کامریڈ دانیا ل رضا کی انقلابی شعلہ بیاں تقریر کے بعد آخر میں کونصلر جنرل جی آر ملک نے کہا کہ آج مجھے پاکستان کا مستقبل مایوس نظر نہیں آ رہا مجھے انیس سو آٹھاسٹھ کی رعنائیاں ایک بار پھر صاف چمکتی نظر آ رہی ہیں ۔ ان کے ان دو جملوں نے پاکستان کے محنت کش طبقے کی جدوجہد کی عظیم تاریخ اور انکے ناقابل تسخیر عزم کے سمندر کو بیان کر دیا ۔ یہ دو جملے یقینی طور پر نئے حوصلے اور جرات کا باعث ہیں اور بنے گئے۔

فن وادب ایسوسی ایشن فراینکفرٹ کے تحت ہفتے کو گالوس زال باو میں دو کتابوں کی اوپنگ کی تقریب ہوئی جس میں خورشید علی ، دانیال رضا ، طاہر ملک ، صفدر ہمدانی اور ارشاد ہاشمی نے تقاریر کیں ۔

خورشید علی نے اپنی تقریر میں ایک انقلابی قیادت کی ضرورت اور اہمیت پر مختصرا روشی ڈالی ۔

اس کے بعد کامریڈ دانیا ل رضا ، جو ایک عالمی مارکسی رجحان کے ویب سائٹ چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈئٹر اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین جرمنی کے آرگنائز بھی ہیں نے اپنی تقریر میں انسانی سماجی ارتقا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام انسانی تاریخ کی ترقی انقلابات کی محتاج رہی ہے ۔

جب بھی کسی نظام میں سماجی ترقی کی صلاحیت دم توڑ دیتی ہے وہاں انقلاب کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے ۔ جس طرح انسانی سماج مدر سری نظام سے پدر سری نظام میں داخل ہوا پھر غلامانہ دور کے بعد جاگیرداری اور اسکی کوکھ سے نکلی قومی سرمایہ داری اور پھر آج کی عالمی سرمایہ داری یا مالیاتی نظام جو آج پھر انسانی ترقی کے لیے ایک سوشلسٹ انقلاب کی مانگ کر رہا ہے ۔ جس کے بغیر آج کی غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، سیاسی اور معاشی بحرانوں سے پھلتی سماجی تباہی کو نہیں روکا جا سکتا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے محنت کش طبقے کو ہمیشہ ہر دور میں گالیاں دی گئیں انکو جہاہل ، ان پڑھ ، گوار اور ناجانے کیا کیا کہا گیا لیکن حقیقت میں اسی محنت کش طبقے نے سماجی اور انسانی ترقی کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اس کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا اور ہر انقلاب کو بھی اسی نے ہی اپنے خون سے سینچا ۔ اور اسی ماضی کی طرح آج پھر عوام پر ناخواندگی کا الزم لگا کر ہمارے مزدور طبقے کو غیر انقلابی کہا جا رہا ہے حکمران اور میڈیا اس کی بوجھاڑ میں پیش پیش ہیں ۔ لیکن حقیقت اس کے الٹ ہے کیونکہ جب انسانی تاریخ نے غلامانہ دور سے جاگیردای نظام میں قدم رکھا تو غلاموں کی بغاوتوں نے ہی غلامانہ نظام کو شکست دی اور جاگیرداری کی بنیاد رکھی تھی اس طرح جاگیرداری نظام سے سرمایہ داری کا سفر بھی عوام نے ہی طے کیا کسانوں اور مزراعوں کی انقلابی تحریکوں کی بدولت ہی سرمایہ داری کا قیام ممکن ہو سکا اور آج یہی محنت کش ایک بار پھر جہاہل ، ان پڑھ غیر تہذیب یافتہ ہونے کے الزام کے باوجود یہی اس کرہ ارض کی انسانیت کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے زریعے موجودہ ذلت آمیز زندگی سے نجات دلائے سکتا ہے اور کوئی بھی پڑھا لکھا دانش ور نہ کھبی پہلے تاریخ میں انقلاب کر سکا اور نہ ہی آج کوئی انقلاب کر سکتا ہے ماسوائے رد انقلاب کے ۔

دانیال رضا نے آخیر میں کہا کہ ہم کو آج تمام مذہنی ، علاقائی ، لسانی ، قومی ،تعصبات سے بالا ہو کر صرف اور صرف طبقاتی بنیادوں پر متحد ہو کر ایک سوشلسٹ انقلاب کرنا ہوگا۔

اس کے بعد ملک طاہر نے عالمی شہرت یافتہ صحافی ، دانشور اور عالمی اخبار کے ایڈیٹر صفدر ہمدانی صاحب کے ایک متنازعہ آرٹیکل جو انہوں نے حلال گوشت اور سوچ حرام پر لکھا تھا جس پر بہت سارے لوگوں نے شور مچا دیا کہ یہ کفر ہے ۔ اس مضمون کو یہاں اس لیے پڑھا گیا کہ اگر کسی کو کوئی بھی اعتراز ہے تو وہ ہمدانی صاحب سے براہ راست سوال کر سکتا ہے لیکن اس مضمون کے بعد تمام حاضرین نے تالیاں بجائیں اور کہا کہ یہ بالکل درست ہے اور میں کوئی بات بھی قابل اعتراز بات نہیں ہے ۔ یہ مضمون اصل میں ملائیت کی سوچ کے خلاف لکھا گیا ہے ۔

آخیر میں ہمدانی صاحب نے کہا کہ ملاوں کے پاس سب سے اچھا ہتھیار کسی کو کافر کہا دینا ہوتا ہے تاکہ کوئی بھی دوسرے کی بات سن ہی نہ سکے اور ہمیشہ ملا کی ملائیت کا شکار رہے ۔

انہوں نے پاکستانی قوم کی تباہی میں مرکزی کردار ملائیت کی فرقہ واریت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج سماجی شعور کے زوال کا اظہار ملائیت کی وحشت سے ہو رہا ہے جو لوگوں کو متحد کرنے اور اچھا انسان بنانے کی بجائے انہیں جانور بنا رہے ہیں ان میں نفرت کا زہر گھول کر اپنی اپنی دوکانداری چلا رہے ہیںیہ مذہب کے ہی نہیں بلکہ انسانیت کے دشمن ہیں اور جب تک انکے خلاف لڑا نہیں جاتا تب تک ہم سچائی اور حقیقت سے بہت دور رہیں گئے انہوں نے کہا کہ ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ خود پڑھے اور تحقیق کرئے کہ حقیقت کیا ہے اور ہمیں لازمی ہر روز کچھ نہ کچھ پڑھنا چاہیے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کئی بار دانیال رضا کا نام لیا اور کہا کہ یہ ایک فکری نوجوان ہیں جن کے ساتھ آپ کو لازمی ایک ماہ میں دو تین نشتیں کر نی چاہیے ۔

اس پروگرام میں سٹیج سیکر یٹری کے فرائض ارشاد ہاشمی نے ادا کیے اور انہوں نے سرائیکی کی ایک کتاب پر بھی مختصرا تبصرہ کیا ایک شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی شاعری سے حاضریں کو خوب محضوظ بھی کیا ۔ تقاریر کے بعد ایک مشاعرہ بھی ہوا جس میں بائیں بازو کے شاعر طفیل خلش کئی سالوں بعد دوبارہ اسٹیج پر آئے اور اپنی خوبصورت شاعری پیش کی

اور آخیر میں اس پروگرام کے صاحب صدر کونصلر جنرل ملک صاحب نے اس مضمون کے آغاز کے جملوں کے علاہ کہا کہ یہ ایک بہترین علمی پروگرام تھا جس کو جاری رہنا چاہیے اور انہوں نے تمام حاضریں کا شکریہ ادا کیا ۔

یہ ایک اپنی توعیت اور اہمیت کا لحاظ سے تاریخی علمی اور فکری نشت تھی جس میں پہلی بار مسلسل چار گھنٹے تک تمام کے تمام حاضریں نہ صرف یہاں موجود رہے بلکہ ہمہ تن گوش فکر انگز گفتگو سنتے رہے اور آخیری میں تمام لوگ بہت خوش اور پرجوش تھے اور ہم سے کہ رہے تھے کہ ایسی محفلوں کا سلسلہ اب بند نہیں ہو چاہیے اس کو آغاز ہو نا چاہیے ایک بڑی جنگ کی تیاری کا عوامی جنگ کا ۔

0
0
0
s2smodern