|تحریر: ایڈم بوتھ، ترجمہ: آصف لاشاری|

کرونا کی عالمی وبا نے سرمایہ داری کے مخفی تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے اور 1930ء کی سطح کے گہرے بحران کا آغاز ہوچکا ہے۔ لاک ڈاؤن ختم ہو جانے کے بعد معیشت بحال ہونے کی طرف نہیں جائے گی بلکہ ایک طویل المیعاد معاشی زوال پذیری جنم لے گی۔

کرونا وائرس نے دنیا کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور ہم درحقیقت ایک نا قابلِ یقین صورتحال سے گزرے ہیں۔

منڈی کا نظام منہدم ہو رہا ہے۔ سرمایہ داری کے قوانین کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ پیداوار کے مفلوج ہو جانے سے رسد ختم ہوچکی ہے۔ لیکن لوگوں کے گھروں مقید ہوکر رہ جانے کے باعث مانگ بھی گراوٹ کا شکار ہے۔منڈی کے ”جادوئی ہاتھ“ کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔

تاریخ میں پہلی بار تیل کی قیمتیں گرتی ہوئی منفی میں چلی گئیں۔شرحِ سود، جو پہلے ہی کم ترین سطح پر تھی، اب بہت سی معیشتوں میں حقیقی معنوں میں منفی میں جا چکی ہے۔ مرکزی بینک اور حکومتوں کے مل کر سرمایہ داری کی اس لڑکھڑاتی نعش میں نئی روح پھونکنے کے چکر میں مانیٹری پالیسی اور مالیاتی پالیسی کے درمیان فرق گڈ مڈ ہوچکا ہے۔

وہ جو ماضی میں آزاد منڈی کی ”استعداد“ کی تبلیغ کرتے نہیں تھکتے تھے، اب وہ سرمایہ داری کو بچانے کے لیے انتہائی اقدامات اور ریاستی مداخلت کی التجائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ قدامت پرست جریدے ”دی سپیکٹیٹر“ کے مطابق حالت یہ ہے کہ کرونا وائرس کا بحران ”ٹوریز کو بھی سوشلسٹ بنا رہا ہے“۔

حکمران طبقہ اربوں ڈالر عالمی معیشت میں جھونک رہا ہے۔ دیوالیہ ہونے والے بڑے بزنس بیل آؤٹ پیکجز کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ”معیشت میں پیسہ انڈیلنے کے نظریات جنہیں کبھی نفرت اور حقارت سے دیکھا جاتا تھا اب سرمائے کے سنجیدہ منصوبہ ساز انہیں کھلم کھلا اپنا رہے ہیں۔

لیکن یہ سب کچھ بھی ناکافی ہے۔ معیشت اندھی کھائی میں لڑکھڑاتی گر رہی ہے اور 2008ء کے بحران سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پاتال کی جانب گامزن ہے۔ بے روزگاری آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے اور صرف امریکہ میں (اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق) تین کروڑ سے زیادہ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عظیم کساد بازاری کے ساتھ موازنے کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ موازنے بھی صورتحال کی سنگینی کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

الغرض آج دنیا کی آبادی اور اس میں محنت کش طبقے کا حجم 1930ء کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آج عالمی معیشت پہلے سے کہیں بڑھ کر باہم مربوط ہے۔ قصہ مختصر، آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے جو مناظر دیکھ رہیے ہیں وہ ماضی کا کوئی عارضی بحران نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں سرمایہ داری کا عالمی بحران ہے۔

امید کی ہری شاخ

تاہم سرمایہ دار ابھی بھی پر امید ہیں۔ دولت مند حضرات اور ان کے بینکار ساتھی خود کو تسلی دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں، ”یقینا یہ ایک معمولی سا انحراف ہے“۔ اس لیے وہ ”V“ شکل کی بحالی کی رجائیت پسندانہ پیش گوئیاں کرتے ہیں یعنی کہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی سرگرمی میں تیز گراوٹ اور اس کے بعد تیز ترین معاشی بحالی۔

کچھ لوگ ”V“ شکل کی بحالی کی رجائیت پسندانہ پیش گوئیاں کرتے ہیں یعنی کہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی سرگرمی میں تیز گراوٹ اور اس کے بعد تیز ترین معاشی بحالی

اس پیش گوئی کے پہلے حصے کی سچائی پر کوئی شک نہیں ہے۔ پہلے ہی امریکی جی ڈی پی کے اس سال کی دوسری سہ ماہی میں سالانہ بنیادوں پر ایک تہائی تک سکڑنے اور پورے 2020ء کے سال میں 5 فیصد تک سکڑنے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ برطانیہ اور یورپ کی معیشت کے بارے میں بھی اسی طرح کے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ سرمایہ داروں کی پیش گوئی کے دوسرے حصے کی سچائی یقینی نہیں ہے۔

بہرحال سرمایہ داری کا عروج و زوال بیان کرنی والی لکیروں کی وضاحت کے لیے حروفِ تہجی میں کئی دیگر حروف بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگ ”U“ شکل کی بات کر رہے ہیں جس میں طویل زوال کے بعد بالآخر بحالی ہونے کی طرف جائے گی۔ کچھ لوگ ”W“ کے حرف کو سامنے لا رہے ہیں جو دو روئے بحران کی عکاسی کرتا ہے اور وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کے نتیجے میں یہ ایک واضح امکان بن سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ایک نئی کساد بازاری کو ظاہر کرنے والے ”L“ شکل کی لکیر کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے ”I“ کی شکل سے بھی خبردار کیا ہے جو بغیر کسی ٹھہراؤ کے مسلسل نیچے کی طرف جانے والے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ تو ان میں سے کون سے حروف زیادہ ممکن منظرنامہ بیان کرتے ہیں؟ اور سرمایہ داروں کی ”V“ شکل کی امید افزا بحالی کی بنیاد کیا ہے؟

تیز ترین بحالی کی پیش گوئی کی بنیاد ایک ہی مفروضہ ہے جس نے ہمیشہ سرمایہ داری کے معذرت خواہان کی حوصلہ افزائی کی ہے یعنی منڈی کی جادوئی طاقت اور اس پر سرمایہ داروں کا غیر متزلزل یقین۔ اس پر مزید یہ اعتقاد کہ موجود سماجی دوری کے اقدامات عبوری اور عارضی ہیں۔ زیادہ پرامید سرمایہ دار کہتے ہیں کہ ہاں ہو سکتا ہے کہ ہم ابھی ڈوب رہے ہوں، لیکن بیماری پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا اور معمول واپس آ جائے گا اور معیشت دوبارہ کھل جائے گی جیسے کوئی جانور توانائی سے بھر پور ہو کر ہائبرنیشن سے اٹھتا ہے اور اس طرح دولت بنانے کا خوش کن کام پھر سے شروع ہو جائے گا۔

درحقیقت سب سے زیادہ آزاد خیال آوازوں نے بھی شمپٹیر کے نظریے کے مطابق ”تخلیقی تباہی“ کے دھماکے کی وجہ بننے پر کرونا وائرس کے بحران کو خوش آمدید کہا ہے۔

صدر ٹرمپ بھی امریکہ میں بالکل اسی طرح کے موقف پیش کر رہا ہے جس نے زور دیا کہ ”علاج بیماری سے زیادہ بد تر نہیں ہو سکتا“ اور برطانیہ میں ٹوریز کے ایک دھڑے کی جانب سے اسی طرح کا ’شاندار‘ موقف ہر جگہ بیچا جا رہا ہے، جو درحقیقت بڑے کاروباروں کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہے اور جو انسانی جانوں پر منافعوں کو ترجیح دینے پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

معاشی وبا
تاہم حقیقت یہ ہے کہ معیشت کبھی بھی واپس بحال ہونے کی طرف نہیں جائے گی۔ کرونا وبا ایک مستقل داغ چھوڑ جائے گی۔ جب سرمایہ داری کا انہدام ہوتا ہے تو ہر چیز رک نہیں جاتی۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ آج ”عارضی“ طور پر بند کی جانی والی صنعتیں دوبارہ کبھی نہ چل پائیں اور عارضی طور پر برطرف کیے جانے والے محنت کش دوبارہ کبھی کام پر نہ جا پائیں۔

کرونا وائرس کی طرح معاشی بحران بھی وبا کی طرح پھیلتا ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ کئی گنا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے

معیشت دان ٹم ہارفورڈ فنانشل ٹائمز میں لکھتا ہے کہ ”کرونا وائرس کی طرح معاشی بحران بھی وبا کی طرح پھیلتا ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصان میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ کئی گنا اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے“۔

”ایک دن کے لاک ڈاؤن کا اثر ایک سرکاری چھٹی سے زیادہ ہو سکتا ہے“ ہارفورڈ مزید لکھتا ہے کہ ”دو ہفتوں کا لاک ڈاؤن غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دیتا ہے اورتین مہینے کا لاک ڈاؤن دور رس تباہی پھیلاسکتا ہے جس کے اثرات کئی سالوں تک رہیں گے۔“

اس بات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ ٹھہراؤ کا شکار طلب میں لاک ڈاؤن ختم ہو جانے کے بعد تیزی سے اضافہ ہوگا۔ سیاحت، پرچون اور تفریحی صنعت کبھی پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ مثال کے طور پر 60 سے 70 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ معاشی اور طبی تحفظات کے پیشِ نظر 2021 ء میں ان کا چھٹی منانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صرف 20 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ فوراً دکانوں پر ٹوٹ پڑیں گے اگر وہ کبھی کھلتی بھی ہیں۔

دوسری طرف، ائیر لائنز جو کہ آسمان سے زمین پر گر رہی ہیں اور حکومتوں سے بیل آؤٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں، اس صورتحال میں پوری ایوی ایشن انڈسٹری کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ تیل کے شعبے میں بھی بعینہٰ یہی صورتحال ہے، بالخصوص امریکہ میں، جہاں سرمایہ داروں نے پچھلی دہائی میں اربوں ڈالر شیل آئل پروڈکشن میں لگائے تھے۔ اب مانگ اور قیمتوں کے کریش کر جانے کے بعد امریکی آئل کمپنیاں بقا کے خطرے سے دو چار ہیں۔

دنیا بھر کی کاریں بنانے والی دیوہیکل کمپنیوں کے بارے میں بھی یہی بات درست ہے جن میں سے بہت سارے کرونا کے بحران سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تھے۔ Fiat Chrysler جیسی کمپنیاں فقط تین مہینے کی بندش کے بعد دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی ہے۔ دیگر کمپنیاں جیسے کہ فورڈ اور رینالٹ فقط چند ماہ ہی پیچھے ہیں۔ اور یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ان تمام کمپنیوں سے نہ صرف یہ کہ براہ راست لاکھوں افراد کا روزگار منسلک ہے بلکہ یہ سپلائیرز کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بھی کاروبار مہیا کرتی ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ، نیم مردہ کاروباروں کی ایک پوری فوج کو حالیہ عرصے میں مستقل سستے قرضوں کے سہارے نیم زندہ رکھا گیا ہے۔ یہ نیا زوال بالآخر ان کو دفن کر دے گا۔ بینکنگ سیکٹر پہلے ہی قرضوں کے دیوالیہ نکلنے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے جو کہ وبا کی طرح پورے مالیاتی شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ہر جگہ بلبلے پھٹ رہے ہیں کیونکہ سرمایہ کار کسی پر خطر کاروبار میں سرمایہ کاری کا جوکھم اٹھانے کی بجائے روپے کا ڈھیر لگا رہے ہیں۔

نامیاتی بحران
سرمایہ داری کوئی ڈوری سے جڑے لٹو جیسی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ معیشت پہلے نیچے جائے گی اور پھر اوپر اٹھ آئے گی۔ ایسے ادوار بھی ہوتے ہیں جب اس طرح کے زوال آتے ہیں جو کہ سرمایہ دارانہ ’کاروباری چکر‘ کا ایک ناگزیر حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بحران، جو 2008ء کے بحران کی پشت پر سوار ہو کر آیا ہے، بالکل ایسا دور نہیں ہے۔

ہم سرمایہ داری کے زوال کے عہد میں زندہ ہیں اور سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں

بلکہ ہم سرمایہ داری کے زوال کے عہد میں زندہ ہیں اور سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں: ایک ایسا بحران جس میں سرمایہ داری ایک مسلسل نیچے کی جانب جانے والے چکر میں پھنس جاتی ہے، جہاں بیروزگاری میں اضافے سے مانگ میں گراوٹ جنم لیتی ہے، اور جس کا نتیجہ سرمایہ کاری کی گراوٹ میں نکلتا ہے اور اس سے پھر بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چکر یوں چلتا چلا جاتا ہے۔

مزید برآں یہ کہ 09-2008 کے بحران کے برعکس آج کا بحران حقیقت میں عالمی سطح کا بحران ہے۔ اُس وقت، جیسا کہ مارٹن وولف فنانشل ٹائمز میں بڑے جامع انداز میں بیان کرتا ہے کہ، چین اپنے دیوہیکل کینیشئن اسٹ اخراجاتی پروگرام پر عملدرآمد کی بنیاد پر ریکارڈ شرح نمو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔اور اس عمل نے برازیل اور افریقہ جیسے بڑے اجناس برآمد کرنے والے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشتوں کو بھی ترقی دی۔

لیکن اس سب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب چین قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر جگہ اپنے دیگر ہم منصبوں کی طرح، بیجنگ میں بیٹھے رہنماؤں کے پاس اس بحران سے لڑنے کے لیے گولہ بارود ختم ہو چکا ہے۔ اور حتیٰ کہ قرنطینہ کے (ابھی تک) ختم ہو جانے کے بعد بھی چینی معیشت کو آگے دشوار گزار رستے کا سامنا ہے۔ آخر جب باقی ساری دنیا ہی ٹھہراؤ کی حالت میں ہو تو چین کی کوئی برآمدات کون خریدے گا۔
یہی مسئلہ ہر ملک کو اس کے الٹ میں درپیش ہے۔ اگر کاروبار بحال بھی ہو جائیں تو امریکہ اور جرمنی کسی دوسری جگہ اپنی اشیاء کے لیے مانگ کے بغیر معاشی بحالی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

سرمایہ داری میں ہر ملک کا مقدر باقیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ امریکہ کے بانی بینجمن فرینکلن نے درست طور پر کہا تھا: ہمیں اکٹھے رہنا ہوگا ورنہ،بلاشبہ، ہم الگ الگ لٹکا دیے جائیں گے۔

موجودہ زوال محض چند روزہ قسط نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی تاریخ میں پیداوار اور سرمایہ داری کے زوال کے معنوں میں ایک فیصلہ کن موڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سچائی اگر ابھی تک نہیں اتری تو بہت جلد سخت سے سخت کھوپڑی رکھنے والے سرمایہ دار طبقے کے ذہنوں میں بھی اتر جائے گی۔ اور یہ وہ انقلابی حقیقت ہے جسے مارکس وادیوں کو بھی مکمل طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

افراطِ زر، تفریطِ زر یا انتشار؟
نظام کو بچانے کی کوششوں میں سرمایہ دار طبقہ دہائیوں نہیں بلکہ صدیوں سے قائم منڈی کی آزادی کی قدامت پرستی کو ایک طرف پھینک رہے ہیں۔ ریاستی مداخلت معمول کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

سرمایہ دار طبقے کے زیادہ دور اندیش نمائندوں میں سے بہت سارے طویل مدت میں افراطِ زر سے زیادہ تفریطِ زر سے خوف زدہ ہیں

دنیا بھر میں حکومتیں بینکوں اور بڑے کاروباروں کو بچانے اور پوری معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی خاطر آخری سہارے کے طور پر خود ہی قرض دینے، لینے اور خرچ کرنے تمام کردار اد کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ ایک دفعہ پھر ایسا لگ رہا ہے کہ ”اب سارے کینیشئن اسٹ بن گئے ہیں“۔

پالیسی ساز اس صورتحال میں ہر قسم کے حربے اپنا رہے ہیں اور نتیجتاً حکومتی قرضوں کے غبارے میں مزید ہوا بھرتی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے عندیہ دیا ہے کہ اس سال ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں حکومتی قرضے 6 ٹریلین ڈالر تک بڑھ جائیں گے یعنی یہ جی ڈی پی کے 105 فیصد سے بڑھ کر 122 فیصد تک جا پہنچیں گے۔

لیکن مشکل وقتوں میں غیر روایتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ دوسرے لوگ ایسے ایسے خیالات تجویز کر رہے ہیں جنہیں چند مہینے پہلے مطعون تصور کیا جاتا۔ ان میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ مرکزی بینک براہ راست حکومتی قرضوں کو فنانس کرسکتا ہے۔

عام طور پر حکومتی قرضہ بانڈز کی شکل میں منڈی میں فروخت کیا جاتا ہے اور خواہشمند قرض دہندگان کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ضرورت کے ایسے وقتوں میں وہ کسی مڈل مین کو نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں اور فیڈرل بینک، بینک آف انگلینڈ وغیرہ کو خود ہی حکومتی بانڈز خریدنے کا کہہ رہے ہیں۔
کوئی بھی یہ درست طور پر پوچھ سکتا ہے کہ ان کو آخر ادا کیسے کیا جائے گا؟ سادہ الفاظ میں جواب یہ ہے کہ نوٹ چھاپ کر۔

اس سب نے افراطِ زر کے بڑھنے کے خطرات کے بارے میں درست انداز میں سوالات کھڑے کیے ہیں۔ آخر کار بورژوازی خود بھی وینزیلا کے بھوت پر انگلی اٹھانے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتی، جہاں حکومتی اخراجات کو نوٹ چھاپ کر پورے کرنے کی کوشش نے بہت بڑے پیمانے پر ہائیپر انفلیشن کو جنم دیا ہے۔
یہ درست ہے کہ اگر باقی چیزیں ایک جیسی ہی رہیں تو معیشت کو لگنے والا نوٹوں کا ایک بھاری ٹیکہ افراطِ زر کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔ جیسے مارکس نے وضاحت کی تھی کہ زر حتمی تجزیے میں قدر کا ہی اظہار ہوتا ہے یعنی منڈی میں موجود اشیا کی قدر کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر اشیا کی ایک ہی یا کم مقدار کو خریدنے کے لیے رقم کی زیادہ مقدار موجود ہے تو چیزوں کی قیمتوں میں عمومی اضافہ ہوگا یعنی افراطِ زر پیدا ہوگا۔

لیکن ابھی، جیسا کہ اوپر زور دیا گیا ہے، باقی تمام چیزیں بھی ایک جیسی نہیں ہیں۔ متقابل قوتوں کا کھیل جاری ہے، بالخصوص عالمی لاک ڈاؤن کی وجہ سے مانگ میں ہونے والی شدید گراوٹ سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہوسکتا ہے کہ رسد محدود ہو لیکن مانگ زیادہ تیزی سے گر رہی ہے۔ یہ سب قیمتوں پر نیچے کی جانب شدید دباؤ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

تیل کی منفی قیمتیں اسی حقیقت کا واضح اظہار ہیں۔ چند ایک ضروری اشیا(خوراک وغیرہ) کو چھوڑ کر مارکیٹوں کے سکڑاؤ اور مقابلے میں شدت آنے کی وجہ سے قیمتیں عمومی طور پر نیچے گر رہی ہیں۔
ہر ملک اور ہر شعبے میں صنعتیں انہدام کی جانب گامزن ہیں۔ وسیع پیمانے کی بے روزگاری اجرتوں اور کام کے حالات میں آنے والی گراوٹ کو مہمیز دے گی۔کساد بازاری کا نیچے کی جانب گامزن چکر پہلے ہی سے تیار ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ دار طبقے کے زیادہ دور اندیش نمائندوں میں سے بہت سارے طویل مدت میں افراطِ زر سے زیادہ تفریطِ زر سے خوف زدہ ہیں۔

یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ عہد میں زر کی ترسیل میں مرکزی بینکوں کا کردار غالب نہیں رہا۔وہ تو صرف ’کم از کم‘ ترسیل کو متعین کرنے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ درحقیقت، معیشت میں پیسے کا بڑا حصہ قرضوں کی صورت داخل ہوتا ہے، جو کہ کاروباری اور گھریلو قرضوں اور رہن کی مانگ کے ردِ عمل میں نجی بینک دیتے ہیں۔

لیکن سرمایہ کاری اور کھپت کی شکل میں ’موثر مانگ‘ میں گراوٹ کے ساتھ قرضوں کے لیے طلب بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، مرکزی بینک کی جانب سے سرکاری طور پر چھاپہ جانے والا پیسہ بینکاری نظام کی جانب سے پیدا کیے جانے والے نجی پیسے میں آنے والی گراوٹ پر قابو پانے کی ایک بے کار کوشش ہے۔

زائد پیداواریت

مقداری آسانی(Quantitative Easing) کا طریقہ کار بھی مرکزی بینکوں کی جانب سے بانڈ خریداری کے نئے تجویز کردہ طریقے سے مماثلت رکھتا ہے۔ لیکن مرکزی بینکوں کی جانب سے براہ راست حکومتی بانڈز کو خریدنے کی بجائے مقداری آسانی کے طریقے میں وہ بینکوں سے اس طرح کے اثاثوں کی خریداری کے لیے نوٹ چھاپتے ہیں، یوں اس طریقے سے آزاد ہونے والا سرمایہ، حقیقی معیشت میں کاروباروں کو قرضے دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔.

اگر عالمی معیشت کی بات ہو تو غیر یقینی کیفیت اور انتشار اس کا ’نیا معمول‘ ہیں

کم از کم کاغذوں کی حد تک تو ایسا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقداری آسانی سے پیدا ہونے والا یہ اضافی پیسہ کبھی بھی حقیقت معیشت تک نہیں پہنچ سکا۔ پچھلے پورے عشرے میں دنیا بھر میں افراطِ زر میں عمومی طور پر کمی کی یہی وجہ ہے۔

اس کی بجائے، بینک اس اضافی پیسے پر سانپ بن کر بیٹھے رہے اور اپنے منافعوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اور کہیں بھی سرمایہ کاری کے لیے منافع بخش مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اثاثہ جات کے بلبلے بڑھتے گئے، اور سٹہ بازی اور اپنے شئیرز کو مسلسل خریدنے کے معمول کی وجہ سے سٹاک مارکیٹیں میں ہوا بھرتی گئیں۔

یہ ناکام تجربہ صرف اتنا دکھاتا ہے جیسا کہ ایک پرانی کہاوت ہے: آپ گھوڑے کو پانی تک لے جا سکتے ہیں مگر اسے پانی پلا نہیں سکتے۔ حکومتیں مرکزی بینکوں کے ذریعے دنیا بھر میں جتنی چاہیں رقم پیدا تو کر سکتی ہیں لیکن وہ سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری پر مجبور نہیں کر سکتیں۔

سرمایہ داری پیداوار برائے منافع کا نظام ہے۔ سرمایہ دار صرف اسی وقت سرمایہ کاری کریں گے اگر ایسا منافع بخش ہو۔ اور اب ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اشیا کی بہتات، بیکار پڑے کارپوریٹ کیش ریزرو اور ’زائد صلاحیت‘عالمی معیشت کا خاصہ بن چکے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں کاروبار میں سرمایہ کاری تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے اور ایسا پیسے یا زر(لیکویڈیٹی) کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے زائد پیداواریت کے بحران کی وجہ سے ہے۔ اور اس صورت حال پر قابو پانے کے برعکس کرونا کا بحران پہلے سے موجود تمام مسائل کو بڑھاوا دے گا۔

جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو گی تو کچھ مخصوص شعبوں میں افراطِ زر کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔ اس وقت، جب دکانیں بند اور صنعتیں تعطل کا شکار ہیں، معیشت میں ڈالا جانے والا یہ پیسہ کہیں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بہت کچھ مستقبل کے لیے بچا لیا جائے گا جب کاروبار دوبارہ کھلنے کی طرف جائیں گے۔ اس سب سے اخراجات میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہونے کی طرف جا سکتا ہے.

لیکن پیداوار کے وقتاً فوقتاً اور غیر متوازن طریقے سے دوبارہ آغاز، تباہ حال عالمی رسد کے سلسلے، اور اس پر تحفظاتی رجحانات کے ابھرنے کے امکانات کے باعث اس بڑھتی مانگ کا ٹاکرا محدود رسد سے ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ شعبوں میں لازمی طور پر افراطِ زر جنم لے سکتا ہے۔

اسی طرح، اگر حکومتیں ہر جگہ لامتناہی طور پر قرض لے کر خرچ کرنے(Deficit Financing) اور ریاستی اخراجات میں اضافے کی پالیسیاں جاری رکھتی ہیں تو اس کے نتیجے میں بھی افراط زر، یہاں تک کہ ہائپر انفلیشن جنم لے سکتی ہے کیونکہ مصنوعی طو رپر بڑھی ہوئی مانگ، جب سرمایہ دارانہ پیداواری قوتوں کی حدود کے ساتھ ٹکراؤ میں آتی ہے تو نتیجہ افراط زر یا ہائپر انفلیشن کی صورت میں بر آمد ہوسکتا ہے۔
پوری درستگی کے ساتھ یہ بتانا نا ممکن ہے کہ چیزیں عمل کے اندر کیسے وقوع پذیر ہوں گی۔ مارکسی معاشی تھیوری کوئی جام جم نہیں ہے بلکہ یہ ایک متحرک، پیچیدہ اور تضادات سے بھرپور نظام یعنی سرمایہ داری کا ایک جدلیاتی اور مادی تجزیہ ہے۔

جو بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ استحکام کے انتہائی تھوڑے امکانات بھی تیزی سے ہوا ہو جائیں گے۔ اگر عالمی معیشت کی بات ہو تو غیر یقینی کیفیت اور انتشار اس کا ’نیا معمول‘ ہیں۔ کساد بازاری اور تفریطِ زر کے عمومی منظر نامے پر افراطِ زر کے چھوٹے دورانیے دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔ سرمایہ دارنہ انتشاراس عمومی خاصہ ہوگا۔

مفت میں کچھ نہیں ملتا

ابھی تو وہ سب وقتی طور پر بحران سے نکلنے کے لیے پیسہ انڈیلنے پر خوش ہیں لیکن زیادہ سنجیدہ سرمایہ دار بھی یہ جانتے ہیں کہ سرمایہ داری میں کچھ بھی مفت میں حاصل نہیں ہوتا۔ حکومتی قرضے، جو ابھی مجتمع ہوتے جا رہے ہیں، مستقبل(قریب) میں سود سمیت ادا کیے جائیں گے۔ کسی نہ کسی کو اس بحران کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

کسی نہ کسی کو بحران کی قیمت ادا کرنی ہوگی

ایک حالیہ اداریے میں اکانومسٹ جریدہ قرضوں میں جکڑی ہوئی حکومتوں کے سامنے موجود امکانات کو واضح کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ لبرل جریدہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ قرضوں سے ان تین طریقوں میں سے ایک کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے: ٹیکسوں کے ذریعے، افراطِ زر کے ذریعے یا دیوالیہ پن کے ذریعے۔

دوسری عالمی جنگ کی مثال دہرائی جاتی ہے کہ کیسے برطانیہ جی ڈی پی کے 270 فیصد کے برابر کے قومی قرضے سے ابھر کر باہر نکلا۔ اس وقت، افراطِ زر کی پالیسیوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے مرکب کو قرضوں کو جی ڈی پی کے 50 فیصد سے کم پر لانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ غیر معمولی شرح نمو بھی پوری معیشت کے تناسب سے قرضوں کا بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔
مذکورہ آرٹیکل آج بھی اسی طرح کے معاشی ہتھیار استعمال کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ جیسا کہ لبرل ہمیشہ کرتے ہیں، مذکورہ جریدے کا مصنف بھی اس سب کی بنیاد میں کار فرما سب سے اہم سیاسی سوال کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ بحران کی قیمت کون ادا کرے گا۔
مجوزہ تینوں ہتھیاروں میں سے کوئی بھی غیر جانبدار نہیں۔ بالآخر سوال کا جواب طبقاتی ہی ہے۔ مثال کے طور پر ٹیکس صرف مجرد ہندسے نہیں ہیں۔ یا تو سرمایہ دار طبقے نے ادا کرنا ہے یا محنت کش طبقے نے۔ لیکن پہلا کاروباری سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ہوتا ہے اور دوسرا کھپت کو کاٹتا ہے۔

دیوالیہ ہونے کے بارے میں بھی یہی درست ہے۔ آخر کار اس قرض کا جو ادا نہیں ہو پانا مالک کون ہے؟ دوبارہ یا تو یہ سرمایہ دار ہیں جو حکومتی قرضوں کو سرمایہ کاری کی ٹوکری کے طور پر اپنے پاس رکھے ہوتے ہیں۔ یا یہ جمع شدہ پینشنوں یا زندگی بھر کی جمع پونجیوں کی صورت میں محنت کش ہوتے ہیں۔
افراطِ زر کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ ’دی اکانومسٹ‘ خود اعتراف کرتا ہے کہ، ”اس کے نتیجے میں دولت کی ظالمانہ تقسیم سے محنت کش خسارے میں ہوں گے“۔

ساتھ ہی ساتھ، ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے بعد کا منظر نامہ کسی بھی طور معاشی نمو کا ہرگز نہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والا عروج دہرایا نہیں جائے گا، جو ایسے بے نظیر عوامل کے مجموعے سے ابھرا تک جو آج نہیں دہرائے جاسکیں گے۔

درحقیقت، سرکاری اور نجی قرضے کرونا بحران سے پہلے بھی انتہائی حدوں کو چھو رہے تھے۔ جیسے ہی ماضی کے مجتمع شدی یہ گھریلو، کاروباری اور حکومتی قرضیواپس ادا کرنے کی طرف جائیں گے، یہ بڑھتی طلب کا راستہ روک دیں گے۔ اس کے جواب میں جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کمزور طلب پھر قیمتوں میں بھی کمی کا باعث بنتی ہے جو پھر خطرناک تفریطِ زر کو جنم دیتی ہے۔ صارفین کی اس کم ہوتی مانگ کا م دوسرے الفاظ میں مطلب ضعفِ نمو ہوتا ہے(اگر ہو تو)۔اور یہ سب پھر قرضوں کی حقیقی قدر اور پر بوجھ کو بڑھانے کا کام کرتا ہے۔

طبقاتی جدوجہد

یہ یقینی گرداب محنت کش طبقے پر حملوں کے سونامی کے اوپر سوار ہو کر آئے گا

یہ یقینی گرداب محنت کش طبقے پر حملوں کے سونامی کے اوپر سوار ہو کر آئے گا۔ بحران کے پیشِ نظر آٹومیشن کے بڑھنے کے امکانات ہیں، مثال کے طور پر جیسے کاروبار محنت کشوں پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح مشین سے مقابلے جیسی پریشانیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اور جیسے ہی فاصلاتی کام، ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر ورک پلیس کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز میں اضافے کے بلبوتے پر عالمی محنت کشوں کی منڈی پھیلتی ہے، محنت کش طبقے کے درمیان عالمی مسابقت شدید ہونے کی طرف جائے گی۔

تنخواہوں میں متماثل اضافے کے بجائے، محنت کش اسی لمحے افراطِ زر کی وجہ سے اپنی اجرتوں میں حقیقی کمی کا سامنا کریں گے۔ یہ سب پھر صنعتی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی ایک لہر کو جنم دے گا کیونکہ محنت کش جو کچھ ہار چکے ہوں گے اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

طبقاتی جدوجہد میں شدت کا یہ تناظر، ہمیں لبرل تجزیہ کاروں کے کھوکھلے اندازوں سے غائب نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ زمینی حقائق سے بے بہرہ اکانومسٹ کے یہ صحافی بھی ہچکچاتے ہوئے یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ ”ایک یا دوسرے طریقے سے یہ بل بالآخر واجب الادا ہوجائیں گے، اور جب ایسا ہوگا تو (ادائیگی کا یہ عمل) کوئی غیر تکلیف دہ راستہ نہیں ہوگا“۔

آخری تجزیے میں سماج بنیادی طور پر دو طبقات میں تقسیم ہے۔ سرمایہ دار طبقے یا محنت کش طبقے میں سے کسی ایک نے اس بحران کی قیمت ادا کرنی ہے۔ اور حقیقی نتائج کا تعین معاشی کلیوں یا تھنک ٹینکس کی رپورٹوں سے نہیں ہوگا بلکہ زندہ قوتوں کی لڑائی سے ہوگا۔

ہم آپ کو اس لڑائی میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے شانہ بشانہ ایک سوشلسٹ مستقبل کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh