|تحریر: آدم پال|

اقتدار کی ہڈی کی منتقلی کا بدبو دارعمل جاری و ساری ہے اور پورا سماج اس بدبو کی لپیٹ میں ہے۔سیاست کی غلاظت اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی ہے اور جرائم اور کرپشن کی لوٹ مار سے اکٹھی کی گئی دولت کے ذریعے وزارتو ں اور اعلیٰ عہدوں کی خریدو فروخت جاری ہے۔تمام ریاستی اداروں سے لے کر بکاؤ میڈیا اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے اور مستقبل میں مزید لوٹ مار کے منصوبے تشکیل دئیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس عمل میں سیاست کا بحران کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت بھی دیوالیہ پن کے دہانے پر لڑکھڑا رہی ہے اور روپیہ حالت نزع کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ کوئی بھی اعتماد سے نہیں بتا سکتا کہ اس وقت ملکی کرنسی کا ڈالر کے مقابلے میں کیا ریٹ ہے۔ ہر روز روپے کی قدر میں گراوٹ کی خبریں سننے کو ملتی ہیں اور پھر اچانک اس میں اضافے کے اعلانات سنائی دینے لگتے ہیں۔معیشت کے انتہائی کلیدی شعبے مذاق بن چکے ہیں اور کسی بھی دو حکومتی اہلکاروں کے بیانات آپس میں نہیں ملتے۔اس صورتحال میں امریکی اور چینی سامراجوں کی باہمی کشمکش پاکستان پر شدید ترین اثرات مرتب کر رہی ہے اور سیاست سے لے کر معیشت تک تمام شعبے اس لڑائی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔اس لڑائی میں ایسے انجام کے سنجیدہ امکانات بھی ابھر رہے ہیں جوہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا ہوتا ہے لیکن ابھی تک پاکستان کا حکمران طبقہ اس لڑائی میں کامیابی کی تگ و دو کر رہا ہے۔

لیکن ان پالیسیوں کے ذریعے نہ ہی پہلے کوئی بحران حل ہوا ہے اور نہ اب ہو گا بلکہ اس وقت معیشت جس دلدل میں دھنس چکی ہے وہاں پر یہ پالیسیاں اسے موت کے منہ میں دھکیلنے کی جانب بڑھیں گی۔تحریک انصاف اپنے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود انہی پالیسیوں کو جاری رکھے گی جو اس سے پہلے کی تمام حکومتوں نے اپنائی تھیں اور ان کا نتیجہ بھی پہلے کی ہی طرح عوام کی تباہی اور بربادی اور حکمرانوں کی عیاشی کی صورت میں ہی نکلے گا۔لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ عالمی اور ملکی سطح پر بہت بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں اور معروضی صورتحال میں بنیادی تبدیلی آ چکی ہے۔ اس لیے جہاں تحریک انصاف کو ہنی مون منانے کا موقع نہیں ملے گا وہاں پر اس کی تمام تر پالیسیاں معیشت پر فیصلہ کن ضربیں لگانے کی طرف جائیں گی اور خود یہ سماج ایک بڑی عوامی تحریک کے ذریعے اس کھوکھلی حکومت کو چیلنج کر سکتا ہے۔

امریکہ چین تنازعہ 

پاکستان کی موجودہ صورتحال، الیکشن کے نتائج اور معاشی بحران کا تجزیہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ امریکہ اور چین کے تنازعے کی بنیادوں کو سمجھا جائے ۔ حالیہ عرصے میں اس تنازعہ میں شدت آئی ہے اور دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں تیزی سے تصادم کی جانب بڑھ رہی ہیں۔یہ تنازعہ عالمی سیاست و معیشت میں کچھ دہائیوں سے پنپ رہا تھا لیکن ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے سے اس میں شدت آئی ہے۔ٹرمپ نے اپنی الیکشن کیمپین میں چین پر سخت تنقید کی تھی اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں بیروزگاری ختم کرنے کے لیے وہ تمام روزگار واپس لائے گا جو صنعتوں کے چین منتقل ہونے کے باعث ختم ہو گئے ہیں۔گوکہ یہ دعویٰ حقائق سے منافی تھا لیکن اس کے باوجود ٹرمپ ابھی تک یہ سمجھتا ہے کہ چین سے امریکہ آنے والی درآمدات پر پابندیاں لگا کر وہ کمپنیوں کو مجبور کرے گا کہ وہ امریکہ میں سرمایہ کاری کریں۔

ٹرمپ نے اس دعوے پر گزشتہ عرصے میں تیزی سے عمل کیا ہے اور چین کے ساتھ امریکہ کا سالانہ پانچ سو ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔اس کو ایک تجارتی جنگ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جواب میں چین بھی امریکی درآمدات پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ابھی تک دونوں ملکوں نے پچاس ارب ڈالر کی درآمدات پر پچیس فیصد ڈیوٹی لگا کر اس تجارتی جنگ کا بگل بجایا ہے لیکن ٹرمپ کے بیانات سے واضح نظر آتا ہے کہ وہ اس حجم کو پانچ سو ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور تمام چینی درآمدات پر ڈیوٹی بڑھا دے گا۔اس تجارتی جنگ کے دنیا بھر کی معیشتوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آنے والے عرصے میں اس مخاصمت کا دائرہ کار وسیع ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمپ اور یورپی ممالک چین کی جدید ٹیکنالوجی کی جانب تیز ترین پیش رفت سے بھی پریشان ہیں اور چینی کمپنیوں پر ایسی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی حاصل نہ کر سکیں۔ موبائل فون کی جدید ٹیکنالوجی سے لے کر دیگر الیکٹرانکس اور جدید مشینری کی ٹیکنالوجی درحقیقت وہ بنیادیں ہیں جن کے باعث امریکہ سمیت دیگرمغربی ممالک عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر اپنی گرفت جمائے ہوئے ہیں۔اسی طرح آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی ایک متوازی طاقت کے ابھرنے سے خوفزدہ ہیں اور اس کو ابھرنے سے پہلے ہی روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر میں ان سود خور اداروں کی سامراجی گرفت قائم رہے۔

دوسری جانب چین بھی دنیا بھر میں تیزی سے اپنے سامراجی پنجے گاڑتا چلا جا رہا ہے اور اس کی پہلی ترجیح پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک ہیں۔ ان ممالک کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضوں کا لالچ دے کر چین اپنے دائرہ اثر میں لانے کی کوشش کر رہا ہے اور انہیں زائد پیداوار کی کھپت کے لیے منڈی کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے خام مال اور سٹرٹیجک اثاثوں کو اپنے سامراجی مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔اس سلسلے میں ایک نئے سامراجی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جسے BRIیا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان میں جاری سی پیک منصوبہ بھی BRIکا ہی حصہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ایک کلیدی حصہ بن چکا ہے۔

اس منصوبے کے تحت چین پاکستان میں ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور گوادر کی بندر گاہ کو اپنے سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ تمام صورتحال امریکی سامراج کے لیے انتہائی پریشان کن ہے جو اس خطے میں ایک لمبے عرصے سے حکمرانی کر رہا ہے اور پاکستا ن کی ریاست کو اپنی گماشتگی کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ افغانستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے تاراج کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی سامراج نے پاکستانی ریاست کے تعاون سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم رکھا ہے۔ اس عمل میں سعودی ریاست بھی بڑے پیمانے پر معاونت کرتی رہی ہے۔ لیکن اب طاقتوں کا توازن تبدیل ہو رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر موجود ورلڈ آرڈر تیزی سے بکھر رہا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کسی بھی سماج پر انتہائی بڑے پیمانے پر مرتب ہوتے ہیں اور آج پاکستان اسی دیو ہیکل تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔
حالیہ انتخابات میں اس تنازعے کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور اب جبکہ حکومت کی تشکیل کا مرحلہ جاری ہے اس وقت یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ بہت سے دوسرے ممالک کے بر عکس پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات سے عوام میں سیاسی پارٹیوں کی مقبولیت کا اندازہ بالکل بھی نہیں لگایا جا سکتا بلکہ انتخابات کے نتائج سے یہ نظر آتا ہے کہ کون سی پارٹی فوج سمیت ریاست کے اہم حصوں کی آشیر باد لینے میں کامیاب ہوئی ہے۔ سماج میں موجود کسی بڑی عوامی تحریک یا ہلچل کی جھلک بھی انتخابی نتائج میں نظر آ جاتی ہے لیکن عمومی طور پر یہ نتائج فوجی جرنیلوں اور سامراجی طاقتوں کے باہمی تعاون سے ہی ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت کچھ عرصہ قبل تک شاید نظروں سے اوجھل تھی لیکن موجودہ انتخابات میں یہ واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے اور اب اندھے بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن حالیہ انتخابات ماضی سے اس لیے مختلف تھے کیونکہ اس وقت مقامی اسٹیبلشمنٹ نہ صرف مختلف حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی اور یہ حصے آپس میں شدید تصادم میں تھے بلکہ امریکہ اور چین جیسی سامراجی طاقتیں بھی ایک دوسرے پر فوقیت لیجانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایسے میں واضح طور پر نظر آیا کہ امریکی سامراج نے نواز شریف کو اپنا کٹھ پتلی بنا کر میدا ن میں اتارا جبکہ پاکستانی ریاست کے امریکہ مخالف مقامی دھڑے نے عمران خان کی کامیابی کے لیے پورا زور لگا دیا۔ امریکی دھڑے کی مخالفت میں چینی سامراج کی جانب جھکاؤ نا گزیر تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ چین نے نہ صرف گزشتہ مالی سال کے دوران بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی امداد دی ہے، جو سی پیک کے علاوہ ہے بلکہ مزید امداد دینے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔ انتخابات کے نتائج پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دو ارب ڈالر مزید دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔عمران خان کی الیکشن کامیابی پر تقریر کے دوران چین کا متعدد بار ذکر اور چین کی جانب سے فوری طور پر امداد کا اعلان واضح کرتا ہے کہ کس گھوڑے یا گدھے پر کون پیسہ لگا رہا ہے۔ لیکن اس وقت معاشی بحران کی شدت کا تقاضا ہے کہ آئی ایم ایف سے بھیک کا سلسلہ بھی بحال کیا جائے جس کے لیے بارہ ارب ڈالر کے قرضے کے لیے درخواست دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں آئی ایم ایف کو تنبیہ کی ہے کہ ہم پاکستان کو دئیے جانے والے قرضے کے عمل کوغور سے دیکھ رہے ہیں۔اس نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کا یہ قرضہ درحقیقت چین کے قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف کیا جائے گا جس کی ہم بالکل بھی اجازت نہیں دے سکتے۔اس نے کہا کہ امریکی عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اس طرح نہیں اڑایا جا سکتا۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ امریکی حکام پاکستان کے انتخابی نتائج سے خوش نہیں ہیں اور چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات پر خفگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد عالمی میڈیا پر ایک بحث کا آغاز ہو چکا ہے جس میں نہ صرف امریکہ اور چین کے تنازعے کے پھیلاؤ پر بحث ہو رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف اور چین کے تعلقات کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔عالمی سرمایہ داری کے بہت سے سنجیدہ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی جانب سے دئیے جانے والے قرضے ان ممالک میں معاشی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں جس کے باعث ان ممالک کی معیشتیں دیوالیہ پن کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ان بے ہنگم پالیسیوں کے نتیجے میں وہ معیشتیں مکمل طور پر ڈوب سکتی ہیں جن کے باعث آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے قرضے بھی ڈوب جائیں گے اور انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ لیکن درحقیقت یہ ماہرین چین کے بڑھتے ہوئے سامراجی کردار سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور اس سے منسلک مالیاتی اداروں کی سامراجی گرفت کمزور نہ ہونے پائے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں سے بھی آج تک کسی ملک کی معیشت میں استحکام نہیں آیا اور نہ ہی اس نے ترقی کی ہے۔ بلکہ ان قرضوں نے ان ممالک کے کروڑوں عوام کو ان مالیاتی زنجیروں میں جکڑا ہواہے اور ان کی ہڈیوں کا گودا بھی حکمران اور سود خور مالیاتی ادارے نکال کر کھا چکے ہیں۔

لیکن دوسری جانب چین سے آنے والی سرمایہ کاری بھی خوشحالی کی بجائے خون اور بربادی کا سیلاب اپنے ساتھ لا رہی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کا رستہ ہموار کرنے کے لیے پہلے ہی بلوچستان میں کئی فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں اور نئے آپریشنوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے روزگار میں اضافہ ہونے کی بجائے پہلے سے موجود صنعتیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں اور چین کی سستی مصنوعات کا سیلاب باقی ماندہ صنعتوں کو بھی بہاتا چلا جا رہا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سودی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے جو عوام کا خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا۔ایسے میں عالمی سرمایہ داری کے کچھ تجزیہ کار مشورہ دے رہے ہیں کہ چین کے ساتھ تصادم کی بجائے اسے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک ڈیل کے لیے مذاکرات کیے جائیں تاکہ کوئی درمیانہ رستہ نکل سکے۔ لیکن اس رستے کی خواہش تو موجود ہے لیکن عملی طور پر اس کی بنیادیں موجود نہیں اور عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے زوال اور مالیاتی بحران کے باعث امریکہ اور چین کی سامراجی طاقتوں کے تصادم میں شدت آئے گی اور یہ بھڑکتا چلا جائے گا۔

اس کے اثرات پاکستان کی ریاست اور سیاست پر بھی مرتب ہوتے چلے جائیں گے۔امریکہ نواز لبرل عالمی ذرائع ابلاغ نے ان انتخابات کو سختی سے رد کیا ہے اور واضح طور پر لکھا ہے کہ عمران خان کو ایک فراڈ الیکشن کے ذریعے فوج نے اقتدار پر مسلط کیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے لیے الیکشنوں سے پہلے ہی راہ ہموار کی گئی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کوعدالتوں کے ذریعے عتاب کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان کے مطابق فوج جو اس ملک پر ایک لمبا عرصہ براہ راست حکمرانی کرتی رہی ہے وہ اب بھی پس پردہ اپنی مرضی کے انتخابی نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور ایک ہنگ پارلیمنٹ کو تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کو بھی قابو میں رکھا جائے اور اپنی مرضی کی پالیسیاں بنوائی جائیں ۔کسی حکم عدولی کی شکل میں عمران خان کے اتحادیوں پر دباؤ ڈال کر اسے مشکلات میں ڈالا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں کسی بھی وقت ایک نئے مارشل لا کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا گو کہ فوج کے ترجمان نے متعدد بار اس امکان کی سختی سے تردید کی ہے۔ایسے میں ہنگ پارلیمنٹ ایک ربڑ اسٹیمپ کا کردار ادا کرے گی اور اصل طاقت پس پردہ قوتوں کے پاس ہو گی۔لیکن پاکستانی ریاست کے پرانے سرپرستوں کی مشکل یہ ہے کہ عمران خان کے مقابلے میں ان کے پاس جو آلہ کار ہیں وہ کسی بھی قسم کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہیں اور درحقیقت سامراجی آقا کی آشیر باد سے ہی اقتدار میں آ سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال نے پاکستانی ریاست میں موجود مختلف دھڑے بندیوں کو واضح کر دیا ہے کیونکہ نواز شریف اور عمران خان کی لڑائی کا عوام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں اور درحقیقت یہ ریاست کے دو دھڑوں کی لڑائی ہے۔دائیں بازو کے کچھ حصے اس لڑائی کی زد میں ضرور آئیں گے لیکن عوام کے وسیع تر حصے کا اس لڑائی سے کوئی سروکار نہیں۔ قوم پرست پارٹیوں سے لے کر مذہبی پارٹیوں تک تمام سیاسی جغادری بھی اپنی بنیادیں کھو چکے ہیں اور صرف کسی طاقت کا آلہ کار بننے کا کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔

یہ اس لڑائی کا سب سے اہم پہلو ہے کیونکہ حکمران طبقے کے دانشور اور تجزیہ نگار ہمیشہ محنت کش عوام کی طاقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور تمام تر تجزیے کی بنیاد سیاسی لیڈروں یا ان کی پارٹیوں کو ہی بناتے ہیں۔ سنجیدہ تجزیہ و تناظر تخلیق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تمام تر صورتحال کے عوام پر اثرات کا جائزہ لیا جائے اور ان کی جانب سے رد عمل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

سیاسی بحران

حالیہ انتخابات میں عوام کی دلچسپی ماضی کی نسبت سب سے کم نظر آئی۔ گو کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 51فیصد کے ٹرن آؤٹ کا اعلان کیا لیکن دیگر تمام سرکاری اعدادو شمار کی طرح یہ بھی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں سرکاری طور پر بیروزگاری کی شرح محض6فیصد ہے جبکہ ایک حالیہ آزادانہ سروے نے اسے 50فیصد کے قریب بتایا ہے۔یہی تناسب الیکشن کے ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار میں بھی ممکن ہے۔

عام لوگوں کی ان انتخابات میں عدم دلچسپی کی وجہ رائج الوقت سیاست کی غلاظت ہے جس میں تمام پارٹیوں کی حیثیت گٹر میں موجود غلاظت جیسی ہو چکی ہے جس سے ہر کوئی بچ کے گزرنا چاہتا ہے۔ ان بدبودار پارٹیوں میں صرف لوٹ مار اور کرپشن کرنے والوں کی ہی گنجائش ہے۔ اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی امید، کسی خواہش کولے کر یہاں جانا بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت موجودہ انتخابات نے اس حقیقت کو سطح پر لا کر واضح کر دیا ہے کہ تمام سیاسی منظر نامہ بائیں سے لے کر دائیں تک سماج سے لا تعلق ہو چکا ہے اور اس وقت ہوا میں معلق ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی پارٹیوں سے لے کر خود کو آجکل سیکولر کہنے والی پیپلز پارٹی، قوم پرستوں اور این جی او زدہ بائیں بازو تک سب کی یہی حالت ہے اور کسی بھی پارٹی کی بنیادیں عوام کے کسی بھی حصے میں موجود نہیں۔ انتخابات میں پیسوں کا لالچ دے کر یا تھانے کچہری کا خوف دلا کر مخصوص افراد کو تو کھیچ تان کر پولنگ سٹیشنوں پر لایا جاتا ہے جس کا مقصد محض اس رسم کو پورا کر نا ہوتا ہے۔ لیکن امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے لے کر صحافیوں تک سب جانتے ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج کا فیصلہ صرف بیلٹ باکس سے نہیں ہونا۔

گو کہ عمران خان کو درمیانے طبقے کے مخصوص افراد کی تھوڑی بہت حمایت حاصل ہے اور الیکشنوں سے قبل روایتی مقامی غنڈہ گرد عناصر کو ساتھ ملا کر اس نے ووٹروں کو کھینچ تان کر پولنگ اسٹیشن لانے کا بندوبست بھی کر لیا تھا لیکن عمومی نتائج پر مخصوص منصوبے کا ہی گمان ہوتا ہے گو کہ حقیقت کا رنگ تیاریوں کی نسبت کہیں زیادہ پھیکا ہے۔ انتخابی عمل میں ریاستی اداروں نے تمام روایتی حربے اور دھونس استعمال کر کے عمران خان کو اکثریت دلا تو دی ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں کہ وہ بآسانی حکومت بنا سکے۔ اسے بہت سے آزاد امیدواروں کو خریدنا ہے اور ان پارٹیوں کے ساتھ الحاق کرنا ہے جن کیخلاف اس نے الیکشن جیتا ہے۔ اسی طرح شہباز شریف کی قیادت میں چلنے والی نون لیگ کو بھی مکمل طور پر باہر نہیں کیا جا سکا بلکہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ موجود رہے گی۔ اس کی بچی کھچی ساکھ کی جھلک بھی نتائج میں نظر آئی جسے ان اقدامات کے ذریعے مخصوص حد تک ہی روکا جا سکتا تھا۔ اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تو بن جائے گی لیکن اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنا کھیل جاری رکھیں گی۔ بلوچستان میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جبکہ پنجاب جیسے اہم صوبے میں مزید کمزور حکومت قائم ہو گی جو پس پردہ قوتوں کے مسلسل دباؤ میں رہے گی۔ ایسے میں بہت سے لوگ سوال کریں گے کہ اس دھاندلی کے ثبوت لاؤ یا پھر یہ کہ دھاندلی کے الزام تو ہمیشہ لگتے ہیں۔ گو کہ اپوزیشن پارٹیاں بہت سے ثبوت پیش کر رہی ہیں لیکن ان کا حتمی مقصد بھی دھاندلی ثابت کرنا نہیں بلکہ نظر کرم حاصل کرنا ہے ۔ اسی لیے وہ صرف ہلکے سروں میں ہی یہ شور کرتے ہیں یا پھر کسی ایک فون کال پر مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح نظر آتا ہے کہ الیکشن کے تمام تر نتائج بیلٹ باکس سے طے نہیں ہوئے۔ صرف رد ہونے والے ووٹوں کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ چالیس سے زائد ایسے حلقے ہیں جن میں جیتنے والے کے ووٹوں کا فرق رد شدہ ووٹوں سے کم ہے۔

اس عمل میں ری کاؤنٹنگ یا دوبارہ گنتی کا عمل انتہائی دلچسپ ہے۔ اگر پہلے سے طے شدہ نتائج میں کوئی کمی بیشی رہ گئی تھی تو وہ اس عمل سے پوری کی جا رہی ہے۔ اگر کسی پارٹی نے زیادہ شور مچایا ہے یا احکامات پر عمل نہیں کر رہی تو اس کے ووٹوں میں کمی بیشی کر کے رزلٹ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ عدالتیں، الیکشن کمیشن اور دیگر تمام ادارے بھی اس میں مکمل معاونت کر رہے ہیں۔ 

واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ الیکشن صرف ریاست کے مختلف دھڑوں کا ایک کھیل ہے جس میں اپنی من پسند پارٹی کو بر سر اقتدار لایا جا رہا ہے تا کہ اس سے مطلوبہ کام کروائے جا سکیں۔ ماضی میں پارٹیوں کی کسی نہ کسی شکل میں عوامی بنیادیں موجود ہوتی تھیں اور اس کھیل میں حقیقت کا رنگ بھی موجود ہوتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ پارٹیاں اپنی عوامی بنیادیں کھو چکی ہیں اور یہ کھیل سماجی حقیقت سے دور کسی خلا میں جاری ہے۔اس ملک میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں ایک طویل سماجی عمل کا نتیجہ ہیں اور ماضی کے مختلف ادوار اور تحریکوں میں ان کی بنیادیں موجود ہیں جو آج ختم ہو چکی ہیں۔

پیپلز پارٹی 69-1968ء کی انقلابی تحریک کے دوران معرض وجود میں آئی تھی اور ایک لمبے عرصے تک مزدوروں اور کسانوں کی روایتی پارٹی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اسے درست طور پر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کہا جاتا تھا اور انتخابی نتائج ترتیب دیتے وقت مزدوروں اور کسانوں کی اس نمائندہ پارٹی کو مکمل طور پر رد کر دینا آسان نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج یہ پارٹی اپنی تمام بنیادیں مکمل طور پر کھو چکی ہے اور لیاری سے بھی اپنی سیٹ جیتنے کے قابل نہیں رہی۔ بلاول بھٹو جو پہلی دفعہ الیکشن لڑ رہا تھا وہ بھی لیاری میں تیسرے نمبر پر آیا ہے۔ اندرون سندھ میں بھی یہ اس لیے جیت سکی کہ اس کی جگہ کوئی متبادل موجود نہیں۔ جی ڈی اے کو تیار تو کیا جا رہا ہے لیکن یہ الائنس بھی خلائی مخلوق کی طرز پر ہی بنایا گیا ہے اور عوام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

ایم کیو ایم کا انہدام تو سب سے واضح طور دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ پارٹی 1970ء کی تحریکوں کی پسپائی کے بعد ابھرنے والے ایک رجعتی اور تاریک دور میں ابھری تھی۔ طبقاتی کشمکش کی پسپائی کے بعد لسانی اور قومی تعصبات ناگزیر طور پر ابھرے جن پر ضیا الباطل کی آمریت میں ایم کیو ایم کے بیج بوئے گئے۔ رد انقلابی دور کی زرخیز زمین میں اس انتہائی دائیں بازو کی پارٹی نے سندھ کے مہاجروں میں وسیع بنیادیں بنائیں اور ریاستی آشیر باد سے مخصوص علاقوں میں بلا شرکت غیرے حکمرانی کرتی رہی۔ آج اس پارٹی کا شیرازہ بکھرنے کی وجہ نالائق قیادت یا فوجی آپریشن نہیں بلکہ اس کی سماجی حمایت کا خاتمہ ہے۔ پیپلز پارٹی اتنی بوسیدہ ہو چکی ہے کہ وہ اس خالی جگہ کو بھی پر نہیں کر سکتی بلکہ خود اپنی جگہ خالی کر رہی ہے۔عمران خان کو کراچی سے ملنے والی سیٹوں کی وجہ بھی اس کی سماجی حمایت نہیں ہے بلکہ خالی جگہ ہونے کے باعث رزلٹ تشکیل دینے والوں کی دین ہے۔ درحقیقت کراچی میں ٹرن آؤٹ سب سے کم رہا اور عوام کی انتخابات میں دلچسپی سب سے کم رہی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی پارٹی سے کسی کو کوئی امید نہیں۔

پنجاب میں نون لیگ کی حالت بھی واضح طور پر نظر آگئی۔ اسے پنجاب کی سب سے مضبوط پارٹی قرار دیا جاتا تھا اور نواز شریف کو پنجاب کا ہیرو۔ لیکن اس وقت ہیرو اور اس کی بیٹی جیل میں ہیں لیکن اس کے باوجود نہ کوئی ہنگامہ برپا ہے اور نہ ہی رہائی کی کوئی تحریک۔مکمل خاموشی دکھائی دیتی ہے۔ جیل میں ملاقات کرنے والوں کو بھی نوازشریف نے یہی پیغام دیا ہے کہ وہ تحریک چلائیں لیکن ایسی کوئی تیاری نظر نہیں آتی۔ انتخابات کے دوران تو سیاسی ہلچل اور گہما گہمی عروج پر ہوتی ہے اور ہر گلی اور محلے میں سیاسی جلسے، جلوس اور پروگرام منعقد ہو رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں تو تحریک چلانا کئی گنا آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایسی کوئی عوامی تحریک نظر نہیں آئی جو نواز شریف کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہو۔جس دن نواز شریف وطن واپس لوٹا اس دن بھی تمام تر پراپیگنڈے کے بعد صرف چند ہزار افراد کو ہی اکٹھا کیا جا سکا اور وہ بھی ائرپورٹ نہ پہنچ سکے۔ میڈیا پر دن رات شور و غل مچایا گیا لیکن کوئی بھی تحریک برپا نہیں کی جا سکی۔ چند بکاؤ دانشوروں نے دور بینوں سے وہ تحریک تلاش کرنے کی کوشش بھی کی اور اسے عوام کا سیلاب بھی قرار دیا لیکن اس سیلاب کی تصاویر اور ویڈیوز نہ جاری کر سکے۔

عمران خان کو ملنے والا ووٹ بھی کسی تحریک کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی اس پارٹی کی سماج کے کسی بھی حصے میں بنیادیں موجود ہیں۔ نون لیگ ضیا الباطل کے تاریک دور میں ابھری تھی اور اسے پنجاب کے درمیانے طبقے اور سرمایہ داروں کی سماجی حمایت ملی تھی جو آج ختم ہو چکی ہے۔ لیکن عمران خان اور اس کی پارٹی سماج کے کسی بھی حصے میں اپنی بنیادیں نہیں بنا سکی اور صرف ریاستی اداروں کی مکمل آشیر بادسے اقتدار میں آئی ہے۔ اسلام آباد میں دیے جانے والے دھرنوں اور الیکشن کے جلسوں سے واضح ہے کہ عمران خان کبھی بھی عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکا۔ یہی وجہ تھی کہ الیکشنوں سے قبل اسے جتوانے کے لیے ریاستی اداروں کو کھل کر سامنے آنا پڑا۔ چیف جسٹس سے لے کر فوج کے ترجمان تک سب ’تبدیلی‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اسی دباؤ کے تحت ن لیگ کے بہت سے ممبران اسمبلی کو جبری طور پر تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا۔ بکاؤ میڈیا پر بھی جبر کرنا پڑا اور انہیں بھی روٹین سے زیادہ احکامات جاری کرنے پڑے جس کے باعث آہ و بکا بھی نظر آئی۔اس کی ایک وجہ کم پیسوں میں زیادہ کام کا مطالبہ بھی تھا۔ لیکن اس سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کو جتوانا کتنا مشکل کام تھا جس کے دوران ریاستی اداروں کا پس پردہ جاری رہنے والا کھیل بے نقاب ہو گیا۔اب بھی اس حکومت کو ترتیب دینا اور پھر اسے چلانا انتہائی دشوار نظر آ رہا ہے جس کے لیے ضرورت سے زیادہ زور لگانا پڑے گا اور حکمرانوں کی غلیظ حقیقت عوام پر عیاں ہو گی۔ ایم کیو ایم اور عمران خان کے تعفن زدہ اتحاد سے اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو نواز شریف اور عمران خان کی لڑائی درحقیقت ریاست کے دو دھڑوں کی لڑائی ہے جس میں دونوں ایک دوسرے پر بازی لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو ابھی تک ریاست کے اہم دھڑے کی حمایت حاصل ہے جو اسے مستقبل میں چوتھی دفعہ اقتدار دلوانے کی کوشش کرے گا اور ساتھ ہی عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سب سے کار آمد ہتھیار ہوگا۔ اس عمل میں عدالتی فیصلے اورمیڈیا پر احتساب کا شور شرابا ایک ناٹک کے سوا کچھ نہیں۔ اصل لڑائی لوٹ مار کے مال پر ہے جس کا زیادہ سے زیادہ حصہ ہر کوئی ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت عمران خان اور اس کی پشت پر موجود دھڑاناخن تیز کر رہا ہے لیکن جلد ہی اسے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور سارا حلوہ اکیلا ہی نہیں کھا سکے گا۔

اس لڑائی میں مذہبی پارٹیوں کی منافقت بھی عیاں ہو چکی ہے اور سماج کے انتہائی پسماندہ حصوں میں موجود ان کی بنیادیں ختم ہو چکی ہیں۔ فضل الرحمان کی شکست پر بہت سے لوگ خوش ہیں لیکن اس کی بڑی وجہ ریاستی اداروں کی اس سے ناراضگی ہے۔ یہی ناراضگی پہلے شیخ رشید سے بھی نظر آئی تھی جب وہ 2008ء کے انتخابات میں اسمبلی سے ہی باہر ہو گیا تھا لیکن اب دوبارہ ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ اس وقت کہا جارہا تھا کہ شیخ رشید کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ ایسے کٹھ پتلی گماشتوں کی آمد و رفت عوامی حمایت کے باعث نہیں بلکہ خلائی مخلوق کی مرہون منت ہوتی ہے۔ وہی مخلوق ایسے افراد کو میڈیا کے ذریعے مشہوری دلواتے ہیں اور ان کی ذہانت اور متانت کے قصے عام کروا کر انہیں ’’بڑا‘‘ لیڈر بنواتے ہیں لیکن وقت پڑنے پر انہیں ردی کی ٹوکری میں بھی پھینک دیتے ہیں۔ قوم پرست پارٹیوں کی بھی اس وقت یہی حالت ہے اور وہ چند سکوں اور وزارتوں کے عوض سب کچھ بیچنے کے لیے تیار ہیں۔ اے این پی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ پی ٹی ایم کی تحریک کے دوران اے این پی اس کیخلاف کھل کر بیان دے رہی تھی لیکن جیسے ہی اسے انتخابات میں لال جھنڈی دکھا کر باہر کیا گیا ہے وہ پی ٹی ایم کی حمایت کا اعلان کر رہی ہے تا کہ سودے بازی کے لیے اپنی قیمت بڑھا سکے۔محمود خان اچکزئی بھی فضل الرحمان کے گلے لگ کے رو رہا ہے حالانکہ انتخابات میں اس کی سیٹیں ایم ایم اے کو ہی دی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ کھیل کب تک جاری رہے گا اور ناٹکوں پر مبنی یہ سیاست کیا ہمیشہ ایسے ہی چلتی رہے گی؟ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ سماج کی سائنس کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ آج کسی بھی سماج کو حقیقی سیاسی پارٹیوں کے بغیرنہیں چلایا جا سکتا۔ اگر رائج الوقت سیاسی پارٹیاں تبدیل شدہ معروجی و سماجی حالات سے مطابقت نہیں بناتی تو سماج انہیں اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور نئی پارٹیاں معرض وجود میں آتی ہیں۔ خود پاکستان کی سیاسی تاریخ اس عمل کی گواہ ہے جب بہت سے پرانی پارٹیاں رد ہوئیں اور بہت سی نئی پارٹیاں دائیں یا بائیں جانب سے سماجی حمایت لے کر ابھر کر سامنے آئیں۔ موجودہ قوم پرست پارٹیاں بھی ماضی کی بہت سی عوامی تحریکوں کا نتیجہ ہیں جن کی بنیادی قومی محرومی اور مظلوم قومیتوں پر ریاست کے سامراجی مظالم تھے۔ گو کہ آج بھی قومی محرومی موجود ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن یہ پارٹیاں کسی بھی صورت میں ان جذبات و احساسات کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ پشتون تحفظ تحریک کی شکل میں سطح پر واضح طور پر نظر آیا کہ حالات کتنے تلخ ہیں اور قیادت کی جانب سے کتنی تلخ گفتگو کا تقاضا کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب ان پارٹیوں کے لیڈر افہام و تفہیم کا درس دیتے ہوئے اپنی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری جانب پشتون تحفظ تحریک بھی کوئی واضح سیاسی پروگرام نہیں دے سکی اور اب اس کی قیادت سے جیتنے والے دو آزاد امیدوار سیاسی میدان میں لڑکھڑا رہے ہیں۔ آنے والے عرصے میں یہ عمل زیادہ وسیع پیمانے پر نظر آئے گا اور سیاست کی پوری بساط ہی محنت کش عوام کی جانب سے لپیٹ دی جائے گی۔

1968-69ء کے انقلاب کے دوران بھی ایسا ہی ہوا تھا جسے کچلنے کے لیے ملک کو ایک جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ آج بھی ایسی ہی صورتحال ممکن ہے لیکن اس دفعہ سب کچھ پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر دہرایا جائے گا اوراس تحریک کے اسباق کلیدی کردار ادا کریں گے۔

اس وقت الیکشن اور پارلیمنٹ کی اوقات مٹھائی پر ڈالے گئے پردے جیسی ہے۔ اسے مکھیوں اور مچھروں سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اصل کھانے والا مٹھائی سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکے۔ پارلیمنٹ نہ تو دفاعی بجٹ پر بحث کر سکتی ہے اور نہ ہی سامراجی قرضوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔ یہاں پر موجود چور، ڈاکو، غنڈے، لٹیرے صرف ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں پر ہی رالیں ٹپکا سکتے ہیں۔ یہاں پر بننے والے قوانین پر عملی جامہ پہنانے کا اختیار بھی خود ان کو نہیں اور اب تو ممبران اسمبلی عدالت کے معمولی کارندے کو دیکھ کر بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔لیکن دوسری طرف عدلیہ سمیت دیگر ریاستی ادارے بھی کھوکھلے ہو کر زمین بوس ہونے کے قریب ہیں اور سماج میں ان کی اپروول نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام لوگ بھی عدالتوں سے رجوع کرنے کی بجائے کسی پنچایت یا مقامی طور پر معاملہ حل کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی حالت پولیس اور دیگر اداروں کی ہے جن سے عوام کی نفرت انتہاؤں پر پہنچ چکی ہے۔ اب فوج بھی براہ راست ان معاملات میں مداخلت کر رہی ہے جس کے باعث اس کا کردار بھی متنازعہ بن چکا ہے۔

ایسے میں کچھ لوگ مارشل لا سے بھی ڈراتے ہیں۔ حالانکہ بغیر وردی والے حکمران کی جگہ اگر وردی والے براہ راست حکمرانی کریں تو عام آدمی کی زندگی میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بلکہ نئے آنے والے آمر کو پھر انہی پارٹیوں اور سیاسی لیڈران کی گماشتگی کے ذریعے ایک پارلیمنٹ تشکیل دینی پڑے گی۔ نسل در نسل وہی خاندان حکمرانی کرتے آئے ہیں اور اسی نظام میں کرتے رہیں گے جبکہ عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

موجودہ پارلیمانی اور ریاستی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کا واحد طریقہ ایک سوشلسٹ انقلاب ہے۔آنے والے عرصے میں اس نظام کو چیلنج کرنے کے لیے وسیع عوامی تحریکوں کا ابھرنا نا گزیر ہے اور موجودہ تھانے، عدالتیں، حلقہ بندیوں، پارلیمنٹ، قانون اور آئین کو ہوا میں اچھال کر یہ تحریکیں نئے نظام کے بیج تخلیق کریں گی۔ مزدوروں کی کمیٹیوں کے ذریعے سماج کو چلانے کا طریقہ کار اس سے پہلے بھی مختلف انقلابی تحریکوں میں منظر عام پر آ چکا ہے۔ آنے والے عرصے میں یہ اپنا اظہار یہاں بھی کرے گا۔ اسی طریقہ کار کو وسعت اور ٹھوس نظریاتی بنیادیں دیتے ہوئے پورے سماج کے لیے کار آمد بنایا جاسکتا ہے اور تعفن زدہ موجودہ گندگی کو ختم کر کے ایک حقیقی سوشلسٹ جمہوریت تشکیل دی جا سکتی ہے۔

معاشی بحران

اس وقت ملک کا معاشی بحران اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارے ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں۔ اس وقت ملکی خزانے میں تقریباً ایک ماہ کی درآمدات کی رقم موجود ہے۔ یعنی اگر فوری طور پر بیرونی امداد نہ ملی تو ایک ماہ بعد عالمی منڈی سے تیل اور دیگر ضروری اجناس خریدنے کے لیے درکار وسائل پاکستان کے پاس نہیں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں ملک میں ضروری اشیا کی شدید قلت ہو سکتی ہے۔

یہی صورتحال ملک کی کرنسی پر شدید دباؤ ڈال رہی اور روپے کی قدر میں تیز ترین گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کچھ ہفتے قبل ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 132روپے تک پہنچ گیا تھا۔ آنے والے عرصے میں اس میں مزید کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ اس کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں اور مہنگائی کا سیلاب بے قابو ہورہا ہے۔ اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے عمران خان آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 12ارب ڈالر کے قرضے کے لیے درخواست دی جائے گی۔ لیکن اس رستے میں بھی بہت سے رکاوٹیں ہیں۔

ایک رکاوٹ تو امریکہ کے وزیر خارجہ کے حالیہ بیان سے نظر آئی ہے جس میں اس نے آئی ایم ایف کو تنبیہ کر دی ہے کہ وہ پاکستان کو قرضہ نہ دے۔ لیکن اگر یہ قرضہ مل بھی جاتا ہے تو اس کی شرائط انتہائی سخت ہوں گی۔ ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر نے پہلے ہی ان شرائط کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ وہ 200اداروں کی نجکاری صرف 100دنوں میں کرے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلے سو دنوں میں لاکھوں ملازمین کو جبری برطرف کیا جائے گا اور بیروزگاری کے سیلاب میں اضافہ کیا جائے گا۔ نجکاری کے اتنے بڑے حملے سے جس بڑے پیمانے کی سماجی شکست و ریخت کا آغاز ہو گا اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی شرطیں تسلیم کرنی ہوں گی۔ روپے کی قدر میں مزید دس سے بیس فیصد تک گراوٹ کرنی ہوگی اور ضروری اجناس پر دی جانے والی سبسڈیوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا جس کے باعث مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔ عمران خان دولت مند افراد پر ٹیکس لگانے کا پروگرام دیتا آیا ہے لیکن اپنے ہی طبقے پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کے واجبات ادا کرنے ہوں گے اور لوٹ مار کے لیے ترقیاتی کاموں کے لیے ٹھیکوں کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ خلائی مخلوق کے اللے تللے بھی جاری رہیں گے بلکہ اس میں اضافہ ہو گا۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی زیادہ خوفناک رفتار سے آگے بڑھیں گی اور محنت کشوں کو غربت میں دھکیلا جائے گا۔ اس سب کے لیے عمران خان بھی پرانے طرز عمل کو اپناتے ہوئے غریب عوام پر ٹیکسوں میں اضافہ کرے گا اور محنت کشوں پر بد ترین حملے کیے جائیں گے۔ نجکاری ، بیروزگاری اور مہنگائی کیخلاف ابھرنے والی تحریکوں پر بد ترین تشدد اور جبر کیا جائے گا اور عوامی مظاہروں کو خون میں نہلایا جائے گا۔ صرف اتنے شدید جبر کے ذریعے ہی آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط اور لوٹ مار کے نئے منصوبوں کو عوام پر مسلط کیا جا سکے گا۔ پختونخوا میں عمران خان کا طرز عمل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جہاں ملازمین کے احتجاج پر بد ترین جبر کیا گیا۔آنے والے عرصے میں سماجی حمایت کے بغیر بر سر اقتدار آنے والا عمران خان عوام کے ساتھ کیا کرے گا یہ دیکھنا مشکل نہیں۔ عمران خان کی پشت پر موجود ریاستی دھڑا بھی اس جبر کو لاگو کرنے میں معاونت کرے گا اور میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا گلا بھی گھونٹا جائے گا۔ لیکن ان معاشی پالیسیوں کے ذریعے کسی بھی قسم کی بہتری اور معاشی بحالی ممکن نہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں اور نجکاری سے پہلے بھی اس ملک کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا اور اب بھی نہیں ہو گا بلکہ معاشی بحران کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔

دوسری طرف سی پیک کو بھی زیادہ بڑے پیمانے پر وسعت دیے جانے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد عمران خان کی پہلی تقریر میں چین کی جانب واضح جھکاؤ نظر آیا۔ آنے والے عرصے میں امریکی سامراج کا مقابلہ کرنے کے لیے چینی سامراج پرزیادہ انحصار کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ لیکن سی پیک کی معاشی بہتری میں ناکامی پہلے ہی واضح ہو چکی ہے۔ اس منصوبے سے بیروزگاری میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ چینی مصنوعات کے سیلاب نے مقامی صنعتوں کو بڑے پیمانے پر بند کیا ہے جس کے باعث بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارے کے پھولنے کی بڑی وجہ سی پیک ہی ہے جس کے باعث درآمدات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ برآمدات کم ہوئی ہیں۔ آنے والے عرصے میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔ چینی سامراج اس وقت اپنی زائد پیداوار کی کھپت کے لیے دنیا بھر میں منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات کے باعث چین کی سب سے بڑی منڈی امریکہ کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں اس لیے وہ زیادہ شدت سے اپنی اشیا کو دیگر منڈیوں میں کھپانے کی منصوبہ بندی کرے گا۔ عالمی سطح پر مالیاتی اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اور اپنے بینکوں کا دائرہ اثر وسیع کرنے کے لیے بھی وہ اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان سے پہلے ہی چینی کرنسی یوان میں تجارت کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔ آنے والے عرصے میں اس قسم کے مزید اقدامات نظر آئیں گے جس سے چین یہاں کی معیشت کو تاراج کرنے کی طرف جائے گا۔ اس سے پاکستان کی معیشت کے دیر پا استحکام کو خطرات لاحق ہیں جس کا اظہار آئی ایم ایف اور دیگر سامراجی ادارے کر چکے ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ ان کی وصولیاں مکمل طور پر ڈوب سکتی ہیں۔ پاکستان کے پاس یہی معاشی خودکشی کا رستہ ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آقاؤں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مزید قرضے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ لیکن اس پر امریکہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وہ اتنی آسانی سے بلیک میل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضے کے ذریعے امریکی ڈالر پاکستان کے رستے چین کا رخ کریں گے جو درحقیقت امریکہ کے دشمن کی مدد ہے۔ایسے میں آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب چین بھی پاکستانی معیشت کو مکمل طور پر بیل آؤٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر آئی ایم ایف سے صاف انکار ہوجاتا ہے تو چین کے لیے 12ارب ڈالر کا قرضہ جاری کرنا فوری طور پر مشکل ہو گا۔ لیکن مسئلہ اس سے آگے کا ہے۔ اگر پاکستان مکمل طور چین کے سامراجی بھنور میں پھنستا ہے تو پوری دنیا میں موجود اس کا مالیاتی نیٹ ورک سے تعلق خراب ہو جائے گا اور اس پر مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں بڑے پیمانے پر کمی آئے گی بلکہ ملکی کرنسی بھی شدید دباؤ میں چلی جائے گی۔ آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کا مطلب روایتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے بھی اس کو اپروول سمجھتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے دیتے ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف کا انکار سب جانب سے انکار سمجھا جائے گا اور اس کا اعلان ہوتے ہی ملکی کرنسی بد ترین گراوٹ کا شکار ہو گی۔ دیگر پابندیاں اس کے علاوہ ہیں۔ چین کے حصار میں مکمل طور پر جانے سے امریکہ کے ساتھ کھلی سفارتی جنگ کا بھی آغاز ہو گا جو معیشت کے لیے شدید نقصان کا باعث بنے گا۔

چین کی معیشت خود ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہی ہے ایسے میں پاکستان کا مکمل طو رپر چینی سامراج پر انحصار خود اس کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ اس مثال کو دیکھتے ہوئے بہت سے ملک بھی چین کی جانب مستقل انحصار کی جانب بڑھ سکتے ہیں اور امریکہ سے ناطہ توڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ وینزویلا اور زمبابوے تو پہلے ہی ایسے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن چین امریکہ سے اتنا بڑا محاذ کھولنے کی پوزیشن میں نہیں۔ معاشی سے زیادہ یہ سٹرٹیجک اہمیت کا معاملہ ہے اور امریکہ کو دونوں میں چین پر ابھی بھی واضح برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کے چین کے خلاف حالیہ اقدامات کے باعث چینی حکمران پہلے ہی انتہائی محتاط ہو چکے ہیں اور مزید حملوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں پاکستان کا بحران ان کے لیے بے وقت کی راگنی بن سکتا ہے ۔

اس کا درمیانہ رستہ چین اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس میں قرضہ دینے کی پالیسیوں پر اتفاق رائے حاصل کیا جائے۔ لیکن یہ رستہ اپنانا دونوں کے لیے مشکل ہے۔ ان مذاکرات سے قبل چین کو واضح کرنا پڑے گا کہ اس نے پاکستان کو قرضے کتنی شرح سود پر اور کن شرائط پر دیے ہیں۔ یہ راز عوامی سطح پر غم و غصے کو جنم دینے کے علاوہ عالمی منڈی میں بھی چین کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ چین کے معاشی بحران کی شدت کے بارے میں پہلے ہی بہت سے خدشات موجود ہیں جنہیں چین کی حکومت چھپانے کی کوشش کرتی ہے لیکن ان معاہدوں کے منظر عام پر آنے سے بہت سی ایسی تفصیلات معلوم ہو سکتی ہیں جو چین کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی چین کی عالمی مالیاتی منڈی میں طاقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کر کے اسے اہمیت نہیں دینا چاہتا۔ اس لیے ان مذاکرات میں دشواری پیش آئے گی۔ لیکن یہ تمام تر صورتحال پاکستان کی معیشت کے لیے کئی نئی مشکلات کا باعث بنے گی۔

سعودی عرب سے ملنے والی رقم کی شرائط بھی پہلے کی نسبت زیادہ سخت ہوں گی اور ایران کیخلاف اس کی سامراجی جنگ کا حصہ بننے کا مطالبہ زور پکڑے گا۔ پہلے ہی یمن میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا جا چکا ہے جس کا سرکاری طورپر تو انکار کر دیا گیا۔ لیکن اس کے علاوہ کچھ فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کا اقرار کیا گیا۔ آنے والے عرصے میں یہ لڑائی بھی شدت اختیار کرے گی اور ادھار تیل کی وصولی کی قیمت یہاں کے عوام کے خون کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہولی کھیل کر چکائی جائے گی۔

اس دوران نجکاری کے بڑے حملے بھی کیے جائیں گے، چینی کمپنیوں کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ بھی ملے گی اور یہاں ان کا کاروبار تیزی سے وسعت اختیار کرے گا۔ سی پیک کی آڑ میں ہر کاروبار چین کے زیر تسلط آتا جائے گا اور چینی مصنوعات کا سیلاب مقامی صنعت کو بہا لے جائے گا۔ معیشت کا توازن قائم کرنے کی جتنی کوشش کی جائے گی اتنا ہی وہ خراب ہو گا اور روپے کی قدر میں تیزی ترین گراوٹ نظر آئے گی۔ اس تمام بحران کا بوجھ محنت کشوں کے کندھوں پر ڈالا جائے گا اور غربت اور بیروزگاری کے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔ اس دوران لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہو گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ حکمران طبقے کا ہر حصہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے بیتاب ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا فرق ختم ہو جائے گا اور زیادہ بولی لگانے والا اور زیادہ مالدار آسامی بڑا حصہ حاصل کرے گا۔ حکمرانوں کی اسی لوٹ مار کی لڑائی کا اظہار سیاست اور ریاست کے بحران میں بھی ہوگا اور غلیظ سیاست کے تمام ریکارڈ ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔

ریاست کا بحران

سیاسی اور معاشی بحران کے اثرات ناگزیر طور پر ریاست پر مرتب ہو رہے ہیں۔چین اور امریکہ کی سامراجی لڑائی نے پاکستان کی ریاست کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ امریکہ نواز دھڑا لبرل ازم کے نظریات سے وابستہ ہے اور کسی بھی طور پر چینی سامراج کی اتنی بڑی مداخلت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن دنیا بھر میں امریکی سامراج کے کمزور ہوتے ہوئے کردار کے باعث وہ چینی سامراج کو ہچکچاہٹ کے ساتھ قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہے اور اس سے التجائی نظروں سے دیکھ بھی رہا ہے۔ دوسری جانب چین نواز دھڑے کے ذاتی مفادات، کاروبار اور جائیدادیں امریکہ اور اسی لبرل آرڈر سے منسلک مغربی ممالک میں موجود ہیں اس لیے وہ مکمل طور پر امریکہ کی ناراضگی کو بھی مول نہیں لے سکتا ۔ گزشتہ عرصے میں امریکہ کی بجائے چین سے اسلحے کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان چینی اسلحے کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار ہے اور اب اسلحے کی کل برآمدات کا 70فیصد چین سے درآمد کر رہا ہے۔ سی پیک کی آڑ میں دس ارب ڈالر کے اسلحے کی خریداری کا بھی معاہدہ ہوا ہے جس کا زیادہ ذکر سننے کو نہیں ملتا۔ اس دوران ملنے والی کمیشنوں اور کک بیکس کا اندازہ لگایا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ یہ ڈیل کرنے والے کیوں چین کے گن گاتے ہیں۔ چین سے ملنے والے کمیشنوں کا حجم بھی امریکہ کی نسبت زیادہ ہوتا ہے جبکہ چین کم دام میں زیادہ اسلحہ بھی فروخت کرتا ہے۔ گوکہ اس کا معیار امریکی اسلحے کی نسبت انتہائی کم تر ہوتا ہے۔ لیکن یہاں معیار سے کس کو سروکار ہے۔

اسی طرح افغانستان میں امریکی سامراج کی پسپائی پاکستانی ریاست کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہے۔ پاکستان پر ابھی بھی حقانی نیٹ ورک سمیت طالبان کے مختلف گروپوں کی حمایت کا الزام ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری امریکہ پاکستان پر ڈالتا ہے۔ اسی لیے افغانستان کے دروازے پاکستان کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ہندوستان کی سامراجی اجارہ داری کو فروغ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی افغانستان سے ہونے والی تجارت میں بھی بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے اور پاکستان کی سامراجی مداخلت بھی کمزور ہوئی ہے۔ اس کمزوری کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان طالبان اور دیگر قوتوں پر انحصار میں اضافہ کرے اورافغانستان میں امریکہ کی مخالف قوتوں چین، روس اور ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے۔ اس سلسلے میں الیکشنوں سے ایک ہفتہ قبل اسلام آباد میں میٹنگ بھی بلائی گئی جس میں روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں بظاہر افغانستان میں داعش کے ابھرتے ہوئے خطرے پر گفتگو کی گئی۔ لیکن آنے والے دنوں میں یہ گٹھ جوڑ زیادہ عملی شکل میں نظر آئے گا۔ خاص طور پر چند ماہ بعد افغانستان میں ہونے والے عام انتخابات اور نئی حکومت کی تشکیل میں یہ لڑائی منظر عام پر آئے گی۔ عمران خان جسے عالمی میڈیا میں طالبان خان بھی کہا جاتا ہے اس حوالے سے کسی معاہدے کے لیے کارآمد ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے مابین پہلے ہی براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ لیکن کوئی بھی معاہدہ دیر پا نہیں ہو گا اور دوبارہ نئی لڑائی کی بنیاد بنے گا جو پہلے سے زیادہ وسیع اور خونریز ہو گی۔ نواز شریف نے بھی2013ء میں آتے ہی سب سے پہلے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ لیکن پھر کچھ عرصے بعد ان کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اسی کا اظہار ڈان لیکس میں بھی ہوا جو اس کی معزولی کا باعث بھی بنے۔عمران خان کا رستہ بھی زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔ لیکن اب یہ عمل زیادہ بڑے پیمانے پر دہرایا جائے گا اور دونوں فریقین کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔

اس وقت بہت سے امریکی تجزیہ نگار ٹرمپ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا خیال ذہن سے نکال دے ورنہ یہ پورا خطہ امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ان کے خیال میں امریکی فوجوں کی موجودگی افغانستان میں ضروری ہے اور خطے میں چین اور رو س کی پیش رفت کو روکنے کے لیے اہم ہے۔ امریکہ نے یہ جنگ ہندوستان کے ذمے ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن ہندوستان نے افغانستان میں فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور صرف اقتصادی تعاون پر ہی اکتفا کیا تھا۔ دوسری جانب ہندوستان خود بھی چین سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کا حجم 80ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہے جو پاکستان کے چین کے ساتھ14ارب ڈالرکی باہمی تجارت کے حجم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ہندوستان چین کے ساتھ مزید منصوبوں کے آغاز کی بھی خواہش رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی خوفزدہ ہے اور اسی لیے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ لیکن ماضی میں جس طرح پاکستانی ریاست امریکہ کی گماشتگی کرتی رہی ہے وہ کردار ہندوستان کے لیے ادا کرنا ناممکن ہے۔

ایسے میں امریکہ اور چین دونوں کی یہ خواہش بھی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں بہتری آئے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ حاصل ہو۔ اس تجارت کے فروغ سے چین کو سی پیک کو پھیلانے کا موقع ملے گا اور خطے میں نہ صرف اس کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کی اشیا کے لیے منڈی بھی وسعت اختیار کرے گی۔ دوسری طرف امریکہ پاکستان کو چین سے دور کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہندوستان اور جنوبی ایشیا کی منڈی کو سی پیک کا متبادل بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ چین سے قریبی تعلق استوار کرنے والے ریاستی دھڑے کو بھی کمزور کرنا چاہتا ہے جس کے لیے ہندوستان سے بہتر تعلقات ایک اہم ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ نواز شریف کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے اور اب امریکی سامراج بھی اسی جانب دیکھ رہا ہے۔ نواز شریف کی اس خواہش کی بنیادیں پاکستان کے سرمایہ دار طبقے کے اس حصے میں ہیں جو ہندوستان کے ساتھ تجارت کے ذریعے منافعوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ سستے خام مال کا حصول اور اشیا کی کھپت کے لیے وسیع منڈی کی دستیابی یقیناًان کے منہ میں رال ٹپکاتی ہیں۔ لیکن دوسری جانب وہ سرمایہ دار بھی موجود ہیں جو اس تجارت سے نقصان اٹھائیں گے اور انہیں ہندوستان کی صنعتوں کا مقامی منڈی میں بھی براہ راست مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس کی واضح مخالفت بھی نظر آتی ہے۔

اس وقت پاکستان کی فوج بھی معیشت کے اہم حصوں پر قابض ہے اور کارن فلیکس اور کھاد بنانے سے لے کر ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تعمیرات کے شعبے سے براہ راست وابستہ ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تجارت کے معاملے پر بھی اس سرمایہ دار ادارے میں بھی ایسے ہی اختلافات پائے جاتے ہیں جن کا اظہار مختلف دھڑوں کی شکلوں میں نظر آتا ہے۔ لیکن فوج کے ادارے کی بنیادہندوستان دشمنی پر رکھی گئی ہے اس لیے اس کو بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے جس کے باعث دشمنی کا ناٹک بھی زور و شور سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ لیکن آج صورتحال ماضی کی نسبت بہت زیادہ تبدیل ہو چکی ہے۔ گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقے کو سی پیک کے دباؤ کے تحت قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جار ہی ہے جو درحقیقت مسئلہ کشمیر کے مؤقف سے پاکستانی ریاست کی پسپائی ہے۔ اسی طرح جہادی تنظیموں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی دنیا کے سامنے کھل چکا ہے اور اس دفعہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی تحریک میں بھی یہ کارآمد نہیں ہو سکا اور وہاں کی عوامی تحریک نے اسے رد کیا ہے۔یہ تمام عمل پاکستانی ریاست کی بنیادوں پر ضربیں لگا رہا ہے جس میں آنے والے دنوں میں شدت آئے گی۔ سعودی عرب اور ایران کی سامراجی جنگ بھی ریاست کے مختلف دھڑوں کے تضادات میں شدت کا باعث بن رہی ہیں اور دونوں جانب سے آنے والا پیسہ ان دراڑوں کو شگاف میں تبدیل کر رہا ہے۔

آنے والے عرصے میں ریاست کی بنیادیں مزید کھوکھلی ہونے کی جانب بڑھیں گی۔ کسی بھی ریاستی ادارے پر عوام کا اعتماد پہلے ہی موجود نہیں رہا اور اس وقت ریاست ہوا میں معلق ہو چکی ہے۔ میڈیا پر نظریہ پاکستان کی گردان کرنے سے ان بنیادوں کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے مضبوط معاشی و سماجی بنیادیں درکار ہیں جو موجودہ حالات میں کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ نجکاری کی پالیسی اس ریاست کی گرفت کو سماج پر مزیدکمزور کرنے کا باعث بنے گی اور اس ریاست کے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کرے گا۔ یہ انتہائی تکلیف دہ عمل پورے سماج کو اذیت میں مبتلا کرے گا اور ہر شعبے سے دیمک زدہ اداروں کے گرنے کی آوازیں سنائی دیں گی۔ مقداری طور پر جاری یہ عمل کسی بڑے واقعے کی صورت میں معیاری جست لگائے گا اور اس عمل کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچائے گا۔

عوامی بغاوت

پاکستان کی موجودہ صورتحال وسیع عوامی تحریکوں کے لیے انتہائی زرخیز ہے۔پشتون تحفظ تحریک مستقبل کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔ آئندہ عرصے میں اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر تحریکیں ابھریں گی۔ سب سے مضبوط تحریک محنت کش طبقے کی ہوگی جو نجکاری، بیروزگاری اور مہنگائی کے حملوں کے خلاف ابھرے گی۔ پہلے ہی ان حملوں کے خلاف بکھری ہوئی تحریکیں موجود ہیں لیکن اب ان کا حجم بڑھتا چلا جائے گا۔ اس صورتحال کا سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ان تحریکوں کی قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ کوئی بھی ابھرنے والی تحریک ان رائج الوقت پارٹیوں کے خلاف ہی ابھرے گی۔ اب اس نفرت کا مرکز عمران خان اور اس کی پارٹی ہو گی اور اسے عوام کے غم و غصے سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ پہلے بھی تحریکوں کو زائل کرنے کے لیے بم دھماکوں، دہشت گردی اور دائیں بازو کے انتہائی حساس موضوعات کو استعمال کیا گیا ہے اور آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اب ان حملوں کے خلاف مزاحمت بھی تیار ہو چکی ہے اور ان حملوں کے حقیقی مقاصد بھی عوام پر عیاں ہو چکے ہیں۔الیکشنوں سے قبل بھی خود کش حملوں کوانہی مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا لیکن اس دفعہ ہر کسی پر واضح تھا کہ یہ حملے کون اور کیوں کروا رہا ہے۔ آنے والے عرصے میں یہ ہتھکنڈے قابل عمل نہیں رہیں گے۔ سیاسی پارٹیوں کی غداریاں بھی اتنی عام ہو چکی ہیں کہ ان سے دھوکہ کھانے کے لیے کسی ٹریڈ یونین لیڈر جیسی اعلیٰ سطح کی منافقت کی ضرورت ہے۔ عام شخص ان سے دھوکہ نہیں کھا سکتا۔

آنے والے عرصے میں معاشی حملوں کے خلاف ابھرنے والی تحریکیں سیاسی میدان میں بھی قدم رکھیں گی اور رائج الوقت تمام سیاست کو چیلنج کرنے کی جانب بڑھیں گی۔ اس دوران دائیں بازو کی تحریکیں بھی نظر آ سکتی ہیں جو سماجی انتشار اور افر اتفری پر بنیاد رکھتے ہوئے سماج کے پسماندہ حصوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہیں۔ لیکن کسی بھی واضح متبادل اور معاشی پروگرام کے بغیر دائیں بازو کی تحریک کو بھی جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ بہت سے بکاؤ دانشوروں نے نواز شریف سے امیدیں باندھنے کی کوشش کی تھی جس کے پاس کچھ بھی نیا نہیں۔ حتیٰ کہ اس کا چہرہ بھی سیاست میں چالیس سال پرانا ہے اور اب وہ اپنی بیٹی کو متبادل کے طور پر متعارف کروا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال نئے پروگرام اور نئے نعروں کا مطالبہ کر رہی ہے جو نواز شریف سمیت کسی بھی سیاستدان کے پاس نہیں۔ پرانے نعروں سے عوام کے کسی بھی حصے کو اب متوجہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس وقت نجکاری کی بجائے نیشنلائزیشن کے پروگرام کا نعرہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف اور چینی سامراجی کی غلامی کا طوق اتار دینے کی ضرورت ہے۔ بکاؤ عدالتوں کے ذریعے احتساب کی نہیں بلکہ عوامی عدالتوں کے ذریعے تمام سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے اثاثے ضبط کرنے کی ضرورت ہے۔معیشت کے کلیدی شعبے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دینے کی ضرورت ہے۔ دولت مند افراد سے ان کی دولت اور جائیدادیں چھیننے کی ضرورت ہے۔ نجی صنعتوں اور جاگیروں پر مزدوروں اور کسانوں کے قبضوں کی ضرورت ہے۔ بلند و بالا اور عالیشان عمارتوں میں بے گھر افراد کو رہائش دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان کا سماج اسی انقلاب کے نعرے کے لیے تڑپ رہا ہے لیکن اسے یہ نعرہ دینے والا کوئی نہیں۔

کسی بھی سماج میں یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی اور اس سماج کا پھٹنا ناگزیر ہے۔ سماجوں کی تاریخ کا سائنسی بنیادوں پر مطالعہ یہی بتاتا ہے۔ پاکستان کا سماج بھی اسی جانب بڑھ رہا ہے جہاں موجودہ متروک شدہ سیاست، معیشت اور ریاستی ادارے زمین بوس ہوں گے اور ان کی جگہ لینے کے لیے نئی سیاست، معیشت اور ریاست ابھر کر سامنے آئے گی۔ محنت کش طبقہ کتابوں سے نہیں سیکھتا بلکہ اسے زندگی کے تجربات اسی نتیجے پر پہنچاتے ہیں جو سائنسی تجزئیے سے انقلابی اخذ کرتے ہیں۔ آج محنت کش طبقے کے تجربات اسے انقلاب کا رستہ اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ اس سماج کی ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے کہ ہر پرانے سماجی رشتے اور بندھن کو اکھاڑ کر اس کی جگہ سماج کی از سر نو ترتیب کی جائے ۔ اسی کو انقلاب کہتے ہیں۔آج پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے اور پوری دنیا کو جنگوں، خانہ جنگیوں اور خونریزی میں دھکیل رہا ہے۔ معاشی بحران بڑھتے جا رہے ہیں اور سامراجی طاقتیں برسر پیکار ہیں۔ایسے میں پاکستان کا معاشی و سیاسی و ریاستی بحران بھی حل ہونے کی بجائے مزید بگڑے گا اور عوام کو مزید اذیت میں مبتلا کرے گا۔ اس سے نجات کا واحد حل ایک سوشلسٹ انقلاب ہے جو اس گلے سڑے نظام کا خاتمہ کر کے ایک تازہ دم اور خوشگوار نئے نظام آغاز کر سکے اور محنت کشوں کو دکھوں اور تکلیفوں سے نجات دلا کر ان کا دامن خوشیوں سے بھر دے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh