کا ذکر ٹراٹسکی اکثر کیا کرتا تھا کہ ،، سوشلزم کو جمہوریت کی ایسے ضرورت ہو تی ہے جیسے ایک زندہ جسم کو آکسیجن کی،،۔

لیکن آج روس اور مشرقی یورپ کی عوام سوشلزم کی آڑ سٹالن ازم سے چھٹکارہ تو حاصل کر چکے ہیں لیکن یہاں سرمایہ داری کی بحالی نے انکی زندگیاں کو پہلے سے بھی اذیت ناک بنا دیا ہے جس سے آج یہاں ایک بار پھر پوری دنیا کی طرح جہاں آکو پائی تحریک ، عرب انقلاب، یورپ میں عوامی تحریکیں ،لاطینی امریکہ میں انقلابات سرگرم عمل ہیں جو ابھی عالمی سرمایہ داری کے خلاف سرکشیوں کا آغاز ہے جس کو صرف مارکسسٹ ہی ایک فصیلہ کن انجام سے ہم کنار کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ فریڈک اینگلز نے کہا تھا کہ آج کی انسانیت کا مستقبل سوشلزم یا پھربریریت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

کتابیں پڑھیں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh