پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر۔ حکمرانوں کی یا محنت کشوں کی؟
تحریر:
کامریڈمشتاق احمد خان،07.02.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چئیرمین جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور برانچ ،۔ ،۔ ۔ ۔ پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیاں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوس، ریلیاں ، سیمینار اور دیگر پروگرام تشکیل دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر چند سال پہلے شروع کیا گیا۔ شروع شروع میں صرف سیاسی پارٹیاں اپنے طور پر پروگرامات کرتی تھیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر بھی اس دن کو منانے کی ابتدا ہوئی۔ اس طرح یہ دن پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور حکومتی زعماءکے لیے اہمیت اختیار کر گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کیوں منایا جاتا ہے؟ اور گزشتہ چند سالوں میں اس دن کے حوالے سے جو سرگرمیاںہوئیں ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ اگر ہم اس دن پر تفصیلی غور و غوص کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے اس دن کو اس لیے منانا شروع کیا کیونکہ پاکستان کے محنت کش عوام کی کشمیریوں سے وابستگی کو بنیاد بنا کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔ کیونکہ کشمیری عوام کی تاریخی ، سیاسی جدوجہد جو کشمیر کی آزادی‘ خوشحالی اور ایک شاندار مستقبل کے لیے ہے‘ اس نے پاکستان کے عوام پر تاریخی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے جس نے پاکستانی عوام کے دلوں میں کشمیریوں کے لیے زبردست ہمدردی، یکجہتی، کے جذبات پیدا کیے۔اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے پہلے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور بعد میں ہر آنے والی حکومت نے اس دن کو منایااور آج بھی یہ عمل جاری و ساری ہے۔ اب ہم سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ وہ کیا وجہ ہے کہ جس کی بنیاد پر کشمیری عوام تاریخ کے میدان میں اترے اور لازوال جدوجہد شروع کی۔ اس جدوجہد کی پاداش میں کشمیر ے دونوں اطراف ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوئے اور اس سے زائد زخمی ہوئے۔ کشمیری جانی و مالی قربانیوں کے باوجود اپنے وہ مقاصد حاصل نہ کر پائے مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں مزید جوش و جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا تھا کہ انسانی تاریخ درحقیقت طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔ اس صورت حال میں اگر ہم دیکھیں تو کشمیری عوام کی موجودہ لڑائی کشمیر کی پانچ ہزار سالہ معلوم تاریخ کی جدوجہد کا تسلسل ہے یعنی ظالم اور مظلوم کی لڑائی‘ زبردست اور زیر دست کی لڑائی‘ امیر اور غریب کی لڑائی۔ ہر عہد میں کشمیری محنت کشوں نے اپنی تاریخی مزاحمت سے اپنی آزادی کی تڑپ کو عیاں کیا ہے۔ کشمیری عوام آج صرف ہندوستانی حکمران طبقے کے خلاف بر سر پیکار نہیں ہیں بلکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام‘ امریکی سامراج سمیت دنیا بھر کے حکمران طبقے بشمول کشمیری حکمران طبقے کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ انیس سو سنتالیس میں جب برصغیر کے عوام نے زبردست طبقاتی جدوجہد کے ذریعے انگریز سامراج کو ہندوستان سے بھاگنے پر مجبور کیا تو انگریز سامراج کو یہ محسوس ہو گیا تھا کہ اب برصغیر میں ایک مزدور راج قائم ہو کر رہے گا اور اگر ایسا ہوا تویہ ہمارے نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو گا اس لیے انگریزوں نے ہندوستان کو شعوری طور پر تقسیم کیا تاکہ ہندوستان کے عوام کے درمیان طبقاتی جڑت پیدا نہ ہو۔ اس دنیا کے نقشے پر دو ریاستیں وجود میں آئیں۔اس دوران لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور لاکھوں لوگ ہی موت کی وادیوں میں کھو گئے۔ اس تمام صورت حال سے کشمیر بھی شدت کے ساتھ متاثر ہوا۔ اور فرقہ وارانہ فسادات میں کشمیری ہندوو¿ں اور مسلمانوں نے برصغیر کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی ایک دوسرے کے گلے کاٹے اور کشمیر بالآخر تقسیم ہو گیا۔ کشمیر میں جاری اس سارے عمل کے دوران ہی ہندو ستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک دنیا کے نقشے پر ابھرے ۔ ان دو ممالک کے عوام کی کشمیر سے جذباتی وابستگی تھی۔ ان دونوں ممالک کے حکمران طبقے نے کشمیر اور کشمیر کی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنا شروع کیا اور اپنی عیاشی جاری رکھی۔ کشمیر کے مسئلے کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں اور اس مسئلے کو لے کر دونوں طرف کے حکمرانوں نے اسلحہ کی تجارت میں اپنا منافع کمانا شروع کر دیا۔کشمیر ایشو دونوں طرف کے حکمرانوں کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا۔ مگر بالآخر کشمیر میں سیاسی ہلچل شروع ہوئی اور کشمیری عوام آزادی کی لڑائی میں زیادہ شدت کے ساتھ شامل ہو ئے۔ اس آزادی کی لڑائی میں زیادہ کردار کشمیری عوام کے قومی ہیرو مقبول بٹ شہید کی قیادت کا تھا۔مقبول بٹ شہید کی قیادت میں منظم ہوتے ہوئے کشمیر ی عوام زبردست جدوجہد کر رہے تھے اور جن مقاصد کے حصول کے لیے وہ لڑ رہے تھے ان مقاصد کا ذکر مقبول بٹ شہید نے اس انداز میں کیا تھا‘ ”میں ظلم، جبر، استحصال اور دولت پسندی کےخلاف بغاوت کا مرتکب ہوا ہوں“۔ اور مقبول بٹ شہید نے بار ہا اپنے مختلف انٹرویوز میں کہا تھا کہ کشمیری عوام کی سیاسی جدوجہد ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ ظلم، جبر، استحصال اور دولت پسندی درحقیقت محنت کش عوام نہیں کرتے بلکہ یہ حکمران طبقے کا شیوہ ہوتا ہے اور اسی حکمران طبقے کے خلاف مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں نے لڑائی لڑی تھی۔ اسی لڑائی اور جدوجہد کی پاداش میں دونوں اطراف کے حکمران طبقے نے مقبول بٹ کو ایک دوسرے کا ایجنٹ قرار دیا مگر مقبول بٹ نے کہا کہ میں اپنے ضمیر کا ایجنٹ ہوں۔ ناقابل مصالحت لڑائی کا انجام بالآخر بٹ شہید کی شہادت پر ہوا۔ مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بٹ شہید کے نظریات آگ کی طرح عوام میں پھیلے اور بالآخر زبردست طاقت حاصل کر گئے ۔ ایسے میں کشمیر اور پاکستان میں بھی بٹ شہید کے نام کو استعمال کرنا شروع کر دیا گیا اور مقبول بٹ شہید کی زبردست عوامی مقبولیت اور نوجوانوں کے دلوں میں بٹ شہید کے راستے پر چلنے کی تڑپ کو محسوس کرتے ہوئے حکمران طبقے نے کشمیری عوام میں گوریلا جنگ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پہلے لبرل سیکولر اور کشمیر ی عوام کی خود مختاری کی لڑائی کی بات کرنے والی تنظیم کی حمایت کی گئی اور پھر مذہبی عناصر کو اس تحریک میں شامل کر لیا گیا۔ مذہبی عناصر کو اس تحریک میں شامل کرنے کی اصل وجہ کشمیری قوم پرست سیاسی پارٹیوں کی زبردست عوامی حمایت تھی۔یہ صورتحال ایک طبقاتی کشمکش کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے گلی کوچوں میں لڑائی کی تپش محسوس کی جا رہی تھی۔ایک بار پھر برصغیر لازوال طبقاتی جڑت میں جڑنے جا رہا تھا۔ حکمران طبقے نے مذہبی عناصر کو مختلف گروپوں کی صورت میں کشمیری تحریک آزادی میں شامل کر کے اس سیاسی ، لڑائی کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔ یہ سارا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ درست نظریات ، طریقہ کار، لائحہ عمل اور حکمت عملی در حقیقت مقاصد کے حصول کو ممکن بناتے ہیں اور اگر سیاسی جدوجہد میں خامیاں ہوں تو اس کا نتیجہ سوائے بربادی کے کچھ نہیں نکلتا۔ جب کشمیری عوام کی سیاسی‘ معاشی جدوجہد کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا تو پاکستا ن کی ایک مذہبی سیاسی جماعت نے پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات اور کشمیری عوام کے مذہب کو بنیاد بنا کر اپنے لیے عوامی حمایت کے حصول کے لیے ہر سال یوم یکجہتی کشمیر کا دن منانے کا آغاز کیا۔رفتہ رفتہ دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی اس دن کو منانا شروع کر دیا اور پھر حکومتی سطح پر بھی یہ دن منایا جانے لگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طریقہ کار اور اس طرح دن منانے سے کشمیری عوام کی نجات ممکن ہے؟ یقیناً نہیں ۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو شاید بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ کشمیری عوام سے یکجہتی در حقیقت صرف پاکستان کے محنت کش عوام کو ہی نہیں ہندوستان کے محنت کشوں کو بھی کرنی ہوگی۔ کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے محنت کشوں کے استحصال میں ان کے حکمران طبقات کشمیر کو استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت جب تک پاکستان اور ہندوستان آزاد نہیں ہوتے کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ آج در حقیقت پاکستان، ہندوستان اور کشمیری عوام کی نجات طبقاتی جڑت میں ہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کر کے ہی بر صغیر کے عوام اپنے زخموں کا انتقام لے سکتے ہیں اور ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں جہاں انسان حقیقی معنوں میں آزاد ہو گا۔ اور تمام تر مذہبی، علاقائی، قومی اور لسانی تعصبات سے آزادہو گا۔ آج پاکستان کے عوام کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ کشمیری عوام سے یکجہتی کی بنیاد اور طریقہ کار کیا ہو گا۔ کیا یکجہتی حکمران طبقے کے نقطہ نظر پر کی جانی چاہئے۔ یا محنت کش عوام کو اس پر خود سوچنا ہو گا کہ ان کے کیا مفادات ہیں۔ آج عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے پوری دنیا کی صورتحال کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ آج حکمران طبقہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش اختیا رکر سکتا ہے۔ تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ بینک بیلنس بنا سکتاہے حتیٰ کہ دنیا کے کسی ایک ملک کا سرمایہ دار اور امیر آدمی در حقیقت عملی طور پر کسی ایک ملک اور ایک قوم کا نمائندہ نہیں ہے۔ مگر محنت کش عوام کے لیے قدم قدم پر رکاوٹیں ہیں وہ اگر ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہیں تو انہیں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ چہ جائکہ وہ کسی ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کریں۔ اگر محنت کش عوام ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی بات کریں تو انہیں قومی‘ مذہبی‘ علاقائی اور لسانی تعصبات میں الجھا کر ان کا مزید استحصال کیا جاتا ہے۔ جبکہ حکمران طبقہ تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر پوری دنیا میں عیاشی کرتا پھرتا ہے اور محنت کش طبقے کو غلام بنا کر اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر رہا ہے تو محنت کش طبقے کو بھی اپنے لیے ایک طبقہ بننا پڑے گااور طبقاتی بنیادوں پر آپس میں یکجہتی پیداکرنی ہو گی۔پاکستان کے محنت کش عوام کی طبقاتی بنیادوں پر کشمیری عوام سے یکجہتی سے صرف کشمیری عوام کی نجات نہیں ہو گی۔ درحقیقت پاکستان کے عوام کی نجات بھی ہو گی۔ کیونکہ آج آزادی اور نجات کی ضرورت صرف کشمیری عوام کو نہیں پاکستانی عوام کو بھی ہے۔ کیونکہ غربت، بیروزگاری، بیماری، جہالت، دہشت گردی، بنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی نے آج پاکستانی عوام کی حالت قابل رحم بنا دی ہے۔ مگر پاکستانی محنت کش یقیناً ایک عظیم تاریخی روایات کے حامل ہیں اور یقیناً یہ محنت کش سرمایہ دارانہ نظام ، حکمران طبقے اور اس حکمران طبقے کے آقا امریکی سامراج کو شکست فاش دیں گے اور طبقاتی بنیادوں پر کشمیری عوام سے جڑت اور یکجہتی پیدا کر کے سوشلسٹ انقلاب برپا کریں گے۔ کیونکہ یہی انقلاب محنت کش طبقے کی نجات کا ذریعہ ہو گا۔