کوئی ممنونِ فرنگی کوئی ڈالر کا غلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کا نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ان کو کیا معلوم کس عالم میں رہتے ہیں عوام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کو فرصت ہے بہت اونچے امیروں کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ان کے ٹیلیفون قائم ہیں سفیروں کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وقت ان کے پاس کب ہے ہم فقیروں کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھو نہیںسکتے انہیں ہم ان کا اونچا ہے مقام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبح چائے ہے یہاںتو شام کھانا ہے وہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہ ہوں مغرور چلتی ہے میاں ان کی دکاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب یہ چاہیں ریڈیوپر جھاڑ سکتے ہیں بیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہم ہیں پیدل، کار پر یہ،کس طرح ہوں ہمکلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قوم کی خاطر اسمبلی میں یہ مر جاتے بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
قوتِ بازو سے اپنی بات منواتے بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گالیاں دیتے بھی ہیں اور گالیاں کھاتے بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وطن کی آبرو ہیں کیجئے ان کو سلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی محبوبہ وزارت داشتائیں کرسیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جان جاتی ہے تو جائے پر نہ جائیں کرسیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دیکھیے یہ کب تلک یوں ہی چلائیںکرسیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عارضی ان کی حکومت عارضی ان کا قیام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وزیرانِ کرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔