تحریر: آدم پال
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے جبکہ یہاں کی عوام دشمن حکومت مہنگائی کے کوڑے برساتی چلی جا رہی ہے۔ اس ملک کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت غربت اور ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے اور دن میں ایک وقت کی روٹی کے لیے بھی ترس رہی ہے جبکہ حکمرانوں کی زندگیوں میں تعیش اور فراوانی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ پٹرو ل کی قیمتوں میں تیز ترین اضافے سے حکومت پھر اس دیوالیہ معیشت کے خسارے کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ عالیشان محلوں میں پر تعیش زندگیاں گزارنے والے ان حکمرانوں نے غربت اور محرومی کی گہرائیوں میں زندگی بسر کرنے والے کروڑوں عوام کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا ہے۔ ایک جانب ریاستی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کو تیز کیا گیا ہے اور میڈیا اور سکیورٹی اداروں کی کاروائیوں سے خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ بھی محض اتفاق نہیں ہے کہ اسی دوران پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام پر مزید نئے ٹیکس اور دیگر معاشی حملے کرنے کی بھرپور تیاری کی جا رہی ہے۔
ایک لمبے عرصے سے بکاؤ ذرائع ابلاغ کے ذریعے پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ معیشت تیز ترین ترقی کر رہی ہے اور سی پیک سمیت دیگر منصوبوں سے عنقریب یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے دلال عالمی ذرائع ابلاغ کے گماشتہ اخباروں سے چند مضامین کو بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا اور مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معیشت جلد ہی ترقی کا نیا موڑ مڑے گی اور تمام تر غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پاکستان کے محنت کش عوام گزشتہ سات دہائیوں سے یہی منافقت اور جھوٹ سنتے آ رہے ہیں اور ان کے لیے ان دعووں میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ ان کی زندگی ہر روز تلخ ہوتی جا رہی ہے اور بیروزگاری کا عفریت تیزی سے محنت کش طبقے کے ہر گھر کو معاشی دیوالیہ پن میں دھکیل رہا ہے۔ جبکہ اس دوران حکمرانوں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ منافعوں کی ہوس میں کروڑوں عوام کو روندتے چلے جا رہے ہیں۔
ایسے میں سامراجی مالیاتی اداروں کا گماشتہ وزیر خزانہ اسحق ڈار جھوٹ کے نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ بچوں کی کہانیوں میں ایک کردار ہوا کرتا تھا جو اگر جھوٹ بولتا تھا تو اس کی ناک ایک انچ لمبی ہو جاتی تھی۔ اگر یہی کچھ وزیر خزانہ اسحق ڈار کے ساتھ ہوتا تو اس کی ناک ہزاروں میل لمبی ہوتی۔ گزشتہ ہفتے اس نے انتہائی مضحکہ خیز بلند و بانگ دعوے کیے کہ ہم نے کشکول توڑ دیا ہے اور بیرونی قرضوں سے جان چھڑا لی ہے۔ درحقیقت اس کا مطلب تھا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والی 6.6 ارب ڈالر کے قرضے کی قسطیں مکمل ہو گئی ہیں اور اب مزید کوئی قسط باقی نہیں رہی۔ گوکہ اس قرضے سمیت ماضی میں لیے گئے تمام قرضوں کی سود سمیت ادائیگی باقی ہے جس کے لیے آنے والی نسلیں بھی گروی رکھوائی جا چکی ہیں۔ لیکن اس قرضے کے ختم ہونے کے بعد معیشت کو دیوالیہ پن سے بچانے اور تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مزید قرضے لیے جا رہے ہیں۔ صرف جولائی 2016ء سے جنوری 2017ء کے سات ماہ میں 4.6ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے 2.3ارب ڈالر کے قرضے صرف بجٹ خسارے اور بیلنس آف پیمنٹ کی غرض سے لیے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ قرضے کسی بھی قسم کی پیداواری سرگرمی کے لیے نہیں لیے گئے اور انہیں واپس کرنے کے لیے خزانے پر اضافی بوجھ ڈالا جائے گا۔ اس2.3ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر سکک بانڈ کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔ اس بانڈ کو فروخت کرنے کے لیے لاہور اسلام آباد موٹر وے کو ضمانت کے طور پر گروی رکھوایا گیا۔ یہ بانڈپاکستان نے عالمی منڈی میں بانڈ آٹھ فیصد کی شرح سود پر فروخت کیے ہیں جبکہ اسی دوران سری لنکا نے اپنے بانڈساڑھے پانچ فیصد پر کی شرح سود پر فروخت کیے۔ صرف اسی ایک اعشاریے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کتنی کمزور ہے۔ اس کے علاوہ 1.2ارب ڈالر بیرونی کمرشل بینکوں سے قرضہ لیا گیا ہے۔
2.3ارب ڈالر کے اس قرضے کے علاوہ پاکستان نے گزشتہ سال ستمبر میں70کروڑ ڈالر چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے قرضہ لیا۔ اس کے علاوہ 60کروڑ ڈالر کے مزید قرضے کے لیے مذاکرات کیے گئے جس میں سے 30کروڑ ڈالرگزشتہ ماہ موصول ہوئے۔ سی پیک کے بعد سے پاکستان کا قرضوں کے لیے چین پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ ستمبر 2016ء سے جنوری 2017ء کے درمیان پاکستان نے چین سے 1.9ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے۔ ان میں سے ایک ارب ڈالر کمرشل شرائط پر حاصل کیا گیا جبکہ 85.7کروڑ ڈالر منصوبوں کی فنانسنگ کے لیے لیا گیا۔ اندرونی قرضوں کا بوجھ اس کے علاوہ ہے۔
پاکستان کے کُل قرضے 2016ء کے اختتام پر 23.14کھرب روپے کے حجم تک پہنچ چکے تھے جس میں ایک سال میں دس فیصداضافہ ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کا ہر شہری اس وقت ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ محنت کش عوام پر اس بوجھ میں کسی قسم کی کوئی کمی متوقع نہیں بلکہ آنے والے سالوں میں ان میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ قرضوں میں اضافے کی موجودہ شرح دیکھتے ہوئے سنجیدہ معاشی تجزیہ نگاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ جون 2020ء تک کُل بیرونی قرضے موجودہ 74ارب ڈالر کے حجم سے بڑھ کر 110ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ جو کہ معیشت کی موجودہ کیفیت دیکھتے ہوئے انتہائی خطرناک حد ہے اور اس لڑکھڑاتی معیشت کو دھڑام سے گرانے کا موجب بن سکتی ہے۔
ان قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت کا سب سے اہم امتحان ان کی سود سمیت واپسی کے لیے درکار رقم کی فراہمی ہے۔ پاکستان کی معیشت کی حالت یہ ہے کہ قرضوں اور ان پر سود واپس کرنے کے لیے بھی قرضے لیے جاتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ 15ماہ میں حکومت نے صرف اصل رقم کی مد میں 6.5ارب ڈالر واپس کرنے ہیں جبکہ سود کی ادائیگیاں اس کے علاوہ ہیں۔ بیرونی ممالک میں نجی شعبے کو واپس کیے جانے والے قرضے اس کے علاوہ ہیں جن کا حجم 85.8کروڑ ڈالر ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں چین کے ریاستی ادارے SAFEکو 50کروڑ ڈالر قرضوں کی واپسی کی مد میں ادا کیے گئے۔ جبکہ آئندہ ماہ 75کروڑ ڈالر بانڈزکی واپسی کے لیے بھی ادا کرنے ہیں۔ اس کا تمام تر بوجھ بھی دولت امند افراد پر ٹیکس لگانے کی بجائے عوام پر ہی ڈالا جائے گا اور انہیں مزید غربت اور محرومی میں دھکیلا جائے گا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور حکومت کے منافقانہ دعووں کے بر عکس خزانہ خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر 17ارب ڈالر سے گر چکے ہیں اور 16 ارب 85کروڑ ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں، برآمدات اور تارکین وطن کی بھیجی گئی رقوم میں متوقع گراوٹ کے باعث ان ذخائر میں مزید کمی ہو گی۔ وزارت خزانہ کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق اب بہت سے ممالک اور ادارے پاکستان کو مزید قرضہ دینے میں ہچکچا رہے ہیں۔ اس میں جہاں عالمی معیشت میں بحران ہے وہاں پاکستان کی جانب سے قرضوں کی واپسی کی امیدیں بھی زیادہ نہیں۔ گزشتہ سال نو اہم ذرائع سے کوئی قرضہ یا گرانٹ نہیں مل سکا جس میں فرانس، جنوبی کوریا، ناروے، اومان، سعودی عرب، اوپیک اور یورپی یونین شامل ہیں۔ ورلڈ بینک نے بھی متوقع 1.53ارب ڈالر میں سے صرف 27.6کروڑ ڈالر ہی ادا کیے جو کُل رقم کا صرف18فیصد بنتا ہے۔ اس ماہ ورلڈ بینک سے مزید 30کروڑ ڈالر متوقع ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے کُل متوقع رقم کا 67.6فیصد ادا کیا۔ یہی صورتحال دیگر ذرائع کی بھی ہے۔
اس صورتحال میں عالمی سطح پر موجود عدم استحکام نے بحران میں شدت پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے سے بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی عکاسی پاکستان میں گزشتہ دو ماہ میں ڈالر کی تیزی ترین فروخت میں ہوتی ہے۔ صرف دو ماہ میں 50کروڑ ڈالر پاکستان میں فروخت کر دیا گیا۔ درمیانے طبقے کی ایک بڑی تعداد سرمائے کو محفوظ کرنے کے لیے ڈالر پر بھروسہ کرتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر جہاں یہاں کے حکمرانوں کو کوئی بھروسہ نہیں وہاں یہاں کے عوام بھی ہر وقت اس کے ڈوبنے کے خدشے سے دوچار رہتے ہیں۔ اسی لیے مالدار لوگ سرمائے کا ایک حصہ بیرونی کرنسی خصوصاً ڈالر میں انویسٹ کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ دو ماہ میں امریکہ میں ہونے والے واقعات کی بنا پر بڑے پیمانے پر ڈالرمنڈی میں فروخت کیے گئے۔ اس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کسی حد تک استحکام بھی دیکھنے میں آیا جو 109کی حد عبور کر چکا تھا۔ ڈالر فروخت کرنے والے اتنے ہیجان اور افرا تفری کا شکار تھے کہ بہت سے کرنسی ڈیلروں نے روایتی فراڈ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے ڈالر کے پرانے نوٹ 100روپے پر بھی خریدے۔
لیکن اس کے باوجود روپے کی قدر مصنوعی طور پر بڑھائی گئی ہے۔ سنجیدہ تجزیہ نگاروں کے مطابق اسکی وجہ سے برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت روپے کی حقیقی قدر 120روپے بنتی ہے لیکن اسے مصنوعی طور پر 107کے قریب رکھا گیا ہے۔ اس وجہ سے درآمدات میں تیز ترین اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات 34ارب ڈالر کو چھو رہی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات کم ہو کر 20ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ان میں مزید کمی متوقع ہے۔ اسی باعث پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں تجارتی خسارہ 20.2ارب ڈالر ہو چکا ہے جو گزشتہ سال اس عرصے کے دوران ہونے والے خسارے سے 5.2ارب ڈالر یا 34.3فیصد زیادہ ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اس عرسے میں ہونے والا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ برآمدات میں بڑے پیمانے پر کمی ہے جبکہ حکومت برآمدکنندگان کوگزشتہ بارہ ماہ میں دو بیل آؤٹ پیکج دے چکی ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال مذکورہ عرصے میں برآمدات میں 3.9فیصد کمی ہوئی۔ جبکہ درآمدات میں 16فیصد یا 4.6ارب ڈالر اضافہ ہوا۔ درآمدات کے حجم میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر انتہائی کم سطح پر ہیں۔ مالی سال کے بقایا چار ماہ میں یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ہے جس کے باعث مالی سال کے اختتام تک تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ سطح تک پہنچ جائے گا۔ صرف تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
خسارے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بیرونی ممالک میں رہنے والے تارکین وطن کی بھیجی گئی رقوم میں بڑے پیمانے پر کمی ہے۔ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ان رقوم میں گزشتہ سال کی نسبت 2.5فیصد کمی ہوئی ہے۔ جبکہ فروری کے مہینے میں بھیجی گئی رقوم میں گزشتہ سال کی نسبت 6.9فیصد کمی ہوئی۔ یہ رقوم پاکستان کی ملکی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ لیکن خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں معاشی بحران کے باعث بڑے پیمانے پر بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں محنت کش وہاں سے نکال دیے گئے ہیں۔ صرف سعودی عرب سے گزشتہ چند ماہ میں 39ہزار پاکستانی محنت کشوں کو نکالا گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کارجحان جاری رہنے کے باعث ان ممالک کا بحران مزید گہرا ہو گا جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں بھی معاشی بحران کے بڑھنے کے باعث ان رقوم میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ان ذریعے سے 19.9ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 6.4فیصد زیادہ تھے۔ لیکن اس مالی سال میں واضح طور پر کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے باعث خسارے بڑھیں گے۔
اس کے علاوہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کی ادائیگیوں کا بل بھی ادا کرنا ہے جو 414ارب روپے کے حجم تک پہنچ چکا ہے۔ 2013ء میں برسر اقتدار آتے ہی موجودہ حکومت نے جو پہلے چند کام کیے تھے ان میں سرکلر قرضوں کی مد میں ان اداروں کو 480ارب روپے کی ادائیگی کی تھی۔ موجودہ حکومت میں شامل وزرا اورحکمران طبقے کے دیگر افرادیہ رقم وصول کرنے والوں میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے ان نجی کمپنیوں کے حصص خرید رکھے ہیں۔ لیکن اب یہ قرضہ دوبارہ تقریباً اسی حجم تک لوٹ آیا ہے اور اس کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی تقریباً تیرہ نجی کمپنیوں نے اس ادائیگی کے مطالبے کے لیے ضمانت کاروں سے بھی رابطہ کر لیا ہے کہ وہ یہ ادائیگیاں جلد از جلد کروائیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اچھا نہیں لگے گا کہ ہم حکومت کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹیں اور اس کے دیوالیہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹیں۔ اس لیے حکومت ہمیں جلد از جلد مطلوبہ رقم ادا کر دے۔
اس ساری صورتحال میں حکومت ان خساروں کا بوجھ عوام پر ڈالتی چلی جا رہی ہے اور دولت مند افراد پر ٹیکس لگانے کی بجائے غربت میں پسے ہوئے عوام کا خون مزید نچوڑ رہی ہے۔ جہاں پٹرول اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا پر ٹیکس لگایا جارہا ہے وہاں سرکاری اداروں کی لوٹ مار پر مبنی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔ موٹر وے سمیت، ملک کے تمام ریڈیو اسٹیشن اور اہم عمارتیں عالمی منڈی میں گروی رکھوائی جا چکی ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید قرضوں کے حصول کے لیے فوج سے لے کر دیگر سرکاری عمارتیں تک کرائے پر یا گروی رکھوائی جا سکتی ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا۔ درحقیقت یہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ انتہائی بھاری شرح سود پر قرضے ہیں جنہیں واپس کرنے کا بوجھ بھی عوام کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ قرضے بھی زیادہ تر چینی کمپنیوں کو ہی دیے جائیں گے اور ان کے مکمل ہونے کے بعد ان سے منافع بھی چینی کمپنیاں ہی نچوڑیں گی۔ پاکستان کے عوام صرف انتہائی مہنگی بجلی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں قرضوں کی واپسی کی اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ان قرضوں اور سود کی مد میں چین کو 90ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے۔ پہلے سے موجود 74ارب ڈالر کے قرضے اس کے علاوہ ہیں۔ یہ تمام رقم ادا کرنے کے لیے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لے مزید قرضے لیے جائیں گے۔ جس کے لیے حکومت کے پاس کوئی رستہ نہیں کہ وہ ٹیکسوں میں اضافہ کرے اور آئی ایم ایف سے ایک نئے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بھیک مانگے۔
آئی ایم ایف پہلے ہی قرضے دینے کے لیے انتہائی سخت شرائط لاگو کر چکا ہے۔ اس دفعہ اگر حکومت بھیک مانگنے جائے گی تو پہلے سے بھی زیادہ کڑی شرائط کا مطالبہ کیا جائے گا اور ان کی پابندی کروانے کے لیے بھی انتہائی سخت لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اس میں پی آئی اے جیسے اہم ادارے کی نجکاری سے لے کر ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر اضافے جیسی شرائط شامل ہو ں گی۔ اس کے علاوہ روپے کی مصنوعی قدر کو کم کرتے ہوئے اس کی منڈی کے مطابق اصل قدر پر لانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس سے آنے والے عرصے میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 120یا اس سے بھی زیادہ سطح تک جا سکتا ہے۔ اس دوران برآمدات اور تارکین وطن کی بھیجی گئی رقوم میں کمی کے رجحان کے جاری رہنے کے امکانات ہیں بلکہ اس میں شدت آ سکتی ہے۔ حکومت کے دونوں بڑے ذرائع آمدن میں کمی کے باعث زر مبادلہ کے ذخائر پر بڑے پیمانے پر دباؤ آئے گاجس میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے۔ اس کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھیک مانگی جائے گی۔ لیکن ایک ایسا ملک جس کے حکمران خود دولت لوٹ کر بیرونی ممالک میں جمع کرواتے ہوں اور وہاں جائیدادیں بناتے ہوں وہاں پر بیرونی ممالک سے سرمایہ کاروں کو کن شرائط پر لایا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کوڑیوں کے مول سرکاری اداروں کو بیچ دیا جاتا ہے اور ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹیوں میں مکمل چھوٹ دے کے سرمایہ کاری کروائی جاتی ہے۔ حکمران طبقات کی بڑے پیمانے پر بد عنوانی اور لوٹ مار کے باعث یہ سرمایہ کاری یہاں کے عوام پر مزید بوجھ اور اذیت بن کر نازل ہوتی ہے۔ سی پیک کے منصوبے میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اور چینی سرمایہ داروں کی مرضی کے معاہدے کیے جا رہے ہیں جن میں نہ صرف ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹیوں میں مکمل چھوٹ دی جا رہی ہے بلکہ حکومت انہیں 34.5فیصد تک منافعوں کی واپسی کی ضمانت بھی فراہم کر رہی ہے۔
اس ساری بد تر معاشی صورتحال کا یقیناًشدید رد عمل سامنے آئے گا۔ پہلے ہی تقریباً ہر سرکاری اور نجی ادارے میں محنت کش ان پالیسیوں کو بھگت رہے ہیں اور حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت اور غم و غصہ موجود ہے۔ مختلف اداروں میں نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کیخلاف احتجاجی تحریکیں بھی منظم ہو رہی ہیں۔ نجی صنعتی اداروں میں بھی سرمایہ داروں کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے استحصال کے خلاف شدید غم و غصہ موجود ہے۔ فیکٹری حادثات میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہو چکا ہے اور آئے روز کسی نہ کسی صنعتی ادارے میں حادثے کے باعث مزدور جاں بحق ہو رہے ہیں۔ آنے والے عرصے میں اس سارے عمل میں شدت آئے گی اور طبقاتی کشمکش میں اضافہ ہو گا۔
اس سارے عمل میں پورے ملک میں ایک بھی سیاسی پارٹی ایسی نہیں جو سرمایہ دارانہ معیشت کے اس گھناؤنے کھلواڑ کے خلاف آواز بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ درحقیقت سیاسی افق پر موجود تمام پارٹیاں اس معیشت سے اپنا حصہ بٹور رہی ہیں۔ ان کے باہمی اختلاف بنیادی طور پر یہی ہیں کہ کیسے اس حصے میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے مختلف ایشوز کو ابھارا جاتا ہے جنہیں دلال میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اسی کو تمام سیاست قرار دیا جاتا ہے۔ اس سیاست کا ایک لازمی حصہ اب دہشت گردی بھی بن چکا ہے۔ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی جماعتیں باقاعدہ طور پر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں جبکہ پختونخواہ میں تو جماعت اسلامی مخلوط حکومت میں بھی شامل ہے۔ دہشت گردی اس ریاست اور سیاست کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے اور وقتاً فوقتاً عوامی تحریکوں یا احتجاجی مظاہروں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو روکنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک میں موجود کالے دھن کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اس دہشت گردی پر انحصار کرتا جو ایک صنعت بن چکی ہے۔ جس طرح امریکی سامراج اور پاکستانی فوج نے ان دہشت گردوں کو افغانستان میں مذموم مقاصد کے حصول کے لیے80ء کی دہائی میں استعمال کیا تھا۔ اسی طرح اب بھی اسے سٹریٹجک مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی عیاری سے استعمال کیا جاتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پر پابندی لگانے اور ایمرجنسی کا ماحول بنانے کے لیے بھی انتہائی مفیدہے تاکہ حکمرانوں کے بد ترین مظالم کیخلاف عوام چیخ بھی بلند نہ کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست کو کچلنا ہو یا سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور عوامی سیاست کو دباناہو اس سب کے لیے یہ دہشت گرد انتہائی کار آمد ہیں۔ ایسی کسی کاروائی کے بعد پھر سکیورٹی کے نام پر اربوں روپے کھانے کا جواز بھی مہیا ہو جاتا ہے جس میں حکمران طبقے کے تمام حصے مل کر لوٹ مار کرتے ہیں جبکہ بے گناہ مارے جانے والوں کے خون سے ہولی کا کھیل جاری رہتا ہے۔160
لیکن اسی ملک میں ایک دوسری سیاست بھی موجود ہے جو محنت کش طبقے کی سیاست ہے۔ جو بہتر معیار زندگی کے حصول کی سیاست ہے۔ یہ تمام تر نا مساعد حالات اور رکاوٹوں کے باوجود ایک پکار بن کر ابھر رہی ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی یا ان میں اضافے، روزگار کی فراہمی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، علاج اور تعلیم کی دستیابی اور دیگر بنیادی مطالبات کے گرد یہ جدوجہد تمام تر بندشوں کے باوجود آگے بڑھتی جائے گی۔ آنے والے عرصے میں یہ سیاسی افق پر موجود قوتوں کو چیرتے ہوئے کھل کر اپنا اظہار کرنے کی طرف بڑھے گی اور رائج الوقت تمام تر گماشتہ سیاست کو رد کرے گی۔ خواہ میڈیاپر ایسی تمام خبروں کو دبانے کا سلسلہ جاری رہے اور چوبیس گھنٹوں حکمرانوں کی فروعی لڑائیوں، بدعنوان ججوں کے مگرمچھ کے آنسوؤں والے بیانات اور جرنیلوں کی پھرتیوں کے جھوٹے قصے سنائے جاتے رہیں، ان طوفانوں کو ابھرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ سماج میں موجود تضادات تیزی سے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں ان کو مزید ابھار رہی ہیں۔ آنے والے حالات محنت کش طبقے کو فیصلہ کن لڑائی کی جانب ناگزیر طور پر دھکیلیں گے۔160
محنت کش طبقے کے لیے بہتر زندگی کا حصول اس سرمایہ دارانہ نظام کی جکڑ بندیوں میں موجود نہیں۔ اسے آئی ایم ایف اور چینی بینکوں سمیت تمام سامراجی مالیاتی اداروں کی سود پر مبنی معیشت کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا۔ یہاں پر موجود تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور بینکاروں کی دولت ضبط کرنی ہوگی۔ موجودہ استحصالی ریاست اور اس پر براجمان جرنیلوں، ججوں، وزیروں، ممبرا ن پارلیمنٹ، بیوروکریٹوں اور حکمران طبقے کے دیگر تمام افراد کا قلع قمع کرنا ہو گا اور ایک مزدور ریاست قائم کرنی ہو گی۔ یہ سب صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہی قرضوں اور ان کے سود کا یہ گھن چکر، مہنگائی، بیروزگاری، محرومی اور غربت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گا اور محنت کش طبقہ اس غلامی سے نجات حاصل کرے گا۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh