|تحریر: یاسر ارشاد|

بھارتی حکومت اور اس کے گماشتے ذرائع ابلاغ مسلسل ’سب اچھا ہے‘ کی جھوٹی خبریں نشر کر رہے ہیں لیکن درحقیقت وادی کے نہتے عوام اس وقت ایک انتہائی بھیانک اور یکطرفہ جنگی جارحیت سے دوچار ہیں۔

وادیئ کشمیر پر 5 اگست کو مسلط کی جانے والی بھارتی سامراجی وحشت اور بربریت کو دو ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے۔ فوجی جبر اور مکمل لاک ڈاؤن کے باعث وادی کے عوام کی حالت زار کی مکمل تفصیلات بھی منظرِ عام پر نہیں آپا رہیں لیکن اس بات کا تصور کرنا ممکن ہے کہ 80 لاکھ کی آبادی کی نقل و حرکت پر اتنی سخت پابندیوں کے باعث وہاں کے عوام کو انسانی تاریخ کی کبھی نہ دیکھی گئی بربادی سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ہر قسم کا کاروبار اور خاص کر زراعت و پھلوں کی تجارت سے وابستہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی روزی روٹی کی ضروریات پوری کرنے سے بھی مکمل طور پر محروم ہو چکا ہے۔ بیرون ملک محنت بیچ کر اپنے خاندانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والے بھی ان پابندیوں کے باعث اپنے گھروں کو پیسے بھیجنے سے قاصر ہیں اور اگر وہ بھیج بھی دیتے ہیں تو وصول کرنے والوں تک پہنچ نہیں پا رہے۔ اس کے ساتھ ہندوستانی ریاستی جبر کی انتہا ہے جس میں ہزاروں گرفتاریوں اور قتل وغارت گری نے وحشت کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور اس پر بھی المیہ یہ ہے کہ اس تمام بربریت کو منظر عام پر آنے سے مکمل طور پر روکا جا رہا ہے۔ جو تھوڑی بہت خبریں ان تمام پابندیوں کے باوجود منظر عام پر آرہی ہیں ان سے واضح ہو جاتا ہے کہ ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے اور وادی میں بسنے والوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ بھارتی حکومت اور اس کے گماشتے ذرائع ابلاغ مسلسل ’سب اچھا ہے‘ کی جھوٹی خبریں نشر کر رہے ہیں جبکہ وادی کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں کی انتظامیہ نے سب اچھا ہے کا تاثر دینے کے لئے دو بار تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا لیکن پابندیوں، خوف و ہراس اور بے یقینی کے باعث ایک فیصد حاضری بھی نہیں ہو پائی۔ درحقیقت وادی کے نہتے عوام اس وقت ایک انتہائی بھیانک اور یکطرفہ جنگی جارحیت سے دوچار ہیں۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹیوں کی جانب سے بھی احتجاج کو آئین کی پاسداری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں تک محدود رکھا جا رہا ہے حالانکہ مودی حکومت کے خلاف جو نفرت اور غم و غصہ ہندوستان کے غریبوں اور محنت کشوں میں موجود ہے اس کو اس فیصلے کے خلاف احتجاج میں بڑے پیمانے پر متحرک کیا جاسکتا تھا۔ اس ظلم کے خلاف دنیا بھر کے حکمران طبقات اور ان کے نام نہاد اداروں کی مجرمانہ خاموشی یا کچھ ممالک کے سربراہان کی کھوکھلی بیان بازی سرمایہ دارانہ جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی منافقت کو ظاہر کر رہی ہیں۔ لیکن بھارتی حکمران طبقات کا یہ وحشیانہ جبر بھی کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کو مکمل طور پر کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی جبر کے ذریعے مظلوم عوام کو ہمیشہ کے لئے غلام نہیں رکھا جا سکا اور نہ ہی بھارتی حکمران طبقات کا اس وقت برسر اقتدار نیم فاشسٹ ٹولہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکے گا۔

بھارتی ریاست کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے ذریعے کشمیری عوام پر جو ظالمانہ فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان کو کشمیری عوام کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی یہ کرفیو اور لاک ڈاؤن ہمیشہ کے لئے جاری رکھا جا سکتا ہے۔کرفیو اور لاک ڈاؤن کے دوران جو مصائب کشمیری عوام برداشت کر رہے ہیں ان سے ہندوستان کے خلاف پہلے سے موجود نفرت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور جب بھی کرفیو ہٹایا جائے گا یہ نفرت ایک کبھی نہ دیکھے گئے دھماکے کی صورت میں اپنا اظہار کرے گی اور کشمیر پر کنٹرول برقرار رکھنا ہندوستان کے لئے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ دوسری جانب اس فیصلے کو ہندوستان کے تمام عوامی حلقوں میں نفرت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی پھیلتے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت بھارت کی معیشت کے بڑھتے ہوئے بحران کا تمام تر بوجھ بھی ہندوستان کے محنت کش عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گی اور اس کے لئے ہندوستان کے دیگر علاقوں کے عوام پر بھی مختلف شکلوں میں ریاستی جبر کیا جائے گا جس کے خلاف نئی عوامی بغاوتیں اور مزاحمتی تحریکیں ابھریں گی۔ یوں کشمیر یوں پر کیے جانے والے جبر کے خلاف اٹھنے والی احتجاج کی آوازیں مودی حکومت کے خلاف ایک بڑی بغاوت میں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اب اس خطے میں نئی بغاوتوں کے عہد کا آغاز ہو چکا ہے اور وحشیانہ جبر کے ذریعے بھی اب ان طوفانوں کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قومی آزادی کی تحریک

پاکستان سے حمایت کی امید ٹوٹنے کے بعد لوگ قوم پرستوں کی جانب دیکھ رہے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم پرستی کے فرسودہ نظریات کے ذریعے کشمیر کی آزادی کا حصول ممکن ہے

مودی حکومت کے اس فیصلے نے پاکستانی مقبوضہ خاص کر نام نہاد آزاد کشمیر میں بھی ایک سیاسی ہلچل کو جنم دیا ہے جس میں قوم پرست سیاست کو ایک نئی عارضی زندگی میسر آئی ہے۔ پاکستانی ریاست کی بے عملی اور بے بسی کھل کر عیاں ہونے کے باعث قوم پرست پارٹیوں کے خودمختار کشمیر کے موقف کو ماضی کی نسبت کافی زیادہ حمایت مل رہی ہے جس کے باعث قوم پرست کارکنان اور قائدین میں کافی جوش و خروش نظر آتا ہے۔ عوامی غم و غصہ ان پارٹیوں کی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر عوام اور نوجوانوں کی شرکت کی صورت میں اپنا اظہار کر رہا ہے اور ان پارٹیوں اور قائدین سے نئی توقعات وابستہ ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند سیاست کا سب سے بڑا المیہ اس کا فرسودہ قوم پرستی کے نظریات پر کاربند ہوناہے۔ موجودہ کیفیت میں جب ان کو ماضی کی نسبت زیادہ حمایت مل رہی ہے، اس سے یہ غلط خیال تقویت پا رہا ہے کہ ان کے نظریات درست ہیں اور ان پر نظرثانی کی کوئی ضرورت نہیں۔

درحقیقت یہ درست ہے کہ پاکستان سے حمایت کی امید ٹوٹنے کے بعد لوگ قوم پرستوں کی جانب دیکھ رہے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم پرستی کے فرسودہ نظریات کے ذریعے کشمیر کی آزادی کا حصول ممکن ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کوئی بھی قوم پرست پارٹی اس کے خلاف اکیلے احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اسی لئے زیادہ تر پارٹیوں نے مشترکہ طور پر احتجاج کرنے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دیا۔ اس اتحاد کی تشکیل نے لوگوں کے غم وغصے کو اظہار کا ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت کے باعث بعض گروہوں کو یہ حوصلہ ملا کہ کوئی پارٹی اکیلے بھی احتجاج کرے تو عوام اس میں شرکت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اتحاد میں شامل اوراتحاد سے باہر موجود تمام قوم پرست پارٹیوں کا بنیادی المیہ مشترکہ طور پر یہ ہے کہ وہ موجودہ عہد کے کردار اور مودی حکومت کے اس فیصلے سے پیدا ہونے والی ایک مکمل طور پر نئی صورتحال پر سیاسی بحث سے گریزاں ہیں۔ اس تبدیل شدہ صورتحال میں جدوجہدِ آزادی کو کن نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟ اس قسم کے کلیدی سوالوں پر بحث سے اجتناب کرتے ہوئے انہی فرسودہ طریقوں سے احتجاج کرنے پر اکتفا کیا جارہا ہے جن کے ذریعے ماضی میں کچھ بھی حاصل کیا جا سکا۔

مودی حکومت کا موجودہ فیصلہ صرف کشمیر کے حوالے سے نہیں بلکہ پورے برصغیر کے حوالے سے ایک نئے تاریخی موڑ کی عکاسی کرتا ہے، اس لئے سب سے پہلے اس تبدیلی کی وضاحت ضروری ہے لیکن تمام تر قوم پرست قیادتیں صرف اس بات پر ہی خوشی سے ہواس باختہ ہیں کہ ان کو ماضی کی نسبت زیادہ عوامی حمایت مل رہی ہے۔ اگر ان قوم پرست قیادتوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض مسلسل احتجاج کے ذریعے عوام کی توانائیوں کو ضائع کرنے کے پالیسی پر کار بند ہیں۔ جبکہ موجودہ کیفیت میں سب سے بنیادی ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نئی سیاسی بحث کے ذریعے اس عہد کے کردار کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے نظریات اور طریقہ کار کو واضح کیا جائے۔ ماضی میں بھی ان نظریات کے تحت ایک بڑی عوامی تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی تھی اور اب بھی ان نظریات کے ذریعے کچھ نہیں حاصل ہو سکتا۔ ہم جس عہد میں زندہ ہیں یہ عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کے ساتھ قومی ریاستوں کے بھی ٹوٹنے کا عہد ہے اور اس عہد میں کس طرح اس خطے کی تین سامراجی ریاستوں کے قبضے کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک نئی قومی ریاست بنائی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا درست سائنسی جواب واضح کئے بغیر جدوجہد کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ آزادی کے بعد نظام کون سا ہو گا اس بحث کو اگر قبل از وقت قرار دیتے ہوئے چھوڑ بھی دیاجائے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کشمیر پر سامراجی قبضے کے خاتمے کا درست طریقہ کار کیا ہے جس پر جدوجہد کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ کشمیر صرف تین حصوں میں منقسم نہیں ہے بلکہ اس کی مزید اندرونی انتظامی تقسیم بھی کسی مشترکہ جدوجہد کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ نام نہاد آزاد کشمیر کے قوم پرست اگر پاکستانی مقبوضہ حصوں کی ایک مشترکہ آئین ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں تو گلگت بلتستان کی اکثریت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی الگ آئین ساز اور بااختیار اسمبلی کا مطالبہ کرتی ہے۔ دوسری جانب نام نہاد آزاد کشمیر کی پاکستان کے قبضے سے آزادی کی لڑائی قومی بنیادوں پر استوار کی جائے یا طبقاتی اور عوامی بنیادوں پر اس کی وضاحت کئے بغیر لڑائی کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔یہ سبھی سوالات کشمیر کی تحریک آزادی کے بنیادی سوالات ہیں جن پر اس وقت بحث سب سے زیادہ ضروری ہے لیکن سبھی قوم پرست قائدین اس وقت نظریاتی بحث کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس کی شدید ترین مخالفت کر رہے ہیں اور اس کے لئے جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ نظریاتی بحث کے باعث اختلافات میں اضافہ ہو گا اور اتحاد ٹوٹ جائے گا۔

مارکسسٹوں کا یہ واضح موقف ہے کہ کبھی بھی انقلابی نظریات کے بغیر کوئی آزادی کی تحریک کامیابی سے ہمکنارنہیں ہو سکتی اور نہ ہی نظریات پر اتفاق قائم کئے بغیر کوئی اتحاد قائم رہ سکتا ہے۔ اگرچہ نظریات کی مخالفت اس وقت زیادہ تر سیاسی کارکنان کو اتحاد قائم رکھنے کے لئے ضروری لگتی ہے لیکن بہت جلد یہ صورتحال تبدیل ہو جائے گی اور نظریات پر بحث کے بغیر بھی یہ اتحاد طویل عرصہ قائم نہیں رہ سکے گا۔ ایک ہی منزل کو حاصل کرنے کے لئے مختلف نظریات اور طریقہ کار پر کاربند گروپ اور دھڑے لمبے عرصے تک ساتھ نہیں چل سکتے اور ان کے درمیان بننے والا اتحاد اگر حادثاتی ہے تو اس کی ٹوٹ پھوٹ شخصی اور گروہی بنیادوں پر ہو نا ناگزیر ہے جو سیاسی کارکنان کو مایوسی کی جانب لے جائے گا لیکن اس عملی تجربے سے گزرتے ہوئے سنجیدہ سیاسی کارکنان نظریات کی اہمیت کا ادراک بھی حاصل کریں گے۔ قومی مسئلے کا حل آج کے عہد میں صرف اور صرف طبقاتی بنیادوں پر منظم ہوتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ممکن ہے اور خاص کر کشمیر جیسے منقسم خطے کی قومی آزادی دیگر تمام خطوں کے قومی سوال کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے۔ کشمیر کی تقسیم کو ختم کرنے اور وحدت کی بحالی کا مسئلہ کم ترین سطح پر بھی پاک و ہند کی موجودہ ریاستوں کے ڈھانچے اور جغرافیے میں ایک بڑے رد وبدل کا سوال ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے قائم ان ریاستی ڈھانچوں کا خاتمہ کئے بغیر ان کے جغرافیے میں اس نوعیت کا رد وبدل ممکن نہیں جو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہو اس لئے کشمیر کی آزادی کا سوال اپنی بنیاد میں اس خطے کی سرمایہ داری کے خاتمے کا سوال ہے۔ انہی بنیادوں پر کشمیر کی آزادی کی جدوجہد قومی کے بجائے ایک طبقاتی جدوجہد ہے جو پورے بر صغیر کے محنت کشوں کے ساتھ طبقاتی جڑت کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ کشمیر کی وحدت کی بحالی بر صغیر سے سرمایہ داری کے خاتمے سے منسلک ہے اور اس خطے میں ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی وہ حالات پیدا کئے جاسکتے ہیں جس میں تمام محکوم اقوام کو ان کے حق خود ارادیت پر مکمل آزادی سے عملدرآمد کرنے کے وسائل اور مواقعے میسر آسکتے ہیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh