Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل
سیلاب ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ افسانہ
یہ وہ زمانہ تھا جب ’’سیلاب عظیم نے تباہی مچارکھی تھی اور تمام کوہ وپربت اس کے گھیر ے میں
علم وادب اور فن کا بحران
جہاں اس قلت کے سماج میں زندگی کا ہر شعبہ بحران زدہ ہے، محرومی کا شکار ہے وہاں ادب میں بھی ترقی پسندی کا بہت بڑا فقدان
میں اک دن بول اٹھوں گا ۔ ۔ ۔۔ نظم
میں تالا چُپ کا توڑوں گا ۔ زبانیں سب کی کھولوں گا ۔ یا تیرے دار پہ جھولوں گا
« اے میرے لوگو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم، احمد فراز
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی ۔ میرے دلگیر،مرے درد کے مارے لوگو ۔خود کو
« اپنے خواب ہمیں دے دو
اے شب کی ظلمتوں جاﺅ۔ کہہ دو اپنے فرزندوں سے۔ تم نے آنکھیں تو نوچ ڈالیں مگر۔ اک
« میرے دیس کے مفلس لوگوں کو مجھے عید مبارک ،کہنا ہے
دکھوں میں بٹےانسانوں کادکھ اپنےجگرپےسہنا ہےجس جنگ سےہوں طبقات ختم
« سرخ سویرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم ، ڈاکٹر طاہر شبیر
کچھ رہبربیٹھ کےمحلوں میں مزدورکی باتیں کرتےہیں,مزدورکےخون سےپلتے
« تخت و الہام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم ظہیر کاشمیری
دین تنظیم میں آجائے تو الجھا ہوا جال ۔ اور اگر شاہ کےدربار میں آ کرجھک جائے
« ایڈیٹ بنائے ایڈیٹ باکس
ٹی وی پروگراموں کی چمک دمک صرف بازار کے تمدن کو بڑھاوا دے رہی ہے
« لمہوں کا انتقام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم
کھبی ہوتا نہیں صدیوں کا حساب ۔ کھبی لمہے گرا دیتے ہیں اندھیروں کی دیواد
« ایرانی سنیما، انسانی جدوجہد کی کہانی
انڈین فلمیں فارمولا فلمیں ہوتی ہیں جن میں عام آدمی غائب ہے جس طرح پاکستانی
« یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جالب
کوئی ممنونِ فرنگی کوئی ڈالر کا غلام ۔ ان کی محبوبہ وزارت داشتائیں کرسیاں جان
« آنے والی صبح خود تراشوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ نظم
کام مل جائے تو دال دالیا چل جاتا ہے۔ وگرنہ قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے یا نوبت
« تبلیغ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک حقیقت ایک افسانہ
شبّن نے گھر آکر سب کو بلاکر یہ اعلان کیا کہ گھر میں تبلیغ کرنے کی مدُتّ پوری
« اے شریف انسانو، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظم ساحر
امن کوجن سےتقویت پہنچےایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ افلاس اورغلامی سے
« ہالی وڈ کا دوسرا اور اصل رخ، مائیکل مور
ویت نام میں جب امریکہ کو شرمناک شکست ہوئی توریاست کے ظلم اور سماجی
« میں جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ نظم جاوید شاہین
تم مجھ سے ایک وعدہ کرو۔ میں جو چیز جس حالت میں چھوڑ جاﺅں۔ اسے بہتر نہ
« میری فطرت میں بغاوت ہے ۔ ۔ ۔ نظم کا ظمی
جب میں وقت کا دھارا موڑوں گا، ہر ظلم کا بندھن توڑوں گا، تبدیل کروں گا ہر ریت
« جاگو مزدور کسانو، اٹھو مظلوم انسانو۔۔۔ نظم ساحر
وقت ہےدھرتی کواپنا لوآگےبڑھوہتھیار سنبھالوجوالا پھوٹ پڑی ہےوقت تھوڑا جنگ
« صبح آزادی۔۔۔ فیض احمد فیض
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی نجات دیدہ ودل کی گھڑی نہیں آئی چلے چلومنزل
« آزادی کے 61 سال، نظم۔۔۔۔ پارس جان
اکسٹھ سالہ بوڑھی عورت چوراہےپرآبیٹھی ہےپوچھنےپروہ اپنا نام”آزادی سابتلاتی
« موخذاہ نظم۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون بندھے
جو شخص بھی پھینکےگا اولیں پتھر یہ شرط ہے کہ نہ ہوں اس کے ہاتھ آلودہ
« میرے سر کش گیت ....... ساحر
مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے,مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں
« اے ظلم کے ماتولب کھولو۔۔۔ فیض
خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آپہنچا ہے ۔ جب تخت گرائے جائیں گئے، جب
« پتلی تماشا ۔۔۔۔۔۔۔ پارس جان
درد نہیں بیمار کے پاس ۔ دوا نہیں غمخوار کے پاس ۔ آئین اور قانون کو اب تعویذ بنا
« خورشید محشر کی لو۔ فیض احمد فیض
مرے دوستودور کتنے ہیں خوشیاں منانےکے دن زخم کتنے ابھی بخت بسمل میں ہیں
« انتساب ۔۔۔۔۔۔ فیض
کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام۔ دہقاں کے نام۔ جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھائے
« صدر مشرف زندہ باد۔ حبیب جالب
روپے کلو آٹا اس پر بھی ہے سناٹا منشا، کریسنٹ، جنرل جی۔ بنے ہیں برلا اور ٹاٹا
« کوئی سر اٹھا کے نہ چلے۔ فیص
یونہی ہمیشہ الجھی رہی ہے ظلم سے خلق ۔ نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
« جمہوریت ۔۔۔۔۔ نظم جالب
اٹھ کے درد مندوں کے صبح و شام بدلو بھی۔جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو بھی
« تم سپاہی نہیں پیشہ ورقاتلو، نظم
فوج پر احمد فراز کی لکھی گئی وہ نظم جو آج بھی پاکستان میں غیر قانونی ہے
« دستور اور قانون ۔۔۔۔ نظم جالب
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو ایسے دستور کو صبح نور کو میں نہیں مانتا میں
« مٹھائی ۔۔۔۔۔ کہانی
موٹر سائیکل سواراس بچی کو ٹکر مار کے نکل گیا تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ
« یوم دفاع .......... نظم
سب ڈٹ جائیں اس عہد سے اترے سارا زنگ پھر ہو گا دفاع پھر ہو گی جنگ طبقے
« سکندر کا مقدر ۔۔۔۔ افسانہ
یہ صادق پارک کی مغربی سمت میں عباس چنے والے کے کھوکھے کے سامنے
« جشن آزادی کے ساٹھ سال ۔۔۔۔ نظم
گونج رہا اب ایک ہی نعرہ... جب تک جنتا بھوکی ہے... یہ آزادی جھوٹی ہے
« مشرف بے نظیر ڈیل۔۔۔ نظم
ڈیل کرو یا ڈھیل ہو کوئی داغ لگانے آو گے۔ وردی پر جمہور کا تمغہ تم ہی سجانے
« فیض احمد فیض کی ۔ دعا ۔۔۔۔
حرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طر ح آج اظہار کریں اور خلش مٹ
« دستورگلستان بدلے گا۔۔ ظہیرکا شمیری
سورج کا سبوکرنوں کی جھلک یہ خاص سحرکی چیزیںجب رنگ شبستاں ہی نہ رہا
« میں باغی ہوں میں باغی ہوں۔۔
میںمرنےسےکب ڈرتاہوں,میںموت کی خاطرزندہ ہوں,میرے خون کاسورج چمکے
« سامراجی اور رجعتی ثقافتی یلغار کے خلاف ایک جدوجہد
پاکبان تھیٹرفرانکفرٹ ہالی اوربالی وڈکےمالیاتی کلچرتلےکچلتی عوامی ثقافتی اقدار
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved