|
|
|
|
|
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل
بلوچستان کے زخم سوشلسٹ انقلاب ہی بھرے گا
ریاست کو سب سے زیادہ خوف اس انقلابی رجائیت سے ہے جو بلوچ قوم پرست سیاسی پارٹیوں ، نوجوانوں اور مزاحمتی تحریک میں تیزی سے بڑھ رہی ہے
راولاکوٹ انقلاب کشمیر کانفرنس
لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو ، چہرے نہیں سماج کو بدلو، آزادی کا ایک ہی ڈھنگ ، طبقاتی جنگ طبقاتی جنگ،آزادی کے تین نشان، طلبہ مزدور اور کسان
پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر۔ حکمرانوں کی یا محنت کشوں کی؟
مذہبی عناصر کو اس تحریک میں شامل کرنے کی اصل وجہ کشمیری قوم پرست سیاسی پارٹیوں کی زبردست عوامی حمایت تھی
«
بنگلہ دیش میں سلگتا ہوا قومی مسئلہ
لینن نے ایک موقع پر کہا تھا کہ” ہرقوم میں دوقومیں ہوتی ہیں‘ ایک ظالم اور دوسری مظلوم“
«
بلوچستان میں پولیس مزدوروں کی سرکشی
گولیا ں ہم سینوں پر کھا تے ہیں اور مراعات اعلیٰ افسران ، وزرا اور بیوروکریٹس
«
غلام کشمیر، نام آزاد کشمیر
دو ہزار چھ سے لے کر دو ہزار نو تک اس قانون ساز اسمبلی میں تین وزراءِ اعظم
«
قومی مسئلہ سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخی متروکیت ہے
ریاست کا وجود اس کا آئینہ دار ہےکہ دونوں متضاد معاشی مفادات رکھنےوالےطبقا
«
گلگت/ بلتستان کی خود مختاری حقیقت یا سراب ؟
مذہبی قومی ریاست کےقیام کامطلب یہی ہےکہ آپ سرمایہ داری کوجاگیردارانہ
«
بلوچستان کا بحران پاکستان مظلوم قومیتوں کا جیل خانہ ہے
بلوچستان فوجی وسول حکمرانوں کی ریاستی دہشت گردی اورفوجی آپریشنزکامشق
«
بلو چستان،ریاستی قتل نے سلگتا قومی مسئلہ پھر بھڑکا دیا
پاکستانی ریاست کی ٹوٹ کا کوئی دکھ نہیں لیکن پاکستانی محنت کش طبقے کی ٹوٹ
«
بلوچستان کے محنت کشوں کی زندگی کی تلخیاں
ایل جی فیکٹری روزانہ سو سے بارہ سو ٹی وی بنا سکتی ہے ڈیمانڈ نہ ہونے کی
«
جموں کشمیر میں الیکشن تحریک آزادی سے کھلواڑہ
اس سےقبل بھی کشمیراسمبلی کےجوالیکشن ہوئےہیں وہ بھی جمہوریت کا جنازہ
«
بلو چستان میں زلزلہ آفت زدہ عوام اور بے کار حکمران
ملاآج تما م آفات کوخداکی رضا کہہ کرمسئلہ سےدامن چھوڑنےکی کوشیش کرتے
«
تحریک آزادی کشمیر میں اقوام متحدہ کا ناکام کردار
چھبیس اکتوبرکوپاکستانی ریاست کی ایما پرقبائلیوں نےمذہب کےنام پرکشمیر پریلغار
«
مسئلہ کشمیر کو حکمران استعمال کرتے ہیں حل نہیں
کشمیری تحریک کو دہشت گرد قرار دیا زرداری نے امریکی حکم پر بھارتی زبان
«
سرینگراور مظفر آباد کی تجارت بھی بس سروس جیسی ہوگئی
متحدہ تحریک حکمرانوں کو قابل قبول نہیں ہے اور یہ ڈرامہ جلد اختتام پذیر ہوگا
«
کوسواہ کی آزادی سامراج کی بدترین غلامی ہے
ایسی آزادی کی حمائت نہیںکرتے جوعوام کےدکھوںاوراستحصال میںاضافہ کردے
«
کشمیر کی تحریک آزادی سے یکجہتی کا دن
تحریک کشمیر کو پاکستانی اور انڈین سامراج نے ہر دور میں بڑی بے رحیمی سے
«
کرد، ترکی تضاد سے بڑھتا عالمی بحران
کردستان کی آزادی طبقاتی لڑائی سے حاصل ہوسکتی ہے وگرنہ بٹوارے سے خون
|
|
|
|
|