|تحریر: صبغت وائیں|

میں ٹی وی دیکھ رہا ہوں۔ بار بار ایک اشتہار تنگ کر رہا ہے۔ جو مجھے ڈرانے کو کوشش کرتے ہوئے کہ میں پانی کی بوند بوند کو ترسوں گا، اس لیے سپریم کورٹ کو پیسے دوں کہ وہ ڈیم بنائے۔

میں اب بات کروں گا تو ملک دشمن اور غدار کہلایا جاؤں گا۔

میں کیوں پیسے دوں؟

وہ پیسے جو کہ پہلے ہی بہت سی کٹوتیوں کے بعد مجھے نصیب بھی اس طرح سے ہوئے ہیں، کہ میں نے جس چیز پر خرچ کرنے ہیں اس پر پھر سے ٹیکس دوں، اور پھر ٹیکس پر ٹیکس ادا کروں اور کرتا چلا جاؤں۔۔۔ کیوں؟

ساری دنیا کی سرمایہ داری میں حکومتیں ٹیکسوں پر ہی چلائی جاتی ہیں لیکن ان ٹیکسوں کا بڑا حصہ ڈائریکٹ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے جو کہ بڑی فیکٹریوں اور صنعتوں اور اسی طرح کی جگہوں(انکم ٹیکس وغیرہ) سے وصول کیا جاتا ہے، جبکہ اشیاء پر لگائے جانے والے ٹیکسوں سے کم آمدنی لی جاتی ہے۔ گو کہ صنعتیں وغیرہ بھی اپنی مصنوعات کی قدر میں وہ ٹیکس شامل کر لیتی ہیں پھر بھی عوام کو بار بار ٹیکسوں کی مار نہیں ماری جاتی۔ لیکن پاکستان میں پہلے ہی تقریباً سارے کا سارا ٹیکس غریب عوام کو نچوڑ کے نکالا جاتا ہے۔ ماچس کی تیلی پر ٹیکس۔ ان کی تعلیم پر ٹیکس۔ صحت پر ٹیکس۔ انصاف کے حصول پر (کورٹ فیس۔ سٹیمپ پیپر اور جانے کیا کیا)۔ شادی کروانے پر ٹیکس۔ مرنے پر ٹیکس۔ کفن کے کپڑے پر ٹیکس۔ قبر پر ٹیکس۔ حج اور عمرہ کرنے پر ٹیکس۔ چھت رکھنے پر ٹیکس۔ اپنے پیسوں سے ٹی وی خرید کر اس پر ٹیکس ادا کر کے رکھنے پر ماہوار ٹیکس۔ اور ٹی وی نہ رکھنے پر بھی ٹیکس۔ پانی پینے پر ٹیکس، نہا کر پانی بہانے پر ٹیکس، پھر اس پانی کو اپنے کھیت میں استعمال کریں تو اس پر بھی ٹیکس۔ لکھنے لگیں تو شام تک یہی لکھتے رہیں۔ کسی دوست کے پاس وقت ہو تو اچھی تحقیق ہے کہ ہم لوگ کس کس فضولیات اور مفت میں ملی ہوئی ان چیزوں پر ٹیکس دیتے ہیں، جو کہ ہمیں حکمران طبقے نے ہرگز ہرگز نہیں دیں۔

میں گوجرانوالہ سے اگر لاہور جاتا ہوں تو رستے میں دو جگہ پر ٹال ٹیکس والوں نے جگا ٹیکس کے پلازے بنا چھوڑے ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ میں نے سڑک استعمال کی ہے۔

جب میں نے اپنی گاڑی پر اس کی قیمت سے دوگنا تگنا ٹیکس ادا کر دیا۔ جتنے کا پٹرول ہے اتنا ہی ٹیکس ادا کر دیا ہے، تو اب سڑک کا ٹیکس کیوں ادا کروں؟

مجھ سے وہ ٹیکس لے سڑک کا جس نے یہ سڑک اپنی جیب سے پیسہ خرچ کر بنوائی ہے۔ لیکن ایسا کوئی نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف بدمعاشی ہے۔ 

جب میں اپنی دوکان یا اپنے کسی بھی دفتر کے لیے مجبور کر دیا جاتا ہوں کہ اس کی حفاظت کے لیے کسی ریٹائر فوجی افسر کی ایجنسی کے سیکیوریٹی گارڈ ضرور رکھوں۔ جب اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے مجبور کر دیا گیا ہوں کہ ان کو نجی ادارے میں ہی تعلیم دلواؤں۔ جب میں مجبور کر دیا گیا ہوں کہ کھانے پینے کی ہر چیز پر ٹیکس در ٹیکس ادا کر کے خریدوں۔ جب میں مجبور کر دیا گیا ہوں کہ اپنا علاج نجی ہسپتال میں کرواؤں اور ہر دوائی پر اس کی قیمت کے برابر ٹیکس ادا کروں۔ تو مجھ سے اور ٹیکس کس بات کا مانگا جاتا ہے؟ کیا اس بات کا کہ مجھ پر حکومت کی جائے؟ مجھے سوچنے سمجھنے سے عاری کیا جائے؟ کیا اس بات کا ٹیکس دوں، کہ یہ مجھ پر مزید ٹیکس لگانے کے طریقے سوچ سکیں؟ جیسا اسحاق ڈار نے سوچا تھا، کہ میں اپنے ہی پیسے اگر بینک میں رکھوں اور ان کو نکلواؤں تو اس پر ٹیکس ادا کروں؟ اور ملک کے حالات اتنے خراب اور امن امان کی ایسی صورتحال رکھی جائے کہ اپنے پیسے بینک میں رکھوانے پر مجبور ہو جاؤں؟

میں اپنے پیسے چند بار نکلواؤں اور جمع کرواؤں تو پیسے ویسے ہی ختم ہو جائیں۔

مجھے کوئی تحفہ دے تو اس پر ٹیکس اور میں اس کو آگے استعمال کرنے لگوں تو اس پر بھی ٹیکس۔ بدلے میں مجھے کیا ملتا ہے؟ خوف اور دہشت؟

مجھے ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے کہ میں اگر پاکستان میں نہ رہتا تو میرا جانے کیا حشر ہو جاتا۔ اگر ایسا ہی ہے، تو ہر سیاستدان، ہر جج اور ہر جرنیل باہر کیوں چلا جاتا ہے؟

اس اشتہار سے جس کا میں نے ذکر کیا ہے، مجھے شدید ذہنی اذیت ہوئی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ سپریم کورٹ پر اپنی ذہنی اذیت کے ہونے کا کیس ٹھوک دوں۔ کہ ہزارہا ٹیکس دینے کے باوجود مجھے پانی کی بوند نصیب نہ ہونے کی دہشت میں مبتلاکر کے آپ میرے سے میری کمائی کی آخری بوندیں بھی نچوڑ لینا چاہتے ہیں؟ خود آپ کی آمدنیاں، حقیقی اور اصلی آمدنیاں ہیں۔ آپ لوگوں کو تنخواہیں کبھی بینکوں سے نکلوانے کی ضروت نہیں پڑتی۔ آپ کی رہائشیں آپ کا کھانا آپ کا پینا آپ کے کپڑے آپ کے بچوں کی فیسیں ٹیوشنیں اور علاج معالجے سب میرے ٹیکس سے ادا ہوتے ہیں۔ پھر آپ ڈیم بنانے کے لیے مجھ سے پیسہ مانگ رہے ہیں؟

ہم سب لوگوں کو ایسے فقیروں کا تجربہ ہے جو ہم سے بار بار پیسے مانگتے ہیں۔ ان کو بارہا کہیں کہ معاف کرو، پھر بھی۔۔۔

لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان سے اتنی بار مانگو کہ تنگ آ کر اپنی ذہنی اذیت سے ہار کر پیسے دے دیں۔ یہی حال سپریم کورٹ آج میرا کر رہی ہے۔

میں سپریم کورٹ کے اس اشتہار پر کیس کرنا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ میں بہرحال ایک امن پسند شہری ہوں۔ آپ سے اپنا حق وصول کرنے کا اور اپنی ذہنی اذیت کے ازالے کا قانونی طریقہ اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے بتایا جائے کہ میں کس عدالت میں جاؤں؟

کون سی عدالت ہے جو میری آواز سنے گی؟

کیوں کہ مجھے تکلیف پاکستان کی سب سے بڑی عدالت خود دے رہی ہے، مجھ سے بار بار پیسے کا تقاضہ کر کے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh