تحریر۔ دانیال رضا

بہت سے اہم الفاظ کا آج کل بڑی دانائی سے غیر دانش مندانہ استعمال عام ہو رہا ہے ۔ جس طرح آج لفظ تعصب پسندی دہشت گردی کی طرح اپنے اصل اور حقیقی مفہوم کی بجائے مخالفین کی ضرورتوں کے مطابق استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے آج امریکہ اور یورپ کا ہر مخالف دہشت گرد ٹھہرایا جاتا ہے اسی طرح قدامت پرست دانشوار یا کسی بھی جماعت کا ملا اپنے کٹر اور غیر لچکدار سوچ کو ٹھونسے کے لیے تعصب پسندی کا بڑا عام استعمال کرتے ہیں اور جب کوئی انکے رجعتی نظریات کا اقرار نہیں کرتا اور انکے پاس اپنی بات منوانے کے تمام جواز اور دلائل کم پڑ جاتے ہیں تو یہ فوار دوسر ے کو تعصب پرست کے القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

تعصبی اور تعصب پسندی کا لفظ آج علم و اداب اور صحافت میں بھی خاصا عام ہو گیا ہے جو بلا وجہ اور بغیر سوچے سمجھے کسی فتوئے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے ۔فتوئے کی بنیاد بھی کیونکہ جہالت اور پسماندگی پر ہی ہے اس لیے ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم تعصب کے حقیقی مفہوم اور تعریف سے واقف ہوں۔ لفظ تعصب عام طور ایک خاص سماجی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ ایک سماجی سائنس اور لغت کاقانون ہے ۔سیاسی ، معاشی اور سماجی الفاظ واصطلاحات اپنے معنی اور مفہوم حالات و اقعا ت کے  مطابق بدلتے رہتے ہیں ۔جس کی تمام انسانی تاریخ گواہ ہے کہ الفاظ کے معنی کبھی جامد اور مستقل نہیں ہوتے ۔ جس طرح جمہوریت ، محب الوطنی ، بنیادی انسانی حقوق ، نیکی ، بدی اور گناہ ، سزا اور جرم ،وفا اور بے وفائی ، خوبصورتی اور بد صورتی ، قوم پرستی وغیرہ ان الفاظ کے معنی اور دائرہ کا ر کبھی بھی تاریخ میں یکساں نہیں رہے ۔ جیسے جمہوریت غلامانہ دور میں بھی تھی اور آج بھی ہے اسی طرح تما م مذاہب بھی ایک خاص جمہوریت کا دعوی کرتے ہیں ۔ اور قدیم یونا ن میں جمہور بڑی اعلی سطح پر موجود رہی ہے ۔ لیکن یہ ماضی کی جمہورتیں اب دورے جدید کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں اس لیے ان کا نام تو آج بھی جمہوریت ہی ہے لیکن اسکے معنی اور مفہوم کے ساتھ ساتھ اسکی حدود و قیود بھی وقت اور حالات کے ہاتھوں تبدیل ہو گئیں ہیں ۔ کیونکہ یہ ماضی کی جمہورتیں آج نہ صرف قدیم اور  پسماندہ جمہورتیں قرار پاتیں  ہیں بلکہ موجودہ معاشروں کے لیے یہ زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ جو آج کے جدید سماجوں پر لاگو نہیں ہو سکتی اور اگر اسے زبردستی نافذ کرنے کی کوشیش کریں گئے تو یہ موجودہ سماج کو تباہ و بربادکر کے بربریت میں دھکیل دیں گئیں ۔ یہ ماضی کے حالات کے مطابق  درست تھیں جو ان قدیمی ادوار کے لیے تھیں لیکن  یہ  آج کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہیں۔

سماجی سائنس کا ایک اور بڑا بنیادی ٹھوس  قانون  یہ ہے کہ جو سوچ ،نظریہ ، نظام ، لفظ یا اسکے معنی آج اور وقت کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے وہ مٹ جاتے ہیں ایک یاد اور ماضی بن کر رہ جاتے ہیں ۔ وقت کا پہیہ  ہمیشہ آگے کی سمت ہی حرکت کرتا ہے اس لیے اسے کبھی پیچھے نہیں گھمایا جا سکتا اور انسانی سوچ کا تعین بھی یہی حالات و واقعات کرتے ہیں ۔ تبدیل ہوتی سماجی صوتحال انسانی سوچ کوبھی بدل دیتی ہے انسانی سوچ اور سماجی حالات میں ایک جدلیاتی تعلق ہوتا ہے جیسے سمجھے بغیر کوئی بنیادی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔

قدیم سماجوں میں جو جرم ہوا کرتے تھے وہ آج جرم نہیں ہیں انکی شکل بھی بدل چکی ہے بے شک لفظ جرم آج بھی موجود ہے لیکن اپنی پہلی شکل و ہیت اور معنی میں نہیں ۔ مثلا غلاموں سے ہر قسم کا ہر وقت کام لینا جرم نہیں تھا انکو حقوق نہ دینا بھی کوئی جرم نہیں تھا ۔ غلام کے کمزور ہو جانے یا بوڑھا ہو جانے پر ان کا قتل جرم نہیں تھا ۔ لونڈیاں اور کنیز رکھنا بھی کوئی جرم نہیں تھا ۔ غلاموں کی اپنے آقاوں سے وفاداری لازمی تھی اور بے وفائی پر قتل جائز تھا ۔ انہیں قدیم معاشروں میں اور تمام مذاہب میں انسانی بنیادی حقوق کا مطلب اور انکا اطلاق آج کے نسبت بہت مختلف تھا اور ہے ۔اسی طرح آج بھی ہر مذہب میں اور مختلف قدیمی انسانی سماجوں میں نیکی اور گناہ کے معنی اور اسکا دائرہ کار قطعی آج جیسا اور ایک جیسا نہیں تھا اور نہ ہی ہے ۔

قوم اور وطن پرستی جو 16ویں اور17 ویں صدی میں اپنے اعلی معیار پر تھی اور بڑے خاص  معنی اور اہمیت رکھتی تھی آج وہ نہیں ہیں کیونکہ سرمایہ داری کے ابتدئی دور میں قوم پر ستی اور محب والوطنی ایک ترقی پسند اور انقلانی قدم تھا جس نے قدیمی تقسیم شدہ اور بکھرے ہوئے  بہت سے پسماندہ سماجوں کو آپس میں متحد کیا اور ایک جدید معاشرے کی بنیاد رکھی ۔ان قومی ریاستوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے وسائل کو جوڑکر انکی وسعت سے وسیع پیمانے پر حیران کن پیداوار کی اور سماجی ترقی کو چھلانکوں کی صورت میں آگے بڑھایا جس سے عام لوگوں کو آج کی جدید بنیادی ضرورت زندگی اور بنیادی حقوق میسر آئے ۔اس عمل سے ایک مشترک منڈی نے ایک جدید قوم کو جنم دیا جس کی ایک زبان مشترکہ ثقافت نے ماضی کی ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا یہاں تک کے الفاظ کے معنی، انکے مفہوم اور انسانی شعور کے ساتھ ضروریات زندگی تک کو بدل  دیا ۔

مسلسل بڑھتی پیداوار نے جب علاقائی ضرورتوں کو پورا کر دیا تو پھر یہی پیداوار اپنی  زائد پیداوار میں تبدیل ہو گئی جس سے انسانی تاریخ میں پہلی بار زائد پیداوار کے بحران نے جنم لیا اور نوآبادیاتی نظام کی داغ بیل پڑی ۔ کیونکہ قومی منڈیوں میں جب طلب کم ہوئی تو مسلسل بڑھتی رسد کی وجہ سے نئی منڈیوں کی ضرورت نے ہی دوسری منڈیوں پر غلبے کے لیے سامراج  کی بنیاد رکھی اور اسے جنم دیا اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ آج تک کی تمام جنگیں منڈیوں پر قبضے کی جنگیں ہیں ۔ موجودہ عالمی سرمایہ داری نے جہاں تمام دنیا کو ایک معاشی اکائی میں تبدیل کر کے انسانی ضرورتوں کو عالمی منڈی سے اٹوٹ منسلک کردیا ۔ وہاں قوم پر ستی اور محب الواطنی کی انقلابی تحریکوں کو بھی رجعتی اور رد انقلابی بنا ڈالا ۔جو پہلے جھوٹ تھا آج سچ بن گیا اور جو پہلے حقیقت   تھی آج فریب بن گیا ۔ موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں مقامی زرائع پیداوار ، ملک اور علاقائی کاروبار اور فنانس فیصلہ کن نہیں رہے ۔بلکہ انکی جگہ عالمی اجارہ داریوں ،عالمی مالیاتی اداروں ، سامراجی ملکوں اور انکے عالمی حکمران نے لے لی ۔ آج دنیا میں500 پانچ سو اجاراداریاں دنیا کی90 نوئے فیصد سے زائد معیشت پر قبضہ رکھتی ہیں ، تمام دنیا کی فنانس مارکیٹوں کو آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کنٹرول کرتے ہیں ۔ تما م دنیا کی سیاست امریکی اور چند یورپی حکمران کے زیر عتاب ہے یہی عالمی سرمایہ داری اور عالمی مالیاتی نظام ہے جو آج عالمی انسانیت کو شرح منافع اور نجی ملکیت کی اندھی  ہوص میں  بربریت اور خون  میں دھکیل رہا ہے ، جہاں ایک طرف امارت کے انبار ہیں تو دوسری طرف غربت اور غلاظت کے ڈھیر ۔

پیسہ حکمرانی کرتا ہے جو سرمایہ دارانہ دنیا میں طاقت کا اصل محور یا سر چشمہ ہے اور اسی سرمایہ کو حاصل کرنے کے لیے بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیو ں کو کھا جاتی ہے ۔ اس اصول کے تحت  یورپین ممالک کی ایک بڑی منڈی ای یو  کی بنیاد پڑی ۔ موجودہ عالمی منڈی میں کوئی چھوٹی دوکان بڑی دوکان کے آگے چل نہیں سکتی اور نہ ہی کوئی ایک ملک دنیا سے الگ تھلگ رہ کرآج زندہ رہ سکتا ہے ۔ اگر کوئی کاروبار یا ملک چل سکتا ہے یا قائم رہ سکتا  تو وہ   انہیں  عالمی دیوتاوں کے رحم وکرم پر جو  ہمیشہ  محتاج اور محکوم رہے گا ۔کیونکہ آج ضروریات زندگی کو پورا کرنے والے زرائع مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہیں جس پر سامراجی ممالک کا قبضہ ہے ۔ اس لیے ماضی والی محب والوطنی اور قوم پر ستی جو کھبی ترقی پسندی تھی  آج رجعت اور دیوانگی سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی موجودگی میں آج کی قومی آزادی یا اسکی تحریکیں سامراج کی  مزید غلامی اور محکومی  کی  تحریکیں ہیں ۔

لفظ تعصب عصبیت سے ماخوذ ہے جو عام طور پرکسی وجہ سے نفرت اور خاص طور پرعدم دلائل کی بنیاد پر کٹر پن کے حوالے سے منفی رجحان کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ تمام فرقہ واریت کی بنیاد وں میں جنونی تعصب کا زہر گھلا ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تعصب کے معنی ادھورے اور نامکمل ہیں ۔ کیونکہ سائنسی اور سماجی حوالے سے لفظ تعصب پسماندگی سے آیا ہے جو کسی بھی ترقی اور تعمیر کی راہ میں روکاوٹ ڈالنے والے نظریات ، سوچیں اور رویے جو موجودہ وقت کی کسوٹی پر پورے نہ اتریں بلکہ ماضی سے مستعار لیے ہوں تعصب پسندی کہلاتے ہیں ۔ اس میں ایک بنیادی عنصر مسلسل ارتقا کا ہے جو اسکے مفہوم کو تبدیل کرتا رہتا ہے ۔ بہت سی تحریکیں اور سوچیں جو زمانہ قدیم میں ترقی پسند اور انقلابی تھیں آج رجعتی اور ردانقلابی بن چکی ہیں اور ان پر آج بھی قائم رہنا انکی تلقین و ترویج کرنا اور نئے ترقی یافتہ ، سائنسی اور جدید نظریات سے انکار کرنا تعصب پر ستی ہے ۔جس کے پیچھے ڈیس انفارمیشن ، کم علمی اور جہالت ہے ۔ اور یہ جہالت سائنسی اور جدید سماجی علوم اور مارکسزم کے سنجیدہ مطالعہ سے ہی دور ہو سکتی ہے وگرنہ یہ جہالت کی غلاظت میں پلا تعصب بڑھتا بڑھتا خونی جنون اور وحشت بن جاتا ہے۔ القاعدہ ، طالبان، لشکریہ طیبہ ، جھنگوی ،جماعت اسلامی سمت تمام مذہبی جماعتیں ، اور سیاست میں ایم کیو ایم ، جئے سندھ ، وغیرہ وغیرہ جس کی اعکاسی ہیں۔

 تعصب کی پسماندگی موجودہ   تعلیمی درسگاہوں سے  دور نہیں ہوتی بلکہ آج کے تعلیمی مدرسے اور یونیوسٹیاں روشن خیالی کے بجائے تاریک خیالی کا زیادہ باعث ہیں کیونکہ وہ جس نظام کی ترجمانی کرتی ہیں وہ نااہل اور ماضی ہے جو آج پر مسلط ہے ۔ بھوک ، ننگ ، افلاس، قتل گری اور جنگیں جس کا خاصہ ہیں ۔

اب جب ہم اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہیں اور اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو علم و فاضل اورعقل و دانائی کا خدائی دعوی کرنے والے بھی تعصبیت کا شکارنظر آئیں گئے ۔اور یہ درست ہے کہ مکمل علم و عقل کا دعوی کرنے والے ہی ہمیشہ پسماندہ اور ابو جہل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر مزید سیکھنے کی صلاحیت دم توڑ چکی ہو تی ہے ۔ جس طرح فتوا جہالت کی معراج ہے اسکی طرح ٹھوس دانش مندی کا دعوی بھی پسماندگی کی آخیری گہرائی ہے ۔

آج ہمیں کہاں تعصب پرستی نظر نہیں آتی یہ صرف مذاہب میں ہی بلند سطح پرنہیں ہے بلکہ  یہ عقل کے اندھے ملا بے چارے تو ویسے ہی بدنام زمانہ  زیادہ ہیں جبکہ یہ تعصبی بو علموں ، اعلی صحافیوں ، مشہور اینکروں ، نظریہ دانوں ، ادب اور ادبی حلقوں ، تنظمیوں اور سیاسی پارٹیوں کے علاوہ بائیں بازو کے بے شمار نام نہاد رہنما میں پائی جاتی ہے ۔

بے شک یہ درست ہے کہ آج کل مذاہب میں زہریلی تعصب پرستی اپنی انتہائی شکل میں نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ عام عوام میں بالکل نہیں ہے بلکہ اس کے ذمہ دار حکمران اور انکے گماشتہ ملا ہیں جو اس پر دوکانداری کرتے ہیں اسکی تشہر پر اربوں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ عوام کو تو روٹی کی سوچ سے ہی فرصت نہیں ہے وہ اس فالتو کے کاموں میں حصہ اور دلچسبی کیونکر لے سکتے ہیں ۔اور ویسے بھی جب انقلابی تحریک ماند ہو تی ہے تو ردانقلابی تحریکیں سامنے آجاتی ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کھڑے پانی میں نیچے کی غلاظت اوپر ابھر آتی ہے ۔

مذہب کوجب مارکیٹ میں لایا جاتا ہے ۔تو اسکی ذاتی اہمیت و حیثیت اور افادیت شخصی نہیں رہتی بلکہ بازاری ہو جاتی ہے جس سے اس پر سیاست بھی ہو گئی اور کاروبار بھی کیے جائیں گئے جو ہو رہے ہیں ۔ پھر اس پر تنقید بھی ہو گئی اور اسکے کارٹون بھی بنے گئے اور ویڈیو فلمیں بھی ،  ا س میں قصور مذہب کا نہیں بلکہ ان چند لوگوں کا ہے جو اپنے مالی اور سیاسی مفادات کے لیے ان مذاہب کو فروخت کے لیے منڈی میں ایک جنس کے طور پر لے آتے ہیں اور بازار میں تو ایسا ہی ہو تا ہے اس لیے ہمیں مذہب کی بازاری ہیت اورکیفیت کو تبدیل کر کے اسے ذاتی اور نجی مسئلہ بناکر اسکی عزت کو واپس لوٹیا جا سکتا ہے ۔آج یہ کیسے معلوم نہیں کہ موجودہ فرقہ وارانہ خون ریزی جو پورے پاکستان میں شروع ہو چکی ہے اس کے پیچھے کون ہے ۔سنی اور اہل حدیث جہادی تنظیموں کے پیچھے سعودی عرب ، کویت اور عرب شہنشاہ ہیں جبکہ شعیوں کی جارحانہ تنظیموں کے پیچھے ایران ہے ۔ جس کی معاشی اور سماجی وجوہات ، حکمرانی اور منڈی کے مفادات ہیں ۔

سرمایہ کی بڑھتی طبقاتی خلیج تمام دنیا میں عوامی بغاوتوں کا سبب بن رہی ہے جو عرب میں ہمیں نظر آئی ہے  اور مسلسل جاری ہے ۔ تیونس اور مصر کی چالیس سالہ بھیانک آمرتیں عوامی سرکشی نے دنوں میں خاکستر کر دیں جو بحرین میں بھی اپنے عروج پر گئی جیسے سعودی حکمرانوں نے خونی غسل دیا اور اب سعودی عرب اپنے سلگتے داخلی مسائل یمن کو خون میں ڈبو کر زائل کرنے کی ناکام کوشیش کر رہا ہے ۔لیکن یہ اسلامی حکمرانوں کے خلاف اسلامی عوامی مذاحمت ا بھی جاری ہیں جو استحصال کی پیداوار ہیں اور اسکے خاتمے کے بغیر ختم نہیں ہوں گئیں ۔ سعودی عرب میں بھی عوامی سرکشیاں  مختلف شکلوں میں ابھر رہی ہیں جس کا اظہار سیاسی اور ریاستی سطح پر شاہی خاندان کے سنگین تضادات سے نمایاں ہو رہے ہیں ۔ جس سے خوف زدہ ہو کر مغربی اور مشرقی حکمرانوں نے ان عوامی تحریکوں کو مذہبی فرقہ واریت کی خونی کھائی میں دھکیلنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری اورتشہر کا کاروبا شروع کر دیا ہے ۔ تاکہ عوامی انقلابی تحریکوں کا رخ حکمرانوں اور موجودہ مالیاتی نظام کی طرف سے موڑا جا سکے ۔ موجودہ خونی فرقہ واریت کا کھیل اسی کا نتیجہ ہے جو مستقبل میں مزید بھیا نک ہوتا چلا جائے گا ۔ پاکستان کے علاوہ بحرین ، عراق ، قطر ، تمام عرب ، مڈل ایسٹ اور بقیہ دنیا میں اب مذہبی اور تعصبی نفرت کو پھیلا کر موجودہ نظام کے ظلم و جبر کا قائم رکھنے کی سر توڑ کوشیشیں کی جا رہی ہیں ۔اس جلتی آگ پر مغربی ریاستوں کے پیٹو ، جو  حکمرانوں کی ایما پر اور ریاستوں کی سر پرستی میں اسلام کے خلاف اشتعال انگیزیوں سے تیل ڈال  رہے ہیں ۔جو پھر مسلمان اور غیر مسلمان حکمرانوں کے حق میں اور عام مسلمانوں اور غیر مسلم عوام کے خلاف ہیں۔

یورپ اور مغربی حکمران بھی اس مذہبی فرقہ واریت کی ہولناک جنگ میں پیچھے نہیں ہیں بلکہ وہ بھی اس میں  مسلمان حکمرانوں کے شانہ بشانہ سرگرم اور  متحرک ہیں ۔آج یورپ ، امریکہ اور کینڈا میں چند نام ہاد لبرل مسلمان فرقوں کو  سرکاری سر پرستی حاصل ہے ۔ جس کی وجہ ان میں او رعام مسلمانوں میں چند مذہبی تضادات ہیں ۔ اور  انکے خلاف پاکستان میں شرم ناک  اقلیتی غیر انسانی اور نہایت غیر منصفانہ قوانیں بنائے گئے اور اسی فرقہ وارانہ ریاستی قوانین کے تحت انہیں بڑی آسانی سے مغرب میں سیاسی پناہ مل جاتی ہے  جس سے مغربی حکمران انہیں دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں شعوری طور پر  مضبوط کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں  یہی اقلیتی قوانین پاکستانی عیسائوں اور ہندو کے لیے بھی ہیں لیکن انکو مغرب میں اتنی مضبوط سیاسی پناہ کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اسکی وجہ آئندے آنے حالات میں انہیں عام مسلمانو ں کے خلاف یا مزید فرقہ واریت کے لیے استعمال کیا جا سکے ۔ جیسے یورپی حکمرانوں نے پہلے فاشیسٹ تنظیم ایم کیو ایم کے مرکزی  لیڈر الطاف حسین کو برطانیہ میں تحفظ دے کر پاکستان میں لسانی تعصب کو ہروان چڑھایا پھر پی کے کے جو کردستان کی علحیدگی کی قومی تحریک کی تنظیم ہے کو مضبوط کرکے ترکی کے خلاف استعمال کیا اور یہ آج بھی ترکی کو کر دستان تحریک سے بلیک میل کرتے ہیں ۔ سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کو سنہالیوں کے خلاف ،ماضی میں شہنشاہ ایران کے خلاف آیت اللہ خمنی  وغیرہ کو استعمال کیا ۔ انہوں نے تمام دنیا میں ہر عوامی اتحاد کو توڑنے اور عوامی  انقلابات کو ناکام کرنے کے لیے جعلی او رسطحی تضادات  کو طبقاتی تحریک میں پیدا کرکے اسے تعصب بنا کر مضبوط کیا اور اپنی عالمی استحصالی حکمرانی کو جلا بخشی ۔ تقسیم کرو مذہبوں ، نسلوں ، ذاتوں ، فرقوں ، قوموں ، ملکوں ، رنگوں اور زبانوں میں ،تقسیم در تقسیم کرو ، نفرتیں پھیلاو اور حکمرانی کرو کا یہی تو قانون ہے ۔

آج دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ،گروپ اور تحریکیں ہیں جن کا مقصد  لوگوں کو صرف  مذہب سے آزاد کرنا ہے جن کو ملا ئیت اور بنیاد پرست، مارکسسٹ ، سوشلسٹ یا کیمونسٹ کہتے ہیں جو بالکل غلط اور مارکسزم سے مکمل ناانصافی اور زیادتی ہے ۔ بلکہ حقیقی مارکسسٹ ان مذہب مخالف انارکسٹوں کو کیمونسٹ نہیں مانتے بلکہ انہیں مذاہب مخالف تعصب زدہ اور انٹی مارکسسٹ کہتے ہیں ۔ کیونکہ یہ صرف ایک مذہبی تعصب کے خلاف لڑتے ہیں جو دوسری طرف ایک دوسرا تعصب بن جاتا ہے ۔  یعنی مذہب کے خلاف انٹی مذہب تعصب ،  اور یہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے  جتنا مذہبی تعصب سماج دشمن  ہے۔ یہ انسانوں کی بربادی اور انتشار کے نظریات ہیں جس پر لینن نے کہا تھا کہ مذہبی جنونیت کمزور لوگوں کی بیساکھیاں ہیں انہیں مت چھینوں بلکہ انہیں سائنسی سماجی علوم اور مارکسزم سے اتنا صحت مند اور توانا بنا دو کہ یہ اپنی بیساکھیاں خود توڑ دیں ۔

وطن پرستی اور قوم پرستی جوکسی دور میں ایک انقلابی اور تاریخ کا اگلا قدم تھا جس کی وجہ سے آج  تک  کی جدید ترقی کی بنیاد پڑی ۔ اور جب تک ان بوژوا قومی ریاستوں سے سماجی ارتقا جاری رہا تب تک یہ محب الوطنی اور قوم پرستی تعصب پسندی نہیں تھی لیکن  زرائع پیداوار  کی عالمی کیفیت اور ہیت نے  انہی قومی ریاستوں کے وجود کو  نیشنل شاونزم  بنا دیا  اور آج یہ  سماجی ترقی میں روکاوٹ   ہیں جس سے ماضی جیسی قوم اور ملک پرستی آج ایک زہریلا تعصب ہے جس کی موجوگی میں انسانی اور سماجی  ترقی ہزگزیز ممکن نہیں رہی بلکہ اس تعصبی جنون کا آج محرومی اور محکومی مقدر بن گیا ہے ۔  مارکسزم ہر قسم کے تعصب کے خلاف عالمی عوامی انقلابی تحریک کا نام ہے۔

موجودہ عالمی سماج کاآخیری حل تمام تعصبات سے بالا طبقاتی جدوجہد سے سماجی تبدیلی ہی ہے وگرنہ تعصبات کی خونی بربریت اپنے زہریلے پنجے آج کے معاشرے میں کھاڑ چکی ہے ۔ پاکستان جس کی ایک زندہ  مثال ہے ۔سوشلسٹ انقلاب کے بغیر پاکستان ہر روز پہلے سے زیادہ خون اور جنون  میںدفن ہوتا جائے گا

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کتابیں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

 

 

 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh