تحریر ۔ دانیال رضا

میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے ۔  ہم ہیں پاکستان،مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، محبت سب کے لیے نفرت کسی کے لیے نہیں یا اس جیسے بے شمار غیر منطقی  مقولاجات آج  سیاسی اور مذہبی بازاوروں میں کھلے عام عوامی سوچ کا رپپ یا بلاد کار کرتے نظر آتے  ہیں ۔ صداقت ، شرافت، اخوت ، محب الوطنی جیسے الفاظ اور جملے اکثر سننے اور پڑھنے میں آتے ہیں اور خاص طور پر سماجی خلفشار اور بحرانوں کے ادوار میں ان الفاظ کی قدرومنزلت مزید بڑھ جاتی ہے جس سے ملا اور حکمران ان نعرہ بازیوں کا بڑی کثرت سے  ورد کرنے لگتے ہیں ریاست اور میڈیا کی منڈی بھی ان کے شانہ بشانہ ،  الفاظی محبت کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیتے ہیں ۔ تاکہ ان  فرسودہ کتابی جملوں کے زریعے حقیقی سماجی ، علاقائی ، سیاسی ، اور معاشی انتشار سے متاثرہ عوام کی مذاحمت کو غیر موثر بنانے کے لیے ان کاغذی نعروں کا درس دے کر نظام کے ظلم و استحصال کو قائم رکھنے کی سعی کی جا سکے ۔ کیونکہ اس محب الوطنی ، بھائی چارے اور محبت کے پیچھے اصل میں حکمرانوں کے استحصال اور ملائیت کی لعنت پر ایمان لانا ہوتا ہے ۔ اور سماجی مسائل جو حکمرانوں کی لوٹ مار کی پیداوار ہیں کے خلاف عوامی اور طبقاتی تحریک کو پسپا کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ جبکہ اسلام کے عالمی ٹھکیدار سعودی عرب ، کویت ، قطر  یا عرب حکمران غیر ملکی مسلمانوں سے بھائیوں کی بجائے اچھوت اور غلاموں جیسا غیر انسانی سلوک کرتے ہیں ان تارکین وطن کو عرب ممالک میں کوئی انسانی بنیادی حقوق تک میسر نہیں ہیں ۔ غریب مسلم فلسطین آج انہیں عظیم مسلمان حکمرانوں کی خونی بھینٹ چڑھا خون میں لت پت تڑپ رہا ہے۔ بحرین میں مذہب کی بنیاد پر ریاستی اسلامی خون ریزی اکثر جاری رہتی ہے ۔ پاکستان  میں مسلمان بھائی ہی مسلمان بھائیوں کے جانی دشمن ہیں ، اسے دیکھ کر بھی اگر کوئی کہتا ہے مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو یقیناًاسکی عقل گھاس چرنے گئی ہے ۔ کیونکہ  حقیقت کچھ اور ہے  مسلمان مسلمان نہیں بلکہ حکمران حکمران آپس میں بھائی بھائی ہیں اور وہ اسرائیل ، امریکی ، یورپی ، سعودی ، روسی یا پھر پاکستانی حکمران ہوں ان کی محبت ، بھائی چارے اور اخوت میں کوئی مذہب ، فرقہ اور ملک روکاوٹ نہیں ہے ۔ یہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہوں غیر اہم ہے ۔ اور جو اہم ہے وہ ہیں مشترک مالیاتی مفادات ، سرمایہ کی حکمرانی اورمراعات کی زندگی ہے۔ اور دوسری طرف ان تمام ممالک کی  محروم عوام ان حکمرانوں کے خلاف حقیقی بھائی ہیں جو مشترکہ مفادات اور جدوجہد کے حامل ہیں ۔ بقیہ تمام بھائی چارے دو نمبر ہیں ۔

آج اس زمینی کرہ ارض پر کون سا ایک مذہب یا مذہبی فرقہ دوسرے کو تسلیم کرتاہے یا کرنے کو تیار ہے ۔ حالیہ پاکستان میں ہندو وں اور احمدیوں  پر ظلم و جبر اور زیادتیاں ، اقلیتوں سے ناوا سلوک ، کوئٹہ میں اہل تشعہ کا بڑی بے دردی سے آئے دن کی فرقہ وارانہ قتل و غارت، ہزارہ عوام کی نسل کشی   پاکستان کے منظرنامے کو بہت خون آلود بنا رہے ہیں ۔ بلوچستان ، وزیرستان اور قبائل پر پاک آرمی کی بھیانک خونی جارحیت جو وقفوں وقفوں سے مسلسل جاری رہتی ہے  اپنی ہی معصوم اور بے گناہ عوام کا سنگدلانہ قتل عام ہے ۔ ایک طرف بھوک ننگ افلاس سے مرتی عوام اور دوسری طرف حکمرانوں کی عیاشیوں اور دولت کے انبار ہیں جو بڑھتے ہی جا رہے ہیں جو سماجی زخموں پر تیزاب بن کر گرتے ہیں ۔ ان حالات میں اخوت ، بھائی چارہ ، شرافت ، صداقت ، محب الوطنی اور پیار ومحبت کی ٹھوس حقیقت ماسوائے غریب عوام پر ظلم و جبر رو رکھنے کے آلات اور الفاظ  کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

سائنس اور حقیقی علوم میں یہ عظیم خسی جملے اور الفاظ اپنے اندر کوئی صداقت اور حقیقت نہیں رکھتے بلکہ یہ منافقت کی غلاظت کے بلند بدبو دار ڈھیر ہیں جو جبر کو مسلسل قائم رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ زرداری ، نواز شریف خاندان  ، منشا گروپ ، فوجی جرنیل، افسرشاہی اور تما م امیر ترین افراد یہ سب پاکستانی اور مسلمان ہیں جبکہ غریب عوام جو مہنگائی، بے روزگاری ، کم تنخواہوں ، پانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے کراہا رہے ہیں اور موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں وہ بھی پاکستانی اور مسلمان ہیں ؟ پاکستان کے ان امیروں کے امیرزادے بلاول  زرداری بھٹو، حمزہ شہباز ، مریم ، حسن  وحسین  نواز سمیت تمام پاکستانی اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔ جبکہ بے روزگاری یا اس سے تنگ آکر خود کشی کرنے والے اور کم ترین اجرتوں پر جانوروں جیسا کام کرنے والے غریب زادے بھی بلا شبہ پاکستانی اور مسلمان ہی ہیں ۔ مسلمان اور پاکستانی امیرزادیاں جو ہر دینی اور ریاستی قوانین سے بالا ہیں اور ہر عیاشی انکے قدموں تلے ہے ۔ جبکہ دوسری طرف غریب پاکستانی اور مسلمان لڑکیاں اور عورتیں ہیں جو  ایک وقت کی روٹی کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہیں یا گھر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں اور پھر ہر قانون اور جبر وزیادتی کا بھی یہی غریب خواتین ہی  شکار ہیں اور تمام اسلام بھی بس انہیں کے لیے ہے عزت ، شرافت ، چادر چار یواری   کا ظلم بھی صرف انکی غریب عورتوں کا مقدر ہے   ۔

اٹل حقیقت یہ ہے کہ آج صرف دو مذاہب ہیں ، دو اسلام ہیں ، دو فرقے ہیں ، دو پاکستان ہیں ، دو فوجیں ہیں اور دو ہی طبقات ہیں ، امیر اور غریب ، ظالم اور مظلوم ، حکمران اور عوام ، جاگیر دار اور کسان ، سرمایہ دار اور مزدور استحصال کرنے والا اور استحصال کا شکار ، جن کے درمیان کوئی محبت ، بھائی چارہ اور مصالحت نہیں ہو سکتی ان میں صرف لڑائی اور جنگ ہو سکتی ہے جو جاری ہے  ۔ کیونکہ ان میں ایک کی جیت دوسرے کی شکست ہے ایک کی امارت دوسرے کی غربت ہے ۔ایک کی عیاشی دوسرے کی خودکشی ہے ایک کی زندگی تو دوسرے کی موت ہے ۔ جالب نے لکھا تھا کہ امیروں کے گھروں میں چراغ  غریبوں کے  لہو سے ہی  جلتے ہیں۔ جسکو طبقاتی لڑائی کہتے ہیں ۔ حکمرانوں کی دولت میں مسلسل اضافہ صرف اور صرف عوام کے زبردست استحصال سے ہی ممکن ہے ۔ انکی طاقت اور حکمرانی کا غلبہ صرف اور صرف طبقاتی تحریک کو کمزور کرکے اور عوامی طاقت کو توڑ اور تقسیم  کر کے  ہی قائم رکھا جا سکتا ہے جن کے لیے یہ نعرے بڑے سودمند ہیں ۔ میں( عیاش حکمران ) بھی پاکستان ہوں اور تو (غریب عوام)بھی پاکستان ہے ۔

تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ مسلمان آصف زرداری ، نواز شریف ، مولانا      ڈیزل ،بلاول زرداری اور حمزہ شریف تو بھائی بھائی ہو سکتے ہیں لیکن غربت سے تنگ خودکشی کرنے والے مسلمان یا بے روزگار نوجوان ان امیروں کے کیسے بھائی ہو سکتے ہیں جنہیں بے روگاری اور انکے مسائل کا احسا س تک نہیں ہے کیا بھائی ایسے ہوتے ہیں اور کیا        یہی  بھائیوں کی تعریف ہے اگر یہ تعریف ہے تو پھر ہمیں بھائیوں کی تعریف بدلنا ہوگی یا پھر بھائی بدلنے ہو ں گئے؟ ۔

محبت سب کے لیے نفرت کسی کے لیے نہیں ،، یہ بھی ایک فرقہ  پرور  مذہبی حکمرانوں کا بنیادی نعرہ ہے جو اپنی ابتدا سے انتہا تک تضاد اور جھوٹ سے بھرا ہے ۔ جو پھر ایک دوسری فرقہ واریت کی بڑی جعل سازی اور فریب ہے ۔ کیونکہ محبت کا احساس نفرت کی موجودگی میں ہی ہو سکتا ہے اس لیے جب چند لوگوں سے محبت ہو گئی تو بقیہ سے نفرت ہو گئی سماجی سائنس اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے محبت اور نفرت جہاں ایک دوسرے کی ضد ہیں وہاں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزم  اور ہونے کا جواز بھی  ہیں  ۔ یہ   نفرت اور محبت  کے    جذبات  و احساسات جہاں اور جب بھی ہوں گئے دونوں اکٹھے ہوں گئے یا بالکل نہیں ہوں گئے یہ ایک لازمی امر ہے لیکن یہ ایک الگ بحث ہے کہ محبت اور نفرت کوئی مستقل اور ٹھوس نہیں ہوتیں ۔ بلکہ یہ مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں کسی بھی فرقے یا مذہب میں تو محبت اور نفرت بہت ہی مفاداتی اور کمزور ہوتی ہے ۔ جو صرف چندوں پر ہی تبدیل ہو جاتی ہے ۔ جس پر یہاں بحث کی گنجائش نہیں ہے ۔

اگر واقعی یہ اس محبت کے نعرے کو مانتے ہوں تو پھر یہ کھبی ایک الگ فرقہ یا مذہب نہ ہوتا ان کا پر تشدد سخت نظام  اور بے لگام آمرانہ مرکزیت نہ ہوتی اپنے آپ کو منفرد اور اعلی کرنے کے احساس محرومی کے جذبے اور اظہار نہ ہوتے جو ایک بھیانک تعصب کی ہی واضح کڑی ہے۔ اصل میں یہ نعرہ کچھ ایسے ہے ،، محبت صرف مرکز کی غلامی کے لیے باقی  سب کے لیے صرف نفرت ،، محبت صرف اپنے فرقے کے لیے بقیہ سے نفرت ۔  ہر مذہب اور فرقے کی یہی بنیاد ہے جس کے اوپر مختلف اقسام کی بے ہودہ اور غیر منطقی  ڈرامے اور اشتہار  بازیاں کی جاتیں ہیں  ۔ اور اگر سب کے لیے محبت ہے تو پھر انہیں دہشت گر داعش ، د  القاعدہ اور طالبان سے بھی محبت ہوگئی اور ان کے ہاتھوں مرنے والے معصوم لوگوں سے بھی  محبت ہوگئی ظلموں سے بھی اور مظلوموں   سے بھی زرداری نواز شریف سے بھی اور غریب عوام سے بھی محبت ہوگئی۔ بش سے بھی صدام اور اسامہ  بن لادن  سے بھی ، اوباما سے بھی اور اسد البشارت سے بھی ،  اس لیے اگر آپ جہاہل کے دیوتا        ہیں  تو برائے مہربانی  ہمیں اور معصوم  عوام کو  بے وقوف مت بنائیں۔ 

ملائیت کا ایک بہت بڑا ڈھانچہ اور وسیع تر مذہبی نکموں کا گروہ ہے جس کو قائم رکھنے اور پانے پوسنے کے لیے تمام مذاہب اور فرقوں کو بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت درکار ہوتی ہے ۔ مذہب ایک ایسی دوکانداری ہے جس میں گاہک اپنے خون پسنے کی کمائی میں سے صرف ادائیگی ہی کرتے ہیں اس کے بدلے  ان کو کوئی چیز نہیں ملتی ماسوائے ایک کٹر تعصبی فریب   اور جنت  کی تسلی   ہے  جو سماجی بھلائی نہیں بلکہ بربادی کا سبب ہے ۔ یہ مذہب اور فرقوں کے نام پر دھندہ کرنے والے اپنے بے کار اور زہریلے وجود کے جواز کے لیے انسانوں کے اندر کم علمی کی وجہ سے سرائیت کیا ہو ئے  خوف اور لالچ کو بھر پور استعمال کرکے ان سے اپنے لیے خدا کے نام پر بڑی بڑی رقموں بٹورتے ہیں ۔ عام آدمیوں کی زندگیوں کو دنیا میں ہی جہنم بناکر خود جنت سے بھی پر تعاش زندگی اسی زمین پر گزارتے ہیں ۔ اور پھر ان اطاعت گزاروں کا احسان بھی نہیں مانتے بلکہ جنت کالالچ اور جہنم کے خوف کے نام پر ان سے مسلسل بڑی بڑی خیراتیں ، چندہ ، صدقے بڑی بے شرمی سے وصول کرتے رہتے ہیں اور پھر انہی کو ہی دوزخی ٹھہراتے ہیں ۔ یہ پیار محبت کی باتیں کرکے نفرت  کے کاروبار کرتے ہیں ۔ یہ ظلم کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کی بنیادیں اور اسکے رکھوالے ہیں ۔

بھوک ایک وحشت اور درندگی کا نام ہے جس میں کوئی رشتہ ، کوئی امن ، کو ئی تہذیب و تمدن ،کوئی الیکشن ، کوئی مذہب ، کوئی ملک اور کوئی نظام چل نہیں سکتا  اس  میں سب کو ایک دن دیر یا بدیر خاکستر ہو جانا ہے ۔ یا پھر بھوک کو خود مٹ جانا ہے یہ دونوں چیزیں کھبی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں یا ایک لمبا عرصہ  یا پھر  مستقل کھبی  نہیں چل سکتیں ۔ ۔ جس کا فیصلہ مذہبی ٹھکیداروں اور حکمرانوں کو نہیں بلکہ باشعور عوام کو کرنا ہے ان سب کو مسترد کرکے اپنے طبقاتی اتحاد سے اپنی لڑائی خود لڑکے ،  اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنا ہے ۔

یورپ کی موجودہ جمہوریت اور سرمایہ داری کا آغاز انہیں مذاہب اور غیر حقیقی خدائی  نظریات کو ماضی کے قبرستانوں میں دفن کرنے کے بعد ہی ہوا تھا ۔ اور آج جب بازاری معیشت کا نظام چلنے سے قاصر ہے تو یہی حکمران جو مذاہب کے دیوتاوں کو ماضی کے  قبروں میں دفن کر چکے تھے آج پوری دنیا میں اپنے استحصالی اور مالیاتی  مفادات کے لیے انہیں  قبروں سے اکھاڑ لائے ہیں ۔ جس سے مذہب آج ایک مذہب نہیں بلکہ ایک فائدہ مند کاروبار اور عوامی استحصال کا زریعہ  بن چکا ہے اگر آپ آج کے بڑے  عالمی کاروبار کے اعدوشمار دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آج دنیا کے دو بڑے ترین بزنس ہیں ایک سکیس اور دوسرا مذاہب جو سب سے بڑی منڈی رکھتے ہیں ، یعنی موجودہ سیاسی اور مذہنی حکمرانوں کے کٹھ جوڑ نے ان دونوں معصوم انسانی ذاتی جذبوں کو دھندہ بنا کر بازار میں منافع بخش کاوبار بنا ڈالاہے جو  بازاری منافع کے  نظام کے خاتمے اور  اشتراکی انقلاب کا تقاضہ ہے ۔ آج تک کی تمام انسانی ترقی مادی اور  جدلیاتی سوچ کے اصولوں پر طبقاتی جدوجہد کی مرہون منت رہی ہے اور آئندہ بھی سماجی ترقی اسی مارکسی فلسفے کے بغیر ممکن نہیں  ہے جو آج ایک عوامی انقلاب کی پکار کر رہا ہے ۔

دانیال رضا کی کتابیں پڑھنے کے لیے کلک کریں  

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh