|تحریر: ریولوشن، ترجمہ: اختر منیر|

ریولوشن ( IMT کے فرانسیسی سیکشن کا سیاسی پرچہ) کے نئے شمارے کی اشاعت ایک ایسی تحریک کے پس منظر میں ہونے جا رہی ہے جو ہمارے(نوجوان اور محنت کش) اور میکرون حکومت کی قیادت میں حکمران طبقے کی کشمکش میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ 3 اپریل سے شروع ہونے والی ریلوے کی ہڑتال اس جدوجہد کا مرکز ہو گی۔ لیکن ہم اور ہمارے مخالفین، دونوں کے لیے اس ہڑتال کی اہمیت SNCF(فرانسیسی ریلوے) اور اس کے ملازمین کے انجام سے کہیں بڑھ کر ہے۔

ریلوے مزدور ہمارے طبقے سے تعلق رکھنے والی سب سے مضبوط اور لڑاکا پرتوں میں سے ایک ہیں۔ پیداواری قوت کے ڈھانچے میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل ہے: اگر ایک بھی ٹرین نہ چلے تو پوری معیشت بھی سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ اور جدوجہد کا ایک شاندار ماضی ہونے کی وجہ سے بھی ریلوے مزدور کا حرکت میں آنا دوسرے اداروں کے پرولتاریہ کے اندر تحرک پیدا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر دسمبر 1995ء کی عظیم ہڑتال کے دوران بھی یہی ہوا تھا۔ مگر 1995ء سے بھی بڑھ کر آج ہمارے طبقے کی تمام پرتیں۔۔اور نوجوان طلبہ۔۔ کے لیے تحرک ناگزیر ہے کیونکہ یہ سب آج میکرون حکومت کے وحشیانہ حملوں کی زد میں ہیں۔

ریلوے کے محنت کشوں پر حملے کی صورت میں میکرون پورے محنت کش طبقے پر ہلہ بولنا چاہتا ہے

 

یہی وجہ ہے کہ فرانس کی بورژوازی ریلوے مزدور کو شکست فاش دینے کا تہیہ کیے بیٹھی ہے۔ بڑے کاروباریوں کے لیے SNCF کی نجکاری اور اس کے ملازمین کی حیثیت چھیننا بلا شبہ ایک اہم معاشی ہدف ہے۔ اگر وہ اس صنعتی اور معاشرتی توڑ پھوڑ میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے سامنے منافعوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔

مگر سرمایہ داروں اور ان کی حکومت کے لیے عمومی اور سیاسی لحاظ سے اس سے بہت زیادہ داؤ پر لگا ہے۔ ریلوے کے محنت کشوں پر حملے کی صورت میں میکرون پورے محنت کش طبقے پر ہلہ بولنا چاہتا ہے۔ وہ انہیں کمزور اور مایوس کرتے ہوئے اپنے رد اصلاحات کے پروگرام کو فوری طور پر لاگو کرنا چاہتا ہے۔

اس کے برعکس ریلوے محنت کشوں کی جیت سے پرولتاریہ کی تمام پرتوں میں جوش و جذبے کی ایک لہر دوڑ جائے گی۔ اس سے حکومت مدافعانہ حکمت عملی اختیار پر مجبور ہو جائے گی اور کم سے کم بھی انہیں اپنے رجعتی پروگرام کو لاگو کرنے میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے یہ ہڑتال صرف SNCF کے محنت کشوں اور انتظامیہ کے درمیان ایک جھگڑا ہی نہیں بلکہ یہ معاشرے کے دو بنیادی طبقات کے درمیان عمومی جدوجہد کا محور ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ حکومت آسانی سے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔ انہوں نے تحریک کو تقسیم کرنے کے لیے کچھ نام نہاد ’’مراعات‘‘ سنبھال رکھی ہیں۔ لیکن وہ انہیں آخری حربے کے طور پر استعمال کریں گے، کم از کم جب تک معاشرے کا تحرک ایک خاص حد تک نہیں پہنچ جاتا۔ ہم اس خاص حد کا پیشگی تعین تو نہیں کر سکتے مگر یقین کے ساتھ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اگر جدوجہد معیشت کے تمام شعبوں میں سرایت کرتی دکھائی دی تو حکومت گھٹنے ٹیک دے گی۔ یہ عوام کے اشتعال کا خوف تھا، جسے مئی 1968ء کا خوف بھی کہا جا سکتا ہے، جس نے دسمبر 1995ء میں جوجپے حکومت کو پسپائی پر مجبور کر دیا تھا۔

ہم کیسے جیت سکتے ہیں

کام کو سست کرنے کے تین مہینوں پر مشتمل لائحہ عمل(ہر ہفتہ دو دن ہڑتال اور تین دن کام کا سلسلہ) نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ صرف SUD ریلوے ٹریڈ یونین نے 3 اپریل سے شروع ہونے والی غیر معینہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ ریلوے محنت کش اس سوال پر منقسم ہیں۔

کام سست کرنے کے حق میں عام یونین کارکنان سمیت بہت سے دلائل دیئے جا رہے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ مگر ہمیں یہ واضح ہے کہ سست روی کسی صورت تین ماہ تک نہیں چل سکتی اور حکومت ایسی کسی تحریک کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ اس کا سارا انحصار اس حکمت عملی پر ہو گا کہ ایک وقت آنے پر مزدور تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ اس لیے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سست روی کو ایک مختصرعبوری اقدام کے طور پر لیا جائے جو غیر معینہ مدت کی مکمل ہڑتال پر منتج ہو۔

یہ سب معاملات ریلوے محنت کشوں کی جنرل میٹنگ میں زیر بحث آئیں گے۔ اگر انہیں لگا کہ طاقت کا توازن ان کی جانب ہے تو وہ ہڑتال کی جانب مائل ہوں گے۔ لیکن ان کا یہ فیصلہ صرف SNCF کے اندر طاقت کے توازن اور ممکنہ ہڑتال کی قوت پر نہیں، بلکہ پرولتاریہ کی دوسری پرتوں کے تحریک میں شامل ہونے یا نہ ہونے پر بھی منحصر ہو گا۔

تاوقتِ تحریر CGT(فرانس کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن) کے ممبر پبلک سروس اور ٹرانسپورٹ یونینز نے3 اپریل سے کوڑا اکٹھا کرنے، لیجانے اور اسے ٹھکانے لگانے والے محنت کشوں کی ہڑتال کی کال دی ہے۔ یہ وہ محنت کش ہیں جن کے اوقات کار بہت کٹھن اور خطرناک ہیں اور یقیناً ان کے اپنے مطالبات بھی ہیں۔ لیکن اگر یہ ریلوے محنت کشوں کے ساتھ مل کر ہڑتال پر جاتے ہیں تو ان کی اپنی تحریک کو بھی طاقت اور اثر ملے گا۔ یقیناً یہ دونوں ہڑتالیں ایک دوسرے کو تقویت پہنچائیں گی۔

موزوں ترین صورتحال یہ ہوگی کہ تمام ٹریڈ یونین فیڈریشنز 3 اپریل یا اس کے فوری بعد سے ہڑتالی تحریک کا آغاز کر یں۔ ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ ایسی تحریکوں کے فیصلے ٹریڈ یونین لیڈروں کے دفاتر میں نہیں ہوا کرتے۔ لیکن انہیں کم از کم محنت کشوں کو ایسی تحریک کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اس کی طرف لے کر جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔۔ جو اکثر اوقات ایسا نہیں کرتے۔

اس کے باوجود 22 مارچ کے احتجاجی مظاہروں میں دوسری پرتوں کے ساتھ ساتھ سول سروس کے ملازمین کی سرگرمی بھی دیکھنے میں آئی۔ ٹریڈ یونین قیادت کو چاہیے کہ وہ اس تحرک کو منظم کرتے ہوئے مزید وسعت دے۔ اس کی بجائے وہ ریلوے کی ہڑتال کے آغاز کے 16 دن بعد 19 اپریل کو ایک نئے ’’تحرک کے دن‘‘ کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر اس دن ایک جم غفیر بھی سڑکوں پر آ جائے تو بھی وہ بے اثر ہو گااگر اس کی بنیاد معیشت کے مختلف شعبوں میں بڑھتی ہوئی ہڑتالیں نہ ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔

مئی 1968ء کی پرچھائی

ریلوے کے محنت کشوں کی ہڑتال نے نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحریک کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ لیکن یہ راہیں ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ محدود مدت کے لیے ہیں۔۔ اس وقت چند دن یا پھر زیادہ سے زیادہ چند ہفتے۔ نشانے پر میکرون کی رجعتی حکومت ہے۔ اگر یہ تحریک تیزی پکڑ لے تو کتنا آگے جا سکتی ہے؟ ہم پیشگی اس کی حدود کا تعین نہیں کر سکتے۔ تقریباً نصف صدی پہلے 13 مئی 1968ء کے دن ہونے والی ایک 24 گھنٹے کی عام ہڑتال نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی تاریخ کی سب سے بڑی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا راستہ ہموار کر دیا تھا : کئی ہفتے 90 لاکھ مزدور ہڑتال پر رہے اور اکثر اوقات کام کی جگہوں پر قبضے کر لیے۔

13 مئی 1968ء کے دن ہونے والی ایک 24 گھنٹے کی عام ہڑتال نے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی تاریخ کی سب سے بڑی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا راستہ ہموار کر دیا تھا

فرانسیسی بورژوازی آج بھی اس انقلابی بحران سے خوف زدہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت اور ریاست کے دوسرے شعبوں میں ان کے نما ئندے(اپنے نقطہ نظر کے مطابق) وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو انہوں نے 50 سال پہلے کی تھیں۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مئی 1968ء کے آغاز میں یہ طلبہ پر پولیس کا تشدد ہی تھا جس نے ٹریڈ یونینز کی قیادت کو 24 گھنٹے کی ہڑتال کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی تھی۔ لیکن پچھلے کئی ہفتوں میں پولیس اور دائیں بازو کے غنڈوں(جیسے مونت پیلیئر میں) کے تشدد کے بے شمار واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف نوجوانوں کو ڈرانے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ 1968ء کی طرح انہیں مزید ریڈیکل کرتے ہوئے تحریک کو مزید وسعت دینے کا کام کرتے ہیں۔ اور حکومت یہ سب کچھ مئی 1968ء جیسی نوجوانوں کی تحریک سے بچنے کی کوشش میں کر رہی ہے! یہ سب ہمیں کسی یونانی ہیرو کے المناک کردار کی یاد دلاتا ہے جو اپنے انجام سے بچنے کی کوششیں کرتا ہے اور وہی کوششیں اس کے انجام کا باعث بنتی ہیں۔

اپریل کا مہینہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ریلوے ورکرز کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے میکرون نے تمام مظلوم اور استحصال زدہ پرتوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ہر جگہ بائیں بازو اور ٹریڈ یونینز کے کارکنان کو اس جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے شدید جوابی حملے کرنے چاہیے، چاہے یہ مئی 1968ء طرح بے عمل اور تنگ نظر ٹریڈ یونین فیڈریشن اور کنفیڈریشن قیادتوں کے لیے پریشانی کا باعث ہی کیوں نہ ہو۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh