چنگاری ڈاٹ کام،28.07.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
. . .. . . . . متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
. . . . . . کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
جس طرح اس سماج کی زوال پذیری کے اثرات ہر ایک چیز پہ. مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی اگر ادب کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس زوال پذیری کے ادب پر بھی انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ہمیں ادب کی دنیا میں ایک گہرا بحران نظر آتا ہے جو ہر صنف کی نس نس میں سرائیت کر گیا ہے۔ جہاں اس قلت کے سماج میں زندگی کا ہر شعبہ بحران زدہ ہے، محرومی کا شکار ہے وہاں ادب میں بھی ترقی پسندی کا بہت بڑا فقدان ہے جو اس نظام کی متروکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک ترقی پسند اور دیرپا ادب وہ ہے جس کی حقیقت کا معیار وقت کا دھارا متعین کرے۔ اس میں شعور کا اس طریقے سے عمل دخل ہو کہ ہم حقائق کو مستقل انسانی ارتقائی عمل کے ساتھ منسلک کر لیں ایک ادیب کی ذمہ داریاں وہی ہیں جو ایک انسان کی ہیں سوائے اس کے کہ وہ معاشرے میں باشعور ہے اور نسبتاً باقی افراد کے ادیب کا نقطہ نظر زیادہ ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے الفاظ لوگوں تک پہنچتے ہیں اس لئے اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اور اس کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقاء کی بات کرے اور انسان دشمنی اور خود غرضی کا درس نہ دے۔ ادب کسی عہد کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا ہے‘ اس عہد کی غمازی کر رہا ہوتا ہے اور ارد گرد کے سماجی حقائق کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے اس سماج کے حالاتِ زندگی اور مسائل کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن آج کے اس عہد میں جہا ں ہر شے جنس بن چکی ہے وہاں اس دور کی صحافت، ثقافت ، ادب، فن ہر چیز بکاؤ ہو چکی ہے۔
موجودہ عہد کا میڈیا، پریس، اس عہد کے ادیب، فلاسفر تمام چند سکوں کیلئے بکے ہوئے ہیں اور ان سرمایہ داروں کی دلالی کرتے ہوئے ان کی تعریف میں قصیدے لکھتے نہیں تھکتے۔ ان کے قلم سچ لکھنے سے کتراتے ہیں۔ اپنے مفادات کی خاطر حق کو باطل لکھ رہے ہیں۔ ایک نام نہاد خیالی اور رومانوی دنیا بنا کر محنت کش طبقے کو حقائق سے دور رکھاجاتا ہے تاکہ وہ اپنے ارد گرد کے مسائل کو سمجھتے ہوئے کسی متبادل کیطرف نہ نکل پڑیں۔
اس لیے غیر حقیقی اور غیر معیاری ادب کو تخلیق کیا جاتا ہے۔ جس کا اکثریت کی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ذہنی اور نفسیاتی بیگانگی کا شکار ہے۔ کہیں بھی کوئی ترقی پسند ادب تخلیق نہیں ہو رہا۔ لوگوں کا ربط کسی بھی طرح کی ترقی پسندیت سے ختم ہو رہا ہے۔ سیاست سے لے کر صحافت تک ہر جگہ نان ایشوز کو ڈسکس کیا جاتا ہے تاکہ محنت کش طبقے کے شعور کو پسماندہ رکھا جا سکے۔ ایک مرتبہ فیض بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک ادیب کو مزدوروں کے کارخانے میں لے گیا اور پوچھا، تم ان کے بارے میں بھی کچھ لکھتے ہو؟ تو اس نے کہا’’میں ان کے بارے میں کیا لکھوں‘‘ میرا جو معیار ہے وہ یہ کیا سمجھیں گے‘‘ پھر اس نے ایک مزدور سے سوال کیا۔ یہ ادیب جو میرے ساتھ ہیں تم ان کی کتابیں پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا۔’’یہ ہمارے معیار کے نہیں ہیں‘‘۔
اس سے ہم دو طبقات کے درمیان چلے آنے والے تاریخی تفاوت کو سمجھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ادب کی حقیقی اہمیت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو جہاں محنت کش طبقے کے حالاتِ زندگی میں بدلاؤکیلئے جدوجہد کے دوسرے عام عوامل اہمیت کے حامل ہیں وہاں ادب بھی عوامی شعور کی بیداری میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ادب کو اگر اسکی تاریخی اہمیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پہلی عالمگیر جنگ کے بعد اور خاص کر سوویت یونین کا عظیم انقلاب جب دنیا بھر کے لوگوں کیلئے اُمید بنا اور لوگ نئے خیالات اور نئے نظام فکر سے روشناس ہوئے تو ادب و ثقافت کی دنیا میں نت نئے رجحانات و میلانات کا اظہار ہوا۔ جہاں زندگی کے ہر شعبے نے ترقی کی تھی وہاں ادب کی دنیا میں بھی بہت بڑے ترقی پسند ادیب پیدا ہوئے اور پوری دنیا میں بیداری کی ایک لہر سی دوڑ گئی تھی۔ تمام ممالک میں پہلی مرتبہ محنت کش طبقہ ایک مؤثرطبقہ کے طور پر اُبھر کے سامنے آیا تھا۔ لیکن پھر سوویت یونین کے انقلاب کے تنہا رہ جانے اور سٹالنزم کے اُبھار کی وجہ سے عالمی سطح پر جب انقلابات زائل ہوئے۔ تحریکیں جب پسپائی کی طرف گئیں۔اور ایک ردِ انقلابی عہد نے جنم لیا۔ ہر طرف رجعتیت کے سائے منڈلانے لگے۔ محنت کش طبقہ وقتی طور پر ایک یاس و نااُمیدی کی کیفیت میں چلا گیا۔ تب ادبی تحریک کو بھی زدور دار جھٹکا لگا۔ اور ایک معیاری ادب کہیں گھٹا ٹوپ اندھیری کھائی میں دفن ہو کر رہ گیا۔
آج ہمیں ایسے قلم کاروں کی واضح کمی محسوس ہو رہی ہے جو محروم طبقات کی آواز بن سکیں۔ جو آج کے اس ہنگامہ خیز اور پر انتشار دور میں محنت کشوں کیلئے ایک درست انقلابی منزل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کیلئے مشعل راہ کا کام دے سکیں۔ جہاں محنت کش طبقے میں طبقاتی جدوجہد کا شعور پیدا کرنے کیلئے براہ راست محنت کش طبقے کی پرتوں میں جا کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘ اسی طرح جدوجہد کی اہمیت محنت کشوں پر اجاگر کرنے کیلئے ایسے انقلابی مواد کی بھی ضرورت ہے جو اس سماج کی تکلیف دہ اور اذیت ناک زندگی میں محنت کش طبقے کیلئے متبادل کا پیام ہو ۔ جس میں کسی سرخ سویرے کی اُمید محنت کشوں کو جدوجہد پر ابھارے۔ جس سے سماج کی پسماندہ پرتوں کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ ایسا سماج بھی ہو سکتا ہے جس میں تمام بنیادی ضروریات سمیت فن، ادب، ثقافت ہر چیز چند لوگوں کی نجی ملکیت سے نکل کر تمام سماج کیلئے مشترکہ اور بلند پیمانے پر ہوں گی۔ جس کا تصور محض سوشلسٹ نظام میں ہی ممکن ہے۔