۔ رپورٹ ۔ کامریڈ  ملوکانی

دانیال رضا ،چیف ایڈئٹر چنگاری ڈاٹ کام ، صدر پاک یورو جرنلسٹس فورم اور جرمنی ڈی لنکے پارٹی ہسن نے  جرمنی  میں  آل پاکستانی کیمونٹی  جرمنی کےاجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں  کہا کہ بے شک جرمنی میں  پاکستانی سفارتی عملے سے بہت سے پاکستانیوں کو  بہت سی شکایات ہیں   جن کا ذکر یہاں کیا گیا ہے ۔جو جائز بھی ہو سکتی ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کم ترین وسائل،  جدید تریں سہولتوں   کی عدم موجودگی  اور کم ترین  عملے کے باوجود جرمنی میں پاکستانی سفارتی عملہ  وہ برلن میں ہو یا فرینکفرٹ میں   جرمنی میں مقیم پاکستانیوں  کی ایک بڑی تعداد  جو مسلسل بڑھ رہی ہے کو اپنی خدمات پیش کر رہا ہے  جس میں کوتاہی بھی ہو سکتی ہے ۔ غیر ممالک میں سفارتی عملے کے افراد بھی   ہم میں سے ہی ہیں  اور ہمیں انکے مسائل کو سمجھنا چاہیے اور اگر کھبی کھبار ایسے ماحول اور حالات میں کسی ایک کی طرف سے کو ئی اونچ نیچ  ہو جائے تو ہمیں اور سفارتی عملے دونوں  کو درگزر اور برداشت سے کام لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر فرینکفرٹ  قونسلیٹ کا تمام عملہ نیا ہے اور چندہ عرصہ  قبل غیر مناسب واقعات ہوئے جو افسوس ناک ہیں وہ  نہیں ہونے چاہیے تھے جو  پاکستانی کیمونٹی اور سفارتی عملے میں تعاون   کے فقدان  کا نتیجہ ہے ۔ہمیں آپسی رنجیشوں کا سفارتی عملے کو حصہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ یہ چار سال کے  لیے ہمارے مہان ہوتے ہیں  جن کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہیے اسی  طریقہ  سے وہ ہم  سے تعاون کریں گئے اور ہمیں یاد بھی  رکھیں گئے جس طرح آج سے پہلے  ہوتا آرہا ہے  ۔ جرمنی کی تمام سیاسی ، صحافتی ، ادبی اور سماجی تنظیموں کو آپس میں مزید تعاون اور مل بیٹھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مشترکہ طور پر جرمنی میں پاکستانی کیمونٹی کے سماجی اور سفارتی مسائل حل کیے جاسکیں ۔  انہوں نے اپنے خطاب کے آخیر میں  ایک چھ رکنی کمیٹی کی تجویز  دی جو جرمنی بھر میں پاکستانی کیمونٹی کی تمام تنظیموں سے رابطہ کر کے انکے مسائل کو سنے اور  جرمنی میں برلن اور فرینکفرٹ  کے سفارتی عملے تک ان کو پہنچائے تاکہ انہیں حل کیا جا سکے اور آئندہ ناخوشگوار واقعات  اور شکایات جنم  نہ لے سکیں ۔

انکی رائے کو سراہا گیا اور سعید خان ، صدر چنگاری فورم ، قدوس احمد ، صدر ڈی لنکے پارٹی راون ہاہم ، تیمور خان ،  ڈوچ جرنلسٹ یونین  فرینکفرٹ ،  رانا محمود احمد ، ایس پی ڈی  اورشفیق مراد ، چیف ایگزیکٹو شریف  اکیڈمی   اور صفدر محمود   جرمن پاکستانی  سوسائٹی  شلیس ویگ ہولسٹین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو آئند تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرئے گئی ۔

جرمنی میں پاکستانی کیمونٹی کی تعداد مسلسل بڑھنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں  اور خاص طور پر  پچھلے عرصے میں پاکستانی  مہاجرین  کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔جس سے نہ صرف انکے معاشی اور معاشرتی مسائل ہیں بلکہ پاکستانی سفارت خانوں کے مسائل  میں بھی اضافہ ہوا جس سے پاکستانیوں اور سفارتی عملے کے درمیان اکثر  اوقات تعلقات شدید نوعیت اختیار کر جاتے ہیں  ۔ اور انکے بہتر  اور احسن حل کے لیے 12 جنوری2018 کو راون  ہائم کے رتھ ہاوس میں ایک اجلاس منعقد  ہوا جس میں  پاکستانی کمیونٹی کے جرمنی میں  متحریک   تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کی ۔

اجلاس کے آخیر  میں سائیں فرید نے قرار داد  پیش کی کی پاکستانی سفارتی عملے کو وہ برلن میں ہو یا فرینکفرٹ میں جرمنی کی  پاکستانی کیمونٹی سے مزید تعاون  کر نا چاہیے  اور اشتراک   کو بڑھایا جائے۔ جسے متفقہ طو ر پر منظور کیا گیا ۔

 

اجلاس کی صدرات دانیال  رضا جبکہ مہان خصوصی ہمبرگ سے آئے  سائیں فرید نے کی۔ جس میں محمد جمیل ، اجمل حسین ، کامریڈ اعجاز  نے بھی پاکستانی مسائل پر بات کی۔ تمام اجلاس کو سرور محمد نے تحریری شکل دی تاکہ آئندہ   کے اجلاس میں اس کاروئی کا جائز لیا جا سکے ۔

https://www.facebook.com/chingaree

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh