|تحریر: جیمز کلبی، ترجمہ: اختر منیر|

امریکی ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسی مشین ہے جسے صدیوں میں اس طرح سے کامل بنایا گیا ہے کہ چاہے جو بھی منتخب ہو بینکوں اور ارب پتیوں کے مفادات کی اچھے سے ترجمانی ہوتی رہے۔ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ، جو طاقت کے اصولوں کے مطابق کھیلنے سے انکار کرتا ہے، امریکہ کا پینتالیسواں صدر کیسے بن گیا؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی جب امریکہ برطانیہ کو پیچھے چھوڑتا ہوا دنیا کی پہلے نمبر کی سرمایہ دارانہ قوت بن کر ابھرا، اس نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اداروں اور معاہدوں کا ایک وسیع نظام بنایا۔ اس میں کلیدی حیثیت کمزور معیشتوں پر ’’آزاد تجارت‘‘ کے نفاذ کی تھی جس کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی مصنوعات کی بھرمار کرنا تھا۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ دہائیوں پر مشتمل ان پالیسیوں اور سفارت کاریوں کا خاتمہ کردے گا جنہیں امریکی سامراج کے مفادات کی خاطر ترتیب دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (TTP) اور جنوبی امریکی آزاد تجارت کے معاہدے (NAFTA) جیسے کثیر جہتی معاہدوں کو ختم کر کے ان کی جگہ ایسے دو طرفہ سمجھوتے کرنے کا وعدہ کیا جن میں ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کا مفاد دیکھا جائے گا۔

امریکہ مزید ’’عالمی دروغے‘‘ کا کردار ادا نہیں کرے گا، یعنی اس کے روایتی حلیفوں کو اپنے ملک میں امریکی فوجی تنصیبات کی ’’میزبانی‘‘ کی قیمت ادا کرناہو گی۔

تباہ کن گیند (Wrecking Ball ) 

حکمران طبقے کے بہت سے لوگوں کو یہ گمان تھا کہ یہ محض دھمکیاں ہیں اور آفس سنبھالتے ہی ٹرمپ ان سے پیچھے ہٹ جائے گا۔لیکن ان کی امیدیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ ٹرمپ اپنے انتخاب کے بعد سے ہی عالمی تعلقات کی عمارت کو مسمار کرنے میں لگا ہے۔

پچھلے کچھ ماہ میں ہی ٹرمپ نے:
*ایران کے ساتھ انتہائی باریک بینی سے کیے گئے جوہری معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیا،
*اشتعال انگیزی کی غرض سے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کر دیا،
*چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کر دی جس سے پوری عالمی معیشت خطرے میں ہے،
*اپنے G7 کے اتحادیوں کو ان کی سٹیل اور ایلومنیم کی برآمدات پر ٹیرف لگا کر ناراض کر لیا، جو کہ عالمی تجارتی ادارے (WTO) کے قوانین کی خلاف ورزی ہے،
*اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ یکطرفہ طور پر فوجی مشقیں ختم کر کے اس کو بھی اشتعال دلا دیا، اور یہ شمالی کوریا کی جانب سے ’’جوہری پروگرام کے خاتمے‘‘ کے بے معنی وعدوں کے بدلے میں کیا گیا،
*اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن سے دستبردار ہو گیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ’’منافقت اور خود غرضی‘‘ پر مبنی ہے (جو کہ یہ ہے بھی)۔

ان تمام اقدامات نے سرمایہ داری کے سنجیدہ پنڈتوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ نیٹو میں ایک سابق امریکی مندوب نکولس برنز نے کہا: ’’یہ میری زندگی کا سب سے کمزور اور سب سے خطرناک صدر ہے۔ میں اکیلا نہیں ہوں، اکثریت کی یہی رائے ہے۔‘‘

اسی وجہ سے حکمران طبقے کے کچھ دھڑے اسے کسی بھی ممکنہ طریقے سے ہٹانا چاہتے ہیں، خواہ وہ انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے تحقیقات کو FBI میں ’’مجرم گہری ریاست‘‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اور وہ میڈیا کو مسلسل ’’جھوٹا‘‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست کے بنیادی ستونوں کے اثر و رسوخ میں کمی آتی جا رہی ہے جو کہ آپس میں ہی نبرد آزما ہو رہے ہیں۔

شکست و ریخت

تو یہ سب ہوا کیسے؟ کچھ لبرل دھڑوں کے مطابق یہ سب ماسکو کی پراسرار مداخلت کے باعث ہوا اور اب جو کچھ بھی ان کی سمجھ میں نہ آئے وہ اس کا یہی جواب دیتے ہیں۔ وہ سطح کے نیچے گہرائی میں ہونے والے عوامل کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جو ایک پورے دور پر محیط سرمایہ داری کے عالمی بحران کا نتیجہ ہیں۔

1950ء میں امریکہ عالمی جی ڈی پی میں 50فیصد کا حصہ دار تھا (اور اب محض 20 فیصد کا)۔ اس کا پیداوار کا عمل دنیا میں سب سے جدید تھا۔ آڈرز کی بہتات اور سب کے لیے روزگار کی بدولت امریکہ کے محنت کش اپنے مالکان سے بڑی مراعات لے سکتے تھے۔ بہت سے لوگوں کو ایک بہتر معیار زندگی میسر تھا۔

1970ء میں سرمایہ داری کے بحران کے بعد امریکی صنعت زوال کا شکار ہو گئی۔ دوسرے ملکوں میں سستی محنت کی تلاش میں پوری کی پوری صنعتیں ہی بند ہونے لگیں۔ اپنے منافعوں کی بحالی کی خاطر سرمایہ دار محنت کشوں سے ان کی حاصلات چھیننے لگے۔اس کے نتیجے میں دنیا میں اس کے ہم پلہ امیر ممالک کی طرح بے انتہا بے روزگاری، غربت اور زوال دیکھنے میں آیا۔

دہائیوں سے پلتا ہوا سماجی بحران اب اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک سیاسی بحران کی شکل میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔ ٹرمپ جیسے امیدوار کے مقابلے میں 2016ء کے انتخابات ڈیموکریٹس کے لیے تر نوالہ ثابت ہوتے، مگر کروڑوں امریکی مسکراتے چہروں والے سیاست دانوں سے نالاں ہو چکے ہیں جو وعدے تو بہت کرتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں۔

اوباما کو لے کر تمام تر امیدوں کے باوجود اکثریت کا معیار زندگی حقیقت میں گرا ہے۔ کروڑوں لوگوں نے ڈیموکریٹس کے ہاتھوں دوبارہ بیوقوف بننے سے انکار کر دیا۔ ووٹ ڈالنے کی شرح 56فیصد تھی جو انتہائی کم ہے۔ یہ کسی بھی امیدوار سے تبدیلی کی کوئی امید نہ ہونے کا اظہار تھا۔

جذباتی انداز میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک اسٹیبلشمنٹ مخالف شخصیت کے طور پر پیش کیا اور امریکی محنت کش طبقے کی جانب سے بدعنوان اشرافیہ سے لڑنے کا وعدہ کیا۔ٹرمپ کے ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے‘‘ کے وعدے رائے عامہ سے ہم آہنگ تھے کہ کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہیلری کلنٹن صرف یہی کہہ پائی کہ امریکہ ’’پہلے ہی عظیم ہے‘‘!

سب سے پہلے امریکہ

امریکہ کا دنیا کی سب سی بڑی سامراجی قوت کے طور پر نسبتاً کمزور ہونا ہی ٹرمپ کی شکل میں سامنے آنے والے عمل کی جڑ ہے۔ جوں جوں امریکہ کی صنعت دوسری جگہوں (جیسے چین اور جرمنی) میں پیداوار کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو رہی ہے، توں توں امریکہ میں ایسی پرتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنہیں لگتا ہے کہ ’’آزاد تجارت‘‘ ان کے خلاف جا رہی ہے۔

اسی طرح عراق اور افغانستان میں 1 کھرب ڈالر کی شکست کھانے کے بعد امریکی محنت کش مزید جنگیں نہیں چاہتے۔ امریکی فوج، جو اب بھی دنیا میں سب سے طاقتور ہے، ماضی کی طرح رعب اور دبدبہ قائم رکھنے سے قاصر ہے۔ یہ جذبات پھیلتے جا رہے ہیں کہ امریکہ کو اب مزید دور دراز سرزمینوں میں ’’امن قائم کرنے‘‘ کے لیے اربوں ڈالر نہیں خرچ کرنے چاہئیں۔

یہ مزاج صرف محنت کشوں کا ہی نہیں بلکہ سرمایہ داروں کے کچھ تنگ نظر حلقے بھی یہی محسوس کر رہے ہیں۔ جب عالمی معیشت ترقی کر رہی ہوتی ہے تو یہی سرمایہ دار لوٹ مار میں حصہ ڈالنے کے لیے آزاد تجارت کا راگ الاپتے ہیں اور اب جب یہ نظام جمود اور تنزلی کا شکار ہوتا ہے، تو یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک اس کا نقصان برداشت کریں۔ٹرمپ اس بڑھتے دباؤ کا اظہار ہے جس نے اسے روایتی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تضاد میں لا کھڑا کیا ہے۔آس پاس تبدیل ہوتی دنیا کی وجہ سے امریکی حکمران طبقہ اب ماضی کے طریقے سے حکمرانی نہیں کر سکتا۔ چین کا ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر ابھرنا طاقتوں کے روایتی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔

صنعت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی پیداواریت میں اضافہ کر کے چین کو شکست کا مقابلہ کرنے کی بجائے امریکی حکمران طبقے کا ایک دھڑا تحفظاتی اقدامات کے ذریعے بے روزگاری برآمد کرنا چاہتا ہے۔ یہ سلسلہ اوباما کے دور میں شروع ہوا تھا، ٹرمپ تو محض اسے اگلے مرحلے میں لے کر جا رہا ہے۔

بات پکی یا نہیں

ایک خود ساختہ ’’ساز باز کا ماہر‘‘ ہونے کے ناطے ٹرمپ کو یہ لگتا ہے کہ بہت سی دھمکیاں دے کر اور جارحانہ حملوں سے آغاز کر کے وہ دوسرے ممالک سے اپنی مانگیں پوری کروا لے گا۔ شاید اس کا یہ طریقہ کار جائیداد کے کاروبار میں چلتا ہو۔ لیکن جب تجارت اور عالمی تعلقات کی بات آتی ہے تو یہ طرز عمل باآسانی معاملات بگاڑ سکتا ہے۔

ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ ٹرمپ کو لگتا ہے کہ وہ ملاؤں سے مزید بڑی مراعات حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ایک جواء ہے اور لگتا ہے کہ یہ الٹا پڑ گیا ہے۔ایسے ہی ٹرمپ چین اور اپنے اتحادیوں کو تجارتی جنگ کی دھمکیاں دے کر سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ کے مفاد میں معاہدے کر لے گا۔ لیکن درحقیقت تحفظاتی اقدامات کی منطق دنیا کو، امریکہ سمیت، ایک اور بحران کی طرف لے جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ امریکی حکمران طبقہ اپنے روایتی طریقوں سے حکمرانی کرنے کے قابل نہیں رہا۔اب جبکہ امریکہ پہلے جیسی طاقت نہیں رہا، حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں، جن کے اس بارے میں مختلف خیالات ہیں کہ اس تنزلی کو کس طرح سے روکا جائے۔ سرمایہ داری کے بحران میں ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی بھی طریقہ کام نہیں کرنے والا۔خارجہ پالیسی میں حالیہ نظر آنے والے جھٹکے تو محض ایک آغاز ہیں جو آنے والے تہلکہ خیز دور کا عندیہ دے رہے ہیں۔یہ سب محنت کش طبقے کے شعور میں جذب ہو رہا ہے اور جب وہ حرکت میں آئے گا تو ٹرمپ کی غلاظت سمیت اس نظام کا صفایا کر دے گا جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh