تین جون کی شام وانا، جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے گھر عوام کے اکٹھ پر مسلح افراد کا حملہ قابل مذمت ہے جو واضح کرتا ہے کہ طالبان ابھی بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کا واویلا صرف جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی کامیابیوں کا سہرا اپنے اپنے سر پر باندھنے کے لیے سول قیادت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں مسابقت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ حب الوطنی کا چورن بیچنے والے بہت سے مڈل کلاسیے اور وردی والوں کے معذرت خواہان یہ راگ الاپتے نہیں تھکتے کہ اگر پاک افواج اور خفیہ اداروں نے طالبان بنانے کی غلطی کی تھی تو دیکھیں اب انہوں نے طالبان کو ختم کر کے وہ غلطی سدھار بھی تو لی ہے۔ گویا صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے وغیرہ وغیرہ۔ یہ درست ہے کہ افغانستان سمیت اس پورے خطے میں کھیلی جانے والی گریٹ گیم میں سے امریکی سامراج اور اس کے مغربی اتحادیوں کے کردار پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے محض ان کی دم چھلہ پاکستانی ریاست کو ہی تمام تر بربریت اور انسانیت سوز حالات کا ذمہ دار قرار دینا بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ پاک افواج کی وکالت میں اپنی ہی نفی کرنے والے دلائل کی لفظی جگالی کرتے رہنا شرمناک ہے۔ ایک فریق دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی اثرات کے حوالے سے فطری اتحادی ہے۔ دوسرے معنوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ لبرل اور مغرب نواز این جی اوز اور وردی والوں کی وظیفہ خوار مذہبی و سیاسی اشرافیہ ایک ہی سکے کے دو رخ اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کڑوی سچائی یہ ہے کہ اس خطے کی تباہی اور بربادی کے حوالے سے عالمی سامراجی قوتوں، پاک افواج اور خفیہ اداروں، یہاں کے نام نہاد سیکولر یعنی اے این پی، پی کے میپ اور پیپلزپارٹی وغیرہ اور مذہبی سیاسی قیادتوں سے کسی کو بھی کلین چٹ نہیں دی جا سکتی۔ اگر کوئی معصوم اور بری الذمہ ہے تو وہ اس تمام تر بربریت کے براہ راست متاثرین یعنی اس خطے کے محنت کش اور غریب عوام، یہاں کے مزدور اور کسان ہیں چاہے ان کا نسل، مذہب، قوم اور فرقہ کوئی بھی ہو۔  

کل شام وانا میں ہونے والے واقعات نے ایک دفعہ پھر ریاستی اداروں کے تمام تر جھوٹے پروپیگنڈے اور دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کی گیدڑبھبکیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری طالبان کا گٹھ جوڑ ایک دفعہ پھر کھل کر منظرعام پر آ گیا ہے۔ کارپوریٹ میڈیا واقعی جھوٹ کو سچ کی خوشنما پیکنگ میں تیار کرنے کی جدید مشینری کی حیثیت رکھتا ہے مگر زیربحث جھوٹ کی فطرت اس قسم کی ہے کہ اس کی پیکنگ کرنے کے لیے درکار ٹیکنالوجی ابھی معرض وجود میں لائی ہی نہیں جا سکی اور یہ پرانی فرسودہ مشینری کی استطاعت سے باہر ہے۔ جبکہ دفاعی اداروں کی سوشل میڈیا کیمپین جو مضحکہ خیز تو پہلے ہی تھی اب تو حقارت آمیز بھی ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے فیس بک پیجز اور گروپس کی کارکردگی اس حوالے سے ترقی پسندانہ کردار ادا کر رہی ہے کہ ان کی زبان اور اسلوب کی تصنع اور ملمع کاری کا کرشمہ یہ ہے کہ مستفید ہونے والا اگر تھوڑا سا بھی صاحب عقل ہے تو اس کے تمام تر مغالطے اور غلط فہمی ایسے غائب ہو جاتی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اصل میں ایک دفعہ پھر روزِروشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے کہ نام نہاد امن کے اس سارے دورانیے میں دہشت گردوں کی کمر کی ’ٹھکائی‘ نہیں بلکہ ’مالش‘ کی جاتی رہی تھی تاکہ اس کے تمام پٹھے واپس اپنی توانائی کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کے قابل ہو سکیں۔

وانا میں کل ہونے والے افسوسناک واقعے کے ذمہ داران طالبان اور ان کے پشت پناہوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس سے قبل لاہور میں بھی عام پشتونوں پر مساجد میں اعلان کر کے ہجوم جمع کرنے کے بعد پولیس کی موجودگی میں تشدد کیا گیا اور پھر 100 کے قریب معصوم شہریوں پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئیں۔ ہم ان تمام نسل پرستانہ اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ دوسروں پر ملک دشمنی کے الزامات لگا کر غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے خود بنگال کی مجرمانہ تاریخ دہرانے پر تلے ہیں۔ ہم پی ٹی ایم کی قیادت کے مشتعل ہو کر ہتھیار نہ اٹھانے اور پرامن رہنے کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

کچھ لوگ وانا بازار سے عوامی تحویل میں لیے گئے مذہبی دہشت گرد کے پنجابی ہونے پر نسل پرستانہ پروپیگنڈا کرنا شروع کر چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ راست اقدام نہیں ہے۔ کسی بھی قوم یا نسل کو بحیثیت مجموعی دہشت گرد قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب میں سینکڑوں نہیں ہزاروں مدارس میں دہشت گرد تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ پنجاب کے ترقی پسند اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود پنجاب کے غریب عوام اور پشتون تحریک میں کوئی فعال جڑت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی وجہ ان کی عددی کمزوری یا کمزور حکمتِ عملی کچھ بھی ہو سکتی ہے مگر اس کی ذمہ داری دن رات محنت مشقت کر کے اپنے اور اپنے خاندانوں کے سانسوں سے رشتے کو برقرار رکھنے والے بے آسرا اور مظلوم پنجابی محنت کش عوام پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ان میں سے اکثریت کی خاموش ہمدردیاں نہ صرف پشتون بلکہ ملک اور دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ ہوتی ہیں مگر ان ہمدردیوں کو آواز اور توانائی فراہم کرنے والی قیادت کا فقدان اصل مسئلہ ہے۔ پنجاب کے درمیانے طبقے میں بالخصوص اور ملک بھر کی مڈل کلاس میں بھی بالعموم پائی جانے والے دہشت گردوں کی حمایت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔ جلد یا بدیر ملک بھر کے عوام انہی نتائج پر پہنچنے پر مجبور ہوں گے جن پر وانا کے عوام پہنچے ہیں اس لیے لاہور کے افسوسناک واقعے کے بعد بننے والا تاثر بھی اپنی بے معنویت پر پردہ ڈالنے میں زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پنجابیوں سمیت تمام قوموں کے مظلوموں کے اتحاد کی ضرورت ان واقعات کے بعد کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔  

اگر جدوجہد کے اس مرحلے پر حالیہ تحریک اپنا مدعا تبدیل کر کے نیا مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پنجاب اور پنجابی ہمارے دشمن ہیں تو بہت سے سوالات جنم لیں گے۔ اول تو یہ کہ اگر یہ درست ہے تو کیا پی ٹی ایم کا پہلا مؤقف غلط تھا؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کے مظلوم عوام بالفرض آج بھی ریاستی پروپیگنڈے پر یقین رکھتے ہیں تو کیا پی ٹی ایم کی تحریک سے قبل سالہا سال تک پشتون درمیانے طبقے اور ان کے دانشوروں کی ہمدردیاں اور حمایت فوج کے ساتھ نہیں رہی؟ اور تیسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر اپنے بچوں کی غذائی ضروریات کی تکمیل کے فرائض پورے نہ کرسکنے کے باعث ان کو مفت کی روٹی اور رہائش کے چکر اور اس پر کئی نسلوں کی مغفرت کے جھانسے میں آکر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو جہالت کے ان کارخانوں کا ایندھن بنانے والے غریب پنجابی اور ان کی اولادیں طالبان کے لیے سماجی مواد فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں تو کیا گزشتہ عشروں میں معصوم پشتونوں کی کافی تعداد بھی غربت کے باعث ان مذہبی جنونیوں کا آلہ کار بننے پر مجبور نہیں ہوئی تھی؟ فضل اللہ خلیل، صوفی محمد جیسے درندوں کی وجہ سے ساری پشتون قوم کو دہشت گرد قرار دینا کیا درست ہو گا؟ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود اور اس کی باقیات کی وجہ سے سارے محسود قبائل کو تو دہشت گرد، ملک دشمن یا غدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہے تو پھر راؤ انوار کو مجرم نہیں بلکہ بہادر بچہ کہنا بھی درست ہو گا۔ بالکل ایسے ہی غریب یا درمیانے طبقے کے پنجابیوں کی ذہنی پسماندگی کو اس کے تاریخی پسِ منظر، معروضی وجوہات اور ان کے مسلسل ارتقا اور تغیر کے آئینے میں دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور اہم اور کلیدی نکتہ یہ ہے کہ اگر پی ٹی ایم کی قیادت نسل پرستوں کے دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے تو تحریک کی isolation اسے رفتہ رفتہ پاکستانی ریاست کے ساتھ برسرپیکار خطے اور دنیا بھر کے سامراجیوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرے گی۔ جیسا کہ پہلے ہی کچھ لوگوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری جیسے الفاظ کا استعمال اور ان قوتوں پر انحصار کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کرنی شروع کر دی ہے۔ آج تک اگر اقوا م متحدہ اور نام نہاد عالمی برادری کشمیر، فلسطین، بوسنیا اور یمن جیسے خطوں کے مسائل حل نہیں کر سکے تو پشتون کونسا ان کے سگے ہیں۔ ہم بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ امریکی سامراج کے دلال لبرلز اور قوم پرست اس تحریک کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی سامراج اور پاکستانی ریاستی اداروں کے مابین لڑائی کوئی اصولوں یا نظریات کی لڑائی نہیں ہے اس لیے یہ کوئی ناقابل مصالحت ازلی اور ابدی لڑائی نہیں ہے بلکہ طاقتوں کے توازن میں تبدیلی ان کو پھر ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہے۔ سعودی شہزادے اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ امریکہ نواز لبرلز کہاں منہ چھپاتے پھریں گے۔ اس لیے قیادت کو کھل کر امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہو گا۔ ابھی تک اسرائیل زندہ باد اور اسی قسم کے عوام دشمن نعرے لگانے والوں کے خلاف بھی کوئی دوٹوک اور واضح اقدامات نہیں کیے گئے جو تشویشناک حد تک قابلِ مذمت ہے۔ تحریک کی دیگر مظلوم قوموں اور طبقات کی تحریکوں سے کنارہ کشی کا ایک اور سنگین نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ تحریک کو اپنے دفاع کے لیے پر امن جدوجہد کا راستہ ترک کر کے مسلح جدوجہد کی طرف جانا پڑے جس کے لیے انہیں پھر افغانستان، بھارت اور امریکہ وغیرہ پر انحصار کرنا پڑے گا اور یہ سب تحریک کی واضح سیاسی خود کشی ہو گی۔

ہم مارکس وادی ہر قسم کے جبر، ظلم اور بربریت کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور بارودی سرنگوں کے خاتمے کے پی ٹی ایم کے تمام تر مطالبات جائز اور جمہوری ہیں اور جب تک پی ٹی ایم جمہوری اور پرامن طریقے سے عوامی جدوجہد پر یقین کے بل بوتے پر سامراجی قوتوں سے مکمل لاتعلقی کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھائے گی ہم مارکس وادی ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم ریاستی اداروں کا پی ٹی ایم کی قیادت کے حوالے سے این ڈی ایس اور را کے ایجنٹ ہونے کا پروپیگنڈا پہلے ہی اس بنیاد پر مسترد کر چکے ہیں کہ ان کی طرف سے کسی قسم کے قابل بھروسہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ اگر را اور دیگر ایجنسیوں کی اعلی قیادت کے ساتھ پی ٹی ایم کی قیادت کی ملاقاتیں یا ٹیلیفون کالز وغیرہ موجود ہیں جیسا کہ گلالئی کی پریس کانفرنس میں دعویٰ بھی کیا گیا تھا تو اہم سوال یہ ہے کہ ان کی تصاویر اور ریکارڈنگ وغیرہ کو ابھی تک پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔ اور اگر ایسے ثبوت ہیں بھی تو ذمہ داران کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے برخلاف پر امن سیاسی اکٹھ پر دہشت گردوں کے ذریعے مسلح چڑھائی جیسا کہ کل وانا میں کیا گیا ناقابل برداشت ہے۔ ابھی تک اس کاروائی میں اطلاعات کے مطابق تین معصوم شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ پچاس کے قریب زخمی بھی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات عوام میں مزید اشتعال پھیلانے کا موجب بنیں گے۔ ایسی صورتحال میں جب آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل اسد درانی کی را کے سابقہ چیف کے ساتھ مشترکہ تصنیف منظرعام پر آ چکی ہے، جنرل پرویزمشرف بھی ریاستی پالیسیوں کے حوالے سے اہم انکشافات کر چکا ہے اور تین بار وزیراعظم رہنے والا پنجابی اشرافیہ کا نمائندہ نوازشریف بھی اقتدار کی لڑائیوں میں اہم رازوں سے پردے اٹھاتا چلا جا رہا ہے ایسے میں آواز بلند کرنے والے شہریوں میں غداری اور را کے ایجنٹوں کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے والی ریاستی پالیسی تمسخر آمیز حد تک ناقابل عمل ہے۔ یہ بات اب نوشتہ دیوار ہے کہ غدار کون ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh