|تحریر: جوش ہولرائڈ، ترجمہ: ولید خان|

تھریسا مئے ابھی محض تین ہفتے قبل اپنے یورپ نواز ممبران پارلیمنٹ کی کھوکھلی بغاوت سے جانبر ہی ہوئی تھی کہ اب ایک بار پھر اپنی پارٹی کے سخت گیر انخلا پسند دھڑے سے نبرد آزما ہے، جس کی وجہ سے پچھلے سال کے عام انتخابات کے بعد سے تاحال تھریسا حکومت کا یہ سب سے بڑا اور خوفناک بحران ہے۔ 

اگرچہ6 جولائی جمعہ کے دن اس کو اب تک کے نرم ترین انخلا پروگرام پر اپنی کابینہ کی حمایت حاصل ہو گئی تھی لیکن بریگزٹ سیکرٹری ڈیویڈ ڈیوس اور خارجہ سیکرٹری بورس جانسن کے استعفوں کی وجہ سے ٹوری انخلا پسند وں میں تھریسا کی اتھارٹی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب شائد فیصلہ کن لڑائی کے لئے میدان سج چکا ہے۔۔ایسی لڑائی جو نہ صرف ٹوری پارٹی بلکہ برطانیہ کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرے گی۔

نرم بریگزٹ

سابق سیکرٹری خارجہ بورس جانسن کے مطابق حالیہ بریگزٹ منصوبہ ’’گوبر‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ 2016ء میں بریگزٹ ووٹ کے بعد بڑے کاروباروں کے مسلسل بڑھتے دباؤ کے نتیجے میں بنایا گیا ہے ۔ یہ دباؤ BMW اور ائربس ( جو برطانیہ میں 14 ہزار ملازم رکھتی ہے) جیسے کاروباروں کے حالیہ اعلانات کے بعد کھل کر سامنے آگیا جب انہوں نے دھمکی دی کہ بریگزٹ شرائط پر ’’ وضاحت‘‘ کی عدم موجودگی میں وہ اپنے آپریشن برطانیہ سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کابینہ کے بریگزٹ اجلاس سے پہلے کئی کمپنیوں اور CEOs نے واشگاف الفاظ میں ’’کسی معاہدے کے بغیر بریگزٹ‘‘ کے نتیجے میں برطانوی سرمایہ داری کو لاحق خطرات سے خبردار کیا۔ اس میں CBI کے سربراہ کی مایوس کن تنبیہ بھی شامل ہے کہ برطانوی منیوفیکچرنگ کے کچھ سیکٹر ’’ناپید‘‘ بھی ہو سکتے ہیں۔

پچھلے ہفتے ، جمعہ کے دن کابینہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں ان خدشات کی واضح جھلک موجود ہے۔ اعلامیے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں موجود ’’مصنوعات کی آزاد تجارت کا حصہ مصنوعات پر یورپی یونین کے قوانین سے ہم آہنگ ہے‘‘، یعنی برطانوی منیوفیکچرنگ اور زراعت یورپی یونین ریگولیشن اور محصولات، یہاں تک کہ بریگزٹ کے بعد یورپی کورٹ آف جسٹس کے حکم ناموں کی بھی پاسداری کرتے رہیں گے، یہ ایک بڑی رعایت ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ گزارشات یورپی یونین قبول کر لیتی ہے تویورپی یونین سے باہر کسی ملک، مثلاً امریکہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرنا برطانیہ کے لئے تقریباً ناممکن ہو جائے گا،ٹوری بریگزٹ حامیوں کے لئے یہ صورتحال نا قابل قبول ہے۔

کسی بھی شکل میں یہ موقف، جسے سخت گیر بریگزٹ حامی ’’برائے نام بریگزٹ‘‘ یا ’’BRINO‘‘ کہہ رہے ہیں، بریگزٹ ترک کرنے کے علاوہ ہمیشہ سے ہی برطانوی ’’کاروباری حلقوں‘‘ کی ترجیح رہی ہے۔ ان خواہشات کا تھریسا مئے کو اس وقت سے احساس ہے جب سے اس نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔ اس لئے یہ تضاد حیران کن نہیں کہ ’’عالمی برطانیہ‘‘ کی تمام تر نعرے بازی کے باوجود مئے ’’نرم‘‘ بریگزٹ کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ یقینا، جیسا کہ ڈیوس نے اپنے استعفے میں لکھا ہے، یورپی یونین کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے زیر دباؤ بریگزٹ کے قواعد و ضوابط اور بھی نرم پڑتے جائیں گے۔ 

لیکن زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ مائیکل گروف اور لیام فوکس جیسے بریگزٹ کے خود ساختہ سورما ؤں نے ڈیوس اور جانسن کی طرح استعفے دینے کی بجائے ’’گوبر‘‘ چمکانے کو ترجیح دی ہے۔حقیقت میں ان کی مفلوج حالت ٹوری پارٹی کی تکلیف دہ مشکلات کی عکاسی ہے۔ ٹوری پارٹی، سخت گیر عام ممبران اور اپنے مالکان حکمران طبقے کے درمیان بری طرح پھنس کر رہ گئی ہے اور اس وجہ سے بریگزٹ تحریک کے قائد خود شدید تضادات کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ فی الحال تو ایسا لگ رہا ہے کہ گروف نے ’’گوبر‘‘ چمکانے کی قیادت اپنے سر کر لی ہے لیکن ڈیوس اور اس کے چند گھنٹوں بعد ہی جانسن کے استعفوں نے ایسے عوامل پیدا کر دیئے ہیں جو شائد کسی کے بھی کنٹرول میں نہ ہوں۔ 

شدید غم و غصہ

کوئی وجہ ہے کہ مبصرین سخت گیر بریگزٹ کے حامی وزیروں کو چیلنج کرنے کی مئے حکمت عملی کو، پچھلے سال کے حیران کن اور نتائج میں پریشان کن عام انتخابات کے بعد ’’اپنے کیریئر کا دوسرا سب سے بڑا جوا‘‘ کہہ رہے ہیں۔ اپنی کابینہ کو برطانوی سرمایہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ منصوبے پر متحد کرنے کی کوششیں پارٹی کو ناقابل واپسی انتشار میں دھکیل سکتی ہیں۔ نرم بریگزٹ کی واضح تیاریوں نے ٹوری پارٹی کے اکثریتی سخت گیر اور بااثر دھڑے کوکھلے عام چیلنج کر دیا ہے۔ مئے کو لگتا ہے کہ سخت گیر مخالفین کو پسپائی پر مجبور کر کے انہیں قیادت اور حکمت عملی سے عاری کر دیا جائے۔ لیکن ڈیوس اور جانسن کے استعفوں نے اس امید پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

ڈیوس کی طرف سے پیغام بالکل واضح تھا: ’’اور نہیں‘‘۔ اپنے استعفے میں اس نے کوئی لحاظ نہیں رکھا اور کہا کہ ’’پالیسی کی عمومی سمت ہمیں بالکل کمزور موقف پر لا کھڑا کر دے گی جس سے نکلنا شائد ہمارے لئے ناممکن ہو‘‘،’’پالیسی سفارشات کے نتیجے میں پارلیمانی کنٹرول حقیقی کے بجائے فریبی رہ جائے گا۔‘‘ یہ وزیر اعظم کی پالیسی کی غیر مبہم نامنظوری ہے جس کے نتیجے میں ٹوری بریگزٹ حامی ’’شدید شور شرابے کے ساتھ کھلی جنگ میں اتر سکتے ہیں‘‘۔ 

کچھ ٹوری ممبران پارلیمنٹ ابھی سے متحرک ہو گئے ہیں اور افواہ ہے کہ ایک مجوزہ اعلامیہ گردش میں ہے جس میں وزیر اعظم کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’’غیر مشروط اطاعت‘‘ کا الزام لگایا گیا ہے اور ایک ’’نئے قائد‘‘ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ٹوری پارٹی قوانین کے مطابق صرف 48 ممبران پارلیمنٹ کا ووٹ عدم اعتماد کی تحریک برپا کر سکتا ہے اور جس قدر ٹوری ممبران اس وقت سخت گیر بریگزٹ کے متلاشی ہیں، یہ بعید القیاس نہیں کہ اس ہدف کو حاصل کر لیا جائے گا۔ جو بات واضح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کیا مئے کے مخالفین 316 ٹوری ممبران پارلیمنٹ میں سے 159 ووٹ حاصل کر کے اس کو پارٹی لیڈر شپ سے معزول کرتے ہوئے نئے لیڈر کے چناؤ کا مقابلہ کھول پائیں گے کہ نہیں۔

لیکن، ’’چیکرز اعلامیے‘‘ کے نتیجے میں ٹوری پارٹی میں موجود شدید غم و غصے کو غیر اہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اعلامیے کے شائع ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں بحث کے دوران کئی ٹوری ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ انہیں کئی سو ای میل موصول ہوئی ہیں جن میں عوام نے مئے کے ’’ہتھیار ڈالنے ‘‘ پر ’’شدید اضطراب‘‘ کا اظہار کیا ہے اور اس کی قیادت پر انہیں اب ’’اعتماد‘‘ نہیں رہا۔ ایک ممبر پیٹر بون نے یہاں تک کہا کہ اس کے حلقے میں موجود سرگرم کارکنوں نے اعلامیے کے جاری ہونے کے فوری بعد پارٹی کے لئے کمپین کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں چاہے جتنے مرضی داؤ پیچ چلائے جائیں، ٹوری پارٹی کے حامیوں میں پنپتے طوفان سے بچا نہیں جا سکتا۔ یہ حقیقت خارج ازامکان نہیں کہ ٹوری پارٹی میں پھیلتی ہوئی شدید بدگمانی اپنے نمائندوں پر اتنا دباؤ بڑھا دے کہ پارٹی قیادت کے چناؤ کی ایک پر انتشار لڑائی میں اترنے پر مجبور ہو جائے۔

لیکن اگر ٹوری پارٹی کا سخت گیر بریگزٹ دھڑا پارٹی قیادت اور اس کے ساتھ حکومت پر قبضہ کر بھی لے تو وہ پارلیمنٹ میں اقلیت ہی رہیں گے۔ اس وجہ سے پارٹی کی بھاری اکثریت کو یہ اندازہ ہو گا کہ ٹوری پارٹی کی قیادت کی لڑائی کے بعد دوبارہ فوری نئے انتخابات کروانے پڑ سکتے ہیں: ایسے انتخابات جن کے نتیجے میں نمبر 10(برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ) میں جیرمی کوربن داخل ہو سکتا ہے۔ جیکوب ریس موگ سمیت ہر وہ ٹوری ممبر پارلیمنٹ جس کو قیادت حاصل کرنے کا شوق چڑھا ہوا ہے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

کوئی حل نہیں

اگر ممکنہ کوربن حکومت کا خوف بریگزٹ کے ٹوری حامیوں کو شرافت پر مجبور کر بھی دیتا ہے تو یہ بریگزٹ کے سوال پر کوئی آخری حکومتی بحران نہیں اور نہ ہی سب سے اہم ہے۔ ٹوری خانہ جنگی کو حدود میں رکھنا ایک اور بات ہے لیکن مئے کا کمزور امن ایک لمحے میں چکنا چور ہو جائے گا اگر یورپی یونین سفارشات ماننے سے انکار دیتی ہے۔ مذاکرات کے دونوں اطراف مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانوی مصنوعات کی کسٹم یونین اور ایک منڈی کے حوالے سے کیا حیثیت ہو گی، اس سوال پر حکومتی سفارشات شدید ابہام کا شکار ہیں۔ 

سب سے زیادہ ابہام آئرلینڈ کی سرحد پر ہے جس پر برطانوی اور یورپی یونین مذاکرات کار ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔ اس سے پہلے حکومت ’’کسٹم شراکت داری‘‘ اور سخت گیر ’’مکمل سہولت کاری‘‘ کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔ تازہ ترین سفارش، جس پر استعفوں کی بوچھاڑ سے پہلے کابینہ متفق ہو گئی تھی، ’’کسٹم انتظام کی سہولت کاری‘‘ ہے، جس میں سوائے پہلے سے موجودسفارشات کو اکٹھا کر کے ان کا گودا نکالنے کے علاوہ کچھ نیا نہیں۔ بدقسمتی سے یہ تقریباً اس کسٹم شراکت داری جیسی تجاویز ہیں جنہیں مارچ میں یورپی یونین نے ’’خیالی پلاؤ‘‘ کہہ کر رد کر دیا تھااور ایک چالاک یورپی یونین نمائندے نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ یہ ’’اس صدی کا سب سے بڑا فریب ہے‘‘۔ 

پھر ایک منڈی کا بھی مسئلہ ہے۔ یورپی یونین کا شروع سے موقف رہا ہے کہ کوئی ایسا معاہدہ قابل نہیں جو ’’ایک منڈی کی اکائی‘‘ کے لئے خطرناک ہو جس کی نام نہاد’’ چارآزادیاں‘‘ ہیں: مصنوعات، سرمایہ، سروسز اور محنت کی آزاد ترسیل۔ حکومت کا موجودہ پلان اب تک نرم ترین ہونے کے باوجود بھی محنت کی ترسیل پر پابندیاں لگاتے ہوئے سرمائے اور سروسز کی ترسیل میں ’’لچک‘‘ جبکہ مصنوعات اور سروسز کے لئے واحد منڈی تک آزاد رسائی کی سفارش کرتا ہے۔ ابھی تک یورپی یونین کا جو رد عمل آیا ہے اس سے مئے کو کوئی خاص تسلی حاصل نہیں ہوئی ہو گی، جبکہ ایک مذاکرات کار نے صرف یہ کہا:’’کبھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی نہیں‘‘۔

مئے دوبارہ سے صفر پر آن کھڑی ہو گی کیونکہ اس نے اپنی بچی کھچی ساکھ سخت گیر بریگزٹ کے حامی ممبران پارلیمنٹ سے ایک ناقابل عمل سمجھوتہ منوانے میں خرچ کر دی ہے۔اور اگر ایسا ہوا، تو وہ دن دور نہیں جب حکومت کو ایک بار پھر یورپی یونین نواز یا سخت گیر بریگزٹ دھڑے ، دونوں میں سے کسی ایک کی جانب سے ایک نئی بغاوت کا سامنا ہو گا۔

زوال

برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان پرپیچ مذاکرات میں دو چیزیں مستقل اور غیر متزلزل رہی ہیں: اول ٹوری پارٹی میں شدید انتشار اور دوم کسی بھی حال میں یورپی یونین چھوڑنے پر برطانوی سرمایہ داری کو لاحق شدید جان لیوا خطرات۔ جب سے مئے نے حکومت سنبھالی ہے، اس وقت سے وہ چکی کے ان دو پاٹوں میں مسلسل پس رہی ہے اور جلد یا بدیر یہ اس کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیں گے۔

یہ ممکن ہے کہ ٹوری متحد ہو کر 29 مارچ 2019ء تک اقتدار سے چمٹے رہ کر کسی شکل میں بریگزٹ کروانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس کی بعد اور بھی زیادہ خوفناک بحران کی شکل میں قیمت چکانی پڑے گی۔ یہ نا گزیر بحران برطانوی سیاست اور سماج کو بنیادوں تک ہلا کر رکھ دے گا۔

صرف سرمایہ دارانہ بحران کا ایک حقیقی متبادل ہی برطانوی نوجوانوں اور محنت کشوں کو کوئی امید دلا سکتا ہے۔ایسے وقت میں جب حکومت اپنی ہی پارٹی میں ایک جنگ لڑرہی ہے، مزدور تحریک کو اپنی جنگ کی تیاری کرنی چاہیئے: ٹوری پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے، جیرمی کوربن کو نمبر 10 میں پہنچانے اور مالکان اور سٹے بازوں کے ہاتھوں سے معیشت کی باگ ڈور چھیننے کی جنگ، جن کے منافعوں کی بنیاد ہماری روزانہ کی ذلت و رسوائی ہے۔ 

بحران زدہ ٹوری مردہ باد!

سوشلسٹ لیبر حکومت زندہ باد!

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh