پھٹ رہے ہیں روز دل، ٹوٹتے ہیں روز خواب
ہو رہا ہے صبر کم، بڑھ رہا ہے اضطراب
پھاڑ دے گی نسلِ نو ظلم کے سبھی نصاب
سب فقیہہ، سب امام ہو رہیں گے بے نقاب

0
0
0
s2smodern

فلک خود زمیں میں دھنسا کیوں نہیں ہے .زمیں پر زمانہ رکا کیوں نہیں ہے .اگر ہے غفور و مغنی تو اب تک .خدا کا کلیجہ پھٹا کیوں نہیں ہے .وہ سچا صحیفہ، وہ قرآن لا دو .مجھے میری زینب کی مسکان لا دو

0
0
0
s2smodern

آج بھگت سنگھ کا 109واں جنم دن ہے۔ اس موقع پر کچھ اشعار پیش خدمت ہیں جو بھگت سنگھ کے پسندیدہ اشعار تھے۔ پھانسی سے پہلے جیل میں وہ ان اشعار کو بار بار دہراتا تھا۔

0
0
0
s2smodern

لہو سجا کے کھلا ہے گلابِ اکتوبر۔مرا سلام، تجھے انقلاب اکتوبر  ۔سلام، پرچم اِسونی، سلام تجھے 

0
0
0
s2smodern

جنم دن مبارک ہو، ساتھی چے! لال سلام! .لال سلام! لال سلام! لال لال سلام! .ہچک ہوتی ہے تھوڑی ساتھی! کرتے ہوئے لال سلام!

0
0
0
s2smodern

پندرھویں صدی کے اواخر میں جرمنی کے بہت سے نجومی اور جادو گر اپنے لئے ’فاسٹس ‘کا لفظ اختیار کرتے تھے ۔یہ لفظ لاطینی الاصل ہے جس کے معنی ’برگزیدہ ‘یا ’مبارک‘ کے ہیں۔اس قصے کی پہلی فنکارانہ پیش کش ایک انگریز ڈراما نگار کرسٹو فر مارلو نے کی۔ اس نے اسے اپنے مشہور المیے(ڈرامے) ’ڈاکٹر فاسٹس کی داستانِ الم‘ کا موضوع بنایا

0
0
0
s2smodern

میں نے اکثر تمہارے قصیدے کہے ۔اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں ۔اپنے شعروں کی حرمت پہ ہوں منفعل۔ اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں

 

0
0
0
s2smodern

گنوار لوگو! تمہیں بتایا گیا تھا لالچ بری بلا ہے 
تمہاری آنکھوں میں وہ ہوسناک خواب ہیں جو 
زمین کی نعمتوں کی تقسیم و قدر کے واسطے ہیں خطرہ 
تمہارا کیا ہے؟ تمہاری نسلیں ہمارے طے کردہ 
روز و شب میں، ہماری خیرات پر پلی ہیں 

0
0
0
s2smodern

ن کالی صدیوں کے سر جب رات کا آنچل ڈھلکے گا ۔جب دُکھ کے بادل پگھلیں گے، جب سُکھ کا ساگر جھلکے گا ۔جب امبر جھوم کے ناچے گا، جب دھرتی نغمہ گائے گی

0
0
0
s2smodern

مجھ سے ڈر گئے ہو تم۔تم سے میں ڈرا نہیں۔کب کے مر گئے ہو تم۔میں ابھی مرا نہیں۔خوں نہیں عَلم ہے یہ۔سر نہیں قَلم ہے یہ۔ذوق میری زندگی۔حق مرا جنون ہے

0
0
0
s2smodern

یوں تو میری سمجھ میں دنیا کی ایک ہزار ایک باتیں نہیں آتیں، جیسے لوگ علی الصباح اٹھتے ہی بالوں پر چھرا کون چلاتے ہیں؟کیا اب مردوں میں بھی اتنی نزاکت آگئی ہے۔

0
0
0
s2smodern