|تحریر:آفتاب اشرف|

ملک میں عام انتخابات کا میدان سج چکا ہے۔حکمران طبقے اور ریاستی اشرافیہ کے مختلف دھڑے سیاسی افق پر باہم بر سرپیکار نظر آتے ہیں لیکن اس لڑائی کا مقصد عوام کی فلاح بہبود نہیں بلکہ آنے والے عرصے میں ہونے والی لوٹ مار میں زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنا ہے۔جیسے جیسے 25جولائی کا دن قریب آ رہا ہے ، لوٹ مار میں حصے داری کے جھگڑوں پر ہونے والی حکمران اشرافیہ کی باہم لڑائی غلیظ سے غلیظ تر ہوتی جا رہی ہے۔ کسی بھی قسم کے نظریاتی اختلاف کی عدم موجودگی میں یہ لڑائی بیہودہ قسم کے ذاتی حملوں،کیچڑ اچھالنے اور گھٹیا الزام تراشیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔الیکٹرانک میڈیا پر دن رات یہی گندگی دکھائی جاتی ہے۔صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ٹی وی آن کرنے پر ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے گٹر پر سے ڈھکن ہٹا دیا ہو۔یہی وجہ ہے کہ عوام کی وسیع تر پرتیں اور خصوصاً محنت کش طبقہ اس سارے کھیل سے لا تعلق ہے۔اسے بخوبی پتہ ہے کہ اس بیہودہ دنگل کے تمام کھلاڑی اس کے دشمن ہیں اور ان انتخابات کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو ،اس کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آنے والی۔یہ وہ سبق ہے جو اس نے کسی کتاب سے نہیں بلکہ دہائیوں کے عملی تجربے سے سیکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے برپا طوفان بد تمیزی جتنا تیز ہوتا جا رہا ہے ،گلی محلوں میں اس حوالے سے اتنا ہی سناٹا ہے۔یہ خاموشی غریب آدمی کا ووٹ ہے ،جو وہ اس ریاست،اس کے حکمران طبقے اور اس کے سیاسی ومعاشی نظام کے خلاف ڈال چکا ہے۔

پاکستان میں یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی معیشت پر ایک نئے بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔امریکہ اور چین کی شدید ہوتی تجارتی جنگ اب یورپی یونین،کینیڈا اور میکسیکو کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اس سے پہلے ہی سے کمزور عالمی معیشت کی چولیں ہل رہی ہیں ۔دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں پھیلا اضطراب اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے۔ایک ایسی صورتحال میں جب عالمی معیشت کے تقریباً تمام اعشاریے ہی کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں تو بھلا پاکستان جیسی پسماندہ معیشت کی صورتحال بہتر کیسے ہو سکتی ہے۔رہی سہی کسر ریاستی نااہلی ،حکمران اشرافیہ کی باہم لڑائی اور سیاسی عدم استحکام نے پوری کر دی ہے۔آج پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اس بحران کا آغاز ہو چکا ہے۔اس کا سب سے واضح اظہار روپے کی قدر میں ہونے والی تیز گراوٹ سے ہوتا ہے جس کا امریکی ڈالر کے مقابلے میں انٹر بینک ایکسچینج ریٹ 30 جون 2017 ء کو 104.87 سے بڑھ کر یکم جولائی 2018ء کو 121.6ہو چکا ہے۔اوپن مارکیٹ میں تو ایک ڈالر 125روپے کے برابر ہو گیا ہے۔اس سے افراط زر میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور پورے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ماضی میں ن لیگ کی حکومت نے ایک لمبے عرصے تک اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے ذریعے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر بر قرار رکھا تھا۔اس مقصد کے لئے اسٹیٹ بینک اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کا استعمال کرتا تھا اور جیسے ہی روپے کی قدر گرنے لگتی تھی اپنے ذ خائر سے ڈالر منی مارکیٹ میں پھینک کر بدلے میں روپیہ خریدنا شروع کر دیتا تھا تا کہ روپے کی مانگ میں اضافہ کر کے اس کی قدر کو بر قرار رکھا جا سکے۔یوں حکومتی ایما پر اسٹیٹ بینک نے ایک لمبے عرصے تک روپے کو اس کی حقیقی قدر سے کم از کم بیس فیصد زیادہ پر قائم رکھا۔حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک سے لوٹی گئی دولت کو بہتر شرح تبادلہ پر بیرون ملک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ درمیانے طبقے میں اپنی مقبولیت بڑھانا بھی تھا جو کہ (مصنوعی طور پر) مضبوط روپے کے نتیجے میں ہونے والی سستی درآمدات کا ایک بڑا استعمال کنندہ ہے۔لیکن ہم نے کافی عرصے پہلے ہی یہ نشان دہی کی تھی کہ یہ طریقہ کار عارضی ہے اور جلد یا بدیر روپے کو ملکی معیشت سے میل کھاتی اس کی اصلی قدر پر آنا پڑے گااور اب یہی ہو رہا ہے۔کئی لوگ روپے کی قدر میں گراوٹ کو ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔یہ بالکل غلط ہے۔اگر حکومت قائم بھی رہتی تو روپے کو گرنا ہی تھاکیونکہ اس کی قدر کو مصنوعی طور پر قائم رکھنے والا طریقہ کار اپنی منطقی حدود کو پہنچ چکا تھا۔اس کی بنیادی وجہ بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں اور ان کے مارک اپ کی ادائیگی اوربڑھتے ہوتے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بدولت ا سٹیٹ بینک کے فارن ایکسچینج ریزرو پر پڑنے والا بے تحاشہ دباؤ ہے جو کہ اکتوبر 2016 ء میں 19.46 ارب ڈالر سے بتدریج کم ہو تے ہوئے اب 9.66 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔یہ ملکی ضرورت کے لئے درکار دو مہینے کی درآمدات کے لئے بھی ناکافی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ موڈیز جیسی عالمی مالیاتی ایجنسی نے پاکستان کی معاشی ریٹنگ منفی کر دی ہے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے موجودہ ذخائر کا بھی ایک بڑا حصہ چینی بنکوں،اے ڈی بی،ورلڈ بینک سے حاصل شدہ قرضوں اور عالمی منڈی میں نہایت بلند شرح سود پر فلوٹ کئے گئے حکومتی بانڈز سے حاصل ہونے والی رقوم پر مشتمل ہے۔ایسی کیفیت میں اسٹیٹ بینک کے پاس روپے کو منڈی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھااور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کمزور پڑتی ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر کی دگرگوں حالت کے پیش نظر مستقبل قریب میں روپے کی قدر میں مزید کمی متوقع ہے جو کہ مہنگائی کے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے طوفان کا سبب بنے گی جس کے ابتدائی آثار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حال ہی میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔

ملکی معیشت میں خوفناک بگاڑ کا عندیہ دینے والا ایک اور اعشاریہ بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جو کہ مالی سال 18-2017ء کے پہلے گیارہ مہینوں میں تقریباً 16ارب ڈالرہو چکا تھا اور ماہرین کے مطابق جون کے اختتام تک اس کے 17ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔مالی سال 17-2016ء میں یہ خسارہ 12.62ارب ڈالر جبکہ مالی سال 16-2015ء میں یہ محض 2.7ارب ڈالر تھا۔بڑھتے ہو ئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی ایک بڑی وجہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے جو مالی سال 18-2017ء کے اختتام تک 37.7ارب ڈالرہو چکا ہے۔یہی تجارتی خسارہ مالی سال 15-2014ء میں 22ارب ڈالر تھا۔تجارتی خسارے کے بڑھنے کی بڑی وجوہات میں سی پیک منصوبوں کے لئے بڑے پیمانے پر مشینری اور دیگر تعمیراتی اشیا کی درآمد،تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے (ابھی حال ہی تک) پروڈکشن میں کٹوتی اور ایران اوروینزویلا پر عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ،(خصوصاً چین کے ساتھ ہونے والے)آزاد تجارتی معاہدوں کی بدولت درآمدات میں اضافہ اور ماضی قریب تک مصنوعی طور پر برقرار رکھی گئی روپے کی قدر کی بدولت درمیانے طبقے کے استعمال کے لئے اشیائے صرف(مثلاً سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں)کی درآمد میں اضافہ شامل ہیں۔اس کے برعکس پاکستان کی برآمدات میں پچھلے کئی سالوں سے کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیابلکہ مالی سال 17-2016ء میں تو برآمدات میں 1.63فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔اس کی سب سے بنیادی وجہ تو عالمی معاشی سست روی کی بدولت عالمی سطح پر سکڑتی ہوئی قوت خرید ہے۔لیکن عالمی منڈی کی یہ کیفیت مختلف ممالک کے سرمایہ دار طبقے کے مابین منڈی میں زیادہ سے زیادہ حصے داری کے لئے نہایت سخت مقابلے بازی کو بھی جنم دیتی ہے اور ایسی صورتحال میں پاکستان کی تکنیکی طور پر پسماندہ بورژوازی کا اپنے مدمقابلوں سے پچھڑ جانا لازمی تھا۔رہی سہی کسر زبوں حال انفراسٹرکچر اور روپے کی مصنوعی طور پر برقرار رکھی گئی بلند قدر نے پوری کر دی جس کی بدولت پاکستانی صنعتی پیداوار اپنے مد مقابل ممالک کی صنعتی اشیا سے مہنگی ہو کر مقابلے سے باہر ہو گئی۔پچھلے ایک سال میں روپے کی قدر میں ہونے والی تیز گراوٹ اور حکومت کی جانب سے برآمدی پیداوار کرنے والی صنعتوں کے لیے دیے گئے 180ارب روپے کے امدادی پیکج کی بدولت مالی سال 18-2017ء میں برآمدات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن ایک تو یہ بہتری بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے مقابلے میں نہایت ہی ناکافی ہے اور دوسرا اس بہتری سے تمام تر فائدہ برآمدی صنعت کے مالکان کو ہوا ہے جبکہ ان صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی حالت پہلے سے بھی زیادہ مخدوش ہو گئی ہے۔ بہرحال برآمدی سیکٹر کی کمزوری بنیادی طور پر پاکستانی صنعت کی نامیاتی کمزوری کا مسئلہ ہے اور موجودہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے اس کا کوئی حل نہیں ۔ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی بدولت بے قابو ہوتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کسی حد تک کنٹرول میں رکھنے میں سب سے اہم کردار کسی بھی قسم کے حکومتی وریاستی اقدامات یا بیرونی سرمایہ کاری کی بجائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں(خصوصاً محنت کشوں )کی ترسیلات زر کا ہے جو کہ مالی سال 18-2017ء کے پہلے گیارہ مہینوں میں اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین فیصد نمو کے ساتھ 18.03ارب ڈالر رہیں۔ترسیلات زر میں ہونے والی یہ بہتری بھی حکومت کے ٹارگٹ سے کم ہے اور اس میں کمی کا رجحان بھی متوقع ہے جیسا کہ مئی کے مہینے میں دیکھا گیا جب گزشتہ سال اسی مہینے کے مقابلے میں ترسیلات زر میں پانچ فیصد کمی ہوئی۔مئی 2017ء میں 1.86ارب ڈالر بیرون ملک محنت کشوں نے بھیجے تھے جبکہ مئی 2018ء میں 1.77ارب ڈالر بھیجے گئے۔ یہ تمام صورتحال ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر رہی ہے جبکہ قرضوں کا بوجھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

مالی سال 18-2017ء کے اختتام تک ملک کا کل بیرونی قرضہ(حکومتی وغیر حکومتی بیرونی قرضہ جات کو ملا کر)93ارب ڈالر ہو چکا ہے جس میں سے 76ارب ڈالر سے زائد حکومتی بیرونی قرضہ ہے۔ مالی سال 13-2012ء کے اختتام پر جب نواز حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا ،اس وقت ملک کا کل بیرونی قرضہ 61ارب ڈالر تھا جس میں سے 53ارب ڈالر حکومتی بیرونی قرضہ جات تھے۔واضح رہے کہ پاکستان میں غیر حکومتی بیرونی قرضوں کی ایک بڑی تعداد میں حکومت پاکستان ہی حتمی ضامن ہے اور اگر بیرونی قرضہ لینے والا فرد یا کمپنی ڈیفالٹ کرتی ہے تو وہ قرضہ حکومت پاکستان کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔اپنے پانچ سالہ دور میں ن لیگ حکومت نے 44ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا۔یہ قرضے آئی ایم ایف،ورلڈ بینک،اے ڈی بی،چینی بینکوں،خلیجی ممالک کے مختلف کمرشل بینکوں اور حکومتی بانڈز کے اجرا سے حاصل کیے گئے۔ان قرضوں کا تقریباً نصف میچور ہونے والے پچھلے حکومتی بیرونی قرضوں اوران کے سود کی ادائیگی میں صرف کیا گیااور بقیہ حصہ بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے ،اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور نئے منصوبوں،خصوصاً سی پیک پراجیکٹس کی تعمیر کے لئے صرف کیا گیا۔یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ سی پیک منصوبوں کے لیے چینی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں کا ایک قابل ذکر حصہ فرنٹل آرگنائیزیشنز کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے لہٰذا اس کا شمار غیر حکومتی بیرونی قرضے میں کیا جاتا ہے حالانکہ یہ قرضے حکومت کی بھرپور رضامندی کے ساتھ ہی حاصل کیے گئے ہیں اور حکومت ہی ان کی حتمی ضامن ہے۔مستقبل میں بیرونی قرضوں کا حجم مزید تیزی سے بڑھے گا کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے ،زرمبادلہ کے ذخائر تعمیر کرنے اور ماضی میں لیے گئے قرضوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ اب حکومت کو پچھلے دو سے تین سالوں میں نہایت بلند شرح سود پر لیے گئے نئے کمرشل قرضوں کی واپسی، نئے اجرا شدہ حکومتی بانڈز پر سود کی ادائیگی اور سی پیک پراجیکٹس کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کے لئے بھی زرمبادلہ درکار ہو گا۔

مالی سال 18-2017ء میں ملکی معیشت کے بیرونی شعبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 24ارب ڈالر کی ضرورت پڑی جبکہ مالی سال 13-2012ء میں یہ رقم 17ارب ڈالر تھی۔آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں یہ رقم 27ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی اور مالی سال 23-2022ء میں یہ رقم 45ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔اس رقم کا ایک بڑا حصہ مزید بیرونی قرضوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جائے گاجس کے لئے چینی اور دیگر کمرشل بینکوں کے مہنگے قرضوں ساتھ ساتھ ورلڈ بینک،اے ڈی بی اور خصوصاً آئی ایم ایف سے بھی نہایت سخت اور عوام دشمن شرائط پر نئے قرضے حاصل کرنے پڑیں گے۔آئی یم ایف کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 104ارب ڈالرتک پہنچ جائے گا جبکہ مالی سال 23-2022ء کے اختتام تک یہ 144ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہو گا۔اسی طرح حکومت کے اندرونی قرضوں(جو ملکی بینکوں سے روپے میں حاصل کیا جاتا ہے)میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔2013ء میں جب ن لیگ نے اقتدار سنبھالا تھا تو حکومت کا اندرونی قرضہ 9500ارب روپے تھا جو کہ دسمبر 2017ء تک بڑھ کر 15,437ارب روپے ہو چکا تھا۔ بجلی کے شعبے سے متعلقہ ایک ہزار ارب روپے کا سرکلر ڈیبٹ اور مختلف سرکاری اداروں کے ذمے واجب الادا سینکڑوں ارب روپے کے قرضے ابھی اس کے علاوہ ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری اور نجی بینکوں سے سب سے زیادہ قرضہ نجی شعبہ نہیں بلکہ حکومت پاکستان اٹھا رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو مستقبل میں بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا اور اسی لئے مستقبل میں حکومت کے اندرونی قرضوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔حکومت کے ان اندرونی قرضوں کے باعث صنعتوں اور مختلف کاروباروں کے لیے بینکوں سے قرضوں کا حصول کم ہوکر منفی میں جا چکا ہے جو بیمار معیشت کی عکاسی کرتا ہے۔ 

ن لیگ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے قبل مالی سال 13-2012ء میں ٹیکسوں کی مد میں کل 1900ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے۔ن لیگ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ساتھ ہی ملکی اور بیرونی سرمایہ دار طبقے کی تجوریاں بھرنے اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کو پورا کرنے کی خاطر محنت کش عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کر دی۔عوام پر نت نئے قسم کے ٹیکس مسلط کیے گئے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مالی سال 18-2017ء میں ایف بی آر نے 3700ارب روپے ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے کیے جبکہ ٹارگٹ اس سے بھی زیادہ (چار ہزار ارب روپے) کا تھا۔یعنی کہ اپنے دور حکومت کے پانچ سالوں میں ن لیگ نے عوام پر ٹیکسوں کے بوجھ میں 1800ارب روپے کا اضافہ کیا۔پاکستان میں کل ٹیکس آمدن کا دو تہائی بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے جس میں سیلز ٹیکس،ریگولیٹری ڈیوٹی،مختلف قسم کے سرچارج اور حکومتی لیوی شامل ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال پیٹرولیم مصنوعات ہیں جن میں صارفین ایک لیٹر پیٹرول پر 22.44روپے اور ایک لیٹر ڈیزل پر36.62 روپے بالواسطہ ٹیکس کی مد میں حکومت کو ادا کر رہے ہیں۔بالواسطہ ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ محنت کش طبقے اور نچلے درمیانے طبقے پر پڑتا ہے اور وہ امیر طبقے کی نسبت اپنی آمدن کا زیادہ بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ 2016ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی دس فیصد غریب ترین آبادی اپنی کل آمدن کا سولہ فیصد جبکہ دس فیصد امیر ترین آبادی اپنی کل آمدن کا دس فیصدبالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتی ہے۔بالواسطہ ٹیکسوں کے بر عکس براہ راست ٹیکس پاکستان کی کل ٹیکس آمدن کا بمشکل ایک تہائی فیصدبناتے ہیں لیکن براہ راست ٹیکس کی مد میں اکٹھا ہونے والی کل رقم کا بھی دو تہائی صرف ود ہولڈنگ ٹیکس سے آتا ہے جس کا نشانہ خاص طور پر بینکوں کے چھوٹے اور درمیانے کھاتہ دار(نچلادرمیانہ اور درمیانہ طبقہ)بنتے ہیں۔باقی کا براہ راست ٹیکس بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتیوں اور درمیانے طبقے کے مختلف حصوں کی جیب سے نکلوایا جا تا ہے۔جہاں ایک طرف محنت کش طبقے اور درمیانے طبقے پر ٹیکسوں کی بھر مار کر دی گئی ہے وہیں دوسری طرف سرمایہ دار طبقے اور بڑے کاروبار کو ٹیکس میں مسلسل چھوٹ دی جا رہی ہے۔ویسے تو غالباً ٹیکس چوری وہ واحد شعبہ ہے جس میں پاکستان کا سرمایہ دار طبقہ ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے لیکن قانونی طور پر بھی حکومت نے سرمایہ دار طبقے کے منافعوں پر ٹیکس کو بتدریج کم کیا ہے۔اس کی ایک واضح مثال کارپوریٹ ٹیکس ہے جسے مالی سال 13-2012ء میں 35فیصد سے بتدریج کم کرتے ہوئے مالی سال 18-2017ء تک 30فیصد کر دیا گیا اور مقتدر حلقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسے مزید کم کرتے ہوئے مالی سال 23-2022ء تک 25فیصد کر دیا جائے گا۔

اب تک کی بحث سے یہ تو واضح ہے کہ پاکستان کی معیشت شدید بحرانوں میں گھرتی جا رہی ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کی قیمت کس طبقے کو چکانی پڑے گی اور مستقبل میں حکمران طبقے کی جانب سے کئے جانے والے معاشی فیصلوں کا نشانہ کون بنے گا؟کسی بھی طبقاتی سماج میں حکمر ان طبقہ معاشی بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقے اور درمیانے طبقے کے کندھوں پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔اس تحریر میں ہم نے ن لیگ حکومت کی معاشی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے جو اس لحاظ سے منطقی ہے کہ پچھلے پانچ سال وہ اقتدار میں تھے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اگر سیاسی افق پر نظر آنے والی کوئی بھی دوسری پارٹی برسراقتدار ہوتی تو صورتحال کچھ مختلف ہوتی۔یہ سیاسی چہروں کا نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا مسئلہ ہے اور اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی اقتدار میں آئے گا،چاہے وہ کسی بھی پارٹی یا پارٹیوں کی نام نہاد منتخب جمہوری حکومت یا پھر ایک فوجی آمریت،وہ یہی کرے گا جو نواز لیگ کی حکومت نے کیا۔ ن لیگ حکومت سے پچھلی منتخب حکومت اور اس سے پہلے موجود فوجی آمریت بھی اپنی عوام دشمنی میں کسی سے کم نہ تھیں۔عام انتخابات کے بعد جو بھی حکومت آئے گی وہ عوام دشمن معاشی فیصلے ہی کرے گی کیونکہ اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے اور کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔روپے کی قدر میں ہونے والی تیز گراوٹ کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے افراط زر پر ہم پہلے ہی بات کر چکے ہیں لیکن یہ عوام پر ہونے والے معاشی حملوں کا صرف ایک پہلو ہے۔اسی طرح آئی ایم ایف سے ملنے والے متوقع قرضے کے ساتھ بھی نہایت سخت شرائط منسلک ہوں گی جن میں پی آئی اے،واپڈا،سٹیل مل،پی ایس او،او جی ڈی سی ایل،ریلوے کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری سر فہرست ہو گی۔اگر حکومت یہ نجکاری کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے جہاں ایک طرف ان اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات نہایت مہنگی ہو کر عام آدمی کی پہنچ سے مکمل طور پرباہر ہو جائیں گی وہیں ناگزیر طور پر ہونے والی ڈاؤن سائزنگ سے پہلے سے موجود شدید بیروزگاری میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا۔ اسی طرح حکومت اندرونی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ لادنے کی کو شش کرے گی۔

اگر حکمرانوں کا بس چلے تو وہ عوام کے سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔اسی طرح سی پیک جیسے سامراجی منصوبوں کے منافعے بھی مقامی حکمران طبقے اور ریاستی اشرافیہ کی بھر پور رضامندی اور حصہ داری کے ساتھ عوام کی ہڈیوں سے ہی نچوڑے جائیں گے۔بیرونی سرمایہ کاری کو منافع خوری کے لئے مزید فری ہینڈ دیا جائے گا اور ساتھ ساتھ انہیں سرمایہ کاری کی ’ترغیب‘ دینے کے لئے ٹیکسوں میں کھلی چھوٹ بھی دی جائے گی۔حکمران طبقے کی جانب سے کیے گئے کسی بھی فیصلے کا ملبہ حتمی طور پر عوام پر ہی گرے گا۔مثلاًبہت سے سنجیدہ بورژوا معیشت دان کہہ رہے ہیں کہ افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لئے اسٹیٹ بینک کو شرح سود مزید بڑھانی چاہیے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے جانے والے اندرونی قرضوں کے مزید مہنگا ہونے کی صورت میں نکلے گا جن کی واپسی کے لئے حکومت پھر عوام پر مزید ٹیکس لگائے گی۔مختلف ممالک اور خصوصاً چین کے ساتھ ہونے والے آزاد تجارت کے معاہدوں سے مقامی صنعت بری طرح برباد ہو رہی ہے۔اس سے صنعتکاروں کو تو کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا کیونکہ ایک تو وہ پہلے ہی اس صنعت سے بے تحاشہ منافع بٹور چکے ہوتے ہیں اور دوسرا انہوں نے سرمایہ کاری کسی بینک(خصوصاًسرکاری بینک)سے قرضہ لے کر کی ہوتی ہے، جس کی واپسی سے وہ اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے بچ جاتے ہیں۔برباد اس سارے چکر میں محنت کش ہی ہوتا ہے جو بیروز گاری کے ہاتھوں جیتے جی مر جاتا ہے۔پاکستان میں سماجی انفراسٹرکچر پہلے ہی شدید ناکافی ہے اور جو ہے وہ بھی نہایت زبوں حال ہے۔مستقبل میں اس پر ہونے والے اخراجات میں مزید کٹوتی کی جائے گی۔اس صورتحال کی تصویر کشی مالی سال 19-2018ء کے بجٹ سے بھی ہوتی ہے۔کل 5260ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں سے 1620ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کئے گئے ہیں،فوجی اخراجات کے لئے 1360ارب روپے(سویلین اخراجات میں شامل فوجی پنشنوں سمیت)مختص کئے گئے اورسول حکومت کے اپنے اخراجات کی مد میں 450ارب رکھے گئے ہیں۔اب پیچھے بچ جانے والے 1830ارب روپے میں سے 1060ارب روپے کی رقم نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کے لئے رکھی گئی ہے جن میں سے ایک بھاری اکثریت کا حقیقی مقصد عوام کی فلاح نہیں بلکہ ٹھیکوں میں اپنا کمیشن وصول کرنا اور لمبا مال بنانا ہوتا ہے۔اسی لئے غریبوں کے لئے ہسپتال نہیں بنتے لیکن بے ہنگم فلائی اوورز کی تعمیر زوروشور سے جاری رہتی ہے۔پیچھے بچ جانے والی رقم سے سول سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنیں بھی دی جانی ہیں، اورسول بیوروکریسی کی عیاشیاں بھی پوری ہونی ہیں۔اس سب کے بعدہسپتالوں،تعلیمی اداروں،صاف پانی کی فراہمی اور سیورج ، ہائیڈل پاور منصوبوں جیسی ’غیر اہم‘ چیزوں کے لئے بچتا ہی کچھ نہیں ہے۔ جب کہ دوسری طرف سرمایہ دار طبقے اور حکمران اشرافیہ کی منافع خوری اور لوٹ کھسوٹ کا یہ عالم ہے کہ ن لیگ حکومت کی جانب سے اس سال اپریل میں متعارف کروائی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اب تک کم از کم 2400ارب روپے سے زائد کا کالا دھن معمولی ٹیکس ادا کرنے کے بعد سفید کروایا گیا ہے۔ محنت کشوں،غریب کسانوں اور عام نوجوانوں پر ڈھائے جانے والے طبقاتی مظالم کو بیان کرنے کے لئے تو ایک ضخیم کتاب بھی کم پڑے گی لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام اور خصوصاً محنت کش طبقہ اس دلدل سے باہر کیسے آ سکتا ہے؟؟

دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ حکمران طبقے کی دھوکہ دہی اور مظالم برداشت کرنے والے عوام کے موڈ میں ایک واضح تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں الیکشن مہم کے سلسلے میں کئی سالوں کے بعد اپنے حلقوں کا دورہ کرنے والے مختلف سیاستدانوں کو عوام کے شدید غیض وغضب کا سامنا کر نا پڑا۔محنت کش کی طبقے کی ہراول پرتیں تو پہلے ہی اپنے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کر چکی تھیں کہ حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والی یہ سب سیاسی پارٹیاں اور ریاستی اشرافیہ ان کی طبقاتی دشمن ہے اور اس جمہوریت بمقابلہ آمریت کی نوٹنکی سے ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آنے والی۔لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہر اول پرتوں کے ساتھ ساتھ محنت کش طبقے کی وسیع تر اکثریت بھی ان نتائج تک پہنچ رہی ہے۔اسی طرح سماج کی دیگر مظلوم پرتوں مثلاً نچلے درمیانے طبقے اور طلبہ میں بھی نظام اور حکمران اشرافیہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔اگرچہ ان پرتوں میں کسی حد تک ہمیں تحریک انصاف اور عمران خان کے متعلق خوش فہمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور لوگ ’کمتر برائی‘ کے نظریے کے تحت عمران خان کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں لیکن حالات کے تھپیڑے مستقبل قریب میں ہی تحریک انصاف اور عمران خان کی حقیقت کو ان پرتوں پر واضح کر دیں گے اور وہ اپنی رہی سہی حمایت بھی کھو بیٹھے گا۔ عوام میں پہلے ہی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف شدید غصہ بھر چکا ہے۔مستقبل میں ان پر ہونے والے تابڑ توڑ معاشی حملے ناگزیر طور پر ایک انقلابی دھماکے کو جنم دینے کا باعث بنیں گے۔ ایسی صورتحال میں محنت کش طبقے کے مفادات کے حقیقی نمائندوں یعنی مارکس وادیوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محنت کشوں ،طلبہ،غریب کسانوں تک مارکسزم کے نظریات لے کر جائیں ،ان کو منظم کریں،ان کی ہر جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تا کہ محنت کش طبقے کی ایک حقیقی لڑاکا سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جاسکے جس کی قیادت میں محنت کش ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرتے ہوئے اس دھرتی سے سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکیں اور اس کی جگہ سوشلسٹ سماج کی روشن اور ہوا دار عمارت تعمیر کریں۔ 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh