تیرہ جون دوہزار تیرہ  کو مذہبی فسطائیت کے خلاف جرمنی میں تحریک  کے سلسے میں چنگاری فورم جرمنی کے ساتھیوں کا مصروف ترین دن تھا اور ایک ہی دن میں تین اہم تریں میٹنگز  ہوئیں جن کی رپورٹ مندرجہ ذیل ۔ 

صبح دس بجے چنگاری فورم کے رہنما دانیال رضا جرمنی کی سیاسی پارٹی ڈی لنکے ڈیٹسن باغ کی کونسلر ثمینہ خان کراس ،، ضلع ،، اوفن باغ ڈی لنکے کے مرکزی رہنماوں نے احمدی جماعت کی جرمنی میں بڑھتی فسطائیت اور سرکاری سکولوں میں باقاعدہ تعلیم کے خلاف ایک اجلاس ٹاون ہال ،، کراس ہاوس ،، ڈیٹسن باغ میں ڈی لنکے کے مرکزی دفتر میں کیا جس میں ہیسن کے چند سیاسی رہنماوں کا اور خاص طور پر جرمنی کی سیاسی پارٹیوں ایف ڈی پی اور سی ڈی یو کی جماعت احمدیہ کی مذہبی فسطائیت کی پشت پناہی اور حمائت کی سخت مذمت کی اور ضلع ،، کراس ،، اوفن باغ کے علاقے ڈیٹسن باغ اور درائے ایش میں ڈی لنکے پارٹی نے باقاعدہ اور سرکاری سطح پر احمدیت کی سرکاری سکولوں میں تعلیم کی مکمل مخالفت اور چنگاری فورم کی اس نیو فاشزم کے خلاف تحریک کی مکمل حمائت کا اعلان کیا ۔ اور چنگاری فورم کی پیش کردہ ایک قراداد اور حکومت سے سرکاری سکولوں میں احمدیت کے ذہنی طور پر معذور اورنیو طالبان مربعیوں کے زریعے تعلیم کے آغاز کے حوالے سے کئے گئے سوالات باقاعدہ طور مشترکہ رائے سے ڈی لنکے اوفن باغ کی سرکاری ویب سائیٹ پرثمینہ خان کی طرف سے اپ ڈیٹ کر دئیے گئے ہیں جو آپ ڈی لنکے اوفن باغ کی ویب سائیٹ پر دیکھ سکتے ہیں ۔

میڈیے سے ملاقات

دوپہر ساڑھے بارہ بجے ڈیٹسن باغ میں ہی جرمن میڈے سے ملاقات کا وقت تھا جس میں دانیا ل رضا ، ثمینہ خان اور فرنک نے جرمنی کے سرکاری سکولوں میں احمدیت کی مذہبی تعلیم سے فرقہ واریت اور جرمنی میں ایک بار پھر فسطائیٹ کے بھیانک خطرات کے پھلنے کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ جس میں ثمینہ خان ، دانیال رضا ، رائینا اور فرنک نے حصہ لیا  انہوں نے کہا کہ ہم جرمنی کے کسی بھی سرکاری سکول میں کسی بھی قسم کی مذہبی تعلیم کی مکمل مخالفت کرتے ہیں کیونکہ مذہب لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے اور کسی بھی مذہبی سوچ کو ہر صورت سماج ، سماجی، تعلیمی اور ریاستی اداروں سے دور رہنا چاہیے ۔ مذہبی جماعتوں کی آپسی لڑائیاں او ر انکی دوسروں سے نفرت اور حقارت کا کوئی سماج بھی متحمل نہیں ہو سکتا ۔یہ وہی مذہبی جماعتیں ہیں جنہوں نے کمزور ریاستوں کو تباہ و برباد کر کے ان کو خوں میں ڈبو دیا ہے اور یہ آج یہاں بھی اسی غاظت کو دوبارہ پھلنا چاہیے ہیں جو ماضی میں جرمن عوام نے اپنی لازول جدوجہد سے صاف کیا ہے ۔ 

آخیر میں دانیال رضا اور ثمینہ خان نے میڈے کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا ۔ میڈیے کے نمائندوں نے آپسی مضبوط رابطے کے لیے چنگاری فورم کے ساتھیوں کے ای میلز ، ٹیلی فون لیے اور اپنے ای میلز اور ٹیلی فون نمبرز دیئے تاکہ فسطائیت کے خلاف ہر خبر کو میڈیے میں ہائی لائٹ کیا جا سکے اور جرمنی میں عوام کو فسطائیت کے خطرات سے بروقت آگاہ کیا جا سکے ۔ اگلے ہفتے جرمنی کے تمام قومی ٹی وی چینل پر یہ خبر آپ دیکھ سکتے ہیں ۔

درائے ایش میں اوپن میٹنگ

ڈیٹسن باغ میں ڈی لنکے کے مرکزی اجلاس کے بعد میڈے کو بریفنگ دی گئی جس کے بعد شام سات بجے درائے ایش میں ڈی لنکے پارٹی اوفن باغ کا ایک اوپن اجلاس کیا گیا جس میں ڈی لنکے اوفن باغ کے عہدیداروں، فریڈس البرٹ ، نتاشا بینگرٹ ، الیگذنڈر لاورا ، بیرگیرٹ  اور چنگاری فورم  کے رہنما دانیال رضا ، سعید خان ، ثمینہ خان ، آفتاب خان ، راجہ ارشد ، کے علاوہ  سپورٹ کرنے والے علاقائی پاکستانیوں ، طارق ڈار، مرزا قادری اور دوسرے ہمدردوں  نے  شرکت کی ۔ جس میں پہلے صبح کے مرکزی اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے بعد احمدیت کی فسطائیت پر تفصیلی بات چیت کی گئی جس میں دانیال رضا ، ثمینہ خان اور سعید خان نے احمدیت کی تاریخ پر بات کی کہ آٹھارہ سو انانویں میں برطانوی سامراجی کی مدد سے وجود میں آنے والی احمدی جماعت جس کا مقصد ہندوستان کی متحدہ عوامی تحریک کو تقسیم کرنا اور سامراجی مفادات کا تحفظ تھا ۔ مرزا غلام احمد سے لے کر تمام خلیفوں کی لکھی گئی تمام کتابوں سے بھیانک فسطائیت اور رجعت پر ستی کو ثابت کرنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

برطانوی سامراج نے تمام دنیا میں اپنی ظلمانہ حکمرانی قائم کرنے کے لیے عوام کو تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کی عوام دشمن پالیسی ہر جگہ مسلط کی ۔ اس نے نہ صرف ہر طرح کی فرقہ واریت اور تعصبات کو پیدا کیا بلکہ اسے عروج دیا اور اسکا مکمل تحفظ بھی کیا ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ جماعت احمدی کے خلیفوں ، ایم کیو ایم کے الطاف حسین ، سلمان رشدی جیسے انتشار پسند اور تعصبی آج برطانوی حکمران کے زیر سیایہ محفوظ ہیں ۔ 

ڈی لنکے اوفن باغ نے اس کا اعادہ کیا کہ وہ چنگاری فورم کی اس فاشزم کے رجحان کے خلاف طبقاتی تحریک کو ڈی لنکے پارٹی اور عوام میں پھیلائیں گئے اور ان کا مکمل ساتھ دیں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی قیادت کا عوام دشمن چہرہ آج بے نقاب ہو چکا ہے ۔ان کا نعرہ ،، محبت سب کے لیے اور نفرت کسی کے لیے نہیں ،، ایک دھوکہ اور بد ترین منافقت ہے یہ انسانوں کے روپ میں بھڑیے ہیں ۔ انکی مسجدیں عبادت گاہیں نہیں بلکہ انکے فاشسٹ اڈے ہیں جن کے متعلق بھی سوچنے کی ضرورت ہے ۔ 

اس اوپن اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈی لنکے پارٹی اور چنگاری فورم جرمنی مل کر کام کریں گئے اور جرمنی کے سرکاری سکولوں میں ہر قسم کی مذہبی تعلیم ، جس میں احمدیت ، عیسائت ، یہودیت جو اب تک سرکاری طور پر منظور شدہ ہیں کے خلاف بھی جدوجہد کریں گئے ۔

اسی دن بعد دوپہر جماعت احمد جرمنی کے سنٹر بیت اللصبح فرینکفرٹ میں ایک پریس کا نفرنس بھی تھی جو جماعت احمدیہ کو سرکاری طور پر منظور کرنے پربلائی گئی تھی اس میں جماعت احمدیہ جرمنی کے امیر یا صدر عبدللہ واگس نے اپنی جماعت کے ممبران سے سرکاری سطح پر چندے وصول کرنے سے انکار کیا جس طرح عیسائی یا یہودی اپنے ممبران سے وصول کرتے ہیں ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کے زیادہ تر ممبرز سوشل ہلپ پر زندہ ہیں لیکن زیادہ ترین چندے دیتے ہیں اسی لیے جماعت کا مالی بجٹ جرمنی میں دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہے ۔اگر جماعت احمدیہ سرکاری طور پر چندے وصول کرتی تو بہت سے سوالات اٹھنے تھے کہ سرکاری امداد حاصل کرنے والے غریب افراد اتنا زیادہ چندہ کہاں سے اور کیسے دیتے ہیں ؟ اور پھر وہ چندے کی تیتیس قسمیں جو ہر غریب احمدی سے بھی زبردستی غیر انسانی طریقے سے حاصل کیا جاتاہے سامنے آجانا تھا جس کی جرمنی میں اجازت نہیں ہے اور وہ تمام چندے کی رقم بھی سامنے آجانی تھی جو فنانس آفس سے چھپائی جاتی ہے جیسے کالا دھند کہا جاتا ہیں اور جرمنی میں ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ اس کے باوجود یہ جماعت اپنے آپ کو خدائی جماعت کہتی ہے؟

0
0
0
s2smodern