تحریر ۔ دانیال رضا 

میڈیے کے زریعے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی ترقی کر رہا ہے اور یہاں کے حالات بہت اچھے ہیں  جبکہ ہمیں سیاسی پراپیگنڈے  سے زیادہ حقیقی اعدادو شمار کو دیکھنا چاہیے جو زیادہ ٹھوس اور واضح سچ کو ظاہر کرتے ہیں ۔یہ بتاتے ہیں کہ جرمن سماج میں طبقاتی خلیج  مسلسل بڑھ رہی ہے  سماجی مشترکہ ترقی ایک خاص طبقے کی ترقی  بن چکی ہے اور دوسری طرف  ریاستی بچت کے نام پر عوامی سہولتوں میں کٹوتیوں  سے فلاحی  ریاست کا تصور  ماند پڑ چکا ہےاور گرتا عوامی معیار زندگی بہت تکلیف دہ ہو چکا ہے جو ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے سماجی اور انسانی زندگی  اس سے متاثر  ہے ۔ جس سے عام لوگوں میں ذہنی کچھاو اور تناو بڑھ رہا ہے۔ 

تمام دنیا میں  بحران کے باوجود  اب تک وفاقی جمہوریہ جرمنی  اس لیے کچھ مستحکم ہے کہ  اس کے بحران کو بچانے والے عناصرکچھ مضبوط ہیں لیکن مستقل محفوظ نہیں ہیں ۔ جرمنی برآمدات  میں سر  فہرست ہے ۔ جرمنی  دنیا کا  چین کے بعد دوسرا  اور ہیوی انڈسٹری  کی   برآمدات  میں پہلا   بڑا ملک ہے لیکن  آج کے   بدلتے  عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات  جرمنی کی مالیات  کے لیے بڑے چیلنج  بن چکے ہیں جس سے جرمن معیشت کانپ رہی ہے ۔ امریکہ جرمن  اکانومی کی دنیا میں بڑی ترین اور خاص طور پر کاروں کی منڈی ہے  جس کی گدی پر دائیں بازو کا  حکمران  ٹرمپ اینڈ کمپنی براجمان ہو چکے ہیں  اور امریکہ کو عظیم بنانے کے لیے درآمدی ٹیکسوں میں اضافہ چاہتے ہیں جو جرمنی (اور چین )کے لیے اچھا شگون نہیں ہے  اس لیے جرمنی کی کا نسلر  مسز مارئیکل ٹرمپ  کی ناپسندگی اور مرضی کے خلاف  امریکہ گئیں  اور جس  بد سلوکی سے ٹرمپ ان کے ساتھ پیش آیا  وہ میڈیے پر تمام دنیا نے دیکھا ۔ لیکن  مالیاتی نطام میں  سرمایہ ہمیشہ عظیم ہو تا ہے عزت نہیں ۔ دوسری طرف یورپ میں برطانیہ جرمنی کی  کاروں  کی بڑی منڈی ہے  جو اب یورپین یونین سے الگ ہو رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ چین جرمنی کی ہیوی انڈسٹری کی بڑی منڈی ہے ۔  چین کی جی ڈی پی میں کمی اور امریکہ سے  اسکے تضادات بھی جرمن معیشت کو جھٹکا دیں گئے۔ 

  مالیاتی بحرانوں سے منڈیوں  کی سرد بازاری  نے جرمنی کی کاروں اور ہیوی مشین  کی برآمدات جو جرمن معیشت کی بنیادیں ہیں لزر ہ دی ہیں۔ دنیا بھر میں  امریکہ سمیت تمام ممالک اپنے مالی بحرانوں کے گرداب سے باہر نکلنے کے لیے  درآمدات کی یلغار کو روکنا اور برآمدات میں اضافہ چاہتے ہیں جس کے لیے یہ ریاستی تحفظاتی پالیسوں پر گامزن ہیں ۔جس نے آج کی دنیا کو ایک  بار پھر بھیانک تجارتی جنگوں کے دور میں داخل کردیا ہے ۔  یہ پالیسیاں اور اقدامات عالمی  اقتصادی بحران کو حل کرنے کی بجائے اسے مزید تیز اور شدید کر رہیے ہیں ۔ معیشت کا زوال بری طرح سیاست میں عود آیا ۔ عالمی حکمران   امریکہ  سامراج ٹوٹ کر بکھر رہا  ہے اور دنیا میں طاقت کے تواز ن غیر متوازن  ہو گئے ہیں ۔ جس  سے نئے  عالمی تضادات ،جنگیں، ملکوں کی نئی تقسیم  ،  نئے سیاسی اور معاشی عالمی بلاک ، اور پرانے بلاکوں میں ٹوٹ پھوٹ ، آج کے عالمی منظر نامے پر نمایاں  ہیں ۔ 

موجودہ  عالمی حالات سے جرمنی کسی صورت  الگ نہیں رہ سکتا  اس لیے جرمن حکمران بھی  اپنے اقتصادی بحرانوں کا بوجھ  محنت کش عوام پر لادنے میں مصروف  ہیں۔ جرمنی میں مزدروں کی حقیقی اجرتوں میں 50 فیصد کمی آچکی ہے ۔  سستی لیبر  ، کام کے اوقات کار میں اضافہ ، کام کے حالات میں  گراوٹ ،پنشن کی عمر میں67سا ل تک کا  اضافہ ،  پیشنوں میں کمی ، ٹھیکیدار کی فرموں کی بھر مار سے  مستقل  ملامتوں  اور تنخواہوں  میں  کمی ، بے روزگاری میں اضافہ ،  سماجی سہولتوں میں  ریاستی کٹوتیوں سے عوامی معیار زندگی تباہ ہو کر رہ گیا ہے  ۔ بے شمار بوڑھے  قلیل پنشوں کی وجہ سے  کام کرنے پر مجبور ہیں ،  عورتوں کی مردوں کے مقابلے میں 25 فیصد تنخواہیں کم ہیں ۔ جبکہ  پرائیوٹ سیکر کی  حوصلہ افزائی کے لیے مالکان کو مزید چھوٹیں اور رعائتیں دی جا رہی ہیں  ۔ اور اب مئی میں جرمنی کی موٹر وے  کو بھی  نجی ملکیت میں دینے کا پلان تیار کر لیا گیا ہے ۔(جس کی ایس پی ڈی کے نئے سربراہ مارٹین شولز نے بھی حمائت کی ہے) ۔  جرمنی کا تعلیمی اور تعمیرو ترقی کا بجٹ مسلسل گراوٹ  کا شکار ہے ۔ مہاجریں کی تمام  رعائیتں  اور سہولتیں خمم ہو رہی ہیں  اور انہیں  جبرن  ملک بدر کیا جا رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ 12سال سے سی ڈی یو کی کانسلر مسز مارئیکل کی شہرت آج  کم ترین سطح پر گر چکی ہے ۔  

جرمنی میں  معروضی طور پر  جو سکون نظر آتا ہے اس کے نیچے ایک انتشار اور پکتا لاوہ ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے ۔ سی ڈی یو  اور سی ایس یو کی سربراہ  اور جرمنی کی کانسلر اینگلا مارئیکل اور ایس پی ڈی کا نیا صدر مارٹین شولز دو نوں حکمران طبقات کے نمائندے ہیں جو مالیاتی جبر کو عوام اور سماج پر قائم رکھیں گئے ۔ جن کا اظہار سیاسی میدان میں  روائتی پارٹیوں ایس پی ڈی اور سی ڈی یو  کے  دیوالیے اور انتہائی دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی کے ابھار میں نظر آ رہا ہے ۔ دی لیفٹ پارٹی جو آج تک عوام کے لیے ایک انقلابی متبادل نہیں بن سکی اور اس کا پروگرام  بھی موجودہ نظام میں اصلاحات کا ہی نمائندہ  ہے جس پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے ۔ اور ان     معروضی حالات میں حقیقی  بائیں بازو کی پارٹی کی  عدم موجودگی سے عوامی مایوسی کا  بھر پور فائدہ  انتہا پسند  اٹھا رہے ہے ۔ اور اے ایف ڈی جیسی کمزور پارٹی بھی چند صوبائی پارلیمنٹوں میں جا پہنچی ہے ۔ 

آئندہ  الیکشن میں عوامی دباو کو کم کرنے کے لیے حکمران  طبقات ایس پی ڈی کو حکومت میں لانے کی کوشیش کریں گئے  جو پھر صرف چہروں کی ہی تبدیلی ہوگئی ۔ اسی لیے پہلے شاٹین مائیر کی جگہ زیگما گبریل کی  قیادت کو  لایا گیا اور پھر اسے بھی تبدیل کر دیا گیا ہے  اور یورپی پارلیمنٹ سے شولز کو لایا گیا ہے ۔ یہ ممکن بھی نظر آرہا ہے کہ آئندہ قومی حکومت ایس پی ڈی کی بنے کیونکہ سی ڈی یو کی 12سالہ حکومت نے عوام دشمن پالیسوں سے عوام میں اپنی مقبولیت کھو دی ہے ۔  لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایس پی ڈی نے وہ مقبولیت حاصل کر لی ہے کیونکہ 12سال سے ایس پی ڈی بھی سی ڈی یو حکومت کی ہر عوام  دشمن پالیسی میں شریک جرم رہی ہے ۔اس لیے اگلی حکومت بھی ایس پی ڈی تنہا نہیں بنا سکے گئی  اور ایک بڑے اتحاد کی حکومت کے آثار نمایاں ہیں۔ 

اے ایف ڈی جو  جرمنی میں ایک نیا  فاشسٹ رجحان ہے۔ عارضی اور نا پیدار ہے جو موجودہ روائتی پارٹیوں سے ناامیدی اور دی لیفٹ پارٹی کی کمزوری سے ابھرا ہے۔ کیونکہ اے ایف ڈی  یا کوئی اور دائیں بازو کی پارٹی کھبی بھی متصبانہ پرگرام پر ایک بڑی اکثریت نہیں جیت سکتے( جرمنی اور  نہ ہی یورپ  کے کسی ایک ملک میں یہ  یورپ میں نئے فاشسٹ  رجحانوں  کا ابھار سرمایہ داری کی ناکامی کا ثبوت ہے جو عوام اور سماج کے زوال کی ذمہ دار ہے)۔ 

اے ایف ڈی پی  آئندہ الیکشن میں جیتنے کے لیے اسلامی دہشت گردی کو استعمال کرئے گا یعنی   ملکی داخلی سیکورٹی میں اضافہ ،  جس کے لیے نئے سخت قوانین بنائے جائیں ، کام اور عوامی جہگوں پر نقاب  پر پابندی ، سرحدوں کو سخت کنٹرول  کیا جائے پولیس  اور خفیہ پولیس کی تعداد اور اختیارات میں اضافہ کیا جائے یعنی ریاستی جبر کے ادارے مضبوط کیے جائیں ۔جس سے حکمران طبقات مزید  طاقت ور ہوں گئے ۔  جرمن عوام کمزور  اور غیر ملکی مزید جبر کا شکار ہوں گئے ۔ اس لیے فاشسٹ  اپنے آخیری تجزیے میں ہمیشہ حکمران طبقات  اور انکی ریاست کو ہی مضبوط کرتے ہیں اور عوام کے لیے ایک ناقابل معافی سزا ہیں ۔ 

حکمرانوں کے اس پیش منظر میں عوام بھی اپنی صفوں کو منظم اور مضبوط کررہے ہیں ۔جس سے  بس  ڈارئیووں ، ریل کے انجن ڈارئیوروں ، ائیر پوٹوں پر مختلف شعبوں  میں اور دوسرے صنعتی اداروں میں ایک بار پھر ہڑتالوں کا آغاز ہو چکا ہے ۔ ڈی لیفٹ پارٹی  کو بھی اپنا پروگرام زیادہ ریڈیکل کرنا ہو گا وگرنہ عوام انہیں جرمن سیاست سے باہر پھنک دیں گئے ۔جرمنی میں بھی تیز ترین واقعات کا آغاز ہو رہا ہے اور اب آنے والا وقت جرمنی میں پر سکون اور بور نہیں ہوگا بلکہ  دلچسب ہو گا ۔

کتاب۔ جلتا گوبل کا پیش لفظ

 

 

0
0
0
s2smodern

Comments   

0 #4 khurshid 2017-04-09 14:44
الیکشن چاہے کتنے بھی ھوں پٹواری ان کا اپنا آدمی ہی لگے گا
دوسرے یہ کہ عوام کا حافظہ بھت کمزور ھوتا ہے انہیں کوئی بات زیادہ دیر یاد نھیں رہتی، وہ نھ شرف آسانی سز دھوکہ کھا جاتے ھیں ب بلکہ بڑے شوق سے دھوکہ کھاتے ہیں اگر کوئی ان کو جھنجوڑ کر جگانے کی کوشش کرے تو الٹے اسی کے دشمن بن جاتے ہیں
Quote
+1 #3 Shazia Haq .New Your 2017-04-09 11:20
Zabrdast
Quote
+1 #2 Javed Iqbal.London 2017-04-09 11:17
very Excellent Article.
Quote
+1 #1 ابرار حسن۔ برلن 2017-04-09 11:12
بہت اچھا اور سچا تجزیہ کیا ہے شاندارآرٹیکل ہے
Quote

Add comment


Security code
Refresh