پاکستان کا بحران ۔ برق گرتی ہے ہم غریبوں پر ہی کیوں؟
تحریر:
آدم پال،04.02.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کا نمونہ اس ماہ کے بجلی کے بلوں میںنظر آئے گا ۔ جب بارہ فیصد اضافے کے ساتھ نئے ریٹوں پر اس بجلی کے استعمال کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی جو کبھی کبھی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں بھی چار روپے فی لیٹر کااضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت میں موجود وزیروں اور مشیروں کے بقول اس اضافے سے عوام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ غالباً ان کی عوام سے مراد ان کے گھر کے افراد ہیں اور جنہیں یقیناً کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ ان کی آسائشوں کے لیے یہ بد عنوان سیاسی مداری دن رات لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ لیکن ان لاکھوں لوگوں کو بہت زیادہ فرق پڑے گا جواس بجلی کی قیمت میں اضافے کے بعد فیکٹریاں بند ہونے کے باعث بیروزگار ہو جائیں گے۔ ان بہت سے بچوں کو فرق پڑے گا جن کے والدین ان کی تعلیم کا خرچہ برداشت نہیں کر پائیں گے اور انہیں بچپن میں اب علم کی بجائے مزدوری تلاش کرنی پڑے گی۔ مہنگائی کی اس نئی اور ہولناک لہر سے ہزاروں لوگ غربت کی گہرائیوں میں مزید غرق ہو جائیں گے۔ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کا علاج نہیں کروا پائیں گے اور قابل ِ علاج مرض ہونے کے باوجود انہیں موت کے منہ میں جاتا ہوا دیکھیں گے۔ لیکن ان حکمرانوں کے ایوانوں میں بسنے والے ان انسانوں کے روپ میں موجود خونخوار بھیڑیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ دولت کی پوجا جاری رکھیں گے اور اپنی ہوس مٹانے کے لیے لاکھوں لوگوں کے خون کی ہولی کھیلتے چلے جائیں گے۔ ان ظالموں نے عوام کو”فائدہ“ پہنچانے کا ایک منصوبہ بھی بنایا ہے جس سے لوڈ شیڈنگ ختم ہو نے کے بلند وبانگ دعوے بھی کیے جارہے ہیں۔ اس ”عظیم“ منصوبے کو ذرا غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے کی آڑ میں یہ عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے بجلی گھر پانچ سال کے لیے کرائے پر لیے جائیں گے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت بجلی کا ایک یونٹ پانچ اعشاریہ چوون روپے کا ہے وہ دو سال بعد ستاسی فیصد اضافے کے ساتھ دس اعشاریہ تیتیس روپے کا ہو جائے گا۔ یعنی جس گھر کا بل اس وقت ہزار روپے ہے وہ دو سال بعد انیس سو روپے کے قریب ہو جائے گا۔ لیکن اس میں بھی مزید اضافہ اس لیے ممکن ہے کیونکہ اس حساب میں ڈالر کی قیمت میں اضافے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ اگر اگلے دو سال میں ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو بلوں میں دوگنا سے تین گنا تک اضافہ جوسکتا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی اسی رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ انفر اسٹرکچرکی پوری صلاحیت کو استعمال کیا جائے تو دو ہزار میگا واٹ مزید پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ”کرم فرما“ اس خسارے کے بجٹ پر مزید دو سو سات ارب روپے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ عوام کے لیے اتنی کاوشیں کرنے والے یقینا اس سودے میں سے اپنے لیے بھرپور کمیشن سمیٹیں گے۔ معاہدے کی شقوں سے واضح ہوتا ہے کہ اس کمپنی نے کتنے بڑے پیمانے پر ملک کے اعلیٰ ترین ”راہنماو¿ں“کو کمیشن دیے ہیں۔ مثال کے طور پر معاہدے کے وقت اس میں لکھا تھا کہ حکومت کمپنی کو سات فیصد بطور پیشگی ادا کرے گی لیکن بعد میں اس میں ترمیم کر کے یہ رقم چودہ فیصد کر لی گئی۔ اسی طرح کمپنی کی طرف سے کوئی بڑی بینک گارنٹی بھی موجود نہیں جس سے واضح ہے کہ کمپنی یہ سودا کر کے منافع سمیٹتے ہی کچھ عرصے بعد ہی بھاگ نکلے گی اور اس بجلی پیدا کرنے والے یونٹ میں خرابی آنے کی صورت میں اس کی مرمت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھے گی۔اس طرح عوام کی ”فلاح“ کا یہ منصوبہ عوام کی زندگیوں میں ایک مزید بہت بڑے خسارے کا اضافہ کر دے گا۔ یہ تما م صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یہاں انفراسٹرکچر میں اصلاح کی گنجائش موجود نہیں ۔ کسی بھی شعبے کے لیے مختص کی جانے والی رقم کا مقصد وہاں موجود مگر مچھوں کے پیٹ بھرنا ہے ۔ اور یہ وصولیاں عوام کے خون پسینے سے نچوڑی جاتی ہیں۔ اسی طرح آنے والے دنوں میں غذائی بحران بھی دوبارہ پوری شدت سے نازل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ جہاں گندم کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی ہو گی۔ پنجاب حکومت پہلے ہی آٹے اور چینی کے مل مالکان پر پیسوں کی بارش کر کے دیوالیہ ہو چکی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس وقت حکومت ایک سو تائیس ارب روپے کی مقروض ہے جس وجہ سے آنے والے دو ماہ میں گندم کی خریداری میں رکاوٹ آئے گی۔ لیکن یہ رکاوٹ صرف چھوٹے کسان کے لیے ہو گی بڑے زمینداراور ایوانوں میں بیٹھے حکمران اس قلت میں بھی اپنی دولت میں کئی گنا اضافہ کریں گے۔ اس سارے بحرانوں کے عمل میں وفاقی کابینہ نے ایک اور فیصلہ کیا ہے ۔ جس میںسالانہ ترقیاتی فنڈ کے لیے مختص رقم میں کٹوتی کرتے ہوئے اسے چار سو اکیس ارب روپے سے کم کر کے تین سو ارب روپے کر دیا ہے۔ اس طرح سڑکوں اور دوسرے ترقیاتی کاموں میں ملوث ٹھیکیداروں اور سیاستدانوں کو بد عنوانی کے لیے کم رقم دستیاب ہو گی۔ لیکن یہ رقم کاٹ کر کہاں دی جائے گی؟
یقینا یہ کٹوتی ان ہی لوگوں کے احکامات پر ہو سکتی ہے جو ان سے زیادہ بد عنوان اور ظالم ہیں۔ اخباری ذرائع کے مطابق یہ رقم سکیورٹی پر خرچ کی جائے گی۔ اسی طرح فوج کی تنخواہوں میں بیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لیکن فوج پر اربوں روپے کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں؟ جب لوگوں کے پاس پینے کے لیے صاف پانی نہیں، علاج کے لیے دوائی نہیں، رہنے کے لیے گھر اور کھانے کے لیے روٹی نہیں اس وقت کروڑوں ڈالر کا جنگی سامان خریدا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک میں جس میں بجلی اور گیس کی شدید قلت ہے وہاں لاکھوں کی تعداد میں فوج موجود ہے۔ یقینا عوام کو بنیادی ضروریات چاہییں لیکن ان حکمرانوں کو اپنی دولت میں مسلسل اضافہ چاہیے۔ اس کے لیے اسلحے کی خرید و فروخت کی منڈی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ امریکی فوجی انڈسٹریل کمپلیکس سے لے کر افواج پاکستان و ہندوستان کو یہ اسلحہ کوئی جنگ کرنے کے لیے نہیں بلکہ کمیشن حاصل کرنے کے لیے اور فوجی ساز و سامان بنانے والے اداروں کے مالکوں کے منافعوں کے لیے چاہیے۔ اس ساز وسامان کی خرید وفروخت کے لیے تنازعے پیدا کرنا اور حالتِ جنگ پیدا کرنا بنیادی شرط ہے۔ ایک لمبے عرصے سے بھارت کے ساتھ پاکستانی ریاست کا امن اور جنگ کا کھیل جاری ہے۔ جب اسلحے کی خریدو فروخت کا کوئی نیاسودا مطلوب ہوتا ہت تو جنگی جنون ابھارنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مختلف دہشت گردی کے واقعات کروا کر اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اس تنازعے کو بھڑکایا جاتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد امن کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف یہی کھیل ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔ اسی طرح مغربی سرحد پر اپنے ہی پیدا کردہ طالبان سے جنگ کا ایک ڈھونگ کھیلا جا رہا ہے۔ مختلف ذرائع سے ایک لمبے عرصے سے ثابت ہو رہا تھا کہ یہ جنگ ایک دھوکہ ، ایک فریب ہے۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے بیانات اور کانفرنسوں میں اعلانیہ کہا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے انھیں حکومت میں شامل کیا جائے گا۔ اگر یہی ہونا تھا تو اتنی طویل جنگ اور بربادی کا کیا مقصد تھا۔ اسی طرح حالیہ رپورٹوں سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی فوج اس عرصے میںمسلسل طالبان کی حمایت کر رہی تھی اور ان کی قیادت کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات قائم تھے۔ ڈیوڈ سیگنر کی کتاب ”وراثت“میں وہ مئی دو ہزار آٹھ میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے چیف مائیکل میکونل کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ،”جنرل کیانی واشنگٹن کا پسندیدہ جنرل تھا لیکن اس کی سنی جانے والی گفتگو میں، شایدٹیلی فون پرہونے والی گفتگو کا ریکارڈ، وہ طالبان کے سب سے خوفناک لیڈر مولوی جلال الدین حقانی کو اپنا سٹریٹجک اثاثہ(strategic asset)قرار دے رہا تھا“۔ اسی طرح اس کتاب میں دوسرے کئی انکشافات ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی فوج کے اس وقت سب سے اہم آلہ کار مدرسوں کے یہ طالبعلم یا ان کے اساتذہ ہیں۔ لیکن یہ خونی کھیل ابھی جاری ہے اور اس میں سی آئی اے کے مختلف طالبان اور القاعدہ قیادتوں کی حمایت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب ملا عمر سے مذاکرات اور طالبان کے ساتھ گفتگو اور مذاکرات کی بات ہو رہی ہو تو اس میں پس پردہ حقائق اور پچھلی پوری دہائی کے واقعات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھا جائے تا کہ امریکہ اور دنیا بھر میں موجود اسلحے کے کارخانے منافع دیتے رہیں اور فوجی قیادتوں کی جیبیں بھرتی رہیں۔ اس ساری صورتحال میں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا دورہ معنی خیز ہے ۔ رابرٹ گیٹس بش کی کابینہ میں بھی اسی عہدے پر فائز تھا ۔ اس طرح اس کے اسلحہ ساز کمپنیوں سے گہرے روابط پر کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اپنے ایک سو پچیس رکنی وفد کے ساتھ دورے میں اس نے تمام فوجی اور سول قیادت سے ملاقات کی۔ اس دورے کے دوران اس نے افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے تعاون پر زور دیا لیکن فوجی ترجمان نے شمالی وزیرستان میں فوری طورپر آپریشن شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن مزید ڈالروں کے آنے پر یہ آپریشن کسی بھی وقت شروع کیا جا سکتا ہے۔ اکیس جنوری کو رابرٹ گیٹس نے صدر زرداری سے ملاقات کی۔ اسی دن کے اکانومسٹ نے پاکستان کے حوالے سے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان ہے ،”زرداری کے بعد کے دور کی الٹی گنتی کا آغاز“۔ اکانومسٹ لکھتا ہے”سیاسی پنڈت زرداری کی صدارت کے خاتمے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ فوج کے خیال میں وہ بھارت اور امریکہ کے سامنے بہت نرم ہے۔ جرنیلوں کو سول کنٹرول میں لانے کی کوشش میںوہ اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ جج جنگ کے رستے پر چل رہے ہیں۔اپوزیشن تنازعے کو بھڑکاتے ہوئے مڈ ٹرم انتخابات کی امید کر رہی ہے ۔ آنے والے دنوں میں عدالتی جھڑپیں مزیدپراگندہ ہو ں گی۔ جلد یا بدیر عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے فوج سامنے آئے گی“۔ اس ساری صورتحال میں محنت کش طبقے کی چھوٹی یا بڑی حرکت پوری صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ اس وقت مہنگائی اور بیروزگاری کے بوجھ تلے دبے یہ عوام اس ظلم کے خلاف کوئی رستہ تلاش کر رہے ہیں۔لیاری میں ہونے والے محنت کشوں کے مظاہرے اور اپنی راویتی قیادت کے خلاف بغاوت، کوئٹہ میں پولیس کے اندر بغاوت اور دوسرے تمام اداروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں اس مجتمع ہوتے ہوئے لاوے کے پکنے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ سماج ایک آتش فشاں بن چکا ہے جس کے پھٹنے کا وقت اب زیادہ دور نہیں۔ حکمران طبقات چہروں کی تبدیلی سے اس لاوے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں۔ بیرونی دشمن اور دہشت گردی کا خوف بھی ان کا ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔ قومی، لسانی اور مذہبی تعصبات سے محنت کشوں کو کچلنے کے حربے بھی نئے نہیں۔ جمہوریت اور آمریت کا کھیل بھی بہت پرانا ہو چکا ہے۔اب یہ سماج پھٹے گا تو عوام چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کی بات کریں گے۔ وہ سرمایہ دارانہ سماج کی تمام گھناو¿نی شکلوں کا انکار کریں گے اور اپنی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے کسی نئے نظام کی جستجو کریں گے۔ وہ نظام جو ان کے تمام مسائل حل کرے اور انہیں بنیادی ضروریات فراہم کرے وہ صرف اور صرف سوشلزم ہے۔