تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: تصور ایوب|

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سابقہ صدور کی (الیکشن) مہم کا وہ وعدہ جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہے، میں پورا کر رہا ہوں۔ میرا آج کا یہ بیان اسرائیل فلسطین تنازعے کے حوالے سے ایک نویکلا زاویۂ نگاہ ہے جو نئے در وا کرے گا۔‘‘

ٹرمپ کے اس پیغام نے عالمی سیاست میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اورایک کے بعد دوسرے سربراہان مملکت اس کی مخالفت میں سامنے آئے، حتیٰ کہ امریکہ کی بغل بچہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں قیامِ امن کے ’’امکانات‘‘ کے لئے مفید نہیں۔ جرمنی اور فرانس نے بھی بیان کی مذمت کی جو کہ یورپ اور امریکہ میں بڑھتی خلیج کی غمازی کرتا ہے۔

پوری دنیا میں لبرل ذرائع ابلاغ نام نہاد امن مذاکرات (کی موت) پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہے، حالانکہ ٹرمپ نے سوائے اس حقیقت کے عیاں کرنے کہ ایسی کسی چڑیا کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا، کچھ بھی نہیں کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان ’’معزز‘‘ خواتین وحضرات نے کبھی بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت نہیں کی۔ دہائیوں سے مغربی طاقتوں کی فلسطینیوں کے خلاف خونی جنگ اور اسرائیلی توسیع پسندی کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں ان گنت جنگیں مسلط کیں اور ہر طرف سے محصور فلسطینی عوام کے مقابلے میں وہ جدید اور طاقتور ترین فوجی آلات کا مالک ہے۔ کئی دہائیوں سے مسلط ان جنگوں میں ہزاروں فلسطینی مرد،عورتیں اور بچے ان جنگوں میں مارے جا چکے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ وحشی اسرائیلی استعمار کے روزمرہ مظالم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف 1993ء کے اوسلو معاہدے سے اب تک 1لاکھ 10ہزار سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ 2لاکھ70ہزار سے زائد اسرائیلی آباد کار مغربی کنارے کی طرف کوچ کر چکے ہیں۔ اسرائیلی سرمایہ داری کبھی بھی ایک مضبوط اور فعال فلسطین قبول نہیں کر سکتی اور نہ ہی اپنی سرشت میں شامل توسیع پسندانہ عزائم سے منہ موڑسکتی ہے۔

ان تمام واقعات کے ہنگام میں ہمارے ’’جمہوری‘‘ لبرل دوست اسرائیلی سامراجی جارحیت کی خاموش یا کھلم کھلا حمایت کرتے رہے ہیں۔ خطے میں کبھی امن یاایسے کسی امن مذاکرات کا وجود ہی نہیں رہا۔ فلسطینی اور عرب ’لیڈران‘ سالوں سے اس نوٹنکی میں اپنا کردار بخوبی نبھاتے آئے ہیں، جو کہ اس امر کا غماز ہے کہ ان ’لیڈران‘ کے حقیقی مفاد کس چیز سے جڑے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ تو محض اس منافقت کا پردہ چاک کررہا ہے۔ وہ تو صرف اس جمہوری لبادے کو تار تار کر رہا ہے جس کے پیچھے حکمران طبقہ اپنی تمام تر بربریت چھپاتا آیا ہے۔ ٹرمپ اس نقاب کو بھی اتار رہا ہے جس کے پیچھے محمود عباس اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO ) کی قیادتیں سالوں سے چھپتی آئی ہیں۔ اور درحقیقت وہ تو سرمایہ داری کے ظالم خونی سچ کو ننگا کر رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر اسرائیل اور فلسطین کے مابین کو معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

ٹرمپ کے اس بیان کی بنیادی وجہ اپنے گھر میں موجود رجعتی دائیں بازو کے عناصر کو مطمئن کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کا یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں اوبامہ کی پالیسی سے انحراف کا بھی اشارہ ہے اور اپنے روایتی حلیفوں کو واضح حمایت کا یقین دلانے کی ایک کوشش ہے۔ جوں جوں شام کی خانہ جنگی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے سعودی عرب اور اسرائیل کے خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ سے متعلق تحفظات شدید ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

اسرائیل اس کوشش میں رہا ہے کہ کسی طرح شام کی اس دلدل سے باہر رہے لیکن پچھلے ہفتے خود اس کو اپنی مداخلت بڑھاتے ہوئے دمشق کے جنوب میں ایک ایرانی ملٹری بیس پر بمباری کرنا پڑی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی طبل جنگ بجا رہا ہے جس کا اظہار پہلے لبنان میں تنازعہ اکسانے کی کوشش اور پھر ایران سے لڑنے کیلئے چالیس سے زائد ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کھڑا کرنے میں ملتا ہے۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے مشترک ہوتے مفادات نے پچھلے کچھ مہینوں میں دونوں اطراف کو ایک دوسرے کی حمایت کے متعلق علی الاعلان بیان دینے پر مجبور کیا۔ ٹرمپ کے بیان کو بھی اسی تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ سعودیوں نے ’سرکاری‘‘ طور پر(ٹرمپ کے بیان پر) احتجاج کیا ہے لیکن درپردہ سعودی اپنے چھرے فلسطینیوں کی پیٹھ میں گھونپنے کیلئے تیز کر رہے ہیں۔ یہاں تو کچھ بھی نہیں بدلا۔

فلسطینی اور لبنانی طلبہ ٹرمپ کے بیان کے خلاف سراپا احتجاج

تاہم، ٹرمپ کا بیان پورے خطے میں امریکی سامراج کے خلاف موجود نفرت کو ایک بار پھر سطح پر لے آیا ہے اور یہ امر خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اثر و رسوخ کو کمزور کر رہا ہے جبکہ آنے والے وقتوں میں ایران کے سیاسی اثرو رسوخ میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ غزہ میں حماس نے ایک نئے انتفادہ کی کال دے دی ہے اور پورے خطے میں تصادم کی فضا بن چکی ہے۔ ٹرمپ کا بیان نہ صرف امن مذاکرات کے ڈھونگ کو بے نقاب کر رہا ہے بلکہ خطے میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان تناؤ کو بھی مہمیز دے رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور امریکی طاقت کے زوال کے حقیقی اسباب امریکی اور عالمی سرمایہ داری کے گہرے بحران میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں ماضی کی طرح مداخلت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ٹرمپ کے اس بحران سے نکلنے کے حربے بالکل ایسے ہی ہیں جیسے ایک آدمی دلدل میں پھنس چکا ہو اورہاتھ پاؤں مار کر محفوظ جگہ پہنچنا چاہتا ہو لیکن یہ تمام اقدام سماج میں جاری عمل کو مہمیز دیں گے۔ سب سے کمزور کڑی خود سعودی عرب ہے، جو کہ ناقابل حل تضادات کے جال میں پھنسا ہوا ہے اور بڑھتی ہوئی اندرونی مخالفت اور اس کا حالیہ جارحانہ رویہ سعودی عرب کے زوال کے عمل کو مزید تیز کرے گا۔

اس خطے کی عوام کیلئے یہ ایک کڑا سبق ہے۔ جب تک ان کی قسمت حکمران طبقے اور پیشہ ور سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے، ان کو آج سے بھی زیاہ خون ریزی ہی دیکھنے کو ملے گی۔ 25 سال کے ’امن مذاکرات‘ نے فلسطین کی تحریک کومکمل طور پر کچلنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کچھ بھی حل کرنا تو درکنار، مصر اور دوسرے عرب ممالک کے ٹکڑوں پلنے والی فلسطینی قیادتوں نے محض جیل کے داروغہ کا ہی کردار ادا کیا ہے جس کا کام اسرائیلی سامراج کے غلیظ اقدام کی تکمیل اور اپنے ہی لوگوں کو غلام بنانا ہے۔ حکمرانوں کے خلاف تمام مظلوموں کی جڑت کی بنیاد پر پورے خطے کی انقلابی تحریک ہی اس المیہ کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh