چھبیس اکتوبر دو ہزار تیرہ کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ،، کشمیر بنے گا خودمختار ،، ریلی نکالی گی جس میں جرمنی میں مقیم انڈین و پاکستانی کشمیری محنت کشوں کے علاوہ انڈین سکھوں نے بھی بھر پور شرکت کی اس ریلی کا انتظام جرمنی میں سرگرم کشمیری رہنما راجہ محمود اور انکے ساتھیوں نے کیا ۔ کشمیر ریلی ریلوے اسٹیشن فرینکفرٹ سے انڈین قونصلیٹ فرینکفرٹ تک مارچ کیا ۔ تمام راستے انڈین آرمی کے خلاف نعرہ بازی ہوئی کہ انڈین آرمی اور انڈین قاتل کشمیر سے نکل جائیں ۔کشمیر بنے گا خود مختار ۔ آزادی کشمیری عوا م کا بنیادی حق ہے ۔ ریلی کے آغاز پر ریلوے اسٹیشن کے سامنے ایک جلسہ عام کیا گیا جس میں چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈئٹر دانیال رضا نے پہلے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک برصغیر میں طبقاتی اور مالیاتی استحصال قائم رہے گا کوئی ایک بھی انسانی آزادی ممکن نہیں ہے ۔کشمیر آج برصغیر کا ایک خون میں ڈوبا قومی مسئلہ ہے جس کو حل کرنے میں نہ تو مقامی اور نہ ہی عالمی حکمران سنجیدہ ہیں بلکہ انہی کی وجہ سے کشمیر ایک خونی آمائش سے دوچار ہورہاہے ۔ کشمیر کا مسئلہ صرف اور صرف دونوں اطراف کی کشمیری عوام ہی اپنی طبقاتی جدوجہد کے زریعے حل کرا سکتے ہیں ۔ آج نہ صرف کشمیر بلکہ برصغیر کی ہر قوم اور اسکے عوام سرمایہ کے جبر اور استحصال کا شکار ہیں ۔ایک مخصوص حکمران طبقے نے برصغیر اور تمام دنیا کے عام لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ طبقاتی استحصال کے ساتھ ساتھ علاقائی استحصال بھی اپنے عروج پر ہے جس نے انڈیا میں آٹھارہ اور پاکستان میں چار قومیتوں کی قومی آزادی کی تحریک کو جاری کیا ۔ برصغیر کی نجات صرف ایک عوامی اور مزدور فیڈریشن سے ہی ممکن ہے ۔ پاکستان ایسوسی ایشن جرمنی کے صدر ویجی شاہ نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کی تحریک کی مکمل حمائت کرتے ہیں آزادی ہر قوم کا مکمل حق ہے ۔ پیپلزپارٹی جرمنی کے رہنما منیر چوہدری جو شٹوڈ گارڈ سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ کشمیری عوام کا مکمل سا تھ دیا ۔اور پی پی پی جرمنی مکمل طور پر کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور انکی آزادی کی حمائت کرتے ہیں ۔ولیندر سنگھ نے کہا کہ برصغر آج مظلوم قومیتوں کا جیل خانہ ہے جس میں کسی ایک قوم اور افراد کو کوئی آزادی حاصل نہیں ہے ۔ آزادی صرف کشمیری عوام کا ہی نہیں بلکہ ہر قوم کا بنیادی حق ہے جس کی ہرذی شعور کو مکمل حمائت کرنی چاہیے۔ آخیر میں انڈین قونصلیٹ فرینکفرٹ کے سامنے بھی ایک احتجاجی جلسہ کیا گیا ۔جس میں پاکستان سے آئے پنجاب اسمبلی کے ر کن رانا لیاقت ، سلیم بھٹی ، ایک اور سنگھ ساتھی اور کشمیر رہنما اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈین حکمرانوں اور ریاست کا جبر اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے ۔ہر روز بے شمار بے گناہوں اور معصوم کشمیری شہریوں کو بڑی بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے ۔ کنواری اور بن بیاہی لڑکیوں سے وحشیانہ ریب روز کا معمول بن چکا ہے جس پر تمام حکمران خاموش تما شائی ہیں اور ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ راجہ محمود نے کہا کے ہمارے مظاہرے کا مقصد عالمی عوام کو کشمیر کے مسئلہ کی سنجیدگی اور یہاں کے عوام پر چھیاسٹھ سال سے ہونے والے مسلسل ظلم وجبر اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ عالمی عوام کشمیری عوام کے شانہ بشانہ ان پر ہونے والے علاقائی اور طبقاتی استحصال کے خلاف متحد ہوں اور ایک حقیقی آزادی کی طرف مارچ کیا جائے ۔سٹیج سیکرٹری کے فرائض دانیال رضانے ادا کیے اور آخیر میں یہاں پر زبردست انڈین حکمرانوں اور آرمی کے خلاف نعرے بازی کی گی تین بجے شروع ہونے والا احتجاج شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

0
0
0
s2smodern