لوگ پابند سلاسل ہیں مگر خاموش ہیں  ۔بے حسی چھائی ہے ایسی گھر کے گھر خاموش ہیں ۔ دیکھتے ہیں ایک دوجے کو تماشے کی طرح  ۔ان پہ کرتی ہی نہیں آہیں اثر خاموش ہیں

0
0
0
s2smodern


۔کتنے بے درد ہیں ،، صَرصَر کو صبا کہتے ہیں۔
کیسے ظالم ہیں ، کہ ظُلمت کو ضیا کہتے ہیںجبر کو میرے ،،، گناہوں کی سزا کہتے ہیںمیری مجبوری کو، تسلیم و رضا کہتے ہیں

0
0
0
s2smodern

لہو سجا کے کھلا ہے گلابِ اکتوبر۔مرا سلام، تجھے انقلاب اکتوبر  ۔سلام، پرچم اِسونی، سلام تجھے 

0
0
0
s2smodern

دیر تک مخملی بستر پر بے قرار کروٹیں لینے کے بعدوہ ایک گونج دار چینخ کے ساتھ ایک دم اٹھ بیٹھی۔یہ وہی خواب تھا جو کئی ماہ سے اس کی نیندوں میں خلل ڈال رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے کلاک پر پڑی تو وہ 

0
0
0
s2smodern

پندرھویں صدی کے اواخر میں جرمنی کے بہت سے نجومی اور جادو گر اپنے لئے ’فاسٹس ‘کا لفظ اختیار کرتے تھے ۔یہ لفظ لاطینی الاصل ہے جس کے معنی ’برگزیدہ ‘یا ’مبارک‘ کے ہیں۔اس قصے کی پہلی فنکارانہ پیش کش ایک انگریز ڈراما نگار کرسٹو فر مارلو نے کی۔ اس نے اسے اپنے مشہور المیے(ڈرامے) ’ڈاکٹر فاسٹس کی داستانِ الم‘ کا موضوع بنایا

0
0
0
s2smodern

ان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گا

جب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گا

جب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گی

0
0
0
s2smodern

گنوار لوگو! تمہیں بتایا گیا تھا لالچ بری بلا ہے 
تمہاری آنکھوں میں وہ ہوسناک خواب ہیں جو 
زمین کی نعمتوں کی تقسیم و قدر کے واسطے ہیں خطرہ 
تمہارا کیا ہے؟ تمہاری نسلیں ہمارے طے کردہ 
روز و شب میں، ہماری خیرات پر پلی ہیں 

0
0
0
s2smodern

پھٹ رہے ہیں روز دل، ٹوٹتے ہیں روز خواب
ہو رہا ہے صبر کم، بڑھ رہا ہے اضطراب
پھاڑ دے گی نسلِ نو ظلم کے سبھی نصاب
سب فقیہہ، سب امام ہو رہیں گے بے نقاب

0
0
0
s2smodern

مجھ سے ڈر گئے ہو تم۔تم سے میں ڈرا نہیں۔کب کے مر گئے ہو تم۔میں ابھی مرا نہیں۔خوں نہیں عَلم ہے یہ۔سر نہیں قَلم ہے یہ۔ذوق میری زندگی۔حق مرا جنون ہے

0
0
0
s2smodern

فلک خود زمیں میں دھنسا کیوں نہیں ہے .زمیں پر زمانہ رکا کیوں نہیں ہے .اگر ہے غفور و مغنی تو اب تک .خدا کا کلیجہ پھٹا کیوں نہیں ہے .وہ سچا صحیفہ، وہ قرآن لا دو .مجھے میری زینب کی مسکان لا دو

0
0
0
s2smodern

آج بھگت سنگھ کا 109واں جنم دن ہے۔ اس موقع پر کچھ اشعار پیش خدمت ہیں جو بھگت سنگھ کے پسندیدہ اشعار تھے۔ پھانسی سے پہلے جیل میں وہ ان اشعار کو بار بار دہراتا تھا۔

0
0
0
s2smodern