Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

خود کشیاں - جینے کے لیے ٹکرانا ہو گا

     خود کشیاں - جینے کے لیے ٹکرانا ہو گا
تحریر: آدم پال
چنگاری ڈاٹ کام،14.07.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں زندگی بہت حسین ہے۔ اوریہی دلفریب حسن ہر انسان کو زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔بدلتی عمر کے تقاضے، عزیز و اقارب کے پیار کی حدت،آگے بڑھنے کی جستجواور اپنی خواہشات، تمناؤں اور آرزوؤں کی تکمیل کی جدوجہد انسان کی زندگی کو حسن دیتی ہے جبکہ اس کے لیے موت ایک بہت بڑا المیہ بن جاتا ہے

۔ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ ایک لمبی زندگی گزارنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ یقیناًاس لمبی زندگی میں بہت سی خواہشات، بہت سی تمنائیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں جن کو وہ شخص پورا کرنا چاہتا ہے اور جب تک وہ زندہ رہتا ہے انہی چیزوں کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے حتیٰ کہ زندگی ختم ہو جاتی ہے

۔ لیکن گزشتہ چند عرصے سے ایسی خبریں تواتر سے دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں اورمرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اور نہ صرف خود مرتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی مار رہے ہیں۔زندگی سے اتنی نفرت، اتنی حقارت اور اتنا ظلم شاید اس روئے زمین پر کم ہی ہوا ہو جب حکمرانوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہوں جب انسانوں کو اپنے آپ سے نفرت ہو گئی ہو اور وہ حالات سے تنگ آ کر خو د کشیاں کرنے لگ گئے ہوں۔ اگر ایک رکشے والا اپنے بیوی بچوں کو زہر کھلانے کے بعدخود زہر کھا لیتا ہے، ایک عورت بچوں سمیت ٹرین کے آگے کود کے جان دے دیتی ہے اور ایک عورت اپنے سمیت اپنے تمام بچوں کو زہر کے ٹیکے لگا دیتی ہے تو یقیناًیہ ایک نارمل انسانی رویہ نہیں اور ایک ایسا انتہائی عمل ہے جس میں نا امیدی، بے چارگی، یاسیت اور غصہ اپنی انتہاؤں کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن سب سے ہولناک عمل یہ ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی جیسی خوبصورت چیز سے نفرت انتہا تک پہنچ جاتی ہے اور صرف اپنی ہی نہیں اپنے بچوں کی شکل میں جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسے زندہ رکھتے ہیں انہیں بھی مار دیتا ہے۔ حکمرانوں کے بہت سے نمائندے اور ان کے کرائے کے دانشور

یقیناًاس تمام عمل کو اپنے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں اور مختلف نفسیات کے ماہرین کو ٹی وی پر بلا کر ان سے رائے طلب کی جا رہی ہے۔ چند وزیروں نے لوگوں کو اس عمل سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے ، جبکہ قومی اسمبلی کی اسپیکر نے علماء اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ لوگوں کو اس عمل سے منع کریں۔اس کے بعد کچھ علماء اور دانشور واقعی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے منع کرنے سے خود کشیاں کم ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں صوبہ پنجاب میں 113‘ پختونخواہ میں 20‘ سندھ میں 58 اور بلوچستان میں 15افراد نے خودکشی کی ہے۔ اس صورتحال میں طرح مختلف نفسیات دان ٹی وی پرآ کر لوگوں پر اپنے علم کی بوچھاڑ کر رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی وجہ نفسیاتی بیماری اور ڈیپریشن میں ہے اور اگر متعلقہ لوگو ں کا ڈیپریشن کا علاج کروا دیا جاتا تو وہ ایسا انتہائی قدم نہ اٹھاتے۔ایسی مضحکہ خیز گفتگو میں وہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس ڈیپریشن کا علاج کروانے کی فیس ہے یا نہیں۔ لیکن ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کہ ان خود کشیوں کی بنیادی وجہ نفسیاتی اور ذہنی خلل میں ہے یا اس سرمایہ دارانہ طبقاتی نظام میں جہاں امیر اور غریب کی خلیج اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ کسی وزیر اور مشیر کو، جن پر ملک و قوم کی اتنی بھاری ذمہ داری ہے انہیں ڈیپریشن نہیں ہوتا اور وہ خود کشی کی طرف مائل ہو کر عوام کا بھلا نہیں کرتے۔ درجنوں فیکٹریوں یا بینکوں کے مالکان یا بڑے بڑے جاگیر دار جن پر دولت کا حساب رکھنے کااتنا بھاری بوجھ ہوتا ہے ڈیپریشن کا شکار ہونے کی بجائے موٹے تازے ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی بیماری کی وجہ ڈیپریشن کی بجائے بسیار خوری ہے۔کیا وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والے ایسے تمام واقعات جن کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں اور ایسے کئی واقعات جو منظر عام پر نہیں آ رہے ان میں غربت، بیروزگاری اور بھوک جیسے مسائل بنیادی نوعیت کے ہیں۔ خود کشیاں آج سے پہلے بھی ہو تی تھیں اور یقیناًاب زیادہ ہیں جن میں کوئی شخص کسی ذاتی غم ، صدمے یا مایوسی کے عالم میں جذبات کی رو میں اتنا بہہ جاتا ہے کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ محبت میں ناکامی، کاروبار میں نقصان، سماجی معیار کے مطابق گری ہوئی حرکت، امتحان میں ناکامی یاایسی ہی کسی وجہ سے مخصوص ذہنی کیفیت میں چلا جاتا ہے اور خود کشی کر لیتا ہے۔ گو کہ ان خود کشیوں کی وجوہات بھی حالات زندگی او ر نظام زر کی ہوس اور لالچ میں ہی ہیں لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے خود کشیوں کے مسلسل واقعات تصویر کا ایک اور بھیانک رخ پیش کرتے ہیں۔ جب پورا ہفتہ انسان کو بھوکا رہنا پڑے اور ہفتے بعد بھی مشکل سے اتنا کھانا مل سکے کہ سانس کی ڈور باقی رہے ۔اس کے بعد پھر ایک اورہفتہ ایسے ہی، اس میں غربت او ر مسلسل بھوک میں رہنے کی وجہ سے موذی بیماریاں ناگزیر ہیں لیکن کھانے کے لیے ہی پیسے نہ ہوں تو بیماری کا علاج کیسے ہو ، پھر مکان کا کرایہ، بجلی وغیرہ کا بل اور روزگار ڈھونڈنے کے لیے بھی توچند روپے درکار ہیں۔یہ سب چند ہفتے یا مہینے کے لیے تو انسان برداشت کر سکتا ہے لیکن مضبوط ترین اعصاب کا انسان بھی سال ہا سال تک زندگی کی یہ روش برداشت نہیں کر پاتااور جب ہر طرف سے امید ختم ہو جائے ، بیماری اور بھوک سے بچے بلبلا رہے ہوں، ایک کمرے پر مبنی شکستہ گھرکا کرایہ بھی کئی ماہ سے ادا نہ ہوا ہو، تن ڈھانپنے کے لیے چیتھڑے بھی نہ بچے ہوں تو ایسی ذہنی کیفیت میں جانا مشکل نہیں جہاں انسان یہ سوچے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی زندگی کا خاتمہ کر لے۔ یہاں زندگی حسین نہیں رہتی بلکہ انتہائی بدصورت، غلیظ اور بھیانک ہو جاتی ہے۔ بھوک اور بیماری میں ایک دن تو کیا ایک لمحہ گزارنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کا اپنا وجود اسے ایک بھاری بوجھ لگنے لگتا ہے جو وہ اس دھرتی پر اٹھائے پھر رہا ہے ۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسی کیفیت میں پہنچ جاتا ہے جب وہ اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اپنی تمام تر کوششوں اور جدوجہد کے باوجود میں اس حالت سے چھٹکارا نہیں پا سکوں گا۔ وہ سماجی طور پر تمام ناجائزغلیظ ترین اور بھیانک ترین طریقوں سے بھی اس غربت کو ختم نہ کر سکے، جہاں اسے کسی بھی سہارے سے امید باقی نہ رہے اور سفاک دنیا اس کی کسی بھی قسم کی مدد نہ کر سکے تو وہ اس بوجھ کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی انتہا تک گیا ہے اس کے آس پاس ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ ہیں جو اس انتہا تک شاید نہیں پہنچے لیکن ان کی زندگیاں بھی کم بد صورت اور بھیانک نہیں۔وہ بھی اسی درد اور تکلیف میں زندہ ہیں لیکن کوئی امید انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنی جان لے کر خو د کشی تو نہیں کرتے لیکن اپنی بہت سی آرزوؤں ، خواہشات اور تمناؤں کو قتل کر چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس خواہش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر چکے ہیں کہ انہیں ہر روز کھانے کے لیے کچھ ملے گا، دو چار دن بعد تھوڑا سا مل جائے تو بہت ہے۔ بہت سے لوگ اس تمنا کو قتل کر چکے ہیں کہ وہ اپنی بیماری کا علاج کروانے کی کوشش کریں گے، اس آرزو کو دفنا چکے ہیں کہ ان کے بچے صحت مند ہوں گے ۔ اس سماج میں رہنے والوں کی اکثریت ہر روز اپنی چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشات سے لے کر زندہ رہنے کی بنیادی خواہش کو قربا ن کر رہی ہے۔ ہر شخص ہر روز تھوڑا تھوڑا مر رہا ہے۔ زندہ رہنے کا مطلب صرف کھانے پینے، تن ڈھانپنے اور سر چھپانے تک محدود رہ گیا ہے جبکہ در حقیقت زندگی کی سانسوں کو جاری رکھنا زندگی نہیں ہے۔ زندگی کے جس حسن کی بات کی جاتی ہے وہ کھانا کھانے اور جنسی عمل کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ دنیا کی رعنائیوں میں بھرپور کردار ادا کرنے ، اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کومکمل استعمال کرتے ہوئے ان کی تعبیر دیکھنے اور اس سماج کی بڑھوتری میں اپنا کردار ادا کرنے کے متعلق ہے۔لیکن زندگی کا یہ حسن اب اس خطے سے ختم ہو رہا ہے ۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے زندہ رہنے کا مطلب اپنی خواہشات کو مسلسل ختم کرتے رہنا ہے۔ جب کوئی بچہ اچھی خوراک یا اچھے کپڑوں کی خواہش کرتا ہے لیکن یہ سماج اسے نہیں دے سکتا تواس کے لیے زندگی کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جب وہ اچھی تعلیم اور اچھے روزگار کی خواہش کرتا ہے تو یہ سماج اسے اس خواہش کے کبھی نہ پورا ہونے کی یقین دہانی کروا دیتا ہے۔ جب کوئی باپ ایک طرف اپنے بیمار بچے کے درد سے بھرے آنسوؤں کو دیکھتا ہے اور دوسری جانب ہسپتال کے سامنے اپنی خالی جیب کو دیکھتا ہے تو یقینااس کا دل خون کے آنسو روتا ہے اور اس کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی ماں بھوک سے بلکتے بچے کو دیکھتی ہے اور اس کے پاس دینے کے لیے ایک نوالہ بھی نہیں ہوتا تو اس کے دل کی دھڑکن خواہ چلتی رہے لیکن اس میں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے اور اس سے بھی زیادہ کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا۔ جو لوگ ہر لمحہ ، ہر پل مر رہے ہیں کیا وہ سب آخر کار خود کشی کر لیں گے اور سب مر جائیں گے۔ نہیں ! وہ ایسانہیں کریں گے ۔ وہ زندہ رہیں گے ۔اور وہ ابھی تک زندہ بھی اسی لیے ہیں کہ کیونکہ ان کے اندر زندہ رہنے کی خواہش اور اپنی زندگیوں کو تبدیل کرنے کی آرزو ختم نہیں ہوئی اور ان ظالم حکمرانوں کی تمام کوششوں کے باوجود ختم نہیں ہو گی۔ ان آنسوؤں سے بھری نمناک آنکھوں میں ایک خواب ابھی بھی زندہ ہے۔ایسا خواب جو انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے ۔ ایک ایسی زندگی کا خواب جس میں تکلیفیں اور مشکلات نہ ہوں ، جس میں دکھ ، درد اور مصائب و الم ختم ہو جائیں۔ ایسی زندگی جس میں امیر اور غریب کا فرق ختم ہو جائے ، جس میں ظالم اور مظلوم طبقات نہ ہوں۔اسی خواب کے لیے وہ اپنی زندگیوں کو بدلنے کی جدوجہد کریں گے۔ جو جدوجہد وہ انفرادی طور پر کر رہے ہیں ، لیکن ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے ، وہی جدوجہد وہ اجتماعی طور پر کریں گے۔اس بھوک ، بیماری اور ظلم کو ختم کرنے کے لیے جب وہ سب مل کر باہر نکلیں گے تو اپنا حق مانگیں گے نہیں بلکہ چھین کے لیں گے۔اپنے اس خواب کی تعبیر کے لیے جب وہ ان حکمران طبقات کی جانب پیش قدمی کریں گے جو ان عالیشان محلوں میں رہتے ہیں ہیں جن کی بنیادوں میں ان کا خون ہے، جن باغات میں وہ چہل قدمی کرتے ہیں وہاں ان کی خواہشات کو روندا گیا ہے اوران گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں جوان کے پسینے کو بیچ کر حاصل کی گئی ہیں۔ ان لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کی امید ابھی باقی ہے اور انہیں اپنی منزل کا علم ہے ، وہ صرف رستہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ایسا رستہ جو انہیں ایک ایسی زندگی کی طرف لے جائیں جہاں غم ، بھوک ، بیماری اور جہالت کا وجود تک نہ ہو۔ یہاں کے حکمران، مروجہ سیاسی قیادتیں اور کرائے کے دانشور انہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی رستہ نہیں اور ان کو یا تو ان تکلیفوں کو برداشت کرنا ہو گا یا پھر مر جانا ہو گا۔ ملا انہیں صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اس تلقین کے عوض اپنی تجوریاں بھرتے جاتے ہیں۔ لیکن وہ صبر کیسے کرے جس کے جگر کا ٹکڑا اس کے سامنے دم توڑ رہا ہو، وہ کیسے یقین کرلے کہ یہ ظلم ایسے ہی چلتا رہے گا۔ حکمران محنت کش طبقات سے سب کچھ چھین سکتے ہیں لیکن ان کے خواب نہیں۔وہ سلگتی آنکھوں سے یہ خواب ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں اور اب اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان خوابوں کی منزل ایک سوشلسٹ انقلاب ہے ۔ یہی وہ واحد رستہ ہے جو انہیں اور ان کی آنے والی نسلوں کواس ظلم اور جبر سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔اسی رستے پر چلتے ہوئے وہ اپنے طبقے کے تمام مظالم کا انتقام ان حکمرانوں سے لے سکتے ہیں۔پھر صبر اور برداشت کی تلقین ان حکمرانوں کے لیے ہو گی جن سے ان کی تمام دولت اور جائداد چھین کے عوام کی فلاح کے لیے خرچ کی جائے گی۔ایک ایسا نظام قائم کیا جائے گا جہا ں روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم ہر شخص کو دینا اس سماج کی ذمہ داری ہو گا۔اور پھر اس سماج میں ہی انسان اپنی زندگی کو حسین اور دلفریب بنائے گا۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کی فلاح اور بڑھوتری کے لیے کام کرے گا۔یقیناًاس سماج میں انسان اپنی زندگی اس طرح جیے گا جیسے جینے کا حق ہے۔ لیکن اس سے پہلے اس ظلم اور بربریت سے بھرے سماج میں بھرپور زندگی گزارنے کا واحد مقصد اس سماج کو بدلنا ہے اور اس خواب کی تعبیر کرنا ہے جو اس سیارے پر بسنے والے کروڑوں لوگوں کی آنکھوں میں سلگ رہا ہے۔

Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved