|تحریر: آدم پال|

نئی حکومت کی منافقت تیزی سے عیاں ہوتی جا رہی ہے۔اقتدار کے پہلے ایک مہینے میں ہی اس حکومت کی بوکھلاہٹ اور عوام دشمن حقیقت منظر عام پر آ چکی ہے۔ محنت کش عوام پر بد ترین حملے کیے جارہے ہیں جبکہ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو ہمیشہ کی طرح تحفظ دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحران کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ امیر ترین افراد کی بے تحاشا دولت اور جائیدادوں کے بارے میں گفتگو کرنا بھی شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔اپنی عوام دشمن حقیقت کو چھپانے کے لیے پہلے چند روز میں سادگی کے بارے میں کیے جانے والے اعلانات بھی ایک دھوکہ اور فراڈ بن کر سامنے آ چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اسی عالیشان گھر میں رہائش پذیر ہیں جسے یونیورسٹی بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور سادگی اپنانے کی باتیں صرف لفاظی تک محدود ہیں۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت جن عمارتوں کے بارے میں الیکشنوں سے قبل کہا جار ہا تھا کہ انہیں مسمار کر دیا جائے گا یا عوام کی فلاح و بہبود کے ادارے کے طور پر استعمال کیا جائے گا وہ دعویٰ بھی ایک فراڈ کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوا۔

اسی طرح پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کے جو فارمولے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اسد عمر نے بتائے تھے اب وہ ان سے بطور وزیر خزانہ راہ فرار اختیار کر چکا ہے ، بلکہ آنے والے عرصے میں ان قیمتوں میں اضافے کا عندیہ بھی دے چکا ہے۔اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے جس کے باعث سیمنٹ، کھاد اور دیگر اہم اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ماضی کے تمام وزرائے خزانہ کی طرح انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ وزیر خزانہ بھی منہ کھول کر جھوٹ بول رہا ہے کہ ان قیمتوں میں اضافے کا عوام پر اثر نہیں پڑے گا۔آنے والے عرصے میں معاشی بحران کی شدت کے باعث مہنگائی اور بیروزگاری کے زیادہ بڑے حملے عوام پر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس کے لیے سیاسی ماحول کو سازگار بنایا جا رہا ہے۔

عوام پر مہنگائی کا بم گرانے اور بڑے پیمانے پر نجکاری سے بیروزگاری کے حملوں سے پہلے نان ایشوز کو پوری قوت سے ابھار اجاتا ہے اور غلام میڈیا کے ذریعے ان نان ایشوز کا چورن عوام میں اتنی بلند آواز میں فروخت کیا جاتا ہے کہ کانوں پڑی آواز بھی سنائی نہ دے۔ زمانہ قدیم سے چلے آرہے حکمرانی کے فارمولے’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے تحت یہاں بھی قومی،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو جان بوجھ کر ہوا دی جاتی ہے تاکہ مہنگائی، بیروزگاری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالا جا سکے اور فروعی مسائل کو منظر عام پر لایا جا سکے۔ اس کے لیے میڈیا کے ساتھ ساتھ بکاؤ سیاسی پارٹیاں بھی اس قوالی میں حکومت کا ساتھ دیتی ہیں۔ درحقیقت یہ تمام سیاسی پارٹیاں عوام کی بد ترین دشمن ہیں اور ان کا خون چوس کر ہی زندہ ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی اس قوالی کے لیے ضروری ہے ورنہ اکیلے تحریک انصاف کی موجودگی پارلیمنٹ کی موت کا عندیہ سنائے گی۔ عدلیہ اور فوج سمیت دیگر ریاستی ادارے بھی عوام کو حقیقی ایشوز سے دور رکھنے میں اپنا کردار نبھاتے رہتے ہیں اور اس سارے ناٹک کو جاری رکھنے کا سامان کرتے ہیں۔

الیکشنوں سے پہلے کرپشن کا بہت واویلا کیا گیا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ عمران خان اقتدار کے پہلے تیس دنوں میں ہی کرپشن کا خاتمہ کر دے گا۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ راگ کافی ہلکے سروں میں گایا جا رہا ہے بلکہ اکثر تو سنائی ہی نہیں دیتا۔ خاص طور پر نواز شریف کی رہائی کے بعد کرپشن کے خاتمے کی کمپئین کافی ٹھنڈی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ نئی حکومت نئے ٹھیکوں کی بندر بانٹ میں مصروف ہے اور اس میں اپنا حصہ وصول کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ دوسرا یہ راگ صرف الیکشنوں کے قریب ہی اچھا لگتا ہے۔ کرپشن ختم کرنا کرپٹ حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ا ور وہ اسے ایک نعرے کے طور پر عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن کے راگ کو چھوڑ کر فوری طور پر ڈیم کی تعمیر کا راگ کافی بلند آواز میں سنائی دیا۔ یہ اس ملک کے حکمرانوں کا کافی آزمودہ راگ ہے۔ قومی تعصبات کو ابھارنے اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اسے ماضی میں بھی اکثر استعمال کیا گیا ہے۔ مختلف ڈکٹیٹروں نے بھی اسے استعمال کیا ہے۔ اگر کچھ لوگوں کو 1999ء میں مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد کی پہلی تقریر یاد ہو تو وہ جانتے ہوں گے کہ اس نے بھی ڈیم کی تعمیر کا راگ استعمال کیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ یہ مسئلہ اب ہمیشہ کے لیے حل ہونے والا ہے۔ اس دفعہ مشرف کی ہی ٹیم کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر اس آزمودہ فارمولے کو دوبارہ استعمال کیا گیا لیکن اس کے نتیجے میں مطلوبہ نفرت نہیں ابھاری جا سکی اور نہ ہی منظور نظر سیاسی پارٹیوں کی مقبولیت میں مصنوعی طور پر کوئی اضافہ کیا جا سکا۔ الٹا عوام میں ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اپنائی جانے والی خیراتی پالیسی پر شدید تنقید نظر آئی اور حکمران طبقے کے تمام اداروں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔

ایک دوسرا آزمودہ نسخہ بھارت کے ساتھ طبل جنگ بجانے کا ہے۔ یہ بھی اس ملک میں پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ ایک طویل عرصے سے مسلسل یہ راگ سنائی دیتا رہتا ہے۔کبھی اسے ہلکے سروں میں سنایا جاتا ہے اور کبھی اچانک انتہائی اونچے سروں میں بجنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ لمبی لمبی تانیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں۔ اس دفعہ اس کا ملبہ بھارت پر بھی ڈالنے کی کوشش کی گئی جہاں آئندہ سال عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور وہاں پر حکمران جماعت بی جے پی کو اس راگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس کا بھرپور استعمال بھی کیا اور پاکستان دشمنی کا روایتی ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹوں میں اضافے کی کوششیں بھی کیں۔ سرحد کے اس طرف بھی حکمرانوں نے بھارت کے چھکے چھڑا دینے ولے بیانات کا بھرپور استعمال کیا جبکہ ایٹم بم کو شب برات کے پٹاخوں کی طرح استعمال کرنے والے انسان دشمن بھیانک لطیفے بھی سنائی دیے۔ لیکن اس تمام تر سرگرمی کے باوجود بھی چونکہ عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں موجود ہیں اس لیے ان کی تمام تر توجہ کا مرکز بھی وہی مسائل ہیں جس کے باعث ان روایتی ہتھکنڈوں کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی۔

لیکن اس وقت حکومت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ سامراجی آقاؤں امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن کا قیام ہے جس میں یہ حکومت مسلسل ناکام نظر آئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت اور امریکہ کے اہم اہلکاروں سے ملاقات کے باوجود اسے کوئی کامیابی ملتی نظر نہیں آ رہی۔ جب سامراجی آقاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اجلاس کے دوران شاہ محمود قریشی کو ہاتھ ملانے کا موقع ملا تو اس نے باہر نکل کر اسے اپنے ملک کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ میری صدر ٹرمپ سے ’’غیر رسمی ‘‘ ملاقات ہوئی ہے۔اس پر امریکہ کے ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی قسم کی کوئی ’’غیر رسمی ‘‘ ملاقات نہیں ہوئی بلکہ صدر ٹرمپ نے درجنوں ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اس وقت ہاتھ ملایا تھا جس میں شاہ محمود قریشی بھی شامل تھا۔ سفارتی محاذ پر گزشتہ ایک ماہ میں پاکستان کو یہ شرمندگی پہلی دفعہ نہیں اٹھانی پڑی بلکہ ایسے کئی واقعات تواتر سے رونما ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر امریکہ سے آنے والے فون پر ایسا ہوا تھا۔ جب امریکی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹے گا تو وہ فون پر گفتگو کی تفصیلات میڈیا کے سامنے لے آئیں گے۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکے دورہ پاکستان کے موقع پر دونوں جانب سے متضاد بیانات جاری کیے گئے۔

امریکہ پاکستان کی تمام تر فوجی و سول امداد بند کر چکا ہے جبکہ آئی ایم ایف کو بھی انتباہ کیا گیاہے کہ وہ پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج دینے میں احتیاط برتے۔ ایسے میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور ان میں بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی۔ ان کشیدہ تعلقات کا مطلب جہاں ہر قسم کی امداد کی بندش ہے وہاں آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی انتہائی سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں جہاں پاکستان کے معاشی بحران میں کئی گنا شدت آئے گی وہاں مستقبل میں معاشی پابندیاں لگنے کے امکانات بھی بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ FATF کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر چکی ہے اور مزید دورے کرے گی۔ اس فورم سمیت مختلف عالمی اداروں میں پاکستان کا تشخص ایک ایسی ریاست کے طور پر بن چکا ہے جو دہشت گردوں کی معاونت کرتی ہے اور ان کی مالیاتی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان نے اس تشخص کو رد کرنے کی نام نہاد کوششیں بھی کی ہیں لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں مل سکی اور اس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس دباؤ کی وجہ قطعاً یہ نہیں کہ امریکہ دنیا سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہو چکا ہے اور دنیا میں امن چاہتا ہے۔ بلکہ امریکہ نے اپنے دفاعی بجٹ میں بہت بڑا اضافہ کیا ہے اور پوری دنیا میں اپنا سامراجی تسلط قائم کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ کوشاں ہے۔ اس دباؤ کی ایک وجہ پاکستان میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے جس کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ ایک بہت بڑی تجارتی جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ آنے والی چینی اشیا پر بڑے پیمانے پر ٹیکس لگا دیے ہیں اور چین کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ جہاں اس وقت چین کے بڑھتے ہوئے سامراجی کردار سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور اس کیخلاف اقدامات کر رہے ہیں، ساتھ ہی وہ یہ بھی کوششیں کر رہے ہیں کہ چین کسی بھی صورت جدید ٹیکنالوجی حاصل نہ کر پائے۔ اس وقت دنیا کے جدید ترین موبائل فون چین میں تیار ہوتے ہیں لیکن موبائل فونوں کے پروسیسر اور دیگر ٹیکنالوجی کی ملکیت امریکی اور یورپی کمپنیوں کے پاس ہی ہے۔ اگر وہ کمپنیاں اپنی مینوفیکچرنگ کسی دوسرے ملک میں شفٹ کر دیں تو چین کبھی بھی اس معیار کے فون نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح ادویات کی صنعت سے لے کر دیگر جدید ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں چین وہ پوشیدہ راز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں امریکہ اور یورپ کو مات دینا چاہتا ہے۔ یہ درحقیقت مختلف سامراجی ممالک کی باہمی لڑائی ہے اور اس کا محنت کش طبقے یا عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں۔ امریکہ چینی کمپنی ZTE پر پہلے بھی اسی معاملے میں پابندیاں لگا چکا ہے اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کا امکان موجود ہے۔

اسی طرح امریکہ اور چین کی لڑائی اہم تجارتی رستوں پر کنٹرول کے لیے بھی جاری ہے۔ جنوبی چینی سمندر میں جاپان امریکہ کے ایما پر ان اختلافات پر کافی ہنگامہ کھڑا کر چکا ہے۔ دوسری طر ف چین بھی مختلف تجارتی رستوں پر اپنی اجارہ داری بڑھا رہا ہے۔ بحر ہند میں چین کا اثر و رسوخ پہلے کی نسبت کافی زیادہ بڑھ چکا ہے۔ سری لنکا میں ’’ہمبن توتا‘‘ کی بندرگاہ اہم تجارتی رستے پر موجود ہے جہاں پر اب چین کی اجارہ داری قائم ہے۔ اسی طرح مالدیپ میں چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اورکروڑوں ڈالر کی لاگت سے ایک پل بھی تعمیر کر چکا ہے۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ نما ملک بھی اہم تجارتی رستے پر موجود ہے۔ لیکن گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں چین کے حمایت یافتہ صدر کو شکست ہوئی ہے جبکہ بھارت کا حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر کامیاب ہوا ہے۔ اس سے بھارت کو یہاں دوبارہ قدم جمانے کا موقع ملے گا جبکہ چین اور بھارت کے درمیان تلخی میں اضافہ ہو گا۔ اسی طرح چین بنگلہ دیش اور برما (میانمار) میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں چین 31 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح بحر ہند میں ایک اہم مقام پر افریقی ملک جبوتی میں چین اپنا پہلا بیرون ملک فوجی اڈہ قائم کر چکا ہے۔ اس سے واضح نظر آتا ہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے پیچھے اس کے سامراجی عزائم موجود ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان میں جاری سی پیک منصوبہ امریکہ اور چین کی سامراجی لڑائی میں پہلے کی نسبت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

موجودہ حکومت کے لیے اس صورتحال سے نپٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اسے مسلسل سفارتی محاذ پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے مشیر برائے تجارت اور ملک کے امیر ترین افراد میں شامل عبدالرزاق داؤد نے جب سی پیک کے حوالے سے برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کو ایک متنازعہ بیان دیا تو اس پر چینی حکومت کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ چین کے وزیر خارجہ کے دورے کے فوری بعد ایسا بیان چین کے اثر و رسوخ اور اس کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تشویش ناک تھا۔ رزاق داؤد نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے کی شرائط پاکستان کے مفاد میں نہیں اور اس منصوبے کو ایک سال تک کے لیے روک دینا چاہیے۔ اس کے بعد نئی شرائط کے تحت اس منصوبے کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیے۔ چینی حکومت کے دباؤ پر یہ بیان اسی دن شام تک واپس لے لیا گیا اور وزارت تجارت کی جانب سے وضاحت جاری کر دی گئی۔ لیکن اس کے بعد سے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں آرمی چیف نے بھی فوری طور پر چین کا تین روزہ دورہ کیا اور چینی صدر سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران سی پیک کے منصوبے کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا اور پاک چین دوستی کی’ لازوال‘ اہمیت پر بھی بہت زور دیا گیا۔لیکن اس کے بعد بھی مختلف خبریں ایسی آ رہی ہیں جس سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ موجودہ حکومت سی پیک منصوبوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہتی ہے۔ چین نے اس پر بظاہر حامی بھری ہے لیکن صرف ان منصوبوں کے لیے جن کا ابھی آغاز ہونا ہے۔ جو منصوبے مکمل ہوچکے ہیں یا جاری ہیں ان پر نظر ثانی کی گنجائش بہت کم نظر آتی ہے۔ چین نے پاکستان سے درآمدات بڑھانے کی بھی پیشکش کی ہے گو کہ اس پر عملی جامہ پہنانا مشکل نظر آتا ہے بلکہ آنے والے عرصے میں چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھے گا۔ چین یہاں پر گندم کے بیجوں سے لے کر توانائی کے شعبے اور ٹیلی کمیونیکیشن تک ہر جگہ اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ اسلحے کی خریداری کے حوالے سے بھی چین سے بڑے پیمانے پر معاہدے کیے جا رہے ہیں اس لیے چین کے ساتھ خسارہ کسی بھی صورت کم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی چین کا اثر و رسوخ کم ہو گا۔

چین کے سفیر کے ساتھ وفاقی وزیر مذہبی امور کی ملاقات بھی متنازعہ رہی۔ پہلے کہا گیا کہ اس ملاقات میں وفاقی وزیر نے چینی صوبے سنکیانگ میں اکثریتی مسلم آبادی پر جاری بد ترین کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا تھا جہاں مبینہ طور پر دس لاکھ سے زائد افراد کی اچھے شہری بننے کے لیے دوبارہ ذہنی ’’تربیت‘‘ کی جا رہی ہے، لیکن بعد ازاں اس کی بھی تردید کر دی گئی اور کہا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔ اس سے واضح نظر آتا ہے کہ موجودہ حکومت نے پہلے ماہ میں ہی چین کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے باعث آنے والے عرصے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب امریکی آقا سے بھی ابھی تک معافی نہیں مل سکی۔ اس حوالے سے پاکستانی ریاست کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

مشکل وقت میں پاکستانی ریاست ایک طویل عرصے سے سعودی عرب پر انحصار کرتی آئی ہے اور وہاں سے وقتی ریلیف بھی ملتا رہا ہے اور امریکہ کے مزید قریب ہونے کے مواقع بھی ملتے رہے ہیں۔ اس حکومت نے بھی اس آپشن کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس میں بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی۔ اس وقت پوری دنیا کی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور سعودی عرب کی معاشی اور سیاسی صورتحال بھی مختلف ہے۔ جبکہ پاکستان کے حکمران پرانے فارمولوں کے ذریعے ہی مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کے باعث انہیں ہر جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی سعودی عرب سے بآسانی ادھار تیل مل جائے گا جبکہ چند ارب ڈالر بھی ان کے کشکول میں ڈال دیے جائیں گے۔ اس طرح ان کے کچھ ماہ آسانی سے گزر جائیں گے اور وہ امریکہ کے ساتھ ایک بہتر ڈیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اس دفعہ سعودی عرب نے بھی ٹھینگا دکھا دیا اور ماضی کی طرز پر مالی امداد کرنے کی بجائے سرمایہ کاری پر زور دیا۔ گو کہ یمن کی جنگ کے لیے فوج بھجوانے کے بارے میں کوئی اطلاع منظر عام پر نہیں آ سکی۔

اس سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر میں سعودی عرب سرمایہ کاری کرے گا جبکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے بھی سعودی عرب کی دلچسپی موجود ہے۔ گوادر میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری معاشی کی بجائے سٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایران کی سرحد کے قریب ہے جس کے ساتھ سعودی عرب یمن میں حالت جنگ میں ہے ۔ایران پہلے بھی سعودی عرب پر بلوچستان سے مداخلت کے الزامات عائد کر چکا ہے اور اگر یہ سرمایہ کاری کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو یہ اختلافات مزید شدت اختیار کریں گے۔ اسی طرح چین کے لیے بھی یہ تشویش ناک ہو گا جو گوادر کو امریکہ کیخلاف سٹرٹیجک مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ نومبر سے ایران پر تیل فروخت کرنے جیسی مزید پابندیوں کا اطلاق ہو جائے گا۔ چین نے ان پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ ایسی صورتحال میں جہاں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں پاکستان کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے اپنی ضروریات کے لیے تیل خریدے یا نہیں۔ اس کمزور ریاست کے لیے امریکی آقا کی کھلم کھلا حکم عدولی کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی یہ پوری طرح چین کے دائرہ اثر میں جانے کے نتائج کو سہار سکتی ہے۔ اس لیے تضادات میں شدت آئے گی۔

یہ تمام تر صورتحال پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور اس ریاست کے بحران کی شدت میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی۔ امریکہ سے اگر تعلقات کو بہتر نہیں کیا جاتا تو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو پورا کرنا حکومت کے بس میں نہیں ہو گا۔ معاشی دیوالیہ پن کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ نئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9ارب ڈالر تک گر چکے ہیں اور ان میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔گو کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف سے بھیک نہیں مانگیں گے لیکن درحقیقت وہ بھیک مانگنے کے لیے موزوں وقت تلاش کر رہے ہیں۔اور جیسے ہی وہ وقت آئے گا پوری ڈھٹائی کے ساتھ یو ٹرن لے لیا جائے گا اور انتہائی کمینگی اور بے شرمی کے ساتھ بھیک وصول کی جائے گی اور اس کی شرائط کے تحت عوام پر مہنگائی ، بیروزگاری اور نجکاری کے بد ترین حملے کیے جائیں گے۔

لیکن اگر امریکہ سے تعلقات بہتر کیے جاتے ہیں تو جہاں چین کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے وہاں افغانستان میں بھی پاکستان کو اپنی حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کرنی پڑے گی۔ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی پشت پناہی کرتا ہے اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے۔ گو کہ روس اور ایران نے بھی افغانستان میں مداخلت میں اضافہ کیا ہے اور طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں۔ اسلام آباد میں ایران، روس اور چین کے نمائندوں کی افغانستان کے حوالے سے میٹنگز بھی ہوئی ہیں جس سے نظر آتا ہے کہ پاکستان کا جھکاؤ کس جانب ہے۔ لیکن اس کشمکش میں بھی پاکستانی ریاست کے تعلقات امریکی آقا سے خراب ہوئے ہیں۔ آنے والے عرصے میں یہاں بھی پاکستانی ریاست کو اپنے سامراجی عزائم سے پسپائی اختیار کرنی پڑ سکتی ہے۔

لیکن ہر صورت میں عوام کے لیے مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھیں گی۔ سی پیک کا منصوبہ بھی کسی قسم کی خوشحالی نہیں لا سکتا اور نہ ہی آئی ایم ایف کی امداد سے کوئی ایک مسئلہ آج تک حل ہوا ہے۔ دونوں جانب سامراجی طاقتیں اپنی لوٹ مار کے عزائم کے ساتھ موجود ہیں جس میں پاکستان کا حکمران طبقہ ان کی گماشتگی کر رہا ہے۔ یہاں کے سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ محنت کشوں کی زندگیاں جہنم بنتی رہی ہیں۔اس سرمایہ دارانہ نظام میں کسی بھی قسم کی بہتری کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور محنت کشوں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تمام تر نظام کے خاتمے کی جدوجہد کی جائے اور ان سامراجی ریاستوں اور عوام دشمن حکمران طبقے کے خلاف ایک ناقابل مصالحت جنگ لڑی جائے۔ اس جنگ میں محنت کش طبقے کی کامیابی کا واحد رستہ سوشلسٹ انقلاب ہے جو اس ظلم اور بربریت کے راج کو حتمی طور پر ختم کر کے ایک سرخ سویرے کو طلوع کرے گا

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh