|تحریر:آفتاب اشرف|

’’انقلابات تاریخ کا انجن ہوتے ہیں۔‘‘ (کارل مارکس)

عظیم مارکسی استاد لینن نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کبھی دہائیاں بیت جاتی ہیں اور کچھ نہیں ہوتا،لیکن پھر کبھی ہفتوں میں ہی دہائیوں کا سفر طے ہو جاتا ہے۔ 1968ء کا انقلابی سال ایسے ہی بے شمار ہفتوں سے بھر پور تھا۔ مئی 1968ء میں ابھرنے والی فرانس کی انقلابی تحریک ہو یا نومبرمیں برپا ہونے والی پاکستانی عوام کی انقلابی بغاوت، چیکوسلوواکیہ کے محنت کشوں کی جدوجہد ہو یاپھر امریکہ کی نسلی امتیاز اور جنگ مخالف طلبہ تحریک، ویت کانگ کا ٹیٹ حملہ ہو یا برطانیہ کے فورڈ کار پلانٹ میں کام کرنے والی خواتین محنت کشوں کی تہلکہ انگیز ہڑتال،اٹلی اور برطانیہ میں ہونے والے طلبہ مظاہرے ہوں یا پھر امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کے قتل پر پھٹنے والا عوامی لاوا، 1968ء میں چلنے والے انقلابی طوفانوں نے دنیا کے کئی سماجوں کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا۔لیکن ان غیر معمولی واقعات کے تفصیلی تذکرے سے پہلے یہ لازم ہے کہ ہم اس عہد کی عمومی سیاسی ،سماجی ومعاشی صورتحال سے آگاہ ہوں،جس کے بطن سے ان تحریکوں کا جنم ہوا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کی دنیا

دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخ کے سب سے طویل معاشی ابھار کا آغاز ہوا۔ جنگ کے نتیجے میں تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، پرانے ورلڈ آرڈر کے انہدام، سابقہ نو آبادیاتی نظام کے بڑی حد تک خاتمے اور نوزائیدہ ممالک کے عالمی منڈی کا حصہ بننے کے نتیجے میں ہونے والی عالمی تجارت میں زبردست بڑھوتری، جنگی دباؤ کے تحت نئی ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کا تیز رفتار ارتقا، وہ سب عوامل تھے جنہوں نے 1973ء تک جاری رہنے والے اس تاریخی ابھار کو جنم دیا۔اس پورے عرصے میں پیداواری قوتوں میں تیز ترین بڑھوتری دیکھنے میں آئی۔ صنعت کاری میں بے پناہ اضافہ ہوا جو کہ صرف ترقی یافتہ مغربی ممالک تک ہی محدود نہ تھابلکہ عالمی منڈی کی ضروریات کے تحت تیسری دنیا کی نوزائیدہ سرمایہ دارانہ ریاستوں میں بھی کسی حد تک صنعت کاری ہوئی۔ بیروزگاری میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی، تقریباً تمام سماجوں میں تیز رفتار اربنائزیشن ہوئی اور دیہی آبادیاں سکڑتی چلی گئیں۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ دنیا میں عوام کے معیار زندگی میں قابل ذکر بہتری ہوئی لیکن واضح رہے کہ یہ بہتری ان ممالک کی بورژوازی نے خوش دلی کے ساتھ پلیٹ میں رکھ کر محنت کش طبقے کو پیش نہیں کی بلکہ اس کے حصول کے لئے جہاں ایک طرف محنت کشوں کومنظم جدوجہد کرنا پڑی وہیں دوسری طرف ان ’’فلاحی ریاستوں‘‘ کی تخلیق کے پیچھے بورژوازی کا ایک بڑا مقصد عوام میں کمیونزم کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کی بیخ کنی کرنا تھا۔

دوسری عالمگیر جنگ کے بعد جہاں ایک طرف سرمایہ داری کے طویل ابھار کا آغاز ہوا وہیں مخصوص تاریخی عوامل کی بدولت آہنی پردے کی دوسری جانب سٹالن ازم کا ستارہ بھی اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ عالمی جنگ سے قبل سوویت یونین کی سٹالنسٹ افسر شاہی نے اپنے تمام تر سیاہ جرائم کے با وجود منصوبہ بند معیشت کی بنیادوں پر پیداواری قوتوں کو ترقی دیتے ہوئے جزوی طور پر ایک ترقی پسندانہ کردار ادا کیا تھا۔ جنگ کے آغاز پر سوویت یونین کو سٹالنسٹ قیادت کے سیاسی جرائم اور فاش فوجی غلطیوں کی بھاری جانی ومالی قیمت چکانی پڑی لیکن حتمی طور پر سوویت عوام اور سرخ فوج کی جرات وہمت اورمنصوبہ بند معیشت کی پیداواری برتری کی بدولت سوویت یونین جنگ میں نازی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گیا۔ جنگ میں فتح، مشرقی یورپ پر قبضے اور بعد ازاں وہاں مسخ شدہ مزدور ریاستوں کی تخلیق نے ایک پورے عرصے کے لئے سٹالنسٹ افسر شاہی کے اقتدار کو سہارا دیا۔ اسی تمام صورتحال کے بطن سے سرد جنگ کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف امریکی سامراج کی سربراہی میں سرمایہ دارانہ ممالک کا کیمپ تھااور دوسری طرف سوویت کیمپ تھا جس کی باگ ڈور سوویت یونین کی افسر شاہی کے ہاتھوں میں تھی۔ اسی اثنا میں 1949ء میں برپا ہونے والا انقلابِ چین انسانی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس انقلاب نے جہاں ایک طرف دنیا کے کروڑوں محنت کشوں، نوجوانوں اور کسانوں کو اپنے حالات زندگی بدلنے کی خاطر جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیاوہیں اس انقلاب سے شکتی پا کر ابھی تک براہ راست نوآبادیاتی جبر کا شکار سماجوں میں آزادی کی جدوجہد بھی تیز ہوئی۔ لیکن انقلابِ چین ایک کلاسیکی مزدور انقلاب نہ تھا اور اس کے نتیجے میں تخلیق ہونے والی مزدور ریاست اپنے جنم ہی سے مسخ شدہ تھی۔اس کا نتیجہ چند سالوں پر محیط ایک مختصر سے ہنی مون پیریڈ کے بعد ماسکو اور بیجنگ کی افسر شاہیوں کے مابین شدید قومی تضادات کے ابھرنے اور نتیجتاً سوشلسٹ دنیا کے دو متحارب کیمپوں میں بٹ جانے کی صورت میں نکلا۔ اس صورتحال کا سارا فائدہ سرمایہ دارانہ ممالک خصوصاً امریکی سامراج کو ہوا۔

سرمایہ دارانہ ممالک میں معاشی ابھار اور معیار زندگی میں بہتری نے وقتی طور پر طبقاتی کشمکش کو ماند کئے رکھا۔ لیکن اسی عرصے میں صنعت کاری کی بدولت محنت کی بڑھتی ہوئی طلب نے نہ صرف محنت کش طبقے کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کیابلکہ بیروزگاری کا دباؤ نہ ہونے کے سبب کئی ایک ممالک میں طاقتور ٹریڈ یونین تحریک کا جنم بھی ہوا۔ اسی طرح بے شمار ممالک میں ایک ریڈیکل طلبہ تحریک کا بھی جنم ہوا۔ اگرچہ عوام کی اکثریت کا معیار زندگی ماضی کی نسبت بہتر ہوا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محنت کشوں اور نوجوانوں کو یہ ادراک ہونا شروع ہو گیا کہ ان سے لوٹی گئی قدر زائد سے دن رات اپنی تجوریاں بھرنے والا حکمران طبقہ چند بچے کھچے ٹکڑے ان کے سامنے پھینک کر ان پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کی تذلیل کر رہا ہے۔ محنت کش اس حقیقت کا شعور پانا شروع ہو گئے کہ ملکی دولت میں ہونے والا بے پناہ اضافہ انہی کی محنت کا مرہون منت ہے، لہٰذا اس پر حق بھی انہی کا ہے اور سرمایہ دار طبقہ فلاحی ریاست کی آڑ میں در حقیقت ان کی توجہ اس سچائی سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ عوام میں سامراجی جنگوں(خصوصاً ویتنام کی جنگ)اور نسلی امتیاز کے خلاف بھی غصہ بڑھتا چلا گیا۔ انہی تمام عوامل نے معاشی ابھار کے باوجود محنت کشوں اور نوجوانوں میں سرمایہ داری کے خلاف اس شدید نفرت کو جنم دیاجس نے وقت آنے پر اپنا اظہار انقلابی دھماکوں کی صورت میں کیا۔

آہنی پردے کے دوسری جانب سٹالنسٹ ریاستوں میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ عوامی اضطراب میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن اس کی وجوہات معیاری اعتبار سے سرمایہ دارانہ دنیا میں پنپنے والی بغاوت سے مختلف تھیں۔ یہاں پر عوام کی بھاری ترین اکثریت اجتماعی ملکیت اور منصوبہ بند معیشت کی بھر پور حامی تھی لیکن وہ ملکی اور سوویت افسر شاہی کے خوفناک سیاسی جبر سے شدید نالاں تھے اور اس سے چھٹکارا پانے کے خواہشمند تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بند معیشت میں آنے والی جدت اور وسعت نے ماضی میں پیداواری قوتوں کو ترقی دینے کے حوالے سے افسر شاہی کے جزوی طور پر ترقی پسندانہ کردار کا بھی خاتمہ کر دیا تھااوراب وہ پیداواری قوتوں کی بڑھوتری پر ایک مطلق زنجیر بن چکی تھی۔ ان ریاستوں کے محنت کش اس حقیقت کا ادراک حاصل کر رہے تھے کہ منصوبہ بند معیشت کی مزید بڑھوتری کے لئے لازم ہے کہ اسے بیوروکریٹک جکڑ بندیوں سے آزاد کراتے ہوئے مزدور جمہوریت کو رائج کیا جائے لیکن اس کے لئے ایک سیاسی انقلاب کرتے ہوئے افسر شاہانہ آمریت کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔

آئیے اب ہم 1968ء کے دھماکہ خیز سال میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ جب محنت کش طبقہ اپنی تقدیر بدلنے نکلتا ہے تو عزم و جرات کی کیسی داستانیں رقم کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ 1968ء میں برپا ہونے والے انقلابات اور تحریکوں کو حتمی طور پر شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔

1۔ انقلاب فرانس مئی 1968ء

فرانس میں مئی 1968ء میں برپا ہونے والی انقلابی تحریک بیسویں صدی کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے اور اس دوران ہونے والی عام ہڑتال کو اس صدی کی سب سے طاقتور عام ہڑتال بھی کہا جاتا ہے۔پورے ملک میں ہونے والے لاتعداد مظاہروں، ہڑتالوں، تعلیمی اداروں اور فیکٹریوں پر قبضے اور ملک گیر عام ہڑتالوں پر مبنی یہ تحریک اپنی انتہا پر اتنی طاقت پکڑ گئی تھی کہ اس نے فرانس کی معیشت وسماج کو بالکل جام کر کے رکھ دیا تھا۔تاریخ کے کئی انقلابات کی طرح اس انقلاب کا آغاز بھی نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے ہوا تھا۔

طلبہ کا انقلابی کردار

طلبہ میں سرمایہ دارانہ نظام اور طبقاتی تفاوت کے خلاف بڑھتا ہو غم وغصہ مئی کی انقلابی تحریک سے قبل ہی اپنا اظہار کر رہا تھا۔ بے شمار تعلیمی اداروں میں چھوٹے بڑے مظاہرے ہو رہے تھے۔ 22مارچ کو پیرس یونیورسٹی کے نانتر کیمپس پر بائیں بازو کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ نے قبضہ کر لیا۔وہ فرانسیسی سماج میں بڑھتے ہوئے طبقاتی تفاوت اور یونیورسٹی انتظامیہ کے آمرانہ روئیے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو طلب کر لیا جس کے دباؤ پر طلبہ کو کیمپس خالی کرنا پڑا۔بعد ازاں اس تحریک کے کئی قائدین کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور چند ایک کو یونیورسٹی سے بر خاست کر دیا گیا۔ اس پر یونیورسٹی میں احتجاجوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے تنگ آ کر بالآخر 2 مئی کو انتظامیہ نے یونیورسٹی کو زبردستی بند کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کے خلاف یونیورسٹی کے سور بون کیمپس کے طلبہ نے مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمپس خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر انتظامیہ نے پولیس کو طلب کر لیا جس نے اگلے دن زبردستی کیمپس خالی کرانے کی کوشش کی۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک سو کے قریب طلبہ زخمی ہوئے اور لگ بھگ 600 گرفتار کر لئے گئے۔ اس واقعے نے تو جیسے بارود کے ڈھیر کو آگ لگا دی۔ پورے ملک کے طلبہ میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نیشنل سٹوڈنٹ یونین، UNEF اور یونیورسٹی اساتذہ کی یونین نے سوربون کیمپس میں پولیس کی بد معاشی کیخلاف 6مئی کو ایک مشترکہ مظاہرے کی کال دی جس میں لگ بھگ بیس ہزار افراد شریک ہوئے۔ جیسے ہی یہ مظاہرہ سوربون کیمپس کے قریب پہنچا تو پولیس کے دستوں نے اس پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں کافی دیر تک جاری رہیں جس میں سینکڑوں پولیس اہلکار اور طلبہ زخمی ہوئے۔ چار سو سے زائد طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اگلے دن ملک کی دیگر یونیورسٹیوں اور ہائی سکولوں کی طلبہ یونینوں نے بھی پیرس یونیورسٹی کے طلبہ کی حمایت کا اعلان کر دیا اور یہ تحریک ملک گیر شکل اختیار کر گئی۔ مظاہروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا۔ 10مئی کی رات کو دریائے سین کے کنارے واقع لاطینی کوارٹر میں طلبہ اور پولیس کے مابین شدید جھڑپ ہوئی جس میں علاقے کے رہائشی عوام نے بھی بھرپور طرح سے طلبہ کا ساتھ دیا۔ اس جھڑپ میں زیادہ تر زخمی ہونے والے پولیس اہلکار تھے۔ اگرچہ مظاہروں کی ابتدا سے لیکر اب تک ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کی افسر شاہانہ قیادت کا طلبہ تحریک کی طرف رویہ سرد مہری پر ہی مبنی تھالیکن اب انہیں اپنے عام ممبران کے دباؤ اور محنت کشوں میں طلبہ کے لئے بڑ ھتی ہوئی ہمدردی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ 11 مئی کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی فرانس کی بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشنوںCGT ،CFDT اور FEN نے 13 مئی کو ملک گیر عام ہڑتال کی کال دے دی۔ اس ساری صورتحال سے گھبرا کر فرانسیسی وزیر اعظم جارج پومپیڈو نے گرفتار طلبہ کی رہائی اور سوربون کیمپس کو کھولنے کا اعلان کر دیا۔یہ اقدام بنیادی طور پر ایک بڑے سماجی دھماکے سے بچنے کی کوشش تھا۔لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔انقلاب کا آتش فشاں پھٹ چکا تھا۔

ملک گیر عام ہڑتال

طلبہ میں موجوداضطراب درحقیقت حکمران طبقے کے خلاف اس گہرے غم و غصے کا ایک اظہار تھاجو فرانسیسی سماج کے رگ و ریشے میں سرایت کر چکا تھا۔ معاشی ابھار کے باوجود محنت کش طبقے میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور بڑھتے طبقاتی تفاوت کیخلاف شدید نفرت پروان چڑھ چکی تھی۔ مئی سے قبل کے مہینوں میں بھی کئی چھوٹی ہڑتالوں اور مظاہروں میں اس حقیقت کا اظہار ہو چکا تھا لیکن 13 مئی کی ملک گیر عام ہڑتال اس ساری صورتحال میں ایک معیاری تبدیلی کی غمازی کرتی ہے۔ اس دن لگ بھگ دس لاکھ کے قریب لوگوں نے پیرس میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔پولیس سڑکوں پر سے غائب تھی۔محنت کشوں کا ایک بپھرا ہوا دریا تھا جو پیرس کی سڑکوں پر بہتا چلا جا رہا تھا۔ریلوے ورکر، پوسٹل ورکرز،پرنٹرز،سٹیل ملوں اور ہوائی اڈوں پر کام کرنیوالے مزدور،سیلز مین،الیکٹریشین،میونسپلٹی کے مزدور،بینکوں کے چھوٹے ملازم،تعمیراتی اور کیمیائی صنعت کے مزدور،کلرک ،بس کنڈیکٹر،ڈرائیور،سٹوڈیو آپریٹر،غرض شائد ہی کوئی صنعت ایسی ہو جس سے تعلق رکھنے والے محنت کش اس مظاہرے میں شریک نہ تھے۔ مزدوروں کے ساتھ ساتھ طلبہ، اساتذہ، وکلا، ڈاکٹرز، صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں کی ایک بڑی تعداد بھی مظاہرے میں شامل تھی۔

 

 

یونین قیادتوں کی طرف سے عام ہڑتال اور مظاہرے کی کال دئیے جانے کا بنیادی مقصد پریشر ککر بنے سماج میں سے بھاپ نکالنا تھا۔ وہ ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ عام ہڑتال پھیلے اور مستقل شکل اختیار کر جائے۔ لیکن معاملات قیادت کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔13مئی کو لگ بھگ ایک کروڑ پچیس لاکھ محنت کشوں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ 14مئی کو نانٹ میں واقع سرکاری ہوائی جہاز سازی کے کارخانے اور کوئیون اور دیگر کئی شہروں میں واقع رینالٹ کمپنی کے کار ساز پلانٹس پر وہاں کے محنت کشوں نے قبضہ کر لیا۔ ہڑتالوں اور فیکٹریوں پر قبضوں کی لہر پورے ملک میں پھیلتی چلی گئی۔ 18مئی تک پورے ملک کے پبلک ٹرانسپورٹ ورکرز، ریاستی ریلوے کمپنی کے محنت کش،کوئلے کے کان کن،ہوائی اڈوں،پوسٹل سروس، بندر گاہوں،گیس اور بجلی کے شعبوں کے محنت کش بھی ہڑتال کا حصہ بن چکے تھے۔نانٹ میں محنت کشوں نے پیٹرول کی سپلائی بھی مکمل طور اپنے ہاتھوں میں لے لی اور ہڑتالی کمیٹی کی اجازت کے بغیر کسی بھی آئل ٹینکر میں تیل بھرنے سے انکار کر دیا۔پورے شہر میں صرف ایک پیٹرول پمپ کھلا رکھا گیا جہاں پر صرف ڈیوٹی پر جانے والے ڈاکٹرز کو پیٹرول مہیاکیا جاتا تھا۔ ایسے ہی بجلی اور گیس کے محنت کشوں نے بھی انتظامیہ،پوش علاقوں،سرکاری دفاتر وغیرہ کو تو سپلائی منقطع کر دی لیکن عام آبادی کو تکلیف سے بچانے کی خاطر ان کی سپلائی بحال رکھی گئی۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں ابھرنے والی کسان کمیٹیوں سے رابطے میں آتے ہوئے شہروں میں اجناس کی سپلائی کو یقینی بنایا گیا۔یہ پورا انتظام محنت کشوں کی کمیٹیوں کے ہاتھوں میں تھا۔ یہ کمیٹیاں قیمتوں پر بھی نظر رکھتی تھیں تا کہ گراں فروشی نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ دودھ ،آلوؤں،گاجروں سمیت کئی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں آئی۔

عام ہڑتال کی لہر نے طلبہ کو بھی مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔ پیرس یونیورسٹی کے سوربون کیمپس سمیت ملک کے بے شمار یونیورسٹی کیمپسوں پر طلبہ نے قبضہ کر لیا۔ اسی طرح ہائی سکول کے طلبہ نے اپنے سکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے بھی اپنے طلبہ کے شانہ بشانہ جدوجہد میں حصہ لیا۔ نوجوان ڈاکٹرز نے ہسپتالوں،آرٹسٹوں نے تھیٹر ہالز،نوجوان صحافیوں نے بڑے اخبارات کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اعلیٰ تکنیکی شعبوں میں کام کرنے والے بھی انقلاب کی وبا سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ خلائی طبیعیات دانوں نے ایک رسد گاہ پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح سکلے میں ایک نیوکلیئر ریسرچ سنٹر میں کام کرنے والے دس ہزار سائنس دان، انجینئرز اور ہنر مند بھی ہڑتال پر چلے گئے۔ یہاں تک کہ کیتھولک چرچ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ لاطینی کوارٹر میں نوجوان کیتھولک طلبہ نے چرچ پر قبضہ کر لیا اور مطالبہ کیا کہ مذہبی اکٹھ کی بجائے حالات حاضرہ پر ایک مباحثہ کروایا جائے۔

پیرس میں پولیس نے ایک مرتبہ پھر مظاہروں پر کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی۔ محنت کشوں اور طلبہ پر اندھا دھند آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ ایک ہی رات میں آٹھ سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔اس ریاستی جبر سے تحریک اور بھڑک اٹھی اور اگلے ہی دن مظاہرین نے سرمایہ داری کی ایک قابل نفرت علامت، پیرس سٹاک ایکسچینج کو نذر آتش کر دیا۔ اسی طرح لیون کے پولیس کمشنر کو ایک ٹرک ڈرائیور نے کچل ڈالا۔ 25مئی کو ریاستی ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ملازمین بھی ہڑتال پر چلے گئے اور رات آٹھ بجے خبریں نشر ہونا بند ہو گئیں۔ یوں ریاست پراپیگنڈے کے اہم ترین اوزاروں سے بھی محروم ہو گئی۔ قومی اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں ملکی صورتحال پر ایک بحث کا آغاز کیا گیالیکن یہ سب اب بے سودتھا۔ طاقت حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکل کر گلیوں میں بکھر چکی تھی۔ 24مئی کو فرانس کے صدر جنرل ڈیگال نے ایک ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد تحریک کا رخ موڑ کر اسے زائل کرنا تھالیکن محنت کش طبقے نے ڈیگال کی اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ جنرل ڈیگال پرنٹ شاپس کے محنت کشوں کی ہڑتال کے باعث ریفرنڈم کے لئے بیلٹ پیپر تک نہ چھپوا سکا۔ اس موقع پر محنت کشوں کی عالمی جڑت کا شاندار مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا جب بلجیم کے محنت کشوں نے بھی ریفرنڈم کے لئے بیلٹ پیپر چھاپنے سے صاف انکار کر دیا۔ صورتحال سے گھبرا کر حکمرانوں نے درمیانے طبقے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں شدید ناکامی کا سامنا کر نا پڑا کیونکہ تحریک اتنی زور آور تھی کہ اس نے درمیانے طبقے کی وسیع پرتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھااور وہ بھی محنت کشوں اور طلبہ کے اقدامات کی حمایت کر رہے تھے۔

ریاست کی نام نہاد طاقت

عام ہڑتال اب فرانسیسی سماج کو پوری طرح جکڑ چکی تھی۔محنت کش طبقے کی مرضی اور اجازت کے بغیر ایک پہیہ تک نہیں چل رہا تھا۔ حکمران طبقہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار تھا۔ تحریک کا دباؤ توڑنے کے لئے گرفتار کئے گئے مظاہرین کو رہا کرنے،سوربون کیمپس کو کھولنے،ریفرنڈم کا اعلان کرنے،قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور کابینہ میں ردوبدل کرنے جیسے ہتھکنڈے بھی ناکام ہو چکے تھے۔ پورا نظام اور ریاست داؤ پر لگ چکی تھی۔لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکمران طبقے نے تحریک کے خلاف کھل کر ریاستی طاقت کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ شدید خواہش رکھنے کے باوجود ایسا کرنے سے قاصر تھے۔ کاغذات کی حد تک ڈیگال کے پاس مسلح ریاستی قوت کی کمی نہیں تھی۔ ریاست کے پاس ایک لاکھ چوالیس ہزار مسلح پولیس اور کم از کم ڈھائی لاکھ بری فوج تھی۔ لیکن کیا ایک انقلابی کیفیت میں حکمران طبقہ مسلح ریاستی اداروں پر اندھا بھروسہ کر سکتا ہے؟ یقیناًڈیگال نے بھی یہ سوال کئی بار اپنے آپ سے پوچھا ہو گا۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔مسلح افواج خلا میں وجود نہیں رکھتیں بلکہ ان کی تشکیل بھی سماج کے مختلف طبقات سے ہی ہوتی ہے اور سماج میں موجود طبقاتی تفریق مسلح افواج میں بھی اپنا اظہار کرتی ہے لیکن فوجی ڈسپلن کے جبر کیساتھ۔ چونکہ فرانس جیسے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ سماج میں مسلح افواج کے عام سپاہیوں کی ایک بڑی اکثریت محنت کش گھرانوں کے نوجوانوں پر مشتمل تھی لہٰذا ان کا سماج میں چلنے والی ایک طاقتور طبقاتی تحریک سے متاثر ہونا ناگزیر تھا۔ایسے میں اگر فوج کو سڑکوں پر عوام کے مد مقابل لایا جاتا تو فوج بھی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جاتی اور ایسا ہونا حکمران طبقے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیگال یہ رسک لینے کو تیار نہ تھا۔عام سپاہیوں کے دل ودماغ میں اس وقت کیا چل رہا تھا؟اس کا اندازہ ہمیں مغربی جرمنی میں تعینات ایک فرانسیسی فوجی کی گفتگو سے ہوتا ہے ۔اس سے جب ٹائمز میگزین کے نمائندے نے پوچھاکہ کیا حکم ملنے پر وہ محنت کشوں پر فائر کھول دے گا ،تو اس نے جواب دیا’’ہرگز نہیں۔ میرے خیال میں ا ن(محنت کشوں) کا طریقہ کار شاید کچھ کھردرا ہے لیکن میں خودایک مزدور کا بیٹا ہوں۔‘‘

اسی طرح سٹراسبرگ کے نزدیک تعینات ایک میکانائزڈ انفینٹری رجمنٹ کے سپاہیوں کی جانب سے جاری کردہ لیف لیٹ میں مزدوروں کے قبضے میں موجود فیکٹریوں پر فوج کو تعینات کرنے کے ممکنہ منصوبے کی شدید مذمت کی گئی اور واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ سپاہی کسی بھی صورت میں محنت کشوں پر گولی نہیں چلائیں گے۔اسی طرح بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کلی مینشیوکے ملاحوں کی بغاوت کی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔ کسی بھی سماج میں پولیس اپنے سیاسی شعورکے حوالے سے فوج کی نسبت خاصی پسماندہ ہوتی ہے اور بحیثیت مجموعی یہ ایک رجعتی ادارہ ہوتا ہے۔ لیکن مئی 1968ء کا انقلاب فرانس اتنا تیز و تند تھا کہ اس نے پولیس اہلکاروں کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنا شروع کر دیں تھیں۔ 13 مئی کو 80 فیصد سے زائد پولیس اہلکاروں کی نمائندگی کرنے والی پولیس یونین نے اپنے ایک اعلامیے میں حکومتی نااہلی اور اپنی ساکھ بچانے کی غرض سے مظاہرین کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کا سارا ملبہ پولیس پر ڈال دینے کی حکومتی کوشش کو خوب لتاڑا۔ اسی طرح 31 مئی کو دی ٹائمز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نہ صرف سٹوڈنٹ لیڈروں کی متعلق معلومات حکومت سے چھپا رہی تھی بلکہ پولیس اہلکاروں کی ایک بھاری اکثریت انتہائی بد دلی کے عالم میں اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے۔اہم بات یہ ہے کہ اگر پولیس کی یہ صورتحال تھی تو پھر فوج کے عام سپاہیوں میں کس قدر اضطراب ہو گا۔

ٹائمز میگزین اپنے اداریے میں ایک نہایت اہم سوال پوچھتا ہے:’’کیا ڈیگال فوج کو استعمال کر سکتا ہے؟‘‘اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ہاں ،شاید ایک بار‘‘۔ دوسرے الفاظ میں عالمی بورژوازی کے سب سے سنجیدہ تجزیہ کار بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ فوج کا عوام کے ساتھ ہونے والا ایک خونی تصادم فوج کو طبقاتی بنیادوں پر چیر کر رکھ دے گا اور کم از کم اس معاملے میں ہم ان کی رائے سے پوری طرح متفق ہیں۔

ڈیگال کی شکست خوردگی

انقلاب نے فرانس کے حکمران طبقے کو اچانک آن دبوچا تھا۔ وہ اس کی بالکل بھی توقع نہیں کر رہے تھے۔اسی لئے ابتدا میں تو وہ بالکل سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے اور انہوں نے پیرس میں ہونے والے طلبہ مظاہروں کی طرف انتہائی غیر سنجیدہ اور نخوت بھرا رویہ اختیار کئے رکھا۔ لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ جیسے جیسے انہیں یہ ادراک ہوتا گیا کہ ان کا سامنا ایک طوفانی انقلاب سے ہے،وہ حوصلہ ہارتے گئے اور شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ حکمران طبقے کی اس مجموعی کیفیت کی نہایت ہی شاندار شخصی عکاسی ہمیں فرانس کے نام نہاد مرد آہن جنرل ڈیگال کی صورت میں ملتی ہے۔ آغاز کے دنوں میں ڈیگال انقلابی تحریک کے ابتدائی ریلوں کا سامنا کرنے والے ہر جابر حکمران کی طرح نہایت پر غرور اور پراعتماد تھا۔ اس نے پیرس میں ہونے والے مظاہروں کو کسی توجہ کے لائق ہی نہیں سمجھااور رومانیہ کے سرکاری دورے پر چلا گیاجہاں پر ’’کمیونسٹ‘‘ چاؤ سسکو نے اس کا پر تپاک استقبال کیا۔ لیکن ڈیگال کی اس خود اعتمادی کی عمر نہایت ہی کم تھی۔

پیرس میں ہونے والے مظاہروں میں شدت آ رہی تھی۔ عام ہڑتال کا اعلان ہو چکا تھا۔ سکولوں، یونیورسٹیوں، فیکٹریوں اور حتیٰ کہ رسد گاہوں پر بھی سرخ پرچم لہرا رہے تھے۔ ریاستی مشینری بے بس ہو تی جا رہی تھی۔ ڈیگال کو اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر ہنگامی بنیادوں پر ملک واپس آنا پڑا۔ وطن واپسی پرا س نے صدارتی محل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی طلبہ کو ایسے بد تمیز بچے کہا جنہیں ابھی ٹھیک سے ٹائلٹ استعمال کرنا بھی نہیں آتا تھا۔ لیکن ڈیگال اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات سے بہت پیچھے رہ چکا تھا۔ طلبہ تحریک اب محنت کشوں کی تحریک میں بدل چکی تھی۔ 20 مئی تک سوا کروڑ سے زائد محنت کش ہڑتال پر تھے اور عام ہڑتال نے فرانس کو بالکل جام کر رکھا تھا۔ نام نہاد مرد آہن کی حالت دیدنی تھی۔ نخوت اور خود اعتمادی کی جگہ اب بوکھلاہٹ،پریشانی اور بد حوصلگی نے لے لی تھی۔ ڈیگال کے قریبی رفقا کی یادداشتوں کی مطابق انہوں نے جنرل کو کبھی اتنا شکست خوردہ نہیں دیکھا تھا۔ پیرس میں تعینات امریکی سفیر کے مطابق ڈیگال نے اس سے ہونے والی ایک ملا قات میں کہا کہ ’’کھیل ختم ہو چکا ہے۔ چند ہی دنوں میں اقتدار کمیونسٹوں کے پاس ہو گا۔‘‘ 27مئی تک طاقت کا توازن مکمل طور پر محنت کش طبقے کے حق میں ہو چکا تھا۔ طاقت درحقیقت ان کے ہاتھوں میں تھی۔ ڈیگال کا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال کے اس نہج پر پہنچ جانے کے باوجود انقلاب کامیاب کیوں نہیں ہو سکا اور فرانس کا سرمایہ دار طبقہ کیسے اپنی حاکمیت بچانے میں کامیاب ہو گیا؟یا آسان الفاظ میں، آخر ڈیگال کو کس نے بچایا؟

اصلاح پسند بائیں بازو کی غداری

یہ فوج ،پولیس یا انٹیلی جنس نہیں تھی جس نے ڈیگال اور فرانسیسی سرمایہ داری کو بچایا۔ یہ فریضہ اصلاح پسند سٹالنسٹ قیادت اور ٹریڈ یونین لیڈروں نے سر انجام دیا۔یہ صرف ہمارا ہی نقطہ نظر نہیں ہے بلکہ کئی ایک معتبر بورژوا ذرائع بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا مئی 1968 ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’ ایسا لگتا تھا کہ ڈیگال بحران سے نپٹنے کی صلاحیت تو دور کی بات ،اس کی نوعیت کو سمجھنے سے بھی قاصر تھا۔ یہ کمیونسٹ اور ٹریڈ یونین قیادت تھی جس نے اسے سانس لینے کا موقع دیا۔ وہ تحریک کے مزید شدت پکڑنے کے مخالف تھے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اس طرح ان کے انتہا پسند مخالفین اور انارکسٹ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک نے صرف حکمران طبقے کو ہی اچانک نہیں آن دبوچا تھا بلکہ سارا بایاں بازو بھی اس انقلاب سے ششدر ہو کر رہ گیا تھا۔ ان کے پاس اس تحریک کا کوئی تناظر موجود نہیں تھا۔ سٹالنسٹ اور ٹریڈیونین قیادتوں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو انقلابی لیفٹ کہلانے والے بائیں بازو کے بے شمار چھوٹے چھوٹے فرقہ پرست گروپ بھی عوام کے حقیقی موڈ سے بالکل نا آشنا تھے۔ ان نام نہاد اکیڈمک مارکسسٹوں کے ایک ’’نظریہ دان‘‘ آندرے گورز کے مطابق تومستقبل میں دور دور تک ایسی کسی تحریک کا کوئی امکان تک نہیں تھا۔ اپنے آپ کو ٹراٹسکائیٹ کہلوانے والے دانشورارنسٹ مینڈل کا نقطہ نظر بھی یہی تھا۔ انقلابی تحریک کے پھٹنے سے محض ایک ماہ قبل لندن میں اپنے ایک لیکچر میں اس نے دنیا جہان کے متعلق بہت سی باتیں کیں لیکن فرانسیسی محنت کش طبقے کی کیفیت کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔ جب کسی نے اس کی توجہ اس طرف مبذول کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ فرانس میں اگلے بیس سال تک کسی انقلابی تحریک کا کوئی امکان نہیں ۔ لیکن یہ سب تو وہ لوگ تھے جن کی عملی سیاست میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔انقلاب کے ساتھ اصل غداری تو فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی(پی سی ایف) کی سٹالنسٹ قیادت اور اس کے ساتھ منسلک ٹریڈیونین لیڈروں نے کی۔ سٹالنسٹوں کا تحریک کی طرف رویہ ابتدا ہی سے معاندانہ تھا۔ مئی کے اوائل میں ہی کمیونسٹ پارٹی کے ایک لیڈر جارج مارچیزنے ’’جھوٹے انقلابیوں کو بے نقاب کرنا چاہیے‘‘کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں اس نے طلبہ مظاہروں پر انتہائی گھٹیا تنقید کی۔ بعد ازاں پارٹی کی سٹالنسٹ قیادت کو عام ممبران کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے مجبوراً تحریک کی حمایت کرنا پڑی۔ یہی صورتحال کمیونسٹ پارٹی سے منسلک ٹریڈ یونین قیادتوں کی بھی تھی جن کا نیچے سے پڑنے والے دباؤ سے مجبور ہوکر عام ہڑتال کی کال دینے کا حقیقی مقصد صرف محنت کش طبقے کے غم وغصے کو نکلنے کے لئے ایک ’’محفوظ راستہ‘‘ دینا تھا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ جنرل ڈیگال کو اس ساری صورتحال سے بچ نکلنے کے لئے فوج اور پولیس سے زیادہ بھروسہ سٹالنسٹ قیادت پر تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے نیول اے ڈی سی فرانکوئس فلوہک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا’’پریشان مت ہو فلوہک،کمیونسٹ ان (عوام) کو قابو میں رکھیں گے۔‘‘

یہ الفاظ بخوبی ثابت کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام سٹالنسٹ اوراصلاح پسند قیادتوں کی حمایت کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا تھااور ڈیگال کے لئے یہ حمایت ٹینکوں اور رائفلوں سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب حکمران طبقہ ہر طرف سے مایوسی میں گھرا ہوا تھا، کمیونسٹ پارٹی اور ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کی قیادت نے انہیں بحران سے باہر نکلنے کا راستہ فراہم کیا۔ حکومت نے تحریک کا زور توڑنے کے لئے سٹالنسٹوں اور مزدور لیڈروں کی ساتھ باہم ملی بھگت کرتے ہوئے بہت سی اصلاحات کرنے کا اعلان کیا۔ اس میں کم از کم اجرت میں اضافہ، ریٹائرمنٹ کی عمر میں کمی،کام کے اوقات کار میں کمی اور اس جیسی دوسری اصلاحات شامل تھیں۔ کمیونسٹ پارٹی اور ٹریڈ یونین قیادتوں کا ذمہ یہ تھا کہ وہ ان اصلاحات کو محنت کشوں کے سامنے تحریک کی بہت بڑی فتح بنا کر پیش کریں اور انہیں احتجاج اور ہڑتال ختم کرنے پر قائل کریں۔ ابتدا میں انہیں ایسا کرنے میں سخت دقت پیش آئی کیونکہ محنت کش اپنی طاقت سے آشنا ہو چکے تھے اور بخوبی سمجھ رہے تھے کہ ان اصلاحات کا اصل مقصد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے سٹالنسٹ اور ٹریڈ یونین لیڈر جدھر بھی یہ آفر لے کے جاتے انہیں محنت کشوں کی جانب سے شدید مخالفانہ نعرے بازی اور ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن محنت کش طبقہ لمبے عرصے کے لئے انقلابی تحرک میں نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی انقلابی تحریک کو قیادت اگر آگے بڑھنے کا راستہ نہیں دے گی تو وہ جلد ہی تھکان کا شکار ہو کر بکھرنا شروع ہو جائے گی۔ بائیں بازو کے اصلاح پسند غدار یہ حقیقت بخوبی جانتے تھے۔ اگر وہ چاہتے تو ایک فیصلہ کن وار کر کے اقتدار پر قبضہ کر سکتے تھے۔ فرانس میں سوشلسٹ انقلاب ایک حقیقت بن سکتا تھا۔ اس سے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا ہی بدل جاتی۔ لیکن انہوں نے اپنے اصلاح پسندانہ سٹالنسٹ نظریات کے تحت تحریک سے غداری کی اور سرمایہ دارنہ نظام کو بچ نکلنے کا راستہ دیا۔

قیادت کی غداری نے تحریک میں مایوسی پھیلا دی اور جون کے پہلے ہفتے تک اس کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا۔ محنت کشوں کے پاس حکومت کی طرف سے پھینکے گئے ٹکڑوں پر ہی اکتفا کرتے ہوئے کام پر واپس جانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ تحریک کی ناکامی نے رد انقلاب کی راہ ہموار کی۔ یونیورسٹیوں پر پولیس نے زبردست کریک ڈاؤن کئے۔ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی میں کام کرنے والے 100سے زائد صحافیوں کوملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ فیکٹری مالکان نے ہڑتال میں متحرک کردار اد ا کرنے والے ایک ایک مزدور کو چن کر نکال باہر کیا۔ کمیونسٹ پارٹی کو تحریک سے غداری کی قیمت جون میں ہونے والے عام انتخابات میں عبرتناک شکست کی صورت میں چکانی پڑی اور اس کے بعد آنے والے عرصے میں اس کی حمایت میں مسلسل کمی ہی ہوتی چلی گئی۔ تحریک کے دباؤ میں دیا جانے والا اصلاحات کا پیکیج بھی لمبے عرصے تک قائم نہیں رہ سکا اور نومبر میں قومی اسمبلی نے زبردست کٹوتیوں پر مبنی ایک بل پاس کیا جس میں تحریک کے دوران کی جانے والی بہت سی اصلاحات کا خاتمہ کر دیا۔ یوں اصلاح پسند قیادت کی غداری نے ایک ایسے موقع کو ضائع کر دیا جس میں تاریخ کا رخ موڑ دینے کی صلاحیت موجود تھی۔

2۔ چیکو سلوواکیہ 1968ء۔۔سٹالن ازم کا بحران

’’اٹھو لینن، بریژنیف پاگل ہو گیا ہے‘‘ آج سے پچاس سال قبل جب سوویت ٹینک چیکوسلوواکیہ کی سرحد پار کر رہے تھے تو پراگ کی سڑکوں پر یہ نعرہ گونج رہا تھا۔

1968ء میں چیکوسلوواکیہ میں سٹالنسٹ افسر شاہی کے خلاف برپا ہونے والی تحریک کی ابتدا رائیٹرز یونین کے ایک طوفانی اجلاس سے ہوئی جس میں یونین کے ممبران نے سوویت مصنف سولزینٹسن کے سنسر شپ کے خلاف احتجاج کی حمایت میں قرار داد منظور کی تھی۔ شاعروں، ادیبوں اور مصنفین میں پایا جانے والا یہ اضطراب تیزی کے ساتھ طلبہ میں پھیل گیاجنہوں نے اپنے ہاسٹلوں میں بجلی کی بندش کے خلاف مظاہرے کرنا شروع کر دیے۔ ان مظاہروں پر خفیہ پولیس نے زبردست کریک ڈاؤن کیا ،جس کے نتیجے میں بے شمار طلبہ زخمی ہو گئے۔ لیکن ریاستی جبر نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا اور تحریک مزید بھڑک اٹھی۔ چیک افسر شاہی نے گھبرا کر طلبہ کو مختلف لالچ دے کر ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی لیکن طلبہ قیادت نے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف اس واقعے کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے بلکہ اس سے متعلق حقائق کو اخبارات میں بھی شائع کیا جائے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ خود فیکٹریوں میں جائیں گے اور محنت کشوں کو حقائق سے آ گاہ کریں گے۔ اس ساری صورتحال نے چیک افسر شاہی کو واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم کر کے رکھ دیاجس کا نتیجہ چیک صدر ناواٹنی کی اقتدار سے بیدخلی اور الیگزینڈر ڈوبچیک کے عروج کی صورت میں نکلا۔ ہم نے اس تحریر کے آغاز میں سٹالنسٹ ریاستوں کی معاشی وسماجی کیفیت کے متعلق بات کی تھی لیکن چیکوسلوواکیہ کے محنت کشوں کی انقلابی جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے اس موضوع پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔

منصوبہ بند معیشت اور سٹالن ازم

1950ء کی دہائی کے وسط تک ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘کے قوم پرستانہ سٹالنسٹ نظرئیے نے سٹالنسٹ ریاستوں میں ذرائع پیداوار کا گلاگھونٹنا شروع کر دیا تھا۔ ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی بجائے ہر ریاست قومی بنیادوں پر اپنی ’’سوشلسٹ‘‘ معیشت استوار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن تضاد یہ تھا کہ جب قومی ریاست کی حدود سرمایہ داری میں ہی ذرائع پیداوار کی بڑ ھوتری پر ایک جکڑن بن چکی تھیں تو پھر سوشلزم(جو سرمایہ داری سے کہیں جدید اور بلند تر افزودگی محن رکھنے والا طرز پیداوار تھا)کوایک ریاست کی حدود میں مقید رہتے ہوئے کیسے تعمیر کیا جاسکتا تھا۔ یقیناًساری دنیا میں سوشلسٹ انقلاب بیک وقت نہیں آ سکتا اور کسی بھی ملک میں مزدور انقلاب کے بعد منصوبہ بندی اور معیشت کی سوشلسٹ تعمیر کا آغاز ملکی سطح پر ہی کیا جائے گا لیکن اسے ایک ملک کی حدود میں رہتے ہوئے انجام تک نہیں پہنچایا جا سکتاچاہے وہ ملک امریکہ یا جرمنی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن سٹالنسٹ ریاستوں کی افسر شاہیاں اپنے تنگ نظر قومی مفادات کے تحت اپنے اپنے ملک میں ’’آزادانہ‘‘ طور پر ایک مکمل سوشلسٹ سماج تعمیر کرنا چاہتی تھیں جو کہ نا ممکن تھا۔ اس قومی تنگ نظری کے پیچھے افسر شاہی کا اصل مفاد اپنی لوٹ مار اور مراعات کو جاری رکھنے کے لئے اپنے اپنے ملک میں سیاسی حاکمیت پر قبضہ بر قرار رکھنا تھا۔ اسی طرح مزدور جمہوریت منصوبہ بند معیشت کے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنی انسانی جسم کے لئے آکسیجن۔ ایک سرمایہ دارانہ معیشت میں وسائل کی تقسیم، طلب اور رسد میں نسبتاً توازن برقرار رکھنے کا کام منڈی کا میکینزم کرتا ہے۔ اس کے بر عکس ایک منصوبہ بند معیشت میں منڈی کی عدم موجودگی کی بدولت یہ فریضہ مزدور جمہوریت ادا کرتی ہے لیکن منڈی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مو ثر پن اور انسان دوستی کے ساتھ۔ لیکن یہ مزدور جمہوریت مسخ شدہ مزدور ریاستوں میں عنقا تھی اور ان ریاستوں میں سیاسی حاکمیت پر افسر شاہی کا آمرانہ قبضہ تھا۔ اگرچہ وسائل کے بے تحاشہ ضیاع،بد انتظامی اور انسانی المیوں کے باوجود افسر شاہی نے ابتدا میں منصوبہ بند معیشت کو استوار کرتے ہوئے ذرائع پیداوار کو ترقی دینے میں جزوی طور پر ایک ترقی پسندانہ کردار ادا کیا تھا اور یہی اس کے اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھ پانے کی وجہ بھی تھی۔ لیکن جیسے جیسے منصوبہ بند معیشت وسیع، جدید اور پیچیدہ ہوتی گئی ویسے ویسے بیوروکریٹک بد انتظامی، عدم توازن، نا اہلی اور لوٹ کھسوٹ ذرائع پیداوار کا گلا گھونٹنا شروع ہو گئی اور 1950ء کی دہائی کے وسط تک افسر شاہی پیداواری قوتوں کی بڑ ھوتری پر ایک مطلق زنجیر بن چکی تھی۔ خروشیف کی نام نہاد’’ڈی سٹالنائزیشن‘‘ اور 1956ء میں ہنگری کے محنت کشوں کا سیاسی انقلاب اسی حقیقت سے پیدا ہونے تضادات کی غمازی کرتے ہیں۔چیکوسلوواکیہ میں بھی محنت کشوں کے لئے صورتحال ناقابل برداشت ہو چکی تھی اور 1968ء کا سیاسی انقلاب اسی کا نتیجہ تھا۔

چیک افسر شاہی میں پھوٹ

طلبہ تحریک اور محنت کشوں میں بڑھتے ہوئے اضطراب نے چیک افسر شاہی کو تقسیم کر دیااور ’’اصلاحات‘‘ کا حامی ڈوبچیک دھڑا غالب آ گیا۔ لیکن ڈوبچیک کی نام نہاد اصلاحات کی اصل حقیقت وہی تھی جو خروشیف کے ڈی سٹالنائزیشن کے نعرے کی تھی۔ ان اصلاح پسندوں کا حقیقی مقصد افسر شاہی کے اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے مزدور جمہوریت کو رائج کرنا نہیں بلکہ اوپر سے چند اصلاحات کرتے ہوئے معاشی سست روی کا خاتمہ کرنا تھاتا کہ بحیثیت مجموعی افسر شاہی کے اقتدار کو دوام دیا جا سکے۔ اسی طرح یہ اصلاح پسند محدود پیمانے پر تحریرو تقریر اور دیگر سیاسی آزادیاں دینے کے حمایت صرف اس لئے کرتے تھے تا کہ نیچے سے ہونے والے کسی انقلابی دھماکے کا راستہ روکا جا سکے۔ان اصلاح پسندوں کی جانب سے تجویز کردہ زیادہ تر معاشی اصلاحات کی نوعیت ایسی تھی کہ وہ مستقبل میں منڈی کی بحالی اور منصوبہ بند معیشت کے خاتمے کا باعث بن سکتی تھیں لیکن افسر شاہی محض اقتدار سے چمٹا رہنے کی خاطر یہ سب بھی کرنے کو تیار تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ مغربی میڈیا ان اصلاح پسندوں کو ’’جمہوریت‘‘ کا چیمپیئن بنا کر پیش کر رہا تھاجبکہ حقیقت یہ تھی کہ افسر شاہی کا یہ ٹولہ مزدور جمہوریت کا اتنا ہی دشمن تھا جتنا کہ افسر شاہی کا سخت گیر دھڑا۔ ڈوبچیک دھڑے کی سماجی بنیاد بھی ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دانوں، ادیبوں، مراعات یافتہ ہنر مند مزدوروں اور طلبہ کی بعض پرتوں تک ہی محدود تھی جن میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ داری اور اکنامک لبرلائزیشن کے متعلق خوش فہمیاں پیدا ہو چکی تھیں۔ محنت کش طبقے کی بھاری ترین اکثریت منصوبہ بند معیشت کی شدید حامی تھی اور جبلی طور پر سمجھتی تھی کہ ان نام نہاد اصلاحات سے حتمی تجزئیے میں انہیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ لیکن محنت کش طبقہ افسر شاہی کے آمرانہ اقتدار سے بھی شدید نفرت کرتا تھا اور درست طور پر اسے منصوبہ بند معیشت کے مسائل کا ذمہ دار گردانتا تھا۔ یہ درست ہے کہ افسر شاہی میں پڑنے والی پھوٹ اور ڈوبچیک دھڑے کے غلبے نے چیک سماج میں طوفان خیز سیاسی بحث مباحثے کو جنم دیاجو بالآخر مزدور تحریک پر منتج ہوالیکن چیک محنت کش طبقہ ڈوبچیک کی اصلاحات کی حمایت میں نہیں بلکہ مزدور جمہوریت کے حصول کی خاطر جدوجہد کے میدان میں متحرک ہو رہا تھااور یہی امر ناصرف چیک افسر شاہی بلکہ سوویت افسر شاہی کا حقیقی خوف بھی تھا۔

سوویت افسر شاہی کا رد عمل

سوویت افسر شاہی آغاز سے ہی ڈوبچیک دھڑے کی اصلاحات کی پالیسی سے خوش نہیں تھی۔بہت سے سطحی سوچ رکھنے والے دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ماسکو بیوروکریسی کا مشرقی یورپ پر گرفت ڈھیلی پڑ جانے کا خوف تھاکیونکہ ڈوبچیک دھڑا چیکو سلوواک ریاست کے لئے( افسر شاہی کے تنگ نظر قومی مفادات کی خاطر) زیادہ خود مختاری حاصل کرنے کا خواہاں بھی تھا۔ لیکن یہ بات صرف جزوی طور پر ہی درست قرار دی جا سکتی ہے۔ سوویت افسر شاہی کوخروشیف کے دور میں بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کو زائل کرنے کی خاطر کی جانے والی سیاسی اصلاحات کے نتیجے میں افسر شاہی کے سیاسی جبر اور مراعات پر شروع ہونے والی تنقید بخوبی یاد تھی، جس کی وجہ سے انہیں خروشیف کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے اس کی بہت سی پالیسیوں کا خاتمہ بھی کرنا پڑا تھا۔ وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ ڈوبچیک کی اصلاحات بھی سماج میں افسر شاہی کے آمرانہ اقتدار پر تنقید اور سیاسی بحث مباحثے کے آغاز کا سبب بنیں گی جو اگر محنت کش طبقے تک پہنچ گیا تو ناصرف چیکو سلوواکیہ اور مشرقی یورپ کی دیگر افسر شاہیوں بلکہ سوویت افسر شاہی تک کا اقتدار خطرے میں پڑ جائے گا۔ڈوبچیک نے بریژنیف اور سوویت افسر شاہی کو یقین دلایا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا اور خصوصاً سیاسی اصلاحات کو اتنے کنٹرولڈ طریقے سے کیا جائے گا کہ سماج میں اکٹھا ہونے والا دباؤ بھی زائل ہو جائے اور ’’نظام‘‘ کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو۔ لیکن سوویت افسر شاہی کو اپنے تجربے کی وجہ سے اس حقیقت کا ادراک تھا کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ وقت نے ان کے خدشات کو درست ثابت کیا۔ محدود پیمانے پر ملنے والی سیاسی آزادی بھی دہائیوں کے افسر شاہانہ جبر کیخلاف جمع ہونے والے غم وغصے کو پھاڑنے کے لئے کافی ثابت ہوئیں۔ گلی محلوں کی سطح پر بحثوں کا آغاز ہو گیا جن میں ملکی افسر شاہی کے ساتھ ساتھ سوویت افسر شاہی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا یا جاتا تھا۔ انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق نہ صرف ان مباحثوں میں محنت کش طبقے کی شمولیت بڑھتی جا رہی تھی بلکہ کئی جگہوں پر وہ متحرک بھی ہو رہے تھے۔ ماسکو میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔بر یژنیف نے ڈوبچیک کو سختی سے صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے کہا لیکن ایسا کرنا اب اس کے اختیار میں نہیں تھا۔سوویت افسر شاہی نے طاقت کے استعمال کا فیصلہ کر لیا اور نتیجتاً 20 اگست کی رات کوسوویت فوج سمیت وارسا پیکٹ کی دو لاکھ سے زائد افواج نے دو ہزار ٹینکوں کے ساتھ چیکوسلوواکیہ پر چڑھائی کر دی۔ یہ کھلی فوجی جارحیت عوام کی ایک مزاحمتی تحریک کو جنم دینے کا سبب بنی۔

محنت کشوں اور طلبہ کی مزاحمت

21 اگست کی صبح کو جب سوویت ٹینک پراگ میں داخل ہوئے تو انہیں شدید عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ملکی اور سوویت افسر شاہی کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔ لوگ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے آگے لیٹ گئے اور فوجیوں سے واپس چلے جانے کی اپیل کرنے لگے۔ مظاہروں کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل گیالیکن اس تحریک کا سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان تھا۔ محنت کشوں کی ایک بھاری اکثریت کو تو کبھی بھی ڈوبچیک کے متعلق کوئی غلط فہمی نہیں تھی۔ وہ درست طور پر اسے افسر شاہانہ مفادات کا ہی ایک نمائندہ سمجھتے تھے لیکن قیادت کے فقدان نے طلبہ اور انٹیلی جنسیا(ڈاکٹرز،اساتذہ وغیرہ) کو تحریک کی قیادت کے لئے ڈوبچیک کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ مگر غداری تو اصلاح پسندی کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا ڈوبچیک کی اصلیت بھی جلد ہی کھل کر سب کے سامنے آ گئی۔اس نے مزاحمت کا راستہ اختیار نہیں کیااور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ماسکو کے دباؤ کی وجہ سے ایسا کرنا ناممکن تھابلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایسا کرنے کی صورت میں بحیثیت مجموعی افسر شاہی کا اقتدار خطرے میں پڑ جاتااور ڈوبچیک ایسا ہر گز نہیں چاہتا تھا۔قیادت سنبھالنے کی بجائے اس نے تحریک پر روک لگانے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اس نے نہ صرف چیک فوج کو بیرکوں تک محدود رکھابلکہ نیچے سے آنے والے عوام کو مسلح کرنے کے مطالبے کی بھی سخت مخالفت کی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں وہ ٹینکوں کے سامنے کھڑی نہتی عوام کو ’’پر امن‘‘ رہنے کی اپیلیں بھی کرتا رہا۔ اسے چیکو سلوواکیہ پر بیرونی قبضہ تو قبول تھا لیکن ریاست پر محنت کشوں کا جمہوری کنٹرول نہیں۔ قیادت سے محروم عوام اپنے قوت بازو کے بلبوتے پر جتنی مزاحمت کر سکتے تھے ، انہوں نے کی۔ احتجاج، مظاہرے، ہڑتالیں اور احتجاجی خود سوزیاں تک۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ سب کچھ بالکل بے اثر گیا۔ ماسکو کے ریڈ سکوائر میں چیک عوام کے حق میں مظاہرے کئے گئے۔ قابض افواج کے عام سپاہیوں میں بھی بد حوصلگی پھیل گئی۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ اس بار وہ غاصب بن کر آئے ہیں۔کئی افراد نے رات کی تاریکی میں سوویت فوجیوں کو گلیوں میں روتے ہوئے دیکھا۔ ایسی کیفیت میں اگر ان کا سامنا ایک منظم مسلح عوام سے ہوتاجو ان سے طبقاتی بنیادوں پر جڑت دکھانے کی اپیل کرتی، تو غالب امکان تھا کہ قابض افواج کا ڈسپلن ٹوٹ جاتا اور وہ طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہو جاتیں۔ لیکن چیک عوام کی تمام تر جرات وہمت کے باوجود ایک حقیقی مارکسسٹ لیننسٹ قیادت کے فقدان کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

تحریک کی ناکامی کے بعد اس میں ہراول کا کردار ادا کرنے والے محنت کشوں اور طلبہ پر زبردست کریک ڈاؤن کیا گیا۔ہزاروں کو قیدو بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں۔ حتیٰ کہ افسر شاہی کے اقتدار کو بچانے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے ڈوبچیک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اپریل 1969ء میں اسے اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیااور بعد ازاں کمیونسٹ پارٹی سے بھی نکال دیا گیا۔ ڈوبچیک کی معاشی اصلاحات تو ویسے ہی رجعتی تھیں اور محنت کشوں میں مقبولیت نہیں رکھتی تھیں لیکن اس کی سیاسی اصلاحات کو بھی ختم کر کے واپس جابرانہ سیاسی پابندیوں اور سخت سنسر شپ کو نافذ کر دیا گیا۔

سرمایہ دارانہ مغربی ممالک کا کردار

مغربی بورژوازی کے سنجیدہ نمائندے ڈوبچیک کی معاشی اصلاحات میں درست طور پر منڈی کی معیشت کی طرف واپسی کے بیج دیکھ رہے تھے۔اسی طرح افسر شاہی کے اصلاح پسند دھڑے کی جانب سے چیکوسلوواکیہ کے لئے زیادہ خود مختاری حاصل کرنے کی کوششیں بھی سرد جنگ کے دوران ان کے سامراجی مفادات سے میل کھاتی تھیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ ڈوبچیک کی حمایت کرتے تھے۔مغربی میڈیا نے چیک عوام کو سرمایہ داری کی طرف واپسی کا حامی قرار دیاجو کہ صریحاً ایک جھوٹ تھا۔ مغربی میڈیا کے اس جھوٹے پراپیگنڈے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سوویت افسر شاہی نے چیکوسلوواکیہ کی عوامی تحریک کو ’’فارن سپانسرڈ‘‘قرار دے کر اپنی فوجی جارحیت کا جواز گھڑااور جب وارسا پیکٹ افواج نے چیکوسلوواکیہ پر قبضہ کیا تو ویت نام پر امریکی جارحیت کے معاملے میں چپ سادھ لینے والے منافق مغربی میڈیا نے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے افسر شاہی کی اس بد معاشی کو سوشلزم کا نام داغدار کرنے کے لئے استعمال کیا۔ جبکہ حقیقت نہ وہ تھی جو مغربی میڈیا بتا رہا تھا اور نہ ہی وہ جو ماسکو کے سرکاری اخبارات میں چھپ رہی تھی۔ نہ ہی ڈوبچیک چیک عوام کا ہمدرد تھا اور نہ ہی عوام سرمایہ داری کی طرف واپسی کے حامی تھے۔حقیقت تو صرف یہ تھی کہ چیکوسلوواکیہ کا محنت کش طبقہ ملکی اور غیر ملکی افسر شاہی کے سیاسی تسلط سے نجات حاصل کرتے ہوئے منصوبہ بند معیشت کو اپنے جمہوری کنٹرول میں لینا چاہتا تھاتا کہ سوشلزم کی تعمیر کے لئے درست سمت میں آگے بڑھا جا سکے۔

3۔ درجنوں دیگر تحریکیں اور اہم واقعات

فرانس،پاکستان اور چیکوسلوواکیہ کے انقلابات کے علاوہ بھی 1968ء کے طوفانی سال میں دنیا کے کئی اور ممالک میں محنت کشوں اور طلبہ کی جدوجہد دیکھنے میں آئی۔ ہم جگہ کی کمی کے باعث یہاں پر ان تمام تحریکوں اور واقعات کا تفصیلی احاطہ تو نہیں کر سکتے لیکن مختصراً ان کا ذکر کرتے جاتے ہیں۔

اپریل 1968ء میں نیویارک، امریکہ میں واقع کولمبیا یونیورسٹی میں ویت نام پر امریکہ کی سامراجی جارحیت کے خلاف ایک طلبہ تحریک کا آغاز ہوا۔ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس کی کئی عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران طلبہ کی نعرے بازی ان کے شدید جنگ مخا لف اور سرمایہ داری مخالف جذ بات کی عکاسی کرتی تھی۔کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ کو جرات کے اس مظاہرے پر پورے امریکہ سے طلبہ اور دیگر ترقی پسند قوتوں کی حمایت ملی۔ آخر کار نیویارک پولیس نے ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن کر کے کیمپس کو طلبہ کے قبضے سے چھڑایا۔لیکن اس واقعے کو پوری دنیا میں شہرت ملی اور ویت نام پر امریکی جارحیت کے خلاف عوامی جدوجہد نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں زور پکڑنا شروع ہو گئی۔

4 اپریل 1968ء کو مارٹن لوتھر کنگ کوقتل کر دیا گیا۔ مارٹن لوتھر نہ صرف امریکہ میں شہری حقوق کے حصول اور نسلی امتیاز کے خاتمے کی تحریکوں کے روح رواں تھے بلکہ ویت نام پر امریکی جارحیت اور سماج کی طبقاتی ناہمواری کے خلاف بھی ایک واضح موقف رکھتے تھے۔ ان کے قتل پر ملک کے تمام بڑے شہروں سمیت کل ایک سو سے زائد شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے۔ریکارڈ کے مطابق یہ امریکہ میں پچھلے ایک سو سال میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ عوام کو قابو میں رکھنے کے لئے حکومت نے بڑے شہروں میں نیشنل گارڈ اور فوج کو تعینات کر دیا لیکن اس سے عوامی غیض و غضب مزید بھڑک اٹھا۔ بالآخر عوام کو ٹھنڈا کرنے کی خاطرحکومت کو منت سماجت سے کام چلانا پڑا۔

مئی 1968ء میں اٹلی میں بھی ایک زبردست طلبہ تحریک کا آغاز ہوا جس میں دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ نے ملک کی زیادہ تر یو نیورسٹیوں کے کیمپس پر قبضہ کر لیا۔اس تحریک کے تمام نعرے سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت پر مبنی تھے اور اس کی قیادت بائیں بازو کا رجحان رکھنے والے طلبہ کے ہاتھ میں تھی۔ طلبہ تحریک کی لگائی ہوئی چنگاری نے اگلے سال کے موسم خزاں میں ایک مزدور تحریک کو بھڑکا دیا اور پورا اٹلی ہڑتالوں کی لپیٹ میں آ گیا۔فیکٹری مالکان خوفزدہ ہو گئے اور محنت کشوں کے زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔

جنوری 1968ء میں ویت کانگ اور شمالی ویت نام کی پیپلز آرمی نے قابض امریکی افواج اور جنوبی ویت نام کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف مشہور زمانہ ٹیٹ حملے کا آغاز کیا۔ اس حملے میں بائیں بازو کی حریت پسند گوریلا فوج نے جنوبی ویت نام کے درجنوں شہروں میں امریکی سامراج اور اس کے مقامی حواریوں کی فوجی تنصیبات پر حملے کئے جن میں ان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس حملے نے جہاں ایک طرف قابض افواج کے مورال کو توڑ کر رکھ دیا وہیں پوری دنیا اور بالخصوص امریکہ کے عوام میں جنگ مخالف جذبات کو بھی مہمیز دی۔

برطانیہ میں ڈیگینم کے مقام پر واقع فورڈ کار پلانٹ میں کام کرنے والی خواتین محنت کشوں نے مرد محنت کشوں کے برابر اجرت کے حصول کی خاطر 7جون کو ہڑتال کر دی۔ یہ کار پلانٹ برطانیہ کی بڑی فیکٹریوں میں سے ایک تھا اور اس میں چالیس ہزار سے زائد مزدور کام کرتے تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ خواتین محنت کشوں کی ہڑتال کو فیکٹری انتظامیہ اور ٹریڈیونین قیادت کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ساتھی مرد محنت کشوں کی جانب سے بھی مخالفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ان کی جرات کو دیکھتے ہوئے ملک میں فورڈ کمپنی کی دوسری فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین محنت کشوں نے بھی ان کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔بالآخر ان خواتین محنت کشوں کی جدوجہد رنگ لائی اور اس ہڑتال کے نتیجے میں ملکی سطح پر شروع ہونے والی بحث کی بدولت حکومت نے 1970 ء میں برابر کی اجرت کا قانون منظور کیاجو کہ نہ صرف محنت کش خواتین بلکہ پوری مزدور تحریک کے لئے ایک بڑی فتح تھی کیونکہ اس سے مرد اور خواتین محنت کشوں کے بیچ طبقاتی جڑت کی راہ ہموار ہو گئی۔

1968ء کے اسباق

 

آج 1968ء کے گزر جانے کے پچاس سال بعد ہم اس سال میں برپا ہونے والے انقلابات اور تحریکوں کو کیوں یاد کر رہے ہیں؟یقیناہمارا مقصد مایوس لوگوں کی طرح ماضی کے رومانس میں مبتلا ہو کرحال سے آنکھیں چرا لینا اور خود کو ماضی کی یادوں کے سہارے تسلی دینا ہر گز نہیں ہے۔ آج پورے کرۂ ارض پر طبقاتی کشمکش میں تیزی آ رہی ہے اور مستقبل قریب میں 1968ء کی تاریخ پہلے سے کہیں زیادہ بلند تر سطح پر اپنے آپ کو دہرائے گی۔ لیکن آج بنی نوع انسان کے پاس صرف دو ہی راستے بچے ہیں۔ ایک سوشلزم کی طرف جاتا ہے اور دوسرا بربریت کی طرف۔ ہمیں یقین ہے کہ نسل انسان سوشلزم کا ہی راستہ اختیار کرے گی لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ سوشلزم خود بخود آ جائے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ایک عالمی سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے لئے منظم شعوری جدوجہد کرنا پڑے گی۔ مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کے نقش قدم پر چلنا پڑے گا۔ اس تحریر کا مقصد جہاں محنت کش طبقے کی نئی نسل اور طلبہ کو ان کے بزرگوں کی شاندار اور ولولہ انگیز تاریخ سے روشناس کرانا ہے وہیں ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ ان انقلابات کی ناکامی سے سبق سیکھیں اور اس حقیقت کا ادراک حاصل کریں کہ ایک بالشویک قیادت کے بغیردنیا کا کوئی مزدور انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آج اس قیادت کی تخلیق وتعمیر ہی مارکس وادیوں، محنت کشوں اور نوجوانوں کا تاریخی فریضہ ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh