اتھیسٹ یا ملحد وہ ہوتا ہے جو صرف خدا اور اس سے کی گئی ہوائی باتوں سے انکار کرے کیونکہ زمانہ قدیم میں مذہب ایک ایسا ادارہ تھا جس سے نظام حکومت چلایا جاتا تھا مذہب صرف خدا اور اسکی عبادت تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ مذہب میں علاقائی کلچر رواجات و روایات، قوانین اور بہت سی دنیاوی معلومات ہوتی تھیں اسی لی
ۓ ایک اتھیسٹ یا ملحد صرف خدا کا انکار کرتا تھا باقی ان تمام  چیزوں کی پابندی کرتا تھا جن کا تعلق معاشرے سے ہوتا تھا۔ یہاں یہ بات انتہائی یاد رکھے جانے اور سمجھے جانے کے قابل ہے۔۔ اور  اسکو دوسرے لفظوں میں یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک اتھیسٹ، جب خدا کا انکار کردیتا تھا تو وہ ننگا ہوکر گلیوں میں نہیں گھومتا تھا بلکہ وہ اپنے علاقائی کلچر اخلاقیات اور دیگر تمام قوانین کی پابندی کرتا تھا کیونکہ اخلاقیات کا تعلق، مذہب سے نہیں، بلکہ انسانیت سے ہوتا ہے۔ اسی لئے ایک اتھیسٹ صرف خدا کی عبادت میں شریک نہیں ہوتا تھا باقی زندگی کے تمام امور میں وہ سب لوگوں کے ساتھ ملکر معاشرے کی بہتری کیلئے کام کرتا تھا۔۔۔۔۔                                                                                                   

  علم کی مذہب سے علیحدگی۔۔
بادشاہوں نے جب اپنے اپنے مذاہب کو کتابی شکل دے دی، تو پھر ان بادشاہوں کی وفات کے بعد وہی کتابیں مقدس  سمجھی جانے لگیں ان کتابوں میں خدا اور اسکے معاملات کے علاہ تھوڑے بہت دنیاوی علوم سے متعلق قدیم سائینسی، جغرافیائی، معاشی اورطبی اصول بھی دئے گئے جن سے تمام مذہبی اور غیر مذہبی لوگ مستفید ہوتے تھے۔ لوگوں نے اُن کتابوں کو محفوظ کرلیا تاکہ ان کے سیاق و سباق میں تبدیلی نا کی جاسکے۔ لیکن علم تو مسلسل آگے کی جانب بڑھتا رہتا ہے اسی لئے مختلف پیشہ ور ماہرین نے بھی اپنی اپنی مہارت کو کتابی شکلیں دینا شروع کردیں، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکول کھولے گئے اور پھر آنے والا نیا علم اسکولوں میں جمع ہوتا رہا۔ اسکولوں کے بعد کالجز اور یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں تمام دنیاوی علم جمع ہوتا گیا۔ مذہب میں زندگی گذارنے کے جو چند دنیاوی اصول دیے گئے تھے انکی جگہ ملکی آئین نے لے لی اور پھر مذہبی قوانین کی جگہ معاشرے کے جدید قوانین نے لے لی۔ قدیم طبی اصولوں کی جگہ میڈیکل سائینس نے لے لی اور اسی طرح معاشی اصولوں کی جگہ علم معاشیات نے لے لی اسطرح ہر سمت میں ترقی کے نئے نئے باب کھلنے لگے نئی نئی سائینسی ایجادات نے انسان کی زندگی کو مزید آسان کردیا۔  میڈیکل سائینس نے اتنی ترقی کی کہ بہت سے بیماریوں کو انسان نے اس روئے زمین سے ہی ختم کردیا اس طرح مذہب تمام دنیاوی علوم سے خالی ہوکر صرف روحانی تسکین تک ہی محدود ہوگیا۔
میٹا فزکس سائینس نے مذہب کو ایک خالی ڈھول بنا دیا
میٹا فزکس اس صدی کی ایک نئی سائینس کی شاخ ہے جس کے تحت روحانی علوم سے پردہ اٹھایا جاتا ہے کہ دیوتاؤں کے سامنے یا پھر مندروں، مسجدوں یا چرچوں میں کبھی کبھار دعائیں کیوں قبول ہو جاتی ہیں، خواب کیوں آتے ہیں اور انکا حقیقی زندگی سے کیا تعلق ہوتا ہے؟ ایک مرتے ہوئے مریض کو کیوں ڈاکٹر کہتا ہے کہ تم جلد ٹھیک ہوجاؤ گے۔ اور پھر یقین کی طاقت کس طرح اور کیوں کر ہماری زندگی میں اپنے معجزے دکھاتی ہے؟ ان تمام روحانی علوم کا تعلق میٹا فزکس سے ہے۔ چناچہ دنیاوی علم تو پہلے ہی مذہب سے الگ ہوچکا تھا اب میٹا فزکس نے مذہب سے روحانی علم بھی الگ کردیا جس کی وجہ سے آج دنیا کا ہر مذہب ایک خالی ڈھول کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ لوگ نام کے ہندو، عیسائی یا بدھسٹ ہیں لیکن انکی زندگی میں مذہب ختم ہوچکا ہے۔ اور پھر دنیا کی تمام قوموں نے انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن پر دستخط کرکے اپنے اپنے قوانین اور کلچر سے وہ تمام چیزیں ختم کردیں جو عالمی انسانی حقوق سے متصادم تھیں۔
آج کے جدید نظریہ پریگماٹزم نےتمام نظریات کو اپنے اندر سمو لیا ہے، امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد یورپ اور دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے امریکہ جانے لگے اور یوں امریکہ دنیا بھر کے تارکین وطن کا ملک بن گیا جہاں دنیا کے ہر مذاہب اور عقیدوں کے لوگ پہنچ گئے۔ کیونکہ ہر ایک کا مذہب تھا تو خالی ڈھول ہی لیکن اسکے باوجود لوگوں میں مذہبی اور معاشرتی چیپقلس رہتی تھی جس کے حل کیلیے نظریہ پریگماٹزم کی بنیاد پڑی جس کو پروفیسر چارلس سینڈرز نے متعارف کروایا اور پھر نظریہ پریگمٹزم کچھ ہی عرصہ میں پورے امریکہ کا سب سے مقبول ترین نظریہ بن کر یورپ اور دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں میں مقبول ہوگیا۔ نظریہ پریگماٹزم کے مطابق کوئی بھی اچھی بات جو انسانی معاشرہ کیلئے مفید ہو، خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب، کلچر یا عقیدے سے ہو اسے قبول کیا جائے اور اسی طرح اگر کسی مذہب، کلچر یا عقیدے کی کسی بات سے انسانی معاشرہ متاثر ہو تو ایسی ہر چیز کو مسترد کردیا جائے خواہ اسکا تعلق کسی بھی عقیدے یا کلچر سے ہو۔ یہ نظریہ ایک حساب سے بچے کھچے مذہبی کلچر کے خلاف ایک احتساب تھا تاکہ لوگ اپنے اپنے کلچر سے غلط چیزوں کو ختم کرسکیں۔ نظریہ پریگماٹز کو “مسلمانوں” کے علاوہ باقی ساری دنیا کی قوموں نے قبول کرلیا۔ اس طرح ساری دنیا ایک طرف ہوگئی اور مسلمان دوسری طرف کیونکہ ایک مسلمان اگر نظریہ پریگماٹزم کی طرف چلتا ہے تو اسے اسلام کی ہر اس چیز کو مسترد کرنا پڑتا ہے جس سے دنیا کے باقی لوگ متاثر ہوتے ہوں۔ جس میں مسجد سے اذان، روزے کا احترام، غیر انسانی اسلامی سزائیں اور دیگر کئی اقسام کے پابندیاں جن کو ایک مسلمان کا ضمیر تو شاید غلط  سمجھتا ہو لیکن انکی مذہبی ٹرینگ ایسی تمام غیر انسانی چیزوں کو مقدس بنا دیتی ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh