|تحریر: ولید خان|

18 ستمبر 2018ء کو نئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنا پہلا سرکاری دورۂ سعودی عرب کا کیا جس کے بعد یہ خبر گردش کرنے لگی کہ سعودی حکمران پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے لیکن وزیر خزانہ اسد عمر نے اس کی فوری تردید کرتے ہوئے کہا کہ صرف سرمایہ کاری کے لئے ایک زبانی ’’سمجھوتا‘‘ ہوا ہے، اور اس کا حجم ابھی طے ہونا ہے۔ اس ضمن میں آج کل ایک سعودی کاروباری وفد بھی پاکستان پہنچا ہوا ہے جسے CPEC پراجیکٹ سے لے کر بلوچستان کی کانوں اور بجلی گھروں تک تمام پراجیکٹس میں لوٹ مار کرنے کی کھلی پیشکش کرائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ پر ماہر تجزیہ نگار بروس ریڈل نے 23 ستمبر 2018ء کو ایک مضمون لکھا جس کا عنوان ’’50 سالوں میں سب سے زیادہ عدم استحکام کا شکار سعودی عرب‘‘ تھا۔ مضمون میں سعودی عرب کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بروس کا کہنا ہے کہ سعودی سماج تیزی کے ساتھ سماجی عدم استحکام اور تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ دونوں انتہائی متضاد خبریں ہیں۔ ایک خبر سے ایسے لگتا ہے کہ سعودی عرب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو ان سے اس ملک کی برباد عوام کو بھی فیض یاب ہونے کا موقع ملے گا جبکہ دوسری خبر کے مطابق سعودی عرب پر شدید انتشار کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ حقیقت کو جاننے کے لئے ہمیں سعودی عرب کی موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔

سبز باغ اور تلخ حقائق

عالمی معاشی بحران کو شروع ہوئے دس سال گزر چکے ہیں۔ دور دور تک معاشی بحالی کے آثار موجود نہیں بلکہ سرمایہ داری کے عالمی تضادات میں آئے دن معیاری جستیں لگ رہی ہیں جس کی وجہ سے پچھلے تین مہینوں میں مغرب کے کئی اخبارات اور جریدوں میں ایک نئے اور زیادہ خوفناک عالمی معاشی بحران کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے نامیاتی تضادات ہی اس سارے بحران کی بنیاد ہیں لیکن اس میں چین امریکہ تجارتی جنگ، امریکی سامراج کی ہر لمحہ بڑھتی کمزوری، چینی سامراج کا بڑھتا عالمی کردار، یورپی یونین کا بکھرتا شیرازہ، مشرق وسطیٰ میں طاقتوں کا نیا توازن، علاقائی سامراجیوں کی بڑھتی سینہ زوری اور پوری دنیا میں جنم لینے والے عوامی تحرک اور مزدور تحریکوں کے معیاری کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے، 2011ء کی عرب بہار اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں الٹنے والی پرانی بساط نے جہاں سعودی شاہی خاندان کو سیاسی اتحادوں اور سیکورٹی کے لئے نئے کھلاڑیوں کی طرف رجوع کرنا پڑا وہیں پر معاشی اصلاحات (2011 ء میں دیا جانے والا 130ارب ڈالر کا معاشی پیکیج ) کے ذریعے بے چین عوام کو کنٹرول کرنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن اس ساری صورتحال کی وجہ سے خود شاہی خاندان بھی عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے۔

تیل کی گرتی قیمتوں کے باعث (2014ء میں 27 ڈالر فی بیرل) نئے آئے فرمانروا سلیمان بن عبدالعزیز اور اس کے منظور نظر بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو جلد از جلد کچھ ایسا کر دکھانا تھا جس کی وجہ سے عوام میں شاہی خاندان کی حمایت قائم و دائم رہے۔ پھر جس انداز میں شاہی خاندان کی دہائیوں پرانی روایات اور پالیسیوں کو روندتے ہوئے محمد بن سلیمان نے ولی عہدی پر قبضہ کیا تھا، اس کے بعد اس کی ذاتی بقا کا مسئلہ بھی جنم لے چکا تھا۔ اس سلسلے میں پوری دنیا کی نامی گرامی سرمایہ دار مشاورتی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ’’ویژن 2030ء‘‘ کے نام سے ایک بھونڈا نجکاری اور نجی سرمایہ کاری کا پروگرام تشکیل دیا گیا جس کا ہم نے اعلان کے وقت تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ عالمی معاشی بحران، سکڑتی سرمایہ کاری، سعودی عرب کی تکنیکی پسماندگی، تیل کے علاوہ کسی اور صنعت کے بنیادی لوازمات کی عدم موجودگی اور بڑھتے ہوئے عالمی انتشار کے نتیجے میں کھربوں ڈالر مالیت کا یہ دیوانے کا خواب دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس پورے پروگرام کی بنیاد سعودی ARAMCO، جس کی مالیت 500 ارب ڈالر سے 2 ٹریلین ڈالر تک گردانی گئی، کے 5 فیصد حصص (100ارب ڈالر) کی نجکاری تھی، کئی سال اس نجکاری کا چرچا رہا اور آخر میں یہ ہوا کہ بادشاہ سلامت سلمان نے اس سال جون کے مہینے میں دو سال کی تیاریوں پر پانی پھیرتے ہوئے یہ نجکاری روک دی۔ تیل کی فروخت سے اکٹھا کیا گیا پیسہ شاہی خاندان کی ذاتی عیاشیوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور محمد بن سلمان جتنا مرضی طاقت ور ہو جائے، شاہی خاندان کی عیاشیاں ختم نہیں کر سکتا۔ یہ پیسہ ’’عوامی سرمایہ کاری فنڈ‘‘ میں ڈالا جانا تھا، جس نے پھر اندرون ملک اورپوری دنیا میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ا س سرمائے سے منافع کما کر ریاستی اخراجات پورے کرنے تھے! اسی طرح 50 جزیروں کو سیاحت کے لئے تعمیر کر کے ان سے پیسہ کمایا جانا تھا، ان کا بھی ذکر کہیں کھو گیا ہے۔ اسی طرح، 10 ہزار مربع میل اور 500 ارب ڈالر مالیت کے مستقبل کے نئے شہر ’’نیوم‘‘ کا اعلان کیا گیا جس کی آج تک ایک اینٹ بھی نہیں لگ سکی۔ آگے لگے گی یا نہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2005ء میں چھ نئے شہر بسانے کا اعلان کیا گیا تھا جو ابھی تک نامکمل ہیں اور ان کی تکمیل کے دور دور تک آثار نہیں۔ عوام کو بیوقوف بنانے اور بیرونی سرمایہ کاری کی ایک نئی حالیہ کوشش کی گئی ہے جس میں جدہ سے 100 کلومیٹر دور بحیرۂ احمر پر پھر دو نئے شہر بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ویژن 2030ء کے اور دیگر اعلانات تاحال اعلانات ہی ہیں جن سے آبادی کے 65فیصد پر مشتمل نوجوانوں کو نہ تو روزگار مل رہا ہے اور نہ ہی خط غربت سے نیچے یا اس کے آس پاس رہنے والی 40 فیصد عوام کا پیٹ بھر رہا ہے۔

معاشی پروگرام کے ساتھ دیو ہیکل سماجی تبدیلیوں کا پروگرام بھی دیا گیا تاکہ مغربی طرز کے لبرل ازم کو فروغ دیا جا سکے اور سرمایہ دارانہ نظام کے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ منڈی کی عوام دشمن معیشت کی جانب سفر کو تیز کیا جا سکے۔ اس پر ریاست کے رجعتی حصوں کی جانب سے اعتراضات آنا ناگزیر تھا لیکن ولی عہد نے ان کیخلاف بھی سخت کاروائیوں کے ذریعے انہیں خاموش کروا دیا۔ لیکن اب نظر آ رہا ہے کہ اس جانب انتہائی سطحی پیش رفت ہوئی ہے۔ کچھ سینما کھلے ہیں، کچھ کنسرٹ ہوئے ہیں لیکن سب سے بڑی تبدیلی خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا ہے جس کا اعلان پچھلے سال کیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے بھی معاشی مقاصد کارفرما تھے کیونکہ خواتین کی گاڑیوں کی خریداری، آزادانہ حرکت اور روزگار کے حصول کے نتیجے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ معیشت کو ایک نئی جست ملے گی۔ سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے ایکٹویسٹ خواتین و حضرات ، خواتین کے گاڑی چلانے کے حق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جس کے لئے کچھ نے اپنی جانوں کی قربانیاں تک دی ہیں۔ لیکن بادشاہت معاشی مجبوریوں کے باوجود عوام کو یہ تاثر نہیں دے سکتی تھی کہ عوامی جدوجہد کے نتیجے میں یہ حق دیا گیا ہے۔ اس لئے ایک طرف مایہ ناز سرگرم خواتین کو جیل میں ڈال کر سزائے موت اور عمر قید کے مقدمے چلائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف شہزادہ محمد بن سلمان 2018ء میں اس اجازت پر مبنی قانون سازی کرنے کا سہرا سر پر باندھے پھر رہا ہے۔ لیکن اس اقدام کے وسیع سماجی و سیاسی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔

معاشی بحران، نوجوانوں کی بیروزگاری، بڑھتی معاشی تنگی اور عوامی بے چینی پر قابو پانے کے لئے خارجی (بیرون ملک سے آنے والے) محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالنے اور نجی کمپنیوں کو سعودی نوجوانوں کو نوکریاں دینے پر مجبور کرنے کی بھی ایک نئی تیزوتند مہم شروع کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لاکھوں ہنر مند مزدور لاگو ہونے والے ٹیکسوں کی بھرمار اور ناقابل برداشت اخراجات کے بوجھ تلے ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں جس کا سعودی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ریاض کے ائر پورٹ سے روزانہ 1100 افراد ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لاکھوں لوگوں اور ان کے خاندانوں کے اخراج کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کمائی سے چلنے والی معیشت، جس میں سکول اور ہسپتالوں کی فیس، انشورنس، تفریحی اور اشیائے خوردونوش کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری اور مکان یا اپارٹمنٹ کا کرایہ وغیرہ شامل ہیں، اس وقت بریک لگا کر کھڑی ہو گئی ہے۔ دوسری طرف جن سعودیوں کو نوکریاں دی جا رہی ہیں وہ تجربے کی کمی یا کم تنخواہ والی نوکریوں پر کام نہ کرنے کی وجہ سے معاشی پیداوار میں شدید گراوٹ کا باعث بن رہے ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان سروسز سیکٹر کو پہنچ رہا ہے۔

دیو ہیکل خساروں کو کنٹرول کرنے کے لئے جہاں خارجیوں پر بے پناہ ٹیکس لگائے گئے وہیں حکومتی اخراجات میں شدید کٹوتیاں کی گئیں۔ سعودی عرب میں کسی بھی کمپنی کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار حکومتی پراجیکٹس حاصل کرنے پر ہوتا ہے۔ حکومت نے 2014ء سے اخراجات میں کمی کی پالیسی لاگو کرتے ہوئے بیشتر پراجیکٹ لیٹ کر دیئے ہیں یا پھر سرے سے ہی منسوخ کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے آئے دن کمپنیوں کا دیوالیہ نکل رہا ہے جن میں سعودی عرب کی سب سے بڑی مشہور زمانہ کنسٹرکشن کمپنیاں بن لادن گروپ اور سعودی اوجر بھی شامل ہیں۔ پھر پیسے کی تلاش اورسیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لئے پچھلے سال سردیوں میں ولی عہد محمد بن سلمان نے شاہی خاندان کے امیر ترین شہزادوں اور ملک کے بڑے کاروباریوں کو ایک ہی رات میں اٹھوا کر نظر بند کروا دیا۔ اندازے کے مطابق 200 کے قریب افراد کو دن رات تشدد کر کے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی دولت کا ایک قابل ذکر حصہ خزانے میں جمع کرائیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں عوامی غم و غصے اور معاشی بحران کی وجہ سے کئی حکومتوں اور آمروں نے کرپشن کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے تاکہ ایک طرف کرپٹ اشرافیہ سے کچھ پیسہ بھی بٹورلیا جائے اور کچھ عوامی جذبات کی تسکین بھی ہو۔ ان اقدامات میں سر فہرست چین ہے جو دیگر ممالک کی پاپولسٹ حکومتوں کے لئے مثال بن چکا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کرنے سے سرمایہ کار بدک جاتے ہیں، بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور ملک سے سرمائے کا اخراج بھی شروع ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے 100 ارب ڈالر اکٹھے کرنے کا ہدف بھی پورا نہیں ہوا، بیرونی سرمایہ کاری بھی نہیں ہو رہی اور سرمایہ تیزی کے ساتھ ملک سے باہر جا رہا ہے (2017ء میں 80 ارب ڈالر، 2018ء میں اب تک 65 ارب ڈالر)۔ 

عوامی سرمایہ کاری فنڈ، جو کہ ’’ساماہولڈنگ‘‘ سے علیحدہ ہے، اس میں مختلف طریقوں سے 250ارب ڈالر ڈال کر پوری دنیا میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سرمایہ کاری صنعتی یا مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نہیں بلکہ سروسز سیکٹر اور وہ بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کی جا رہی ہے جس میں سر فہرست Uber اور Tesla ہیں۔ اسی طرح فنڈ میں اندرونی نجکاریوں اور ساما اکاؤنٹ سے فنڈ میں ٹرانسفرز کے ذریعے پیسہ اکٹھا کیا گیا ہے۔ پھر اگست 2018ء میں بانڈز جاری کر کے 11 ارب ڈالر اکٹھے کئے گئے ۔ اس کے بعد سعودی عرب کا بیرونی قرضہ GDP کے 17 فیصد کے برابر ہو چکا ہے جو باقی دنیا کے ساتھ موازنے میں فی الحال تو بہت کم ہے لیکن ابتر معاشی صورتحال، سکیورٹی اور خوشنودی اخراجات(جیسے صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان کے باہمی ملکی دوروں میں ہتھیاروں کی 400 ارب ڈالر کی ڈیل، امریکہ میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور ٹرمپ کی بیٹی ایوانیکا ٹرمپ کی این جی او میں 100 ملین ڈالر کا عطیہ) کی روشنی میں اس میں تیز ترین اضافہ متوقع ہے۔ گو کہ اس وقت عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے سعودی معیشت کو وقتی ریلیف ملے گا لیکن ساتھ ہی ٹرمپ نے خود سعودی بادشاہ کو فون کال کر کے درخواست بھی کی ہے کہ تیل کی قیمتوں کو عالمی سطح پر کم کیا جائے۔ا س سے واضح نظر آتا ہے کہ ان دیرینہ دوستوں کے درمیان بھی تیل کی قیمتوں پر تضادات ابھر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب نے روس کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی کوششیں کی تھیں جبکہ چین کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرتے ہوئے تیل کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایران کے خلاف کاروائیوں میں وہ امریکہ پر انحصار بھی کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بھی کشیدگی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ گو کہ شامی جنگ اب اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے اور عراق میں معاملات واضح ہو چکے ہیں لیکن نئے سماجی دھماکے بھی پنپ رہے ہیں۔ شامی صدر بشار الاسد، روس، ایران اور (کسی حد تک) ترکی شام میں فاتح نظر آتے ہیں جبکہ امریکہ، سعودی عرب، عرب امارات اور دیگر اتحادی شکست خوردہ ہیں اور انتقام کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ اسی طرح یمن کی جنگ شروع ہوئے چار سال ہو چکے ہیں لیکن اختتام کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔ سعودی حمایت یافتہ مصری فوجی آمریت اور دیگر شمالی افریقی ممالک کی مالی امداد کے باوجود وہاں عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں انتہا پسندی، مذہبی جنونیت اور رجعت کے خلاف نفرت بڑھتی چلی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں بٹھائے گئے وہابی مہروں کو سماجی رد عمل کا سامنا ہے۔ دہائیوں ان مہروں پر اور کئی سال پڑوس میں جاری جنگوں پر ہونے والے اخراجات(سالانہ یمن جنگ اخراجات 8-10 ارب ڈالر) اور تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے دیو ہیکل بجٹ خساروں کو پورا کرنے کی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگست 2014ء میں خزانہ 737 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح سے گر کر دسمبر 2016ء میں 529 ارب ڈالر پر آ گیا۔ پچھلے تین سالوں میں بجٹ خسارہ بتدریج کم کیا جا رہا ہے لیکن یہ خوفناک کٹوتیوں، ہوشربا ٹیکسوں اور تاریخ کی تیز ترین نجکاریوں کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ عوام کوکئی سالوں سے جو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں، ان پر فی الحال جبری کفایت شعاری کے پروگرام کی وجہ سے عمل درآمد ہوتا ناممکن نظر آ رہا ہے۔ 

ہر طرف ناکامی اور عوام میں گرتی ساکھ کی وجہ سے ولی عہد محمد بن سلمان معاشی بحران سے نکلنے کی تگ و دو کی کوشش کر رہا ہے اور ساتھ ہی خطے میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی بھی کوششیں کر رہا ہے۔ قطر کے ساتھ تنازعہ کی جو بھی وجوہات ہوں، سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کو شدید سبکی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ خلیجی کوآپریشن کونسل (GCC) کی کئی دیگر عالمی سامراجی اتحادوں کی طرح موت واقع ہو چکی ہے۔ یعنی معاشی کمزوری، سفارتی و جنگی ناکامیوں کی وجہ سے سعودی عرب اپنے ہی روایتی حلقہ اثر کے علاقوں میں ہزیمت اٹھا رہا ہے۔ حال ہی میں پابند سلاسل انسانی حقوق کے علم بردار خواتین و حضرات (سمر بداوی، نسیمہ السعدہ، ایمان النجف، لوجین ال حتھلول، عزیزہ الیوسف، عائشہ المانیا، ابراہیم مودیماغ، محمد الرابیع )کے حق میں آواز اٹھانے پر کینیڈا کے ساتھ سعودی عرب کی شدید سفارتی لڑائی شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں وہاں زیر علاج سعودی مریضوں، زیر تعلیم طلبہ اور سفارتی عملے کو فوراً واپس بلا لیاگیا۔ اسی طرح پچھلے دو سالوں میں متعدد صحافیوں، علماء، لبرل بلاگرز ، شیعہ آبادی اور حقوق نسواں کے کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کل ملا کر تقریباً 50ہزار سیاسی و سماجی کارکنان جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ یہ امر ریاست کی طاقت نہیں بلکہ اس کی شدید کمزوری اور خوف کی غمازی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں ہر برائی کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش کی کی جاتی ہے۔ گوکہ ایران کی سامراجی مداخلت موجود ہے اور خطے میں وہ اپنے سامراجی مفادات کے تحت کاروائیاں بھی کر رہا ہے لیکن دوسری جانب سعودی عرب کے اندر سماجی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی بے چینی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تخت اور تختہ

شاہی خاندان میں سیاسی مخالفین کو کنارے لگانے، علاقائی اور عالمی مداخلتوں میں شدید ناکامی، معاشی ابتری اور عوامی بغاوت کے خوف نے شاہی خاندان میں شدید دراڑیں ڈال دی ہیں۔ نوجوان اور ناتجربہ کار شہزادے پر تعیش زندگیوں سے دستبردارنہیں ہونا چاہتے جبکہ بزرگ شہزادے دیوار کے ساتھ لگنے پر نالاں ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ سکڑتے مال کی بندر بانٹ کا ہے جس کی جھلک پچھلے سال شہزادوں اور کاروباریوں پر کریک ڈاؤن میں نظر آتی ہے۔ سیاسی گٹھ جوڑ ہمیشہ محلات کی زندگی کا حصہ رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شاہی خاندان کے افراد کے خلاف کھلم کھلا اقدامات کئے گئے ہوں۔ رپورٹس کے مطابق اس وقت 11 شہزادے، جنہوں نے پچھلے سال اپنے محلات کے اخراجات میں کٹوتیوں پر شاہی محل پہنچ کر احتجاج کیا تھا، ابھی تک ہائی سکیورٹی ہائیل جیل میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ 2015ء سے اب تک ہر سال کوئی نہ کوئی خط یا کوئی اعلامیہ شاہی خاندان کے کچھ افراد کی طرف سے منظر عام پر آ جاتا ہے جس میں کھلم کھلا شہزادہ محمد بن سلمان پر شدید تنقید کرتے ہوئے بغاوت پر اکسایا جاتا ہے۔ 21 اپریل 2018ء میں بادشاہ سلمان کے شاہی محل پر حملہ ہوا جس کا نشانہ ولی عہد تھا۔ اس کے بعد ولی عہد دو ماہ منظر عام سے غائب رہا اور اس وقت عام تاثر یہ تھا کہ وہ شدید زخمی ہو چکا ہے لیکن ان خبروں کی تردید روس میں فٹبال ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں شہزادے نے نمودار ہو کر کر دی۔ اس طرح کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاہی خاندان اس وقت تخت یا تختے کی شدید اندرونی لڑائی اور کشمکش میں سے گزر رہا ہے اور یہ ساری صورتحال کسی دھماکے کے ساتھ پھٹ سکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف سعودی سماج بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔

نتیجہ

سعودی عرب اور دیگر عالمی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ شدید معاشی بحران اور سماجی عدم استحکام نے ہر سرمایہ دارانہ ریاست کوکھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ تمام ریاستیں اس وقت جھوٹ، فریب، ڈھکوسلوں، چالبازیوں اور عوام پر جبر کرتے ہوئے ایک ایک دن گزار رہی ہیں جن میں پاکستانی ریاست بھی شامل ہے۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک خود شدید عدم استحکام کا شکار ہے، قرضوں اور نجکاری کی دلدل میں ڈوبتا جا رہا ہے وہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی کیا سرمایہ کاری کرے گااور اگر کچھ سرمایہ کاری ہوتی بھی ہے تو اس کے بدلے ہوشربا منافعوں کے لیے پاکستان کے عوام کا کتنا خون نچوڑا جائے گا۔ مزید براں جب پاکستان کو سعودی سرمایہ کاری کی قیمت مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں سعودی عرب کی حمایت کی صورت میں چکانی پڑے گی تو اس کے ریاست اور یہاں کے سماج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ 

لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کی 65 فیصد آبادی نوجوان ہے۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جو پچھلی چند دہائیوں میں تیل کی دولت کے بل بوتے پر حکومتی اخراجات پر پڑھ لکھ کر اب بیروزگار ہیں۔ سالانہ 2 لاکھ نوجوان محنت کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں جس کے ایک چوتھائی سے زائد خواتین ہیں۔ اسی طرح پوری دنیا میں برپا ہونے والی عوامی تحریکوں تک آج پل بھر میں انٹرنیٹ کی وجہ سے رسائی حاصل ہے جن کے اثرات دن رات سعودی نوجوانوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ شروع شروع میں محمد بن سلمان کے کرپشن کے خلاف نعروں اور ایک خوبصورت زندگی کے خواب پر نوجوانوں کی ایک مخصوص پرت نے یقین بھی کر لیا تھا لیکن آج ان پر حقیقت آشکار ہو رہی ہے کہ اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے کسی قسم کی بہتری کی کوئی امید نہیں۔ سماجی و معاشی دباؤ کے نتیجے میں خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت دے کر شاہی خاندان نے خواتین کی آزادی کے معاملے پر دہائیوں سے بنددروازے کھول دیئے ہیں جنہیں بند کرنا اب ممکن نہیں۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کا جم غفیر سماجی زندگی میں براہ راست قدم رکھ رہا ہے۔ یہ قدم اب واپس موڑے نہیں جا سکتے۔ جس دن شاہی فرمان جاری ہوا کہ خواتین کو ایک سال کے اندر گاڑی چلانے کی اجازت دے دی جائے گی، اس رات سوشل میڈیا اور گھر گھر میں یہ بحث چل رہی تھی کہ دیگر جمہوری حقوق کا، جن میں آزاد پارلیمنٹ اور الیکشن شامل ہیں، اطلاق کب ہو گا؟ دوسری طرف محنت کی منڈی میں طبقاتی شعور پروان چڑھنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ محلاتی سازشیں، جنگی سفاکی اور معاشی جبر کی وجہ سے شاہی خاندان کی اگر کوئی ساکھ تھی بھی تو وہ تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ 

اس ساری صورتحال میں سعودی نوجوانوں اور عوام کی نئی تحریکیں ابھر سکتی ہیں۔بہت سی کمپنیوں میں پہلے ہی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور برطرفیوں کی خلاف احتجاجوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح مختلف مسائل پر عوام کے احتجاج بھی جاری ہیں جن کی بہت کم خبریں منظر پر آپاتی ہیں۔ 2011ء میں عرب بہار کے دوران یہاں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔ایسے کسی سلسلے کا دوبارہ آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مقامی افراد بیرونی ممالک سے آئے محنت کشوں اور خطے کے دیگر ممالک کے محنت کشوں کے ساتھ جڑت بنائیں اور اس فرسودہ بادشاہت اور ظالم و جابر سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرنے کی جانب بڑھیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh