|تحریر:آفتاب اشرف|

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات،شدید معاشی بحران اور بے نظیر طبقاتی تفاوت،بے تحاشہ زائد پیداواری صلاحیت اور بے تحاشہ غربت وقلت،صنعتی آٹومیشن میں بے مثال بڑھوتری اور خوفناک بیروز گاری،ایک طرف محنت کشوں کی عام ہڑتالیں تو دوسری طرف داعش جیسی انسانیت سوز رجعتی تنظیموں کا ابھار،بڑھتا ہوا سامراجی جبر اور محکوم قومیتوں کی تیز ہوتی جدوجہد،سماجوں کی بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور ریڈکلائزیشن،ماضی کی سیاسی روایتوں کا انہدام اور دائیں اور بائیں بازو کی نئی سیاسی قوتوں کا جنم،گزشتہ نسل کی حالات سے مایوسی اور نئی نسل کی سیاسی بیداری،اور انہی سب طوفانی واقعات سے لازمی نتائج اخذ کرتے ہوئے عالمی سطح پر آگے بڑھتا طبقاتی شعور۔

یہ ہے ہماری آج کی دنیا،جو ماضی اور مستقبل کی نمائندہ قوتوں کا اکھاڑہ بنی ہوئی ہے،جس کی بد صورتی،وحشت اور غارت گری میں ایک نئے برتر سماج کے لئے درکار مادی و سماجی لوازمات بھی پک کر تیار ہو چکے ہیں۔ یہ ہے ہمارا عہد،جس میں انسانیت تاریخ کے دوراہے پر کھڑی ہے،جہاں سے ایک راستہ رجعت وبربریت کی طرف جاتا ہے اور دوسرا ایک عالمگیر غیر طبقاتی سماج کے قیام کی طرف۔جو لوگ اس عہد کی تاریخی لازمیت کا شعور حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کر دیں گے اور ایک برتر سماج کی تخلیق میں اپنا کردار ادا کریں گے،وہ سرخ رو ہوں گے جبکہ مایوس اور شکست خوردہ لوگوں کا حتمی انجام ’’تاریخ کا کوڑے دان‘‘ ہو گا۔

یوم مئی کی تاریخ

سرمائے اور محنت کا تضاد سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بنیادی تضاد ہے اور اس نظام کے جنم سے ہی یہ تضاد سرمایہ دار طبقے اور محنت کش طبقے کی طبقاتی لڑائی کی صورت میں اپنا اظہار کرتا چلا آیا ہے۔ سرمایہ دار طبقے کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ محنت کشوں کے استحصال میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی شرح منافع کو بڑھائے۔لیکن محنت کش طبقہ بھی اپنے استحصال کیخلاف طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو کر جدوجہد کرتا چلا آیا ہے۔ایسی ہی ایک جدوجہد کا آغاز 1880ء کی دہائی کے اوائل میں امریکہ کے محنت کشوں نے کیا تھاجن کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ کام کے اوقات کار کو 12-16گھنٹے سے کم کر کے8گھنٹے روزانہ کیا جائے۔1884ء میں امریکہ کی بڑی ٹریڈ یونینز کے ایک مرکزی کنونشن میں اعلان کیا گیا کہ یکم مئی 1886ء سے امریکہ کے تمام محنت کشوں کے کام کے اوقات کار 8گھنٹے یومیہ ہوں گے۔1886ء کے آغاز سے ہی ان مطالبات کے لیے امریکی محنت کشوں کی جدوجہد میں تیزی آنا شروع ہو گئی۔یکم مئی 1886ء کو پورے امریکہ میں ایک عام ہڑتال ہوئی جس میں 13ہزار سے زائد صنعتوں کے لاکھوں محنت کشوں نے شرکت کی۔شگاگو کے صنعتی شہر میں ،جو اس پوری تحریک کا مرکز تھا،چالیس ہزار سے زائد محنت کشوں نے سڑکوں پر جلوس نکالے۔3مئی تک شکاگو کی سڑکوں پر ہونے والے ان مظاہروں میں ایک لاکھ سے زائد مزدور شریک ہو رہے تھے۔فیکٹری مالکان کے ایما پرریاست نے ان مظاہروں سے سختی سے نپٹنے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً پولیس نے پر امن مزدوروں پر فائر کھول دیا۔6مزدور موقع پر ہی شہید ہو گئے اور بے شمار زخمی ہوئے۔پورے ملک کے محنت کشوں میں ریاست اور مالکان کی اس درندگی کے باعث غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور اگلے روز پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔4مئی کو شکاگو میں ’ہے مارکیٹ‘ چوک پر ہزاروں مزدور احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے بزور طاقت انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔اسی اثنا میں پولیس دستے پر ایک بم پھینکا گیا(جو درحقیقت ریاست یا فیکٹری مالکان کے ہی کسی خفیہ کارندے کی کارستانی تھی)۔بم حملے کو جواز بناتے ہوئے پولیس نے نہتے مزدوروں پر اندھا دھند فائر کھول دیاجس سے آٹھ مزدور موقع پر ہی شہید ہو گئے اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے۔ریاستی ایما پر زر خرید میڈیا نے مزدوروں کیخلاف جھوٹے پراپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کر دیا اور آٹھ مزدور راہنماؤں کوقتل اور دہشت گردی کے جھوٹے الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیاجنہیں بنا کسی ثبوت کے ایک بوگس عدالتی کاروائی کے ذریعے مجرم ٹھہرا دیا گیا۔چار مزدور راہنماؤں کو فوری طور پر پھانسی دے دی گئی۔ایک نے جیل میں خود کشی کر لی اور بقیہ تین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیاجنہیں 1893ء میں مزدور تنظیموں کے شدید دباؤ کی وجہ سے رہائی مل گئی۔

شکاگو کے مزدوروں کے اس بہیمانہ قتل عام سے پوری دنیا میں محنت کش طبقے کی انجمنوں اور تنظیموں میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور جولائی 1889ء میں پیرس میں منعقد ہونے والی دوسری انٹرنیشنل کی پہلی کانگریس میں یہ قرار داد منظور ہوئی کہ آئندہ سے ہر سال یکم مئی کا دن پوری دنیا میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گاتا کہ شگاگو کے شہیدوں کی یاد کو تازہ رکھتے ہوئے ایک بہتر زندگی کے حصول کی جدوجہد کو آگے بڑ ھایا جا سکے۔ماضی کی طرح اس سال بھی کرۂ ارض کے تمام خطوں میں محنت کشوں کی جانب سے یوم مئی کی تقریبات کا انعقاد ہو گااور سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف ابلتے ہوئے لاوے کی حدت ایسی ہر تقریب میں محسوس کی جائے گی۔اس دن لاکھوں کروڑوں محنت کش ہاتھوں میں سرخ پرچم اٹھائے رنگ،نسل ،قوم،زبان،مذہب اور فرقے کی ہر تفریق سے بالاتر ہو کر اپنی عالمگیر جڑت،طاقت اور سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف جدوجہد کرنے کے عزم کا بھر پور اظہار کریں گے۔ 

یوم مئی اور پاکستان

دنیا کے تمام ممالک کی طرح پاکستان کا محنت کش طبقہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کے جبرکے ہاتھوں برباد ہو رہا ہے۔پسماندگی اور معیشت میں کالے دھن کے بڑے عمل دخل کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ دارانہ استحصال کی اشکال ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ وحشیانہ ہیں۔نجی شعبے میں صنعتوں کی بھاری اکثریت سرے سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔مستقل روزگار کی جگہ ٹھیکیداری نظام نے لے لی ہے جس کے تحت مزدوروں کو روزانہ کام ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے ایک مستقل غیر یقینی کیفیت کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ حقیقی اجرتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔حکومت کی جانب سے تمام محنت کشوں کے لئے کم از کم اجرت پندرہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے جو مسلسل بڑھتے ہوئے افراط زر کے پس منظر میں محنت کشوں کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن ستم ظریفی تو یہ ہے کہ نجی صنعتوں کی ایک بھاری اکثریت میں ٹھیکیداری نظام کے تحت محنت کشوں سے حکومت کی مقرر کردہ اجرت سے بھی کہیں کم پر کام لیا جاتا ہے۔ حقیقت میں کام کے کوئی اوقات کار بھی مقرر نہیں ہیں۔نجی صنعتوں کی اکثریت میں مزدوروں سے 12سے 16گھنٹے روزانہ کام لیا جاتا ہے۔کام کے دوران سیفٹی کو بہتر بنانے کے لئے مالکان ایک پائی تک خرچ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے درجنوں صنعتی حادثات سے لے کر بلدیہ ٹاؤن کراچی،سندر انڈسٹریل اسٹیٹ رائے ونڈ اور گڈانی شپ بریکنگ یارڈ جیسے سانحات اب ایک معمول بن چکے ہیں۔پنشن یا گریجوایٹی تو دور کی بات ،نجی صنعتوں کے ورکرز کی ایک بھاری اکثریت کے سوشل سکیورٹی کارڈتک نہیں بنائے جاتے۔کئی نجی صنعتوں میں تو مزدوروں سے کئی ماہ بلا معاوضہ کام کروانے کے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر انہیں فیکٹری سے اجرت ادا کئے بغیر نکال باہر کرنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔لیبر ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر فیکٹری مالکان کی کاسہ لیسی کرتا ہے اور لیبر آفیسر مکمل طور پر سرمایہ داروں کے دلال بن کر مزدور دشمنی کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔سوشل سیکیورٹی کے محکمے سے بھی مزدوروں کو سوائے دھکوں کے اور کچھ نہیں ملتا۔کچھ ایسی ہی صورتحال لیبر کورٹس کی بھی ہے۔صنعتی لیبر میں ایک بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جن کا مرد مزدوروں سے بھی کہیں زیادہ شدید استحصال کیا جاتا ہے۔نجی شعبے میں مزدوروں کی یہ حالت زار صرف مقامی صنعتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والے ورکرز کے بھی یہی حالات ہیں۔اکثریت ملٹی نیشنل کمپنیوں نے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے ذریعے پیداوار کی ذمہ داری کسی مقامی صنعت کو دی ہوتی ہے جہاں پر لیبر ٹھیکیدار کے ذریعے دیہاڑی پر مزدور رکھ کر ان کی محنت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔مزدوروں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں اپنے حقوق کی جدوجہد سے باز رکھنے کے لئے مالکان سماج میں بڑے پیمانے پر موجود بیروزگاری کا نہایت ہی سفاکانہ استعمال کرتے ہیں۔نجی شعبے میں ٹریڈ یونینز نہ ہونے کے برابر ہیں اور پاکستان میں بحیثیت مجموعی محنت کش طبقے کا ایک فیصد سے بھی کم ٹریڈ یونینز میں منظم ہے۔جو ٹریڈ یونینز موجود ہیں ان میں سے ایک بڑی اکثریت پاکٹ یونینز کی ہے جومزدوروں کی لڑائی لڑنے کی بجائے مالکان کی دلالی کرتی ہیں۔قانون میں یونین سازی کی مشروط اجازت ہے لیکن عملاً یونین سازی پر پابندی ہے۔کسی بھی فیکٹری کے مزدوروں کے لئے ایک نئی ٹریڈ یونین رجسٹر کرانا اور سی بی اے لینا عملاً تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔اگر کسی فیکٹری میں مزدور لڑ بھڑ کر ٹریڈیونین بنا بھی لیں تو اسے ختم کرانے کے لئے سرمایہ دار ہر قسم کے ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔پہلے دلال لیبر ڈیپارٹمنٹ اور زر خرید لیبر عدالتوں کے ذریعے قانونی پیچیدگیاں کھڑی کی جاتی ہیں اور بکاؤ میڈیا کے ذریعے مزدوروں کیخلاف خوب زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔اگر اس سب سے کام نہ بنے توپھر فیکٹری مالکان کے ایما پر اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے والے محنت کشوں پر ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے۔مزدوروں پر جھوٹے فوجداری مقدمات بنانے سے لیکر بد ترین پولیس تشدد تک تمام ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔ بعض واقعات میں تو بغاوت کرنے والے مزدور راہنماؤں کو ریاستی و غیر ریاستی غنڈوں کے ہاتھوں قتل تک کرا دیا گیا۔نجی شعبے کی طرح سرکاری سیکٹر کے محنت کش بھی سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔پی ٹی سی ایل،بنکوں،کے ای ایس سی سمیت بے شمار سرکاری اداروں کی نجکاری کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں مزدور بیروزگار ہوئے ہیں۔اسی طرح پی آئی اے،اسٹیل مل،واپڈا،پوسٹ،اوجی ڈی سی ایل،سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سمیت کئی مزید سرکاری اداروں کی نجکاری اس عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کی دلال ریاست اور حکمران طبقے(اور اس کی تمام سیاسی پارٹیوں) کے مزدور دشمن معاشی پروگرام میں سر فہرست ہے۔

عام ہڑتال کیوں؟

لیکن حالات کی اس تمام تر سختی کے باوجود پچھلی ایک دہائی میں پاکستان میں ایک تازہ دم مزدور تحریک کا جنم ہوا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں واپڈا، پی آئی اے، اسٹیل ملز، ریلوے، ینگ ڈاکٹرز، پیرامیڈکس، نرسز، اساتذہ، سوئی گیس، پورٹ ٹرسٹ، واسا، نادرا، میونسپلٹی، اوجی ڈی سی ایل سمیت بے شمار سرکاری اداروں میں احتجاج، جزوی یا مکمل ہڑتالیں اور چھوٹی بڑی تحریکیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سرکاری اداروں کے علاوہ ملک کے تقریباً تمام بڑے صنعتی مراکز میں نجی صنعتوں کے ورکرز میں بھی شدید بے چینی ہے جس کا اظہار گاہے بگاہے مختلف نوعیت کے احتجاجوں، روڈ بلاک اور مختصر ہڑتالوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اگرچہ پچھلے کچھ عرصے میں واپڈا، پی آئی اے کی نجکاری مخالف اور ریلوے ڈرائیورز، ینگ ڈاکٹرزکی اجرتوں میں اضافے کی تحریکیں ملکی سطح پر ابھر کر سامنے آئی ہیں اور ان کی باز گشت عوام کی وسیع تر پرتوں تک سنی گئی ہے لیکن ابھی تک مزدور تحریک کا مجموعی کردار ایک دوسرے سے الگ تھلگ چلنے والی،چھوٹے اور درمیانے درجے کی بے شمار بکھری ہوئی تحریکوں پر مبنی ہے اور یہی اس وقت پاکستان میں مزدور تحریک کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ مزدور تحریک کے اسی بکھرے ہوئے کردار کی وجہ سے عام محنت کشوں کی زبردست جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے باوجود ریاست اور حکمران طبقے کے معاشی حملے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ مسائل مشترک ہونے کے باوجود جب تک مختلف اداروں اور صنعتوں میں چلنے والی محنت کشوں کی تحریکیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہیں گی، تب تک ریاست اور سرمایہ داروں کے لئے ان تحریکوں کو علیحدگی میں ایک ایک کر کے کچلنا نسبتاً آسان رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ابھرنے والی زیادہ تر تحریکیں اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ایک محدود تعداد کو جزوی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور صرف چند ایک تحریکیں ایسی ہیں جو کہ قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔ان تمام تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مشترکہ مطالبات پر مبنی ایک پروگرام کی بنیاد پر مختلف اداروں اور صنعتوں کے محنت کشوں کے مابین ایک طبقاتی ایکتا قائم کئے بغیر مزدور تحریک کا بحیثیت مجموعی آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔

بائیں بازو کے بہت سے مایوس دانشور اور موقع پرست ٹریڈ یونین لیڈر محنت کش طبقے کی شعوری پسماندگی کو مزدور تحریک کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نقطہ نظر بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ پاکستان کے محنت کش طبقے میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے اور ایک انقلاب برپا کرنے کی تمام تر صلاحیت موجود ہے۔بائیں بازو کے بے صبرے پیٹی بورژوا دانشوروں کے بر عکس مارکس وادی یہ حقیقت بخوبی سمجھتے ہیں کہ محنت کش طبقہ ابتدا ہی سے ایک پختہ طبقاتی شعور رکھتے ہوئے تحرک میں نہیں آتا بلکہ مزدور تحریک کی حرکیات اور طبقے کے شعور کے درمیان ایک جدلیاتی تعلق ہوتا ہے۔طبقاتی شعور کی پختگی عملی جدوجہد کے میدان میں ہی پروان چڑھتی ہے اور جدوجہد کی کٹھنائیوں سے گزرتے ہوئے ہی محنت کش طبقہ یکے بعد دیگرے مختلف واقعات اور ان سے حاصل کردہ اسباق کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے ضروری نتائج اخذ کرنے کی سمت بڑھتا ہے۔ لیکن یہ بھی کسی سیدھی لکیر میں ہونے والا بتدریج، پر سکون اور ہموار عمل نہیں ہوتا۔ جدلیاتی قوانین کے تحت شعور کی بڑھوتری بھی پر پیچ، نا ہموار اور دھماکہ خیز انداز میں ہوتی ہے۔ محنت کش طبقے کے لئے یہ سارا عمل مشکل بھی ہوتا ہے اور تکلیف دہ بھی لیکن اسے ناگزیر طور پر اس امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔پچھلی ایک دہائی سے زائد کے عرصے میں محنت کشوں نے ٹریڈ یونین قیادتوں کی پے در پے غداریوں کو بھی سہا ہے اور سیاسی قیادتوں کی مزدور دشمنی کو بھی دیکھا ہے،انہوں نے عدلیہ اور میڈیا کے جھوٹ بھی سنے ہیں اور ان کی منافقت بھی دیکھی ہے۔انہوں نے حکمران طبقے ،مالکان اور انتظامیہ سے بے شمار دھوکے بھی کھائے ہیں اور انا کو مجروح کر دینے والے دھکے بھی۔انہوں نے بارہا نظام کی حدود میں رہتے ہوئے،قانون کی پاسداری کرتے ہوئے،موقع پرست ٹریڈیونین لیڈروں پر اعتماد کرتے ہوئے،سیاسی قیادتوں سے امیدیں لگاتے ہوئے،عدالت اور ریاست سے انصاف اور میڈیا سے حق گوئی کی توقع رکھتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کی ہے لیکن اپنی تمام تر جرات اور بہادری کے باوجود انہیں کامیابی شاذو نادر ہی ملی ہے۔اسی طرح ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور کٹی ہوئی تحریکوں کے دوران ان میں شامل ہر محنت کش نے بڑے پیمانے پر طبقاتی جڑت نہ ہونے کے نقصانات بھی دیکھے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ محنت کش طبقے کا قابل ذکر حصہ پچھلے ایک لمبے عرصے میں ان تلخ تجربات سے بے شمار دفعہ گزر چکا ہے اور اس کی ہر اول پرتیں ماضی کے ان تمام تر تجربات سے اہم نتائج اخذ کر رہی ہیں۔اس حقیقت کا اظہار جہاں ایک طرف محنت کشوں کی جانب سے سیاسی افق پر موجود تمام پارٹیوں سے شدید بیگانگی اور بیزاری کی صورت میں ہورہا ہے وہیں دوسری طرف بزدل،غدار اور موقع پرست ٹریڈیونین قیادتوں کیخلاف ابلتی ہوئی نفرت بھی اس کی غمازی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محنت کش طبقے کی ہر اول پرتیں اس حقیقت کا بھی بخوبی ادراک حاصل کر چکی ہیں کہ ان کی نجات مزدور اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ۔

مسلسل سست روی کا شکار عالمی معیشت پر ایک نئے بحران کے سائے منڈلا رہے ہیں اور بورژوازی کے سنجیدہ پالیسی ساز بھی اس خطرے کو بھانپ رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے ان کے پاس نہ تو اس کا کو ئی حل ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ایسے میں پاکستان جیسے تیسرے درجے کے ملک کی پسماندہ سرمایہ دارانہ معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔اندرونی اور بیرونی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں،زر مبادلہ کے ذخائر مسلسل گر رہے ہیں،روپے کی قدر گراوٹ کا شکار ہے،تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے،ادائیگیوں کے توازن میں شدید بگاڑ آ چکا ہے،امریکہ سے ملنے والی بھیک بھی خاصی حد تک بند ہوچکی ہے،سی پیک کا سامراجی منصوبہ بے تحاشہ منافع خوری اور ملکی صنعت کی تباہی کی صورت میں اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا حکومت کے پاس آئی ایم ایف یا دیگر سامراجی مالیاتی اداروں سے نہایت کڑی شرائط پر مزید قرضہ اٹھانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ۔ اس لئے ظاہر سی بات ہے کہ سرمایہ دار حکمران طبقے اور اس کی نمائندہ ریاست کی طرف سے اس معاشی بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقے کے کندھوں پر منتقل کرنے کی کوششوں میں مزیدتیزی آئے گی اور مستقبل قریب میں محنت کشوں پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے جن کی ایک ابتدائی جھلک ہم پی آئی اے، اسٹیل مل اور محکمہ صحت و تعلیم کی نجکاری کے لئے کی جانے والی سر توڑ حکومتی کوششوں میں دیکھ سکتے ہیں۔

مزدور تحریک کا تناظر

لیکن کیا مستقبل میں بھی ان معاشی حملوں کا جواب مزدور تحریک ماضی کی طرح ایک دوسرے سے الگ تھلگ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کی صورت میں دے گی؟ہم نہیں سمجھتے کہ ایسا ہو گا۔ پاکستان کا محنت کش طبقہ اب وہ نہیں ہے جو آج سے دس سال پہلے تھا۔پچھلے عرصے کا تمام سفر رائیگاں ہرگز نہیں گیاہے۔مستقبل میں ہونے والے ان حملوں کا جواب محنت کش طبقہ مقداری اور معیاری طورپہلے سے کہیں بلند تر پیمانے پر دے گا۔دوسرے الفاظ میں پاکستان میں 2008ء کے بعد جنم لینے والی مزدور تحریک کا ابتدائی مرحلہ محنت کش طبقے کو بے شمار قیمتی تجربات اور اسباق سے مسلح کرتے ہوئے اب اپنے اختتام کے نزدیک پہنچ چکا ہے اور مزدور تحریک اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے تیار ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند ایک بڑے واقعات یا حملے اس کے کردار کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ اس اگلے مرحلے میں ہمیں محنت کش طبقے کے بھاری حصے(خصوصاً نجی صنعتوں کے مزدور)تحرک میں نظر آئیں گے۔ماضی کے مقابلے میں تحریک کا موڈ کہیں زیادہ لڑاکا اور بیباک ہو گا۔موقع پرست ٹریڈ یونین قیادتوں کو یا تو عام محنت کشوں کے دباؤکے سامنے سر جھکانا پڑے گا یا پھر انہیں قیادت سے نکال باہر کیا جائے گااور تحریک ان کی جگہ زیادہ دلیر اور ایماندار قیادت تراش لائے گی۔ابھی تک کسی حد تک قائم روایتی ٹریڈ یونینز میں شدید لڑائی کھلے گی اور اس کا نتیجہ یا تو غدار قیادتوں کے خاتمے اور ان یونینز کے نئے جنم کی صورت میں نکلے گایا پھر اس لڑائی کے بطن سے نئی لڑاکا یونینز وجود میں آئیں گی۔بہت سے اداروں اور صنعتوں میں ہم کسی قانونی ٹریڈ یونین پلیٹ فارم کے بغیر’’خودرو‘‘ تحریکیں بنتے ہوئے دیکھیں گے اور اس عمل کے دوران کئی نئی لڑاکا تنظیمیں بھی تخلیق ہوں گی۔ مزدور تحریک میں سیاسی نظریات کی پیاس بڑھے گی اور طبقے کی ہر اول پرتیں پورے نظام،معیشت،سیاست اورریاست کے کردارکو سمجھنے اور ان مسائل کے حتمی حل کو جاننے کی خواہش کا کھل کر اظہار کریں گی۔ اس بڑھتی ہوئی سیاسی دلچسپی کا اظہارناگزیر طور پر تحریک کے نعروں اور مطالبات میں بھی ہو گااور ماضی کے برعکس ہمیں خالص معاشی مطالبات کے ساتھ ساتھ سیاسی مطالبات اور نعرے بھی سننے کو ملیں گے۔ ایسے ہی تحریک ماضی کی طرح پنجاب اور جنوبی سندھ کے بڑے صنعتی مراکز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے ملک کا پرولتاریہ اس کا حصہ بنتا چلا جائے گا۔حال ہی میں بلوچستان میں پی ڈبلیو ڈی ورکرز اور پیرامیڈکس کی شاندار جدوجہد اورپختونخواہ میں اساتذہ تحریک اسی حقیقت کی غمازی کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ایک سیکٹر کے تمام محنت کشوں کے مابین اور مختلف اداروں اور صنعتوں کے محنت کشوں کے درمیان طبقاتی بنیادوں پر جڑت پیدا کرنے کی ضرورت کا احساس شدید تر ہوتا چلا جائے گااور اس کا ناگزیر نتیجہ طبقاتی جڑت کے عملی اظہاریعنی مشترکہ کمیٹیوں،پلیٹ فارمز اور مشترکہ لڑائیوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گا۔انہی سب عناصر کا جدلیاتی تال میل تحریک کے مجموعی کردار کو فیصلہ کن انداز میں بدل کر رکھ دے گا۔لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مزدور تحریک کو مستقبل میں لڑائی کا کیا لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا؟

مزدور ایکتا اور تمام محنت کشوں کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت و اہمیت سے تو آج ہر باشعور محنت کش اور بائیں بازو کا سیاسی کارکن اتفاق کرتا ہے ۔حتیٰ کہ موقع پرست ٹریڈ یونین قیادتیں،جو درحقیقت مزدور اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،بھی جھوٹے منہ اس امر پر اتفاق کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔لیکن ایک ٹھوس مقصد اور لائحہ عمل کو سامنے رکھے بغیر مزدور اتحاد کی سمت آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔محض ’’ایک کا دکھ۔۔سب کا دکھ‘‘یا ’’مزدور اتحاد۔۔زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے واضح لائحہ عمل دینا بھی ضروری ہے اور پاکستان میں مزدور تحریک کی موجودہ کیفیت پر پہلے کی گئی تمام بحث کی روشنی میں یہ لائحہ عمل ایک ملک گیر عام ہڑتال کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

لیکن یہ بات سنتے ہی تمام موقع پرست مزدور قیادتوں کے ہاتھ کانپنا شروع کر دیتے ہیں،بہت سے ’’سیانے انقلابیوں‘‘کے چہروں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ جاتی ہے،ڈرائنگ روم کے دانشور طرح طرح کی موقع پرستانہ تاویلیں گھڑنا شروع کر دیتے ہیں اور ان تمام نام نہاد ’’تجربہ کار‘‘ ہستیوں کی تان اس بات پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ محنت کش طبقہ ابھی ’’اتنے بڑے‘‘ اقدام کے لئے تیار نہیں اور ایسی باتیں کرنا محض ’’مہم جوئی‘‘ ہے۔درحقیقت پیٹی بورژوا تعصبات کا شکار ان لوگوں کا نہ صرف محنت کش طبقے کے انقلابی پو ٹینشل بلکہ اس کے اپنے تجربات سے سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت سے ہی یقین اٹھ چکا ہے اور وہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور کاروبار زندگی میں غرق ہو کر طبقے کے وسیع تر مفادات کے بارے میں سوچنے سے ہی عاری ہو چکے ہیں۔’’رجعت ہے،جمود ہے،فاشزم آ رہا ہے،طبقہ شعوری طور پر پسماندہ ہے‘‘ جیسے الفاظ کی دن رات جگالی کرنے والے یہ خوفزدہ اور بزدل لوگ در حقیقت ایک انقلابی تحریک کا تناظر ہی کھو چکے ہیں اور شعوری یا لا شعوری طور پر مزدور تحریک میں حکمران طبقے کے ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی سیاست صرف ’’جمہوریت‘‘ کی مجردنعرے بازی تک محدود ہو چکی ہے اور مزدور تحریک میں ان کا عملی کردار غدار ٹریڈیونین قیادتوں یا این جی او مالکان کے تلوے چاٹ کر کسی جلسے یا احتجاج میں ایک عدد لگی بندھی تقریر کرنے تک ہی رہ گیا ہے۔ 

لیکن ان شکست خوردہ،خوفزدہ اور مایوس لوگوں کے برخلاف ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ملک گیر عام ہڑتال کا نعرہ مزدور تحریک کے پچھلے پورے عرصے کے تجربات کا منطقی نچوڑ ہے اور محنت کش طبقے کی ہر اول پرتوں کے اپنے تجربات سے اخذ کردہ نتائج سے عین مطابقت رکھتا ہے۔ اسی لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت محنت کش طبقے پر ہونے والے مہنگائی،ڈاؤن سائزنگ،نجکاری،بیروزگاری اور دیگر معاشی حملوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ صرف ایک ملک گیر عام ہڑتال کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ فی الوقت ایک عام ہڑتال کا پروگرام فوری معاشی مطالبات کے گرد ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے سیاسی وسماجی اثرات کا دائرہ کار اس کے فوری مطالبات سے کہیں زیادہ وسیع ہو گا۔ ایک عام ہڑتال ملک کے سیاسی منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گی اور اس کے سماجی شعور پر اثرات انتہائی دور رس ہوں گے۔یہ نہ صرف محنت کشوں کو بطور طبقہ اپنی طاقت اور سماج میں اپنے حقیقی مقام کا ادراک دے گی بلکہ یہ ان کے سامنے ریاست،حکمران طبقے،رائج الوقت سیاسی پارٹیوں، دلال مزدور قیادتوں،عدلیہ اور میڈیا کے مزدور دشمن کردار کو بھی بحیثیت مجموعی بالکل ننگا کر کے رکھ دے گی۔ عام ہڑتال نہ صرف ’’جمہوریت بمقابلہ آمریت‘‘ جیسی گھٹیا بحثوں کا خاتمہ کرتے ہوئے سماج کے سب سے حتمی تضاد یعنی طبقاتی تضاد کو ابھار کر سامنے لائے گی بلکہ یہ حکمران طبقے اور ریاست کے مختلف دھڑوں کے مابین مالی مفادات کے گرد ہونے والی گروہی لڑائیوں کو پرے دھکیلتے ہوئے پورے سماج پر یہ واضح کر دے گی کہ حقیقی اور حتمی لڑائی صرف سرمایہ دار حکمران طبقے اور محنت کش طبقے کے مابین ہے۔اسی طرح یہ ہڑتال طلبہ،محکوم قومیتوں ،چھوٹے کسانوں،خواتین،مذہبی اقلیتوں اور نچلی پیٹی بورژوازی پر بھی محنت کش طبقے کی طاقت کو واضح کرتے ہوئے انہیں بطور نجات دہندہ مزدور تحریک کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دے گی۔لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف مارکس وادیوں کی منظم کوششوں اور دوسرے طرف عام ہڑتال کی تیاریوں اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی شعوری تبدیلیوں کے جدلیاتی تال میل سے ہی محنت کش طبقے کے حتمی انقلابی اوزاریعنی ایک ہر اول لڑاکا پارٹی کی تخلیق کی راہ ہموار ہو گی۔ مارکس وادیوں کا فریضہ ہے کہ وہ جرات کے ساتھ آگے بڑھیں ،محنت کشوں کی لڑاکا پرتوں تک رسائی حاصل کریں، انہیں مارکسزم کے نظریات سے روشناس کرائیں، مزدور ایکتا کی تشکیل کے لئے سہولت کار بنیں اور محنت کشوں کے دلوں میں دبی امنگوں کو شعوری اظہار دیتے ہوئے ملک گیر عام ہڑتال کے تصور کو مزدور تحریک میں متعارف کرائیں۔یہ اقدام پاکستان کے سوشلسٹ انقلاب کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہی شکاگو کے شہدا کے خون کا ہم پر قرض ہے۔یہی یوم مئی 2018ء کا پیغام ہے۔سوشلسٹ انقلاب۔۔زندہ باد

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh