Mujlis | Make Home Page | Zarorut | Write to us | About Chingaree | Links
Help flood affected people of Pakistan.
Total Donations
پانی اور دکھوں کا سیلاب عوامی اضطراب اور سوشلسٹ انقلاب
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی نعمت ہے۔طبقاتی نظام کے تمام تر تعفن کے باوجود یہ بات اصولی طور پر درست ہے
انقلابی فلڈ ریلف اینڈ پروٹیسٹ کمپین کی مدد کریں
پاکستان آج پانی کی بھیانک لپیٹ میں ہے ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد انسان بے بسی اور لاچاری میں کسی امید کے انتظار میں ہیں
ڈوبتا پاکستان ۔ سوشلزم ہی آخیری سہارا ہے
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پورے ملک کے اند ر خوراک کی شدید کمی واقع ہوگی
جی ٹوونٹی اجلاس ۔ نا ممکن کو ممکن کرنے کی جستجو
ہر سرمایہ دارملک دوسرے کے کاندھوں پر پیر رکھ کے اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے
افغانستان :اسامہ سے اوبامہ تک
ٹاپ جرنیل اور امریکی صدر کے مابین حالیہ تنازعے نے امریکی سامراج کی مشکلات کو عیاں کر دیا
فلسطین - نہ مذہبی نہ قومی صرف طبقاتی جنگ ہی واحدحل ہے
اسرائیلی کمانڈوزنے ہیلی کاپٹروں سے سمندرمیں موجود چھ جہازوں پر حملہ کردیا ، جو کہ فلوتلہ
لاہور ۔ احمدی مساجد پر حملہ ۔ نجات کیسے ممکن ہے
تمام اقلیتوں کا مقدر پاکستانی عوام کی طبقاتی تحریک سے ناگزیر طور پر منسلک ہے
پنجاب اور ایم کیو ایم ۔ لال خان http://www.chingaree.com/products/1274271843_Nasi.jpg
سامراجی اب مذہبی دائیں بازو کے زوال کے بعد ایک نام نہاد جمہوری‘ لبرل اور سیکولر دایاں
مزید آرٹیکل

خواتین کا عالمی دن،ہمارا نعرہ آزادی ہماری منزل سوشلزم

    خواتین کا عالمی دن،ہمارا نعرہ آزادی ہماری منزل سوشلزم
تحریر:
ہردل کمار،08.03.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے تو آٹھ مارچ کا دن خواتین کے عالمی دن کے علاوہ ہڑتالوں احتجاجوں اور ابھرنے والی سیاسی تحریکوں کے لئے ایک روایت بن گیا ہے لیکن تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل دن آٹھ مارچ انیس سو سترہ کا ہے۔ جب لینن گراڈ میں مزدوروں کو مسلح افواج کی مدد سے فیکٹریوں میں آنے سے روکا گیا تب خواتین محنت کشوں کا ایک سیلاب امڈکرسڑکوں پر آگیا اور اس احتجاج میں شامل ہوگیا۔ احتجاج کرنے والوں میں ان سپاہیوں‘ جو جنگ میں ہلاک ہوگئے تھے یا قید کرلیے گئے تھے کی مائیں بہنیں اور بیویاں بھی شامل ہوگئیں۔ آٹھ مارچ کا دن خواتین کے عالمی دن کے طور پر بین الاقوامی طور پر انیس سو دس میں منعقد ہونا شروع ہوا تھا اس دن کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ آج عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی ادارے اور این جی اوز کام کررہے ہیں ۔ ساتھ ہی عورتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کررہی ہیں لیکن عورت جتنی غلام آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ اس کی غلامی اور محرومی میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔پاکستان عورت فاﺅنڈیشن نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ سال دو ہزار آٹھ کے دوران پاکستان بھر میں عورتوں کیخلاف تشدد کے کل سات ہزار سات سو تیتیس واقعات کی رپورٹ موصول ہوئی۔ جس میں سے چار ہزار تین سو ساٹھ واقعات پنجاب تیرہ سو پچاسی سندھ ایک ہزار تیرہ سرحد سات سو تیرسٹھ بلوچستان اور دو سو بارہ اسلام آباد میں وقوع پذیر ہوئے ۔ تقریباً تمام واقعات رپورٹ شدہ ہیں سات ہزار سات سو تیتیس واقعات میں سے پانچ ہزار چھ سو چھیاسی کی ایف آئی آر درج کی گئی یعنی تہتر اعشاریہ تریپن فیصد رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ ایک ہزار چار سو چھیہتر واقعات جو انیس اعشاریہ صفر نو فیصد بنتے ہیں رجسٹرڈ نہیں کیے گئے اور بقیہ پانچ سو اکہتر یعنی سات اعشاریہ اٹھا تیس فیصد واقعات کے متعلق ایف آئی آر وغیرہ کی میڈیا میں کوئی شہادت موجود نہیں۔ سات ہزار سات سو تیتیس واقعات میں قتل کے ایک ہزار پانچ سو سولہ اغواءکے ایک ہزار سات سو باسٹھ جسمانی ایزارسانی کے آٹھ سو چوالیس گھریلوتشدد کے تین سو بیس خودکشی کے پانچ سو اناسی ریپ کے چار سو انتالیس گینگ ریپ کے تین سو سات خواتین پر تیزاب پھینکنے کے چو بیس ونی اور سماجی روایات کے نام پر پچیس خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ قدیم اشتراکی دور سے نکل کر انسان جب غلام داری میں آیا تو قدر زائد نے ملکیت کا تصور دیا جس میں آلات پیدا وار کے ساتھ عورت کو بھی شامل کیا گیا اس طرح عورت کو انسان کی بجائے آلہ پیداوار بنا کر ذاتی ملکیت میں لے لیا گیا اور عورت بھی جنس جانوروں کی طرح بازار میں بکنے لگی۔ غلامی کے دور میں نہ صرف عورتیں فروخت ہوتی تھیں بلکہ مرد غلام بھی خریدے جاتے تھے لیکن مرد کے نسبت عورت خریدنے میں دوہرے فائدے تھے ایک تو اس کو گھر کے تمام کام سرانجام دینے ہوتے تھے دوسرا مالک کی جنسی ضرورت کی تکمیل بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ غلام کے بعد جاگیرداری میں چاکری کا طریقہ کار بدل گیا تمام گزر اوقات زمین کی پیداوار پر ہوتی تھی اور جن لوگوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہ ہوتی وہ جاگیرداروں کے مزارع ہوتے تھے مزارع نہ صرف ایک فرد ہوتا تھا بلکہ پوراخاندان مزارعیں ہوتے تھے ان غریب مزارعوں کی خواتین کھیتوں میں کام کرنے کے علاوہ جاگیرداروں کے گھروں کی بھی چاکری کرتی تھیں چاکری کے ساتھ اکثر وبیشتر وڈیروں کی جنسی ہوس کا بھی شکار بننا پڑتا تھا جن کی مثالیں آج کے جدید دور میں بھی ہمیں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں ملتی ہیں۔ صدیاں گزرنے کے باوجود چاکری کا یہ طوق غریب خاندانوں کے گلے میں ابھی تک لٹک رہا ہے آج بھی گھریلو نوکرانیوں کے ساتھ وہی قرون وسطی کی لونڈی والا سلوک ہورہا ہے اس وقت ملازمہ یالونڈی ایک ہی بار قیمت ادا کرکے عمر بھر کی غلامی کے لئے خریدی جاتی تھی آج فرق یہ آیا ہے کہ ماہوار چند روپوں کے عوض ملازمہ رکھ لی جاتی ہے لیکن اس کا استعمال اسی طرح ہورہا ہے صرف استعمال کی شکل بدل گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نسل در نسل غلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے وقتوں میں امراءکی شادیوں میں جہیز میں نوکرانیاں بھی دی جاتی تھی جوکہ ساری عمر اپنی ملکہ(جو اسے جہیز میں لائی ہے)کی خدمت کرتے ہوئے گزارتی ہے آج بھی یہی رواج ہے کہ سرمایہ دار جہاں اپنی بیٹی کو دنیا جہاں کی چیزیں دے کر دنیا کا کاروبار کرتے ہیں وہاں نوکرانیاں بھی ساتھ بھیجتے ہیں اکثر جہیز میں وہی ملازمہ جاتی ہے جو کافی عرصہ سے اس خاندان کی خدمت کررہی ہو اگر ایسا نہ ہو تو اس ملازمہ کی بیٹی اس کے بدلے میں جاتی ہے۔ یہ نوکرانی اگر غیرشادی شدہ ہو تو اس کی شادی کرکے ایک اور نوکر کا اضافہ کرلیا جاتا ہے اور اسی طرح ان کے بچے بھی نوکر یہی نسل درنسل نوکر اور نوکرانیاں اپنے مالکوں کی خدمت کرتے رہتے ہیں ان نوکروں کو تاحیات اس چاکری سے نجات نہیں ملتی ہے کیونکہ ان کے لئے سب کچھ ان کے مالک ہی ہوتے ہیں۔ لینن نے ایک بار کہا تھا کہ سرمایہ داری ایک نہ ختم ہونے والی وحشت ہے اور اس وحشت کا شکار سب سے زیادہ عورتیں ہوتی ہیں یہ وحشت تیسری دنیا میں انتہائی ظالمانہ شکل میں موجود ہے ،گھر ہو سڑک ہو فیکٹری ہو عورت کو اس نظام نے ہر جگہ دھتکارا ہے۔ فیکٹریوں اور اداروں میں کام کرنے والی عورتوں کو دہرے اور تہرے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں نہ صرف اجرتیںکم دی جاتی ہیں بلکہ ان سے کام بھی زیادہ لیا جاتا ہے۔ان خواتین کو فیکٹری کا کام ختم کر کے گھر کے کام کاج بھی پوری تندہی کے ساتھ کرنے پڑتے ہیں۔ پچھلے سال کی مالیاتی پالسیی میں عورتوں کے لئے رات کو کام کرنے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی تھی۔اس کے بعد عورتوں سے بارہ بارہ گھنٹے اور رات کی شفٹیں لگانے کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے جبکہ اجرتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اسی طرح ٹرنسپورٹ کی سہولتیں نہ ہونے کے باعث ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ ٹرانسپورٹ پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں محنت کش خواتین کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور صحت کے شعبے سے وابستہ ہے جہاں انتہائی مشکل حالات میں انہیں کم تنخواہیں دے کر زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ نئی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں جس کے باعث نوکری کی کوئی ضمانت موجود نہیں اور جب ادارے کے مالکان کی مرضی ہو وہ ملازمین کو نوکری سے نکال سکتے ہیں۔ اس سے خواتین محنت کشوں کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ان تمام مسائل اور ان کے انقلابی حل پر بات کرنے کی بجائے این جی اوز اسی نظام میں عورتوں کے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہیں جو پہلے ہی بربادی پھیلا رہا ہے۔این جی اوز کا کاروبار کرنے والوں نے عورت کو منڈی کی جنس بنا دیا ہے۔ایک مظلوم عورت کو میڈیا پر پیش کر کے اور اس کے بیرونی ممالک میںدورے کروا کر لاکھوں کے فنڈ وصول کئے جاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے عورتوں پر ہونے والے مظالم میں تو کمی نہیں آتی لیکن این جی اوز کے خزانے کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ملا عورتوں کو ہزاروں سال پیچھے دھکیل دینا چاہتے ہیں اور اس کی زندگی کو قید با مشقت بنا دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ملائیت کا شکار بھی زیادہ تر صرف درمیانے طبقے کی خواتین ہی ہوتی ہیں کیونکہ محنت کش خواتین پردے کی عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دیہاتوں میں محنت کش عورتیں اور لڑکیاںکھیتوں میں فصل کی کاشت اور برداشت کا کام کرتی ہیں اور گاو¿ں کی سماجی و معاشی زندگی کا اہم جزو ہیں ۔ اسی طرح سخت گرمی اور سردی میں اینٹوں کے بھٹے پر، گارمنٹ فیکٹری میں، ہسپتال میں یا دوسرے اداروں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین کو محنت کش مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ ودسری طرف سرمایہ دار طبقے کی عورتیں عالیشان بنگلوں میں رہتی ہیں اور لمبی لمبی گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں سفر کرتی ہیں ۔ ان کی زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ زیور اور قیمتی لباس کا حصول ہوتا ہے جس کے لئے اس طبقے کے مرد اور عورتیں کسی بھی قسم کے ظلم اور استحصال سے گریز نہیں کرتے۔ ایسے میں عورت کی آزادی کا مسئلہ جنسی یا مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماﺅں کا قاتل نظام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان میں ہرسال پچیس ہزار خواتین زچگی کے دوران موت کے گھاٹ اترجاتی ہیں دنیا میں ہر سال 563600پانچ لاکھ ترنسٹھ ہزار چھ سو خواتین دوران زچگی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں بعض غریب معاشروں میں یہ مسئلہ اس قدر عام ہوچکا ہے کہ زچگی کی حالت میں جانے سے پہلے ہی ہرخاتون کو اپنے مرنے کا یقین ہوجاتا ہے مثلاً مغربی افریقی ملک سیرالیون ہی کو لیجئے وہاں کی آبادی صرف ترنسٹھ لاکھ ہے اور وہاں دنیا میں سب سے زیادہ یعنی ہر ایک لاکھ خواتین میں سے دو ہزار زچگی کے حالت میں انتقال کرجاتی ہیں دوسرے نمبر پر افغانستان ہے جہاں انیس سو خواتین اس المیے کی شکار ہوتی ہیں ملاوی میں آٹھارہ سو ، انگولا میں سترہ سو ، نائجیریامیں سولہ سو ، تنزانیہ میں پندرہ سو ، رونڈا میں چودہ سو ، صومالیہ میں، زمبابوے اور گنی بساو¿ میں گیارہ برونڈی میں ایک ہزار خواتین موت کے گھاٹ اترتی ہیں پوری دنیا کا اگر ہم جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس المیہ کا شکار غریب ممالک زیادہ ہوتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کی خواتین اس کا شکار کم ہوتی ہیں۔ مثلاً فی لاکھ خواتین آسٹریا میں چار اور امریکہ میں سترہ خواتین کو دنیا سے کوچ کرنا پڑتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ ان ماﺅں کو ہوتا ہے جن کی ڈیلیوری دائی نرس یا ڈاکٹر کی نگرانی میں نہ ہو پوری دنیا میں ایسی خواتین کی شرح پنتیس فیصد ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان میں ماﺅں کا حال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان میں سترہ سو چونسٹھ افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہے جبکہ خواتین ڈاکٹرز اورگائنا کا لوجسٹ تشویش ناک حدتک کم ہیں۔ پاکستان کے بہت سے ایسے شہر ہیں جہاں خواتین ڈاکٹرز کی تعداد 5 سے زیادہ نہیں ہوتی پاکستان میں زچگی کی حالت میں جان سے گزر جانے والی خواتین کی شرح مختلف علاقوں میں مختلف ہے بعض علاقوں میں ہر ایک لاکھ خواتین میں سے چار سو اور بعض میں ایک ہزار چار سو فی لاکھ مجموعی طور یہاں ہر سال تیس ہزار خواتین اس ٹریجڈی کا شکار ہوجاتی ہیں یہ پوری دنیا میں ہونے والی اموات کا پانچ فیصد بنتا ہے۔ پاکستان میں ہرسال تین لاکھ پچہتر ہزار خواتین حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ہر سال یہاں پچاس لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے صرف دو لاکھ پانچ ہزار تربیت یافتہ دائی نرس یا ڈاکٹر کے زیرنگرانی جنم لیتے ہیں۔ کسی تربیت یافتہ فرد کے یہاں بچوں کو جنم نہ دینے کا سب سے بڑا سبب غربت ہے۔ آخر ایسا کب تک چلے گا۔ یہ طبقاتی نظام اب چل نہیں سکتا ۔ یہ نظام اب ڈر یا بنیاد پرستی کے خوف سے چلایا جارہا ہے اور مفاد سامراجیوں کے پورے کیئے جارہے ہیں۔ ہر روز حکمران طبقے کا کوئی وزیرٹی وی پر عوام کے حقوق کی باتیں کرتا ہے لیکن ان کے پاس کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ اور عوام یہ سوچ رہیں ہیں کہ کیا یہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہے کیونکہ ان ایوانوں کے نیچے جو سماج ہے وہاں زندگی کچھ اور ہے۔ کتنی بھوک ہے، غربت ہے، پیاس ہے، مہنگائی ہے، ذلت ہے، رسوائی ہے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور بجلی کا بدترین بحران۔ گیس جس میں یہ ملک خود کفیل ہے، وہ بھی گم ہے اور اب آٹے کے ایک نئے بحران کی باتیں ہو رہی ہیں حکمرانوں کے کیسے کیسے روپ ہیں لیکن یہ تضادات ان کی ناکامی اور تاریخی استرداد کا اعلان کررہے ہیں یہ اب پھٹنے والے ہیں دھماکہ بہت قریب ہے۔ لیکن یہ دھماکہ برباد بھی کرسکتا ہے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو آباد بھی کرسکتا ہے۔ یہ دھماکہ ردانقلاب کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے اورا نقلاب بھی برپا کرسکتا ہے ہمیں اس بغاوت کو خانہ جنگی کی بجائے سوشلسٹ انقلاب کا راستہ اور منزل دینی ہے۔ اس نظام سے جڑی زندگی کو کوئی مقصد نہیں مل سکتا اور جس زندگی کا کوئی مقصد نہ ہوا سکی موت بھی بے مقصد ہوتی ہے۔ انیس سو سترہ میں عورتوں نے انقلاب کا آغاز کیا تھا اور اب ہم محنت کش خواتین مرد، نوجوان سب مل کر اس انقلاب کا آغاز کریں گے۔ہماری نجات عالمی سوشلزم میں ہے۔ نسل انسانیت کی بقا صرف کمیونسٹ سماج میں ہوگی۔
Home
پاکستان
گردوپیش
یورپ
مشرق وسطی
لاطینئ امریکہ
مارکسی تعلیم
مزدور تحریک
نوجوانوں کی جنگ
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
عورت کی نجات
مارکسی تعلیم
مارکسی تعلیم
Audio and Video
طبقاتی جدوجہد آن لائن
PTDUC
Marxist.com
Back to top | Make Home Page | Contact Us | Write to us | About Chingaree | Links
editor name
All Rights Reserved