تحریر ۔ دانیال رضا 

عمومی طور پر سماج پر حکمران طبقات کی سوچ حاوی اور مسلط ہوتی ہے ۔جو اپنے مفادات اور اقتدار کے لیے تمام حالات واقعات کو توڑ موڑ کر پیش ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ تاریخ کی سچائی کو بھی اپنے مطابق جھوٹ اور منافقت سے ترتیب دے کر مرتب کرتے ہیں جو پھر تعلیمی اداروں ، نصاب ، زرائع ابلاغ ، ریاست اور اس کے اداروں ، نشر و اشاعت کے زریعے اس رجعتی اور قدامت پرست سوچ کو عوام کے ذہنوں میں ٹھونستے ہیں تاکہ وہ موجو دہ استحصال کی حاکمیت اور نظام کو سر خم تسلیم کرلیں اور کسی دوسرے متبادل کے متعلق سوچ بھی نہ سکیں ۔ سیاست ، ریاست اور معیشت پر براجمان طبقات کا عوامی سوچ کی ترقی کے تمام راستے بند کرنے کی وجہ سے ہی اکثرو بیشتر عوام موجودہ نظام میں رہتے ہوئے اپنی عذاب ناک اقتصادی اور سماجی زندگی کی تبدیلی کے لیے ادھر ادھر سر پٹختے رہتے ہیں ۔ سیاسی اور انقلابی مایوسی انہیں مذہب میں پناہ تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ بے شک اس کے کوئی نتائج جلد سامنے نہیں آتے لیکن بادیر عوام اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ موجودہ نظام کی تبدیلی کے بغیر انکی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گئی جس کے بعد عوام سماجی تبدیلی کے لیے انقلابی اور طبقاتی تحریکوں کی راہ پر نکل پڑتے ہیں اور داخلی عنصر یعنی انقلابی پارٹی کی موجودگی میں انقلاب کا سفر آسان اور ممکن ہو جاتا ہے ۔

جمہوری اشتراکی انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے آج کے حکمران ہر انسانی اور غیر انسانی، مقدس اور غیر مقدس ۔ حربے اور جذبے کا شرم ناک استعمال کرتے ہیں ۔ تمام انسانی تاریخ کو مسخ کر کے اسے اپنے استحصال اور جبر کے لیے موثر بنانے کی کوشیش کرتے ہیں ۔ تاریخ کے نظریات جس میں تمام مذاہب بھی شامل ہیں ان کو اپنی لوٹ کھسوٹ اورمالیاتی ظلم کو جاری رکھنے کے لیے بروکار لاتے ہیں  ۔ مذاہب کے نشے کو اپنے خلاف عوامی مذاحمت کو کم یا ختم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔اور مذہبی پیشوا ان حکمرانوں اور انکی کالی دولت کا مذہبی دلائل سے تحفظ کرتے ہیں ۔ بقول لیون ٹراٹسکی تمام ملائیت زرداروں کی چوکھٹ پر دم ہلانے اور انکے ٹکروں پر پلنے والے انکی حفاظت کے لیے شکاری کتے ہیں جو عوام کو ہر وقت نوچنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور خاص طور پر بحران زدہ معاشروں میں یہ زیادہ زہریلے اور خطرناک ہوتے ہیں ۔

آج اس زمینی کرہ ارض پر جو سینکڑوں مذاہب ہمیں نظر آتے ہیں یہ کبھی لاکھوں میں تھے اور جن مذاہب کا آج وجود نظر آتا ہے یہ کھبی تھے ہی نہیں یعنی انسانی تاریخ میں سماجی تبدیلی کے ساتھ ساتھ مذاہب کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہا جو اب بھی جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ مادی سماجی ترقی نے غیر مادی سوچوں پر گہری چوٹیں لگائیں اور انکی لامحدودیت کو محدود کر دیا ہے اسی لیے آج کوئی ایک مذہب بھی اپنی کلاسیکل شکل میں موجود نہیں ہے اور موجودہ تبدیل شدہ شکل بھی آئندہ قائم نہیں رہے گئی ۔ کیونکہ اس دنیا میں وقت سب سے بڑا سچ ہے جسکی کسوٹی پر ہی ہر سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہوتا ہے اور وقت کی تبدیلی ہر ایک کو برباد کر دیتی ہے اور نئے وقت کے نئے تقاضے ایک حقیقت بن کر ابھر آتے ہیں جس کو نہ مانے والے مٹ جاتے ہیں اور تاریخ کی رد ی کی ٹوکری کا کوڑا بن جاتے ہیں ۔

ایک عالمی تحقیق کے مطابق آج دنیا کی چالیس فیصد سے کم آبادی مذہبی عقائد پر یقین رکھتی ہے جب کہ دنیا میں ساٹھ فیصد سے زائد لوگ کسی بھی مذہب کو نہیں مناتے یعنی دہریے ہیں جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کے بڑے مذاہب میں اسلام ، عیسائیت ، یہودیت ، یزیدی یا ہندو ازم شامل ہیں یہ بھی اپنی اصل شکل کھوتے جا رہے ہیں اور موجودہ جدید حالات میں انکی ترقی اور بقا ممکن نہیں رہی جس سے مذہبی حکمرانوں میں شدت پرستی اور انتہا پسندی کے رجحان عود آئے ہیں اور یہ دنیا کو درپیش معاشی ، سماجی اور سیاسی مسائل کے ساتھ نئے تکلیف دہ اور خونی مسائل سے دو چار کر رہے ہیں ۔

مقامی یا عالمی مذہبی یا غیر مذہبی لڑائیوں کے پیچھے علاقائی یا عالمی حکمران کے منڈی اور مالیات کے مفادات اور انکے تضادات کار فرما ہیں چونکہ عالمی مالیاتی نظام جو آج انسانی معاشروں کو ترقی دینے کی اہلیت کھو چکا ہے ۔ اب اسکی بقا صرف انسانی خون اور سماجی بربادی سے ہی ممکن ہے ۔ لینن لکھتا ہے کہ سرمایہ داری اپنی سماجی ترقی کی تمام صلاحیت ختم کر چکی ہے اب اس کا دوجود دنیا کو ماسوائے تباہ و بربادی کے کچھ نہیں دے سکتا اور وقت کے ساتھ ساتھ موجودہ نظام زیادہ بھیانک اور خون ریز ہوجائے گا۔ اس لیے فریڈرک اینگلز نے کہا تھا کہ اب انسانیت کا مستقبل ماسوائے سوشلزم یا بربریت کے کچھ نہیں ہے ۔

مذہبی عقائد پر ایمان رکھنے والے مذہب کو جذباتی اور روحانی طور پر زیادہ تسلیم کرتے ہیں جس وجہ سے مذاہب کا حقیقی تاریخی سماجی کردار مخدوش یا ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک شاونزم بن جاتا ہے جو عقل پر جذبات کو فوقیت دیتا ہے ۔ جس سے مذاہب اور تاریخ کو سیکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور یہ ایک فتور بن کر معاشرے میں نفرت اور پسماندگی کو پھیلنے کا سبب بن جاتا ہے جو ہمیں موجودہ حالات میں ہر طرف نظر آتا ہے ۔

اگر  ہم سماجی سائنس کی کسوٹی پر اسلام کی تاریخی حقیقت اور حیثیت کو دیکھیں گئے اور انسانی تاریخ میں اسکے کردار کا تعین اور تجزیہ کریں گئے جس کو آج دنیا میں سب سے زیادہ مانے والے موجود ہیں ۔

 سماجی حالات ہی انسانی شعور کا تعین کرتے ہیں اس لیے پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک جس میں پاکستان بھی شامل ہے ان کی غیر مساوی سماجی ترقی میں پھلتا پھولتا معاشرتی انتشار کا زہر سوچوں اور ذہنوں کو کمزور اور متذبذب کردیتا ہے ۔جس سے ہم کسی واقعہ یا حقائق کو دیکھنے ، پرکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے اکثر محروم ہو جاتے ہیں ۔اسی تناظر میں اپائج شعور جب کسی بھی مذہب کو جاننے یا تحقیق کرنے کی کوشیش کرتا ہے تو اس میں بچپن کا ٹھونسا ہوا بھاری بھرکم خوف اسے لرزہ دیتا ہے اور دوسرا مذہب سے جن افراد کے اقتصادی مفادات منسلک ہوتے ہیں وہ بھی اس مذہبی یا دوسرے الفاظ میں جہنم کے خوف سے عقل و شعور اور انسانی روح کو مسخ کردیتے ہیں ۔ کافر ، واجب القتل مشرک ، مردود اور ناجانے کیسے کیسے فتووں سے جو اصل میں نفسیاتی حربے ہوتے ہیں کے استعمال  سے سوچنے اور سمجھنے کی حس تک کو مٹانے کی کوشیش کی جاتی ہے۔

یہ حال اسلامی ملاوں کا ہی نہیں ہے بلکہ عیسائی ، یہودی ، ہندو سبھی مذہبی ملا وں کا ہے جو اپنے غیر منطقی حملہ وارانہ مذہبی رویے سے گفتگو کے آغاز پر ہی مذہب کو غیر حقیقی، فرسودہ اور پسماندہ ثابت کر دیتے ہیں اور یہی رویے مذہب میں بے شمار شکوک و شہبات کو پیدا کر کے اس کی نفی کر دیتے ہیں اس سے تاریخ میں مذاہب کے ترقی پسندانہ سماجی کردار بھی روش ہونے کی بجائے سیاہ اندھیرے میں دفن ہو جاتے ہیں جس کے ذمہ دار کوئی نہیں بلکہ یہی مذہبی ٹھکیدار ہیں ۔

تمام مذاہب کی تاریخ بھی انسانی طبقاتی جدوجہد سے کٹ کر الگ کوئی تاریخ اور جدوجہد نہیں ہے بلکہ اجتماعی انسانی تاریخ کے کل کا جزو ہیں جس میں انسانیت نے آج تک کی ترقی یافتہ تہذیب کا سفر کسی آسانی اور عیاشی سے طے نہیں کیا بلکہ اس کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں نے آج تک کی جدید سماجی ترقی کے حصول کا سفر آج سے پہلے کے وحشت ، بربریت اور جہالت میں غرق معاشروں کے خلاف اپنی سماجی زندگی کی تبدیلی کے لیے بہت کٹھن گزار ، ٹوٹے پھوٹے اور نشیب و فراز کے راستوں کی تکلیفوں کو برداشت کر کے طے کیا ہے اور ایک فتح مند جدوجہد کو ہمشہ قائم رکھا جو آج بھی زندگی میں بہتری کے لیے جاری ہے جو کھبی ختم نہیں ہو گی ۔

لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ موجودہ مالیاتی نظام کے زوال میں تاریخ کے تمام رد شدہ ، بنیاد پرست اور تعصب زدہ نظریات کو حکمرانوں اور انکے گماشتوں نے ابھار کر اور اس کے پراپیگنڈے سے موجودہ نظام کے تنزل کے لیے سطحی جواز تراشتے یا پیش کئے اور موجودہ نظام کو تحفظ دینے کی کوشیش کئیں جو اب بھی مسلسل جاری ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مذاہب بھی اقتدار اور عوامی استحصال کا ایک طریقہ کار اور آلہ کار ہیں اس سے الگ انکی آج کوئی الگ حثیت اور اہمیت نہیں جس وجہ سے مذاہب عالمی مالیاتی کمپنیاں یا بڑے بڑے کاروبار کی شکلیں اختیار کر چکے ہیں جو غریب عوام کے جذبات و احساسات پر کیے جاتے ہیں یا پھر کالے دھن اور منشیات کی پیداوار پر یہ ترقی کر رہے ہیں جس طرح سال دوہزار تیرہ میں طالبان کے بنیاد پرستوں نے چار سو ڈالر پوست اور منشیات کے دھندے سے کمائی کی۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی مذاہب کی خوب کھنچا تانی زور شور سے جاری ہے ۔ اس غیر سنسر شدہ سوشل میڈے نے جہاں سوچوں میں تیزی ، انفارمیشن اور نظریات کے تبادلے سے اظہار رائے اور رائے عامہ کو نئے اور وسیع مواقعے فراہم کیے وہاں کم ظرف ، جہاہل اور قدامت پرستوں نے اپنی رجعتی پرستی کے زریعے معیار اور ذہنوں کو پراگندہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ اور انکے پاس سوشل میڈیا کا آنا بالکل ایسا ثابت ہوا جیسے بندر کے ہاتھ ماچس آگئی ہو ا جو ہر وقت صرف نفرت اور تعصب کی آگ میں شعوری ترقی کو بھسم کرتے رہتے ہیں ۔

اس مضمون کا بنیادی مقصد بھی عمومی طور پر بڑھتی یا کم از کم میڈیے میں مذہبی جنونیت کو حوا بنا کر ذہنوں کو تعفن زدہ کرنا اور عوام کی متحدہ تحریک کو تقسیم کرنے کی بھیانک سازش کو بے نقاب کرنا ہے تاکہ طبقاتی تحریک کو تمام تؑصبات سے بالا ناقابل مصالحت اور ناقابل تسخیر بناکر انسان کی حقیقی آزادی اور نجات کو ممکن بنایا جا سکے ۔

سوشل میڈے میں مذاہب اور اسکے خلاف جو جنگ گرم ہے اس میں مذہب کے خلاف لکھنے والے تقریبا تمام افراد اپنا نام بدل کر بغیر تصویر اور جعلی آئی ڈی سے منزل عام پر متحرک ہیں جبکہ تمام مذہبی افراد اپنے اصلی ناموں اور تصویروں سے لکھتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہو تی ہے کہ مذہب میں عدم برداشت جنونیت اور خونی وحشت بہت بڑھ گئی ہیں جس وجہ سے مذہب کے خلاف لکھنے والے ان مذہبی دیوانوں سے خوف زدہ ہیں جو دماغ سے سوچنے کی بجائے آئے دن انسان اور شعور کو قتل کرنے کے درپے ہوئے رہتے ہیں شاید انہیں مرنے کی بہت جلدی لگتی ہے اور یہ جلد از جلد جنت میں جانا چاہتے ہیں لیکن مذاہب کو نامانے والوں کے نزدیک یہی دنیا جنت ہے اس لیے یہ ٹھنڈے مزاج کے مالک ہوتے ہیں یہ ہوش اور عقل سے کام لیتے ہیں وہ زندگی کو فطرت کا انمول اور خوبصورت تحفہ سمجھتے ہیں جس سے وہ لطف اندوز ہوتے ہیں اور بغیر ذہنی محرومیوں کے اسے خوب انجوائے کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہر شخص کا بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کیسے گزارتا ہے اور کیسے گزارنا چاہتا ہے ۔

لیکن افسوس ناک یہ ہے کہ آج زیادہ تر وہ افراد جومذہب پر سوشل میڈیے کی لاحاصل گفتگو یا جنگ میں ملوث ہیں ایک نہ ختم ہونے والی انارکی پھیلا رہے ہیں کیونکہ یہ انتہا پسند یا پھر مفاد پرستانہ بحث و مباحثے ہیں ان دونوں کا مقصد کچھ سیکھنا یا سیکھنا نہیں ہے بلکہ اپنی افضلیت اور برتری کو ثابت کرنا ہے یا پھر اپنی مذہب یا مذہب مخالفوں سے نفرت کا شدید اظہار ہے ۔ یہ علمی لڑائی عمل اور عقل  سے عاری ہے جس کا کوئی مقصد اور منزل نہیں بلکہ اس گفتگو کا مقصد صرف ٹائم پاس کرنا ہے جس سے انتشار اور اشتعال بڑھتا ہے اس سے شعور کی ترقی کی بجائے پستگی سامنے آتی ہے ۔ اس کے باوجود سوشل میڈیے پربے شمار ترقی پسند مذہبی علمی تحقیق اور سوالات کے زریعے نہایت شاندار کام سر انجام دے رہے ہیں۔

اگر ہم تاریخی آئنیے میں جھانک کر سنجیدگی سے اسلام کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ سعودی عرب جو آج اسلام کا سب سے بڑا ٹھکیدار بنا بیٹھا ہے حقیقت میں یہ اسلام کے خلاف تھا کیونکہ یہ قبلہ قریش سے تعلق رکھتے ہیں جو ہاشم قبلے کے خلاف ہمیشہ لڑتے رہے جبکہ آئحضرت کا تعلق ہاشم قبیلے سے تھا بے شک یہ زمانہ بربریت کی خاندانی لڑائیاں ہی تھیں لیکن بہت خون ریز اور تباہ کن تھیں جس نے سماجی تاریخ کو بہت متاثر کیا ۔

سماج میں کوئی واقعہ اپنی ضرورت اور ٹھوس حالات کے بغیر جنم نہیں لیتا اسی طرح اسلام نے بھی اپنے وقت کی سماجی ضرورت کے تحت جنم لیا ۔ جس نے وہاں کے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی حالات کو تبدیل کیا۔ اسلام کا آغاز نبوت کے بعد سے ہوا اور حضور کی وفات تک مکمل ہوا یعنی کل اسلام تائیس سالوں میں مکمل ہوا جو حضور کی نبوت کے بعد کی عمر تھی جس میں آپ دس سال مکہ اور تیرہ سال مدنیہ میں رہے جبکہ اسلام کی حقیقی بنیاد مدنیہ میں آنے کے بعد پڑی جب حضور نے مدنیہ میں مہاجرین اور مدنیہ کے انصار اور قریب وجوار کے قبیلوں اوس و خزاج کو متحد کرکے اس پسماندہ ترین معاشرے میں اس وقت کے مطابق ایک جدید قوم کی تشکیل کی یا بنیاد رکھی جو ایک ترقی پسند انہ قدم یا اصلاحات تھیں اور یہی حقیقی سماجی اصلاحات تھیں جس نے تمام اسلامی اصولوں کو ٹھوس سماجی جواز فراہم کیا جس سے اسلام پھیلا کیونکہ یہ عرب کے پسماندہ ترین علاقے اور حالات میں آگے کا قدم تھا جس نے زرائع پیداوار کی وسعت اور اجتماعی محنت سے قدر زائد کو جنم دیااور اقتصادی بہتری اسلام کی سیاسی فتوحات میں تبدیل ہوئیں اس کی بنیادوں میں حضرت خدیجہ کا سرمایہ بھی بہت اہمیت کا حامل تھا جس نے ابتدائی اسلام کو زندہ رکھا اور اسے روشناس کرایا اور حضور نے بے خوف نبوت کا اعلان بھی کیا۔ حضور کی وفات کے بعد اسلامی حکمرانوں نے تبلیغ ، تیغ یا جنگوں کے زریعے اس کو بڑھایا یا وسیع کیا تب کا وقت ان کے ساتھ تھا اس لیے یہ پسماندہ تہذیبوں کو فتح کرتے جا رہے تھے جن میں چند عظیم تہذیبوں بھی روندی گئی ۔ 

 جاری  ہے  ۔ ۔۔ ۔ یعنی جاری تھا

مزید کالم  

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh