Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
Total Donations
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا عالمی دن

 آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا عالمی دن
تحریر:
کامریڈ سمیرا،04.03.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسا نی معا شر ت‘ تہذ یب وتمد ن اور ز ند گی کو عا لمی سر ما یہ دا ری نظا م اور منڈی کی معیشت نے تاریخ کے بد تر ین استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ موجودہ عا لمی معا شی بحران نے جہا ں پر نسل انسا ن کو استحصال کا نشا نہ بنا یا ہے و ہا ں پر سما جی تعلقات اور راویا ت و رسوم وراج کو بھی بڑی تیزی سے بو سید ہ کیا ہے ۔تیسر ی دنیا کے مما لک میں جہا ں نہ تو جا گیر داری کو مکمل طور پر اکھا ڑا جا سکا اور نہ ہی سر ما یہ دا رانہ نقلاب مکمل ہو سکا ،ما ضی کی فر سو دہ رسوم راوج اور روایا ت سے آج بھی سماج پر انے نظام میں جکڑا ہوا ہے۔اس سما جی بحران نے مردوں اور عورتو ں کے تعلقات کو غیر انسا نی بنا دیا ہے اور انسانوں کے درمیان روپے پیسے کے علاوہ کوئی تعلق نہیں رہنے دیا۔ موجودہ نظام میں انسا نی زند گی اجنبیت کا شکا ر ہے اور ہر کوئی دوسروں کو کچلتے ہوئے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی طرح اگر کسی سما ج کے طر ز حکمر انی کو دیکھنا ہو تو اس کا اندازہ و ہا ں کی عو ر ت کی حیثیت سے ہو تا ہے۔ اس سرمائے کے غلام نظام اور منڈی کی معیشت میں مر د اور عو رت کو بر ابرکے حقوق حا صل نہیں بلکہ اس معیشت اور سما ج میں عورت ایک کمتر جنس کی حیثیت سے موجود ہے۔ معیشت پر سر ما ئے کا غلبہ ہے اور سما ج پر مر دو ں کا غلبہ ہے اور عورت کو نجی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ ہما رے معا شروں میں جہا ں لوگ ابھی تک جا گیرداری اور قبا ئلی نظا م سے چھٹکا را نہیں پا سکے و ہا ں غر بت اور جہا لت کی آلا ئشو ں میں عو رت کی حالت اورزیا دہ نا گفتہ بہ ہے۔ بیروزگا ری ،لا قا نو نیت، دہشت گردی، انتشار، کر پشن، لو ٹ کھسو ٹ اس معا شرے کا معمو ل بن چکا ہے جس میں یہ تمام مسائل اپنی بد ترین شکل میں عو رت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کا روکا ری، غیرت کے نام پر قتل اور اس جیسے انسا نیت سوز رسوم رواج بھی عو رت پر تلو ار بن کر لٹک رہے ہیں اور اسے جنسی اور جسما نی تشدد کا نشا نہ بنا یا جا تا ہے۔ لیکن عور توں پر ہونے والے یہ تمام مظالم اور سماج کے عمومی معاشی و سماجی مظالم اور جر ائم سر ما یہ دا ری کے استحصالی نظام کی جڑوں سے پھوٹتے ہیں۔ اس ظلم پر بنیاد پرست اور رجعتی قوتوں کی بربریت ان محنت کش خواتین پر ایک اور عفریت نازل کرتی ہے۔ پہلے ہی لڑکیوں کی تعلیم کی شرح انتہائی کم اورغیر معیاری ہے اس پر لڑکیوں کے سکولوں کو بم دھماکوں سے مسمار کیا جا تا ہے۔ انہیں مزید خوفزدہ کیا جاتا ہے اور ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا ایک اذیت ، ایک عذاب بن جاتا ہے۔جس ملک کی آبادی کا ایک بڑاحصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہو اور بنیادی ضروریات کا محتا ج ہو وہاں چادر اور چار دیواری کا درس دیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ جن خواتین کے پاس رہنے کے لیے مکان ہی نہیں وہ چار دیواری میں کیسے رہیں؟ دوسری طرف نام نہاد آزاد میڈیا پر عورت کو ایک جنس بنا کر پیش کیا جاتا ہے جہاں اس کی نمائش کر کے مختلف مصنوعات کو خریدنے کا لالچ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے بناؤ سنگھار اور انہیں ایک نمائشی جنس بنانے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ دنیا کی بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بڑا کا رو با ر عو رتو ں کی ز بیا ئش، بنا ؤ سنگھا ر، زیورات اور افزائش حسن کی مصنو عا ت تیار کر نے اور فروخت کر نے سے وابستہ ہے مگر اس کا بھی اصل مقصد جیو لرز اور کا سمیٹکس کی صنعتیں چلا نے اور منا فع کما نے کے لیے ہو تا ہے یہ بھی سامر اجی اور سرمایہ دارانہ گلو بلائزیشن کا کر شمہ ہے جس میں عو رت سب سے آ سا ن نشا نہ ہے۔ اسی طرح ان مصنوعات کی تشہیر اور فروخت میں اضافے کے لیے کے لیے مختلف قسم کے مقابلہ حسن منعقد کرائے جاتے ہیں جو عورت کی تذلیل ہے۔ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اگر چہ بہت سی انسا نی حقو ق اورخواتین کے حقوق کے لیے نام نہاد کوشش کرنے والیNGOsان زیا دتیو ں کے خلا ف آواز بلند کر تی ہیں لیکن در اصل وہ ان مظلوم عورتوں کے دکھوں کو اپنے مفا دات کے لیے مہنگے دا مو ں فروخت کر تی ہیں اوران محنت کش خواتین پر ہونے والے مظالم کی تشہیر کر کے بڑی رقمیں بٹورتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے قانون نا فذکر نے والے ادارے خود لا قا نو نیت پر پل رہے ہو تے ہیں۔ جہا ں کہیں بھی حقو ق نسو اں کی تحر یک چل رہی ہو تی ہے وہ امیر طبقے کی عورتو ں اور ان کے نمائندوں کے ہا تھو ں استعمال ہو رہی ہو تی ہیں ۔ ان امیر طبقے کی خواتین کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے اور یہ حکمران طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔ اسمبلیوں میں اس طبقے کی خواتین کو نمائندگی دے کر یہ دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے بہت بڑی پیش رفت کی گئی ہے جبکہ در حقیقت یہ خواتین صرف سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی ترجمانی کرتی ہیں اور محنت کش خواتین سے ان کا دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ مختلف این جی اوز اور حکمرانوں کے ایوانوں سے وابستہ یہ خواتین موجودہ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام میں چند آئینی ،اخلاقی ، سماجی اور دیگر اصلاحات کر کے عورتوں کو ان کا جائز مقام دلانا چاہتی ہیں جبکہ اس سرمایہ دارانہ نظام اور منڈی کی معیشت کی بنیاد ہی کمزور کا استحصال کرنے پر ہے۔ سر ما یہ دارانہ انقلا ب کے بعد سر ما یہ دا ر سب سے پہلے جس چیزکے متلا شی تھے وہ عو رتو ں اور بچوں کی سستی لیبر تھی جس کا بر اہ راست مقصد سر ما ئے کے لیے محنت کشو ں کے خا ند ان کے ہر فر د کو عمر اور جنس کی تمیز کیے بغیر بھر تی کر کے اجرتی مزدورں کی تعداد میں اضافہ کر نا تھا۔ ان سر مایہ دا ر وں کے ہا تھو ں جبری مشقت نے نہ صر ف بچو ں کی معصومیت اور کھیل کو د کو غصب کیا بلکہ اپنے منا فع کو بڑ ھا نے کے لیے محنت کش خو اتین کوانتہا ئی کم اجر ت پر کا م کرنے پر مجبو ر کیا۔ جبکہ فیکٹری اور کام کی جگہ پر ان کے حقوق بہت ہی محددو ہو تے تھے ۔ یہ خواتین اس وقت سے اب تک انتہا ئی غیر انسا نی اور نا مسا ئد حالا ت میں کا م کر تی ہیں ۔ سر ما یہ دا روں نے محنت کش خو اتین کو سستی محنت اور بڑے منافعوں کا ذریعہ بنایا ۔ سر ما یہ دا ری کے موجودہ بحران سے محنت کشو ں اور ان کے خا ندانو ں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں جس سے پھر محنت کش خواتین سے انتہائی کم تنخواہ، ظالمانہ اوقات کار اور مراعات کے بغیر کام لیا جا رہا ہے۔پا کستا ن میں محنت کش خو اتین جوکھیتو ں میں، فیکٹر یو ں میں اور دفتر وں میں کا م کر تی ہیں نہ صر ف غیر منظم ہیں بلکہ انہیں مرد محنت کشو ں سے چالیس فیصد کم اجر ت ملتی ہے۔ یہاں تیس لاکھ گھر یلو ملا زمہ تین ہزار ما ہوا ر تک کما تی ہیں۔ تہتر فیصد خو اتین کھیتو ں میں کام کر تی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی حالت دنیا میں بد ترین ہیں جہاں ہر سال پانچ لاکھ خواتین زچگی اور حمل کی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں جبکہ مزید دو لاکھ خفیہ اور غیر پیشہ وران طریقوں سے اسقاط حمل کے دوران مر جا تی ہیں۔ اس معاشرے میں عورت کی پیدائش کو ہی جرم تصور کیا جاتا ہے جس کی عکاسی کل آبادی میں عورتوں کی شرح میں بھی ہوتی ہے۔ ورلڈ بینک کی دو ہزار چھ کی ایک رپورٹ کے مطابق کل آبادی میں خواتین کی شرح آڑتالیس اعشاریہ پانچ فیصد ہے، یعنی یہاں ہر سو مردوں کے مقابلے میں ستانویں خواتین ہیں۔ ان میں سے بھی چالیس فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بالیس فیصد خو اتین پڑھی لکھی ہیں یعنی اپنا نام لکھ سکتی ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ کم ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سکول میں داخل ہونے والی لڑکیوں میں سے صرف بائیس فیصدپرائمری تک تعلیم مکمل کر پاتی ہیں۔ لیکن یہ محنت کش خو اتین جہاں دوہرے ظلم کاشکار ہیں وہاں اپنے حا لات کو تبد یل کرنے کے خو اب بھی دیکھتی ہیں اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان خواتین نے بہت بڑے انقلابات کا آغاز کیا ہے اور اپنے حقوق کے لیے بہت بڑی ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ایک روایت کے مطابق پہلی با ر محنت کش خو اتین نے آٹھ مارچ آٹھارہ سو ستاون کو نیو یارک میں احتجا ج کیا تھا جس میں گارمنٹ کی صنعت سے وابستہ خواتین نے کم تنخواہوں اورکام کے غیر انسانی حالات کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ ان مظاہرین کو پولیس نے منتشر کر دیا تھا جس کے دو ماہ بعد ان خواتین نے اپنی پہلی یونین بنائی تھی۔ اس کے بعد کے سالوں میں بھی آٹھ مارچ کو خواتین کے بڑے احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے۔ آٹھ مارچ انیس سو آٹھ کو نیو یارک میں ہی پندرہ ہزار خواتین نے تنخواہوں میں اضافے، اوقات کار میں کمی اور ووٹ کے حق کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ ا سکے بعد میں سو شلسٹ پا ر ٹی آف امر یکہ نے ان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کے دن کی بنیاد رکھی۔ انیس سو دس میں دوسری انٹرنیشنل کے ایک اجلاس میں محنت کش خواتین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد انیس سو گیارہ میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے آسٹریا،ڈنمارک،جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں یہ دن منایا۔ اب ہر سال آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جا تا ہے۔ انیس سو ستر میں روس کے عظیم انقلا ب کا آغاز اس وقت ہوا جب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر محنت کش خو اتین ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں اور اس انقلابی تبدیلی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے زارِ روس کا تختہ الٹا اور پھر وہ بالشویک پارٹی کی قیادت میں سوشلسٹ فتح پر منتج ہوا۔ آج بھی محنت کش خو اتین کی حقیقی آزادی اسی صو رت ممکن ہے جب وہ اپنے سا تھی محنت کش مزد روں کو سا تھ لے کر اس سرمائے کے جبر کا خاتمہ کریں اور وہ انقلاب برپا کریں جو بنیاد پرستی اور رجعت کے ساتھ ساتھ خواتین کو نمائش کی جنس اور نجی ملکیت کی زنجیروں سے آزاد کروا کر اسے ایک انسان کا رتبہ دلا سکے۔ ا گر ان خواتین کی اس نظام سے نفرت بغاوت میں بدل گئی اور اس بغاوت کو محنت کش مردوں کا ساتھ اور انقلابی پارٹی کی قیادت میسر آگئی تو یقینایہ خواتین سما ج کادھا را بد ل کر ایک نیا سو شلسٹ سما ج تعمیر کر یں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطا لبا ت و پروگرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ خو اتین کے خلاف تمام امتیا زی رجعتی قو انین منسو خ کیے جا ئیں ، ، ، ، ، خو اتین کو مسا وی اجر ت اور روزگار کے مسا وی مو اقع مر دو ں کے بر ابر مہیا کیے جا ئیں گھریلو اور صنعتی محنت میں تفریق کا خاتمہ کیا جائے ۔،۔ ۔ ، ، ،، ، ، کم عمر کی شا دی پر پا بند ی عائد کی جائے اور شا دی کی کم از کم عمرآٹھارہ سا ل مقر ر کی جائے زچگی سے تین ما ہ پہلے اور تین ما ہ بعد مکمل تنخواہ پر ر خصت دی جا ئے ۔ ، ، ، ، ، ،، ، مردو ں کی طر ح عو رتو ں کو طلا ق کا حق دیا جا ئے ۔ ، ، ،، ، ، ، ،۔ ریلوے،پی ٹی سی ایل ،ٹیچنگ،نرسنگ سمیت تمام اداروں کی نجکا ری ختم کر کے تما م ملازمین کو مستقل کیا جائے لیڈی ہیلتھ ورکر ز کو مستقل کیا جائے اور ان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی کم از کم اجرت سات ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے بے ضا بطہ سکیڑ میں یو نین سا زی کا حق د یا جا ئے اور لیبر قو انین کا اطلاق کیا جا ئے ۔ ، ،، ، ، ، ، ، ، ، بیرو زگار خواتین کو روزگار یا پھر دس ہزار روپے ماہانہ بیروزگاری الاؤنس دیا جائے ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تما م اداروں میں خو اتین کو اوپن میر ٹ پر دا خل ہونے کا حق دیا جا ئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہو سٹلو ں اور ٹرانسپو ٹ کے کر ائے ختم کیے جا ئے اور طبقا تی نظام تعلیم ختم کر کے یکساں نظام تعلیم را ئج کیا جا ئے ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تعلیمی اداروں سے کلا شنکوف کلچر اور نجکاری ختم کی جا ئے ۔،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام محنت کش خواتین اپنے ساتھی محنت کش مرد ساتھیوں کے سا تھ مل کر ایک سو شلسٹ انقلا ب کے ذریعے سر ما یہ دارانہ نظام کے خا تمے اور طبقا ت سے پا ک معا شرے کے قیا م کے لیے جدوجہد کریں
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved