|تحریر: آرتورو روڈریگویز؛ ترجمہ: ولید خان|

گزشتہ دن کی عام ہڑتال کیٹالونیا کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی معیاری جست ہے۔ پچھلے چار دنوں سے پرامن مظاہرین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہا ہے جس کی پاداش میں انہیں بدترین ہسپانوی اور کیٹالونی پولیس جبر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جمعرات کو پولیس کی حفاظت میں مظاہرین پر فاشسٹوں نے حملہ کیا جس میں ایک فاشسٹ مخالف احتجاجی کو شدید زدوکوب کیا گیا۔ نوجوانوں نے جواب میں سڑکوں کو بلاک کر دیا۔

ریاستی جبر کے دو مقاصد ہیں۔ اول یہ کہ کیٹالونی حکومت شدید خوفزدہ ہے کہ کیٹالونی خودمختاری کو معطل کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ موت سر پر منڈلاتے دیکھ کر وہ مظاہرین پر خوفناک مظالم ڈھا رہے ہیں۔ دوئم، مرکزی حکومت تشدد کو بے پناہ بڑھاوا دے کر لاقانونیت کا دکھاوا کر کے حریت پسند تحریک کو مایوس کرنا چاہتی ہے۔ سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ کیٹالونیا کو باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے تاکہ میڈرڈ، باداجوز، غرناطہ اور ظاہر ہے ویلینسیا اور باسک میں کیٹالونی تحریک کے ساتھ ہونے والے یکجہتی مظاہروں کو ختم کیا جا سکے۔ کل کے واقعات کے بعد ہم وثوق سے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ حکومت اس ہدف میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ ہڑتال اپنے حجم میں 3 اکتوبر 2017ء (ریفرنڈم کے خلاف کریک ڈاؤن کا نتیجہ) اور نومبر 2012ء میں ہونے والی عام ہڑتال سے زیادہ بڑی تھی۔ بجلی کی کھپت میں 10 فیصد کمی ہوئی اور بارسلونا کی میٹرو سروسز میں 50 فیصد کمی ہوئی۔ حالانکہ ہڑتال کی کال چھوٹی یونینز نے دی تھی اور تحریک کو توڑنے کے لئے ریاست نے جبر کی انتہا کر دی تھی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ چند ایک کے سوا (مثلاً بندرگاہوں کے مزدور) محنت کش طبقے کی ”بھاری بھرکم نفری“ نے ہڑتال میں حصہ نہیں لیا اور قومی سوال پر ابھی کیٹالونی مزدور منقسم ہے۔

 

 

 

بارسلونا میں دیو ہیکل احتجاج ہوئے، درحقیقت روایتی احتجاج تو ہو ہی نہیں سکے کیونکہ شہر کا مرکز مظاہرین سے بھرا پڑا تھا اور کسی سمت بھی ہلنے کی جگہ موجود نہیں تھی۔ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ تھی۔ حقیقی اعدادو شمار لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ کے ہیں۔ ان اعدادوشمار کی حقیقی اہمیت کا ادراک سب کو ہونا چاہیے۔ کئی دن کی لڑائیوں اور پولیس کے متشدد کریک ڈاؤن کے بعد بھی یہ صورتحال ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کئی مظاہرین ہسپانوی زبان بول رہے تھے اور ہسپانوی ریپبلیکن جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ تحریک کا کردار جمہوری ہو چکا ہے جو واضح طور پر قومی سوال سے بالاتر ہو چکا ہے۔

اس مارچ کے فوری بعد پولیس نے ویا لائیتانا میں پرامن مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور ارد گرد کی گلیاں میدانَ جنگ بن گئیں۔ نوجوان (خاص طور پر 16-19 سال کی عمر کے) ہمیشہ کی طرح جدوجہد میں سب سے آگے موجود تھے۔ کل ہزاروں افراد نے پولیس کا مقابلہ کیا۔ بحران کے پھٹتے وقت یہ نوجوان بچے تھے۔ ان کو بیروزگاری، غیر یقینی حالاتِ زندگی اور کٹوتیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پتہ۔ حال ہی میں وہ خواتین پر جبر اور ماحولیات کی تباہی کے خلاف سڑکوں پر آئے ہیں۔ ان میں بھرا غصہ اب لاوا بن کر پھٹ چکا ہے۔ پولیس اور خاص طور پر ہسپانوی قومی پولیس نے خوفناک جبر کرتے ہوئے ربڑ کی گولیوں (کیٹالونی میں غیر قانونی) اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا ہے، راہ گیر اور مظاہرین دونوں کو شدید زدوکوب کیا گیا، صحافیوں کو گرفتار اور مظاہرین پر اپنی گاڑیاں بھی چڑھادیں۔

 

Jorge Martin@marxistJorge
 
 

Here's a series of videos of uncalled for police violence in Barcelona today during the general strike

 
Embedded video
 
101 people are talking about this

 

میں پلازا کیٹالونیا میں رکاوٹوں سے 5 سو میٹر دور کامریڈوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جب کئی درجن پولیس نے اچانک حملہ کرتے ہوئے ربڑ گولیاں برسائیں اور مظاہرین کو کچلنے کی کوششیں بھی کیں۔ کیٹالونیا میں پہلی مرتبہ واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ ان بھیانک ہتھکنڈوں میں ایک عنصر تو ہسپانوی ریاست کا سیاسی ایجنڈا ہے لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس خوفزدہ اور پریشان ہے کیونکہ وہ 12 گھنٹے کی شفٹوں میں مسلسل پچھلے 5 دنوں سے نوجوانوں سے لڑ کر تھک چکے ہیں۔

ہڑتال کی کامیابی (پورے ہسپانیہ میں ملنے والی یکجہتی) کے بعد کل سے پیڈرو سانچیز کا لہجہ بدلا ہوا ہے۔ اس کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ سیاسی قیدیوں کو سزا سنانے پر سماج سے ایسا تباہ کن ردِ عمل آئے گا۔ اگر وہ عقل مند ثابت ہوا تو وہ کیٹالونی حکومت کے ذریعے مظاہروں کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ ریپبلکن کیمپ کو منقسم اور تھکا دیا جائے۔ لیکن عام انتخابات سر پر کھڑے ہیں اور کل کی عام ہڑتال نے صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ جبر میں خاطر خواہ شدت آئے گی اور ہسپانوی ریاست کیٹالان کی خودمختاری ختم کر سکتی ہے لیکن ان اقدامات کا نتیجہ یقینی طور پر عوامی ردِ عمل میں شدت ہو گا جس میں سماج کی تاحال غیر متحرک پرتیں بھی جدوجہد میں شامل ہوں گی۔

 

Jorge Martin@marxistJorge
 
 

Here's a series of videos of uncalled for police violence in Barcelona today during the general strike

 
Embedded video
 
101 people are talking about this

 

ریاست رعایت اور جبر کے درمیان کٹی پتنگ بنی ہوئی ہے۔ پھر کیٹالان حکومت کی سربراہی کرنے والے پیٹی بورژوا قوم پرست شدید منقسم ہیں۔ شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں کیٹالانی صدر قوئم تورا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں حقِ خودارادی کا مکمل نفاذ کرے گا۔ وہ متشدد اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے بھی ہچکچا رہا تھا (لیکن بلاآخر اسے یہ مذمت کرنی ہی پڑی)۔ اس کے وزراء نے کھلے عام اس کے حقِ خودارادیت والے اعلان کی مخالفت کی ہے اور ریاست تشدد کی زیادہ گرمجوشی سے مذمت کی ہے۔ حکمران پرتوں میں شدید تضادات انقلاب سے پہلے کی صورتحال کی غمازی کر رہے ہیں۔

 

 

 

تحریک اور سب سے بڑھ کر نوجوانوں نے حیران کن قوت اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا ہے۔ صورتحال بغاوت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن یہ تمام صورتحال شدید خطرات سے لبریز ہے۔ کوئی قیادت موجود نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ عوام تھکاوٹ کا شکار ہو گی، نوجوانوں اور پچھلی نسل کے درمیان دراڑیں پڑ جائیں گی اور رجعتیت اپنے مکروہ چہرے کے ساتھ کیٹالونی سماج میں موجود ہسپانوی قومی شناخت رکھنے والی پرتوں پر انحصار کرتے ہوئے خوفناک اور متشدد اظہار کرے گی۔

حریت پسند تحریک کے انتہائی بائیں بازو CUP کو اس وقت موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ دکھانا چاہیے۔ لیکن وہ تحریک سے باہرپریشان حال اور مفلوج ہوئے بیٹھے ہیں۔ انہیں کیٹالونی حکومت کو ننگا کر کے رکھ دینا چاہیے کیونکہ سپین میں حقِ خودارادیت ایک انقلابی کام ہے جسے پیٹی بورژوا پیشہ ور سیاست دان پورا نہیں کر سکتے۔ درست طور پر انہوں نے ہسپانوی عوام سے یکجہتی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے (نحیف انداز میں) عوامی اسمبلیوں کے قیام کی بھی بات کی ہے۔ یہ درست قدم ہے لیکن محض یہی کافی نہیں۔

 

عوامی لاواموجودہ تمام تنظیموں کو رد کر کے آگے بڑھنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ اسمبلیوں کو فوری طور پر اور پر مغز انداز میں منظم کرنا چاہیے جس میں منتخب نمائندگان کی مرکزیت ہو، وہ سماجی تبدیلی کے طبقاتی پروگرام سے مسلح ہوں، سرگرم افراد کے جتھوں کو محنت کش علاقوں میں فوری طور پر بھیجنا چاہیے تاکہ وہ ان پرتوں کو جدوجہد کی طرف جیتنے کی کوشش کریں جو ابھی تک غیر متحرک ہیں۔ ناکہ بند کمیٹیوں کو منظم کرنا چاہیے جو ہر وقت اسمبلیوں کو جوابدہ ہوں، مدافعانہ طور پر منظم ہوں اور گھس بیٹھیوں کو باہر نکالیں۔ کیٹالونی تحریک ایک ایسی گاڑی بن چکی ہے جو بھرپور رفتار کے ساتھ بغیر ڈرائیور دوڑے چلی جا رہی ہے۔ اگر تحریک کو کامیاب ہونا ہے تو آج، ابھی اور اسی وقت ایک انقلابی قیادت درکار ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh