| چنگاری ڈاٹ کام،15.07.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس پرگرام کے تمام ساتھی اور دوست مشترکہ طور پر جرمن حکومت اور مرک انتظامیہ سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کوئٹہ بلوچستان میں مرک فرم سے نکلے گئے تمام ورکروں کو فل فوار بحال کرئے اور ان کے تمام مطالبات بھی منظور کرئے اور اگر ہمارے اس مطالبے کو نہ مانا گیا اور اس پر کوئی رد عمل چھ ہفتوں کے اندر اندر سامنے نہ آیا تو پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین جرمنی اور چنگاری فورم کے تحت مرک فرم کے مرکزی دفتر ڈارم شٹاڈ میں دھرنا دیا جائے گا اور زبردست مظاہر بھی کیا جائے گا۔ یہ قراد دار گیارہ جولائی بروز اتوار سہ پہر ساڑھے تین بجے جرمنی کے شہر فرانکفرٹ میں ،، چنگاری فورم جرمنی ،، کے تحت لال خان کی کتاب ،، پاکستان کی اصل کہانی ،، کی تقریب فرانکفراٹ کے علاقے ہار ہائم کے بورگر ہاوس میں ہوئی منظور کی گئی ۔ جس میں پنتالیس سے زائد پاکستانی اور جرمنی کے مزدوروں اور چند انڈین نے بھر پور شرکت کی ۔ جرمنی میں یہ پروگرام اپنی نوعیت کا الگ اور عالمی نوعیت کا پروگرام تھا جس میں سٹیج سے تین زبانوں میں تقریریں کی گئیں اور نیچے پبلک میں بھی تین زبانوں میں ترجمہ ہو رہا تھا جن میں اردو ، جرمن اور انگلش زبان تھی جو ہمارے ساتھی تیمور خان اور خورشید علی کر رہے تھے۔ جبکہ پروگرام کو ساتھی قمر شاہ اور یاسر میر آرگنائز کر رہے تھے۔ دو ساتھی امریکہ سے آئے ہوئے تھے جس میں سے ایک ساتھی کین نے افغان جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی طبقاتی جدوجہد کی مکمل حمائت میں تقریر کی ۔ ایک سنگھ ساتھی بھی موجودہ تھا ۔ ڈی لنکے پارٹی کی طرف سے ضلع فریدبرگ سے ، ریاست حیسن کے درالحکومت ویزبادن سے ، فرانکفرٹ شہر ، ضلع اوفن باغ کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی جرمن ساتھیوں نے بھر پور شرکت کی ۔ اور پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد تھی ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض عبدالقدس نے ادا کیے جس نے سب سے پہلے یہ بتایا کہ آج کا یہ پروگرام چنگاری فورم جرمنی کا دسرا پروگرام ہے جو لال خان کی کتاب کی اوپنگ کے حوالے سے کیا جا رہا ہے اس سے پہلے چنگاری فورم کے ساتھیوں نے پاکستان ٹریڈ یونین کے بینر تلے جرمنی کی تاریخ میں پہلی بار فرانکفرٹ میں یوم مئی کے مرکزی جلوس میں بھر پور شرکت کی تھی ۔ اس کے بعد کتاب پاکستان کی اصل کہانی کا تعارف نہایت عمدہ طریقے سے پیش کیا۔ اور پھر سب سے چنگاری فورم جرمنی کے صدر اور چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈئٹر معظم کاظمی کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی اس کے بعد ڈی لنکے ویزباد ن کی مرکزی کمیٹی ، اور ڈیئر فونکے ڈاٹ ڈی ای کے مرکزی رہنما کرسٹوف ، اوفن باغ ڈی لنکے کی مرکزی کمیٹی کی رہنما ثمینہ خان ، اور آخر میں کتاب کے لکھاری لال خان کو سٹیج پر بلایا ۔ معظم کاظمی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم روایت پرست نہیں بلکہ رو ایات شیکن ہیں ۔ آج جو ساتھی یہاں سٹیج میں بیٹھے ہیں وہ ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر لکھنے والے لکھاری نہیں بلکہ زندہ تحریکوں کے انقلابی رہنما ہیں ۔ خبریں سن کر یا واقعات کو پڑھ کے لکھنا بہت آسان ہے لیکن واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کی نشان دہی کرنا اور ان میں مداخلت کر کے انکو عوام اور محنت کش طبقے کے حق میں ہموار کرنا ہی اصل میں مارکسسٹوں کا اہم ترین فریضہ ہے ۔ روس کے زوال کے اسباب کو چھتیس سال قبل ٹراٹسکی نے اپنی کتاب انقلاب سے غداری میں تحریر کیا تھا ۔ آج پاکستان کی آگ اور خون میں ڈوبی قسمت کو ہم نے آج سے بیس سال قبل کتاب ۔ پاکستان کی ٹوٹ اور خونی لتھرے میں بیان کیا ہے ۔ اور اگر افغانستان کی موجودہ حالت کو جانا ہے تو ہماری بائیس سال قبل لکھی گئی کتاب جنیوا معاہدہ اور افغانستان کس موڑ پر پڑھیں ۔ چنگاری فورم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارہ مقصد ماسوائے ایک طبقاتی جدوجہد کے کچھ نہیں ہم ہر ظلم وہ چاہے قومی ہو ، لسانی ، مذہبی ، جنسی ، علاقائی یا کسی بھی تعصب کی بنیاد پر ہو اس اس کے خلاف ناقابل مصالحت لڑیں گئے ۔ حالیہ لاہور میں احمدیہ مساجد پر حملوں کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں سنا گیا ہے کہ چند بنیاد پرست جماعتوں نے اس الم ناک واقعہ پر مٹھائیاں تقسیم کی ہیں جو قابل مذمت اور نہایت افسوس ناک ہے جس کے ذمہ دار پاکستانی حکمران اور انکی ریاست ہیں جنہوں نے اقلیوں کے غیر انسانی قواتین بنائیں ہیں اور آج تک انکو قائم رکھے ہوئے ہیں جب تک تمام اقلتیں پاکستان کے عوام کی طبقاتی جدوجہد کا اٹوٹ حصہ نہیں بنتیں تب تک انکا دوہرا استحصال ہوتا رہے گا ۔ ہم کسی اقلیتی قانون کو نہیں مانتے ہم صرف اور صرف ایک اکثریت کو جانتے ہیں وہ ہے محنت کش طبقہ ۔ انہوں نے مزید کہا غیر ممالک میں پاکستانی محنت کشوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈی لنکے یا لیفٹ پارٹیوں میں متحریک ہوں اور پاکستان کی عوامی تحریک کو غیر ممالک کے مزدورں کا حصہ بناکر منظم کریں ۔ معظم کاظمی نے مزید کہا کہ یورپی حکمران جو انسانی بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں ، آزادی ، جمہوریت ، امن کے علمبردار کہلاوتے ہیں لیکن اگر انکا اصل مکرو چہرہ دیکھانا ہے تو غیر ممالک میں دیکھیں جیسے پاکستان میں جرمن فرم ماک نے بے تحاشہ نفع کے باوجود دو سو انسٹھ مزدروں کو صرف یونین سازی کی پاداش میں برطرف کر دیا ہے ۔اور ہم ان مزدوروں کی بحالی کی تحریک کو مزید آگے بڑھیں گئے اور انکی بحالی تک لڑائی کریں گئے ۔ معظم کاظمی کے بعد کرسٹوف نے تقریر کرتے ہوئے پاکستانی مزدوروں کی جدوجہد سے اظہار یک جہتی کیا ۔ اور کہا کہ ہم نے پہلے بھی پاکستانی مزدروں کے لیے یہاں جرمنی میں کئی تحریکوں کو منظم کیا ہے ۔ اور کئی اجتماعت کیے ہیں ہم پاکستان میں مرک فورم کے مزدوروں کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی پاکستان میں محنت کشوں کی تحریک حمائت جاری رکھیں گئے ۔ ثمینہ خان جو کہ بڑی چھوٹی عمر میں ہی جرمنی آگئی تھیں جو اردو تو بہت اچھی بول سکتی ہیں لیکن اردو لکھ پڑھ نہیں سکتیں ماسوائے جرمن کے انہوں نے کہا کہ جرمنی میں پاکستانی محنت کشوں پر جو ظلم اور نا انصافی صرف انکے غیر ملکی ہونے کی وجہ سے کی جاتی ہے اس کے خلاف ہم صرف ڈی لنکے میں منظم ہو کر لڑسکتے ہیں اور یہاں مقیم پاکستانی لوگوں کو اس میں آنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پورے حیسن میں اور جرمنی کی سطح تک بلوچستان میں جرمن فرم مرک کے خلاف تحریک منظم کریں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اسی ہفتے ریاست حیسن کی پارلیمنٹ میں یہ بات لے کر جاوں گئی اور جس ڈی لنکے کی ایم پی اے کے ساتھ یہ کام کرتیں ہیں ان کی طرف سے بلوچستان میں مرک فرم کے مزدوروں کے حق میں یہاں کے تما م اخبارات اور میڈیے میں بیاں اور پریس ریلز جاری کریں گئی ۔ ،، جس کی کاپی بہت جلد چنگاری ویب سائٹ میں پڑھ سکیں گئے ،، ۔ آخیر میں لال خان نے ایک نہایت تفصیلی پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل پر تجریہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں سرچڑھی دہشت گردی حکمرانوں اور موجودہ نظام کی پیدا کردہ ہے یہ حکمرانوں اور ریاست کی اپنی لڑائی ہے جس میں بے گناہ عوام ہلاک ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہ اگر پاکستان میں معاشی اعداووشمار دیکھیں جائیں تو موجودہ سرمایہ دار اور سامراج گماشتہ نظام حقیقت میں مر چکا ہے اسکو امریکی ٹیکوں سے زندہ رکھا جانے کی ناکام کو شیش کی جا رہی ہیں ۔ بھوک ننگ افلاس ، بے روزگاری ، خود کشیاں عوام کی اذیت اور حکمرانوں کی عیاشیاں پاکستان کے قومی نشان ہیں ۔ اس سے بدتر اور کیا ہو گا ۔ ۔۔ ۔ اور اچھا صرف ایک سوشلسٹ انقلاب ہی کر سکتا ہے ۔ لال خان نے کہا حکومتیں بے بس اور نظام ناکام ہے ۔ اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں آج پاکستان میں ایک حقیقی انقلابی پارٹی کی اشد ضرورت ہے تا کہ ایک سوشلسٹ انقلاب سے پاکستانی عوام کا مقدر بدلا جا سکے ۔ اس کے سوالات وجوابات میں دو دوستوں نے سولات کیے جس کا جواب لال خان نے احسن طریقہ سے دیا ۔ اور اس کے بعد لال خان نے بلو چستان میں مرک تحریک کے بارے میں تمام تفصیل سے آگاہ کیا اس کے بعد ایک قراد دار کی منظوری لی گئی جو سے شروع میں درج ہے ۔ اور اس طرح چنگاری فورم کا دوسرا باقاعدہ پروگرام کا اختتام نہیں بلکہ مرک کے لیے اور جرمنی میں جرمن پاکستانی مزدور اتحاد کی تحریک کا آغاز بنا ۔
تقریب کی تصویریں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں . .. . . .. .. . . . . ... . . . . . ..
">See Videos |