تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: تصور ایوب|

اگرچہ، دسمبر کے آخر اور جنوری میں ایران کو ہلا دینے والی تحریک بیٹھ چکی ہے اور کچھ بھی حل نہیں ہوا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یہ تحریک دہائیوں سے پنپتے غم و غصہ اور بے چینی کا اظہار تھی۔

اتوار کو تہران یونیورسٹی کے تین طالب علموں کو ان احتجاجی تحریکوں میں کردار ادا کرنے کی پاداش میں کل نو سال کی قید سنائی گئی۔ محسن حق شناس کو ایک سال، سینا رابعی کو دو جبکہ لیلا حسن زادے کو ’’حکومت مخالف مہم‘‘ کی پاداش میں چھ سال کی قید سنائی گئی۔

اس فیصلے کے خلاف تہران کی مشہور امیر کبیر پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے باہر طلبہ کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔ سینکڑوں طلبہ انقلابی ترانے گاتے ہوئے گیٹ پر اکٹھے ہوئے اور ’’سیاسی قیدیوں کو رہا کرو‘‘، ’’سیاسی طلبہ کو رہا کرو‘‘ کے نعرے بلند کرتے رہے اور ایک اعلامیہ جو کچھ خبروں کے مطابق پچھلے کچھ دنوں سے کیمپس میں گردش کر رہا تھا، دہراتے رہے۔

طلبہ، حکومت کے تمام دھڑوں لبرل دھڑے پر بیباکانہ تنقید کرتے رہے۔ طلبہ کا اعلامیہ حسب ذیل ہے:

’’آزادی اور تعلیمی آزادی کے تمام تر دعووں اور حکومت کے یونیورسٹی کو سکیورٹی سے پاک کرنے کے تمام تر وعدوں کے باوجود، ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کبھی طلبہ یا یونیورسٹی عملہ حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو انہیں شدید مداخلت اور سکیورٹی اداروں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس (تنقید) سے سخت حملوں کے ذریعے نمٹا جاتا ہے۔۔۔‘‘

 
 

Today in , students of Amirkabir University of Technology protested against heavy prison sentences issued by Islamic Revolution courts for arrested students. Then 's Islamic regime used its militias (carrying yellow flags) to suppress protesters.

 

احتجاجی طلبہ نے ان تمام طلبہ کو جنھیں تحریک کے دوران اٹھایا گیا رہا کرنے اور جن کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ان کی سزاؤں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت کی حمایتی قوتیں ہجوم پر حملہ آور ہونے کے لئے فوراً ’بسیجی‘ طلبہ(پیلے جھنڈے تھامے ہوئے) کو حرکت میں لیکر آئیں، لیکن یہ عمل بھی کچھ اثر نہ ڈال سکا بلکہ ان کے پاس سے گزرتے ہوئے طلبہ نے ان پر لعن طعن کی ( جیسا کے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔) اور انھیں ’’بے غیرت‘‘ جیسے القابات سے نوازا۔

تہران یونیورسٹی آف سوشل سائنسز میں بھی طلبہ نے امیر کبیر یونیورسٹی کے طلبہ جیسے مطالبات پر مبنی پوسٹرز ادارے کی دیواروں پر آویزاں کر رکھے تھے۔

آج( 13 مارچ) کو بھی تہران کی یونیورسٹیوں میں احتجاج جاری رہنے کا امکان ہے، اگرچہ اب انھیں یونیورسٹی کی چار دیواری تک محدود کر دیا گیا ہے۔ البتہ طلبہ کا یہ احتجاج ان عوامل کی ہی ایک کڑی ہے جو جنوری سے چل رہے ہیں۔

مشرقی اصفہان کے کسان گذشتہ تین ہفتوں سے فصلوں اور عام استعمال کیلئے پانی کی ناکافی مقدار مختص ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بد انتظامی اور پسماندگی کے کارن ایران پانی کے ایک سنجیدہ بحران سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ بڑی جھیلوں اور کچھ اہم دریاؤں کا خشک ہونا ہے۔ انہی میں سے ایک دریائے زایندے ہے، جو اصفہان سے گزرتا ہے اور اصفہان کی تمام تر زراعت اسی پر انحصار کرتی ہے۔ دریا ؤں کے خشک ہونے کی وجہ سے متاثروں کسانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ مشرقی اصفہان کے لوگ زیادہ پانی مختص کروانے کیلئے ایک مہینہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ نیچے دی گئی ویڈیو ابتدائی مظاہروں کی ہے جس میں لوگ نعرہ لگا رہے ہیں کہ ’’ڈرو مت، ہم سب اکٹھے ہیں‘‘: 

ورزنہ کے چھوٹے سے قصبے سے شروع ہونے والے چھوٹے پر امن احتجاج، 9 مارچ کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے ٹکراؤ کے بعد بڑے پیمانے پر پھیل گئے۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں ایک کسان کی کی گئی انقلابی تقریر ہے، جس میں وہ ارباب اختیار کو لتاڑ رہا ہے اور دوسری باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کے ’’ایک گدھا تم لوگوں سے بہتر انتظام چلا سکتا ہے‘‘ اور یہ نعرہ بلند کرتا ہے کے ’’بے شرم ارباب اختیار کو مر جانا چاہیے‘‘: 

(سکیورٹی فورسز سے) ٹکراؤ کے بعداحتجاج کناں اصفہان شہر میں داخل ہو گئے، ہجوم نعرے لگا رہا تھا کہ ’’آج ماتم کا دن ہے، کسانوں کی زندگیاں( تباہی کا شکار ہیں) بے یقینی کا شکار ہیں‘‘:

طلبہ کی طرح کسانوں نے بھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے نعرے لگائے،’’قید کئے گئے کسانوں کو رہا کرو‘‘۔ 

مظاہریں نے بازار کا رخ کیا اور بازار میں موجود لوگوں سے اپنی جدوجہد کا حصہ بننے کی اپیل کی۔ 

یہ صرف اکیلے اصفہان کے کسانوں کی حالت نہیں ہے، پانی کا بحران اور دوسرے دائمی مسائل دیہی آبادی کی زندگی کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ یہ آبادی کی وہی پرت ہے جس میں رجعتی ملا حکومت کی حمایت کی سماجی بنیادیں موجود تھیں، آج یہ پرت بھی شدت کے ساتھ نجات کے رستے کو ڈھونڈ رہی ہے۔

ملک کے جنوب مغربی علاقے خوزستان میں ایک اور جدوجہد خبروں میں گردش کر رہی ہے، جس کے مطابق میلی سٹیل گروپ، جس میں سٹیل کی صنعت سے وابستہ 3500 مزدور اور سینکڑوں ریٹائرڈ محنت کش، پچھلے تین مہینوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف 18 فروری سے ہڑتال پر ہیں۔ محنت کش سالوں سے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے آئے ہیں لیکن یہ ہڑتال ابھی تک کا سب سے زیادہ ریڈیکل قدم ہے۔

25 فروری کو بنائی گئی اس ویڈیو میں اہواز کی گلیوں میں محنت کشوں کا مارچ دیکھا جا سکتا ہے، جس میں وہ نعرے لگا رہے ہیں کہ ’’اگر ہمارے مسائل حل نہیں کیے جاتے تو اہواز میں ایک بڑی تحریک ابھرے گی‘‘: 

ہڑتال کے بعد سے اب تک روزانہ سڑکوں پر احتجاج کے بعد، کل انھوں نے ایک بڑا اکٹھ کرنے سے متعلق بیان جاری کیا ہے۔ وہ بیان جدوجہد کا خلاصہ پیش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ 21 دن سے محنت کش صرف پرامن ہڑتال اور احتجاج پر رہے ہیں اور سوائے تحریک کے نعرے بلند کرنے کے انھوں نے کچھ نہیں کیا ، بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ 

’’دو سال سے زائد عرصہ تک ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی، ہم ہر جگہ، ہر کسی کے پاس گئے لیکن بد قسمتی سے ہماری قانون کی پاسداری کی روش کا غلط استعمال کیا گیا، اور یہ سمجھا گیا کہ یہ تو بہت ہی خصی محنت کش ہیں جو دو گھنٹے تک بس نعرے ہی لگا سکتے ہیں۔۔۔‘‘

فیکٹری کے عہدیداروں اور ارباب اختیار کی طرف کسی قسم کا جواب نہ آنے کے بعد بیان ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے:

’’لیکن بے سود نعرہ بازی اور اس میں وقت ضائع کرنا( کافی نہیں) اب عمل کا وقت ہے۔‘‘

اس(عمل) کا کیا مطلب ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ یہ احساس ورکرز کی ابھرتی پرتوں اور پورے ملک کے غریبوں میں ایک مشترک چیز ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ یہ احتجاج ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ پچھلے مہینوں میں تمام صوبوں میں ان گنت احتجاج اور جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں عوام کی تمام تر پرتیں شامل تھیں۔ تہران میں حکومتی اہلکاروں اور گنابدی درویش نامی مذہبی اقلیت کے درمیان فروری میں ہونے والی جھڑپوں میں کئی افراد گرفتار ہوئے اور کم از کم تین پولیس والے ہلاک ہوئے۔ 3 مارچ کو محمد حبیبی نامی تدریسی ٹریڈ یونینسٹ کی سادہ وردی میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے گرفتاری کے خلاف پورے ایران میں اساتذہ کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جنھوں نے نہایت جرأت مندی سے اپنی تصویریں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر پوسٹ کیں جن میں وہ حبیبی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

رشت میں، نچلے طبقے کی خواتین کا گروپ جو کے پچھلے سال بنکوں کے دیوالیہ نکل جانے کا شکار ہوا، آج احتجاج کررہا تھا اور نعرے لگا رہا تھا کہ ’’آپ کی کوئی عزت نہیں ہے، اگر مرد ہو تو اپنے لائسنس کی پاسداری کرو‘‘۔ یہ اصل میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جس میں حکومت کے اندرونی لوگوں کو مالی ادارے بنانے کے لائسنس دیے گئے، جنھوں نے فراڈ پر مبنی اسکیمیں چلائیں۔ انھوں نے( زیادہ منافع کا لالچ دیکر) لوگوں سے ان کی جمع پونجی تک ہتھیا لی، اور ان دو سالوں میں ان(مالی اداروں) میں سے اکثر دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں جب کے مجرم کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کے پلے کارڈز کی عبارتیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کی اس طرح کے ان گنت واقعات نے عوام کے شعور پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ پلے کارڈز پر کچھ اس طرح کی تحریں ملتی ہیں:

’’ایسے ملک میں جہاں علی ( کے انصاف کی) حکومت ہے وہاں چور آزاد ہیں جبکہ جو لٹ گئے ان کو ڈرایا جاتا ہے، گرفتاریاں کی جاتی ہیں اور عدالتوں اور جیلوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ یہ علی کا انصاف ہے؟‘‘ 

جس قسم کے احتجاجوں کا اوپر ذکر کیا گیا اس قسم کے کئی احتجاج روزانہ کی بنیاد پر ہوتے رہتے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2017ء سے دسمبر 2017ء تک پورے ایران میں 5000 کے قریب احتجاج ہوئے۔ یہ تعداد جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے یقینی طور پر رواں سال مزید بڑھے گی۔

جنوری کے اوائل کی تحریک کے تجربے نے اس سارے عمل کیلئے ایک عمل انگیز کا کام کیا۔ اس تحریک نے نہ صرف اضطراب اور عدم اطمینان کے عمومی اور قومی کردار کو آشکار کیا بلکہ اس نے حکومت کی کمزوری کو بھی عیاں کر کے رکھ دیا۔ تحریک کے دوران سب کو معلوم تھا کہ حکومت اس ڈر سے کہ کہیں عوام کی مزید پرتیں تحریک میں نہ کود پڑیں، اس تحریک کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے گریزاں تھی۔ مزید برآں حکومت کو کئی مطالبات جیسا کہ اگلے بجٹ میں کٹوتیوں میں کمی اور جمہوری آزادیاں اور مظاہروں کے خلاف بردباری کی روش اختیار کرنے کو ماننا پڑا۔

اس سب نے عوام کے اعتماد میں اضافہ کیا جواب یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ ریاست کمزور اور بحران زدہ ہے۔ ہر نیا احتجاج عوام کی وسیع تر پرتوں کو آگے بڑھنے اور اپنے مطالبات اور شکایات کے حوالے سے آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہ احتجاج بکھرے ہوئے اور دفاعی حکمت عملی کے تحت شروع ہوتے ہیں اور فوری طور پر سیاسی شکل اختیار کرتے چلے جاتے ہیں اور تنقید کا حدف ملّا حکومت پر مرکوز کرتے چلے جاتے ہیں۔

مطلق العنان حکومت اس پیش رفت سے خوفزدہ ہے۔ مقامی روزنامے ہم شہری کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ خارجی اور داخلی تمام سیاسی قوتوں نے تمام تر حربوں کیساتھ جنوری کی احتجاجی تحریک پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احتجاجوں کی طبقاتی جڑیں بہت گہری تھیں۔ سماج کی موجودہ حالت پر ’’تشویش‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے رحمانی فضلی کا کہنا تھا کہ

’’(سماج میں اضطراب کی) ہم دو طرح کی وجوہات دیکھ سکتے ہیں، ایک فوری ہے اور ایک دور رس، احتجاجوں کی فوری وجہ کو معاشی ، سماجی، اور سیاسی حوالوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور الاؤ جلانے کیلئے ایک شعلہ ہی کافی ہے، لیکن مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔‘‘

نہ صرف یہ کہ ریاست کو فوری بغاوت کا سامنا ہے بلکہ ایک عمومی زوال کا بھی اوروہ سماج کی تمام پرتوں کی نظروں میں اپنی حاکمیت کا جواز کھو چکی ہے۔ خاص کر ریاست نوجوانوں اور محنت کش طبقے سے خوفزدہ ہے جس کی موجودہ نسل نے 1979ء کا انقلاب اور اس کی پسپائی کے بعد کی مایوسی نہیں دیکھی۔

حکمران طبقے کے ایک دھڑا آنے والے سماجی دھماکوں سے خبردار ہے اور اوپر سے اصلاحات کرنے کا خواہاں ہے تاکہ نیچے سے ابھرنے والے انقلاب کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔ خاص طور پر وہ چھوٹی چھوٹی علامتی جمہوری اصلاحات کرنا چاہتا ہے تاکہ عوامی غصے کی بھاپ کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ انٹرویو میں رحمانی فضلی کا کہنا تھا کہ میڈیا کو بجائے سماجی تبدیلی کا پیچھا کرنے کی بجائے اس سے آگے نکلنا چاہیے تاکہ ’’اس تبدیلی کو کنٹرول کرسکے‘‘۔ اصل میں وہ پریس پر ایک خاص حد تک پابندیوں کو نرم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے تاکہ ’’آزاد میڈیا‘‘ کے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ، آنے والے تحریک کو ’’جمہوریت‘‘ کی بتی کے پیچھے لگایا جا سکے جس سے کم از کم حکمران طبقے کی طاقت میں کسی بنیادی تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں۔

فروری میں صدر روحانی نے یہی بات اور بھی زیادہ واضح انداز میں بیان کی تھی، جب اس نے یہ کہا:

’’پچھلی حکومت، جس کا یہ خیال تھا کہ اس کا اقتدار ابدی ہے اور اس کی شہنشاہیت کو دوام حاصل ہے، اس لیے سب کچھ کھو بیٹھی کہ اس نے تنقیدی آوازوں کو نہ سنا، نصیحتوں پر کان نہ دھرے، اصلاح پسندوں، علماء، بزرگوں اور اہل دانش کی بات کو نہ سمجھا۔ پچھلی حکومت نے عوام کے احتجاجوں کی آوازوں کو نہ سنا اور صرف ایک آواز کو سنا اور وہ لوگوں کا انقلاب تھا۔ ایک حکومت جو صرف انقلاب کی آواز سنتی ہے وہ پہلے ہی بہت دیر کر چکی ہوتی ہے۔‘‘

اگرچہ یہ بات مبہم ہی رہ گئی لیکن ( تحریک کے دوران) روحانی نے حکومت کے مستقبل کا تعین کرنے کیلئے ایک ریفرنڈم کی تجویز بھی دی تھی، جس کی بازگشت سیاسی لبرل اور ثقافتی حلقوں میں دور تک سنائی دی۔ حکمران طبقے کا لبرل حلقہ قدامت پسند حلقے کو خبردار کرتا آیا ہے کہ ’’اگر ہم اصلاحات نہیں کرتے تو ایک انقلاب آئے گا اور ہم سب کچھ کھو دیں گے۔‘‘ 

جب ایک مطلق العنان حکومت انقلاب کے ڈر سے اصلاحات کا سوچنے لگتی ہے تو، جیسا کہ فرانسیسی تاریخ دان ایلکس ڈی ٹک ویل کا کہنا تھا کہ ، تب پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ حکومت کا قدامت پسند دھڑا اس سے آگاہ ہے۔ وہ بہت ہوشیاری سے دیکھ رہا ہے کہ کس طرح ہر احتجاج شدت اختیار کرتا جاتا ہے اور دوسری پرتوں کو ہلا شیری دیتا ہے۔ لیکن سخت اقدامات یا اصلاحات دونوں میں سے کوئی بھی ایران میں استحکام نہیں لا سکتا کیونکہ تضادات بہت زیادہ گہرے ہو چکے ہیں۔ یہ ایرانی سرمایہ داری اور سرمایہ دار طبقے کی سرطان زدگی اور خصی پن کی غمازی کرتے ہیں، جو اپنے ہی تضادات کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ وہ سماج کو درپیش کسی ایک بھی بنیادی مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر ہیں۔ آخری تجزیے میں یہی وہ وجہ ہے جو اس بحران کے پیچھے موجود ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh