|تحریر: ایلن ووڈز|

(ہم فن اور طبقاتی جدوجہد کے موضوع پر ایلن ووڈز کے خطاب کا ٹرانسکرپٹ شائع کر رہے ہیں۔ یہ خطاب جولائی 2001ء میں بارسلونا، سپین میں منعقدہ مارکسی سکول میں کیا گیا۔)

دی پوٹیٹو ایٹرز- وان گو

ہم اپنے کسی بین الاقوامی اجلاس میں پہلی بار اس موضوع کو زیرِ بحث لا رہے ہیں۔ اور شائد آپ میں سے کچھ لوگوں کے سامنے اس کا جواز پیش کرنا بھی ضروری ہو۔ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ فن ایک ضمنی سا معاملہ ہے اور زیادہ اہم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ انسانوں کے لئے انتہائی بنیادی نوعیت کا حامل ہے۔ یہ اس قدر بنیادی چیز ہے کہ بعض ماہرین بشریات کا خیال ہے کہ نوعِ انسانی کی شروعات کی وضاحت فن کے ظہور کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری انسانی نسل (یعنی ہومو سیپئین سیپئین) کے ظہور کی پہلی سنجیدہ علامات میں سے ایک فن کا وجود ہے۔ یعنی جمالیاتی حس کا ٹھوس اظہار۔ یہ نظریہ حال ہی میں متنازعہ بن گیا ہے، جس کی وجہ چند ایسی اشیاء کی دریافت ہے جن کا تعلق ہماری انسانی نسل سے پہلے کے نیم انسان نیندر تھال سے ہے۔ بلاشبہ ان میں بھی ایک مخصوص قسم کی جمالیاتی خوبی پائی جاتی ہے۔ لیکن اسے فن نہیں کہا جا سکتابلکہ یہ محض ایسی ابتداء ہے جس سے فن فروغ پا سکتا تھا۔

در حقیقت یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ اس قسم کے عناصر نہ صرف دیگر بلکہ کمتر نوعیت کے جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر بعض پرندے (جیسا کہ Bower Birds) ایسے تعمیراتی ڈھانچے بناتے ہیں جو گھونسلے نہیں ہوتے۔ ان کی بظاہر کوئی بھی عملی افادیت نہیں ہوتی اور انہیں تعمیر کرنے والے پرندے ان کو انتہائی غیر معمولی انداز میں سجاتے ہیں۔وہ رنگوں کی مخصوص تراتیب کا انتخاب کرتے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ غالباٌ ان پرندوں میں بھی جمالیاتی حس موجود ہے۔

لیکن درحقیقت یہ پرندے ان ڈھانچوں کی بلا مقصد ہی تعمیر نہیں کرتے۔ یہ ڈھانچے واقعتابہت عملی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ نر پرندے یہ ڈھانچے مادہ کو متوجہ کرنے کے لئے بناتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ جنسی اختلاط کے مقصد سے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ اس قسم کے مظاہرے ہمیں تمام حیوانی دنیا میں ملتے ہیں۔ عام طور پر نر ہی شوخ رنگوں کی مدد سے بن سنور کر مادہ کی توجہ حاصل کرتا ہے جو اکثر اوقات کافی غیر پرکشش ہوتی ہے۔لیکن بہر صورت بہت سے جانوروں میں پائی جانے والی ان خصوصیات اور انسانی فنون میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ ادنیٰ حیوانات کی یہ سرگرمیاں جبلی ہیں جن کا تعین جینیاتی طور پر ہوتا ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب یہ جنسی اختلاط کی غرض سے کی جاتی ہیں۔

فن رابطے کی ایک شکل

پتھر سے بنا ہو کلہاڑا

یہ حیوانی سرگرمی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہی جبلی اور انفرادی ہے جبکہ انسانی فن کا کردار بالکل مختلف ہے۔ یہ جبلی نہیں ہے بلکہ اسے سیکھنا پڑتا ہے اور یہ بنیادی طور پر اجتماعی سرگرمی ہے۔ اگرچہ اس کی ہیئت بہت عجیب و غریب ہے لیکن دراصل فن حقیقت میں انسانی رابطے کی ہی ایک شکل ہے۔ اور اس کا ظہور انسان کی پیداواری سرگرمی کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے بالخصوص پتھر کے اوزار کی پیداوار کے ساتھ۔ اگر آپ ابتدائی دور کے پتھر کے اوزاروں کا موازنہ بعد کے کسی دور کے پتھر کے اوزاروں سے کریں آپ کو ایک انتہائی غیر معمولی فرق نظر آئے گا۔ بعد میں بنائے جانے والے اوزارزیادہ نفیس و دیدہ زیب اور ابتدائی نمونوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کامل اور پختہ نظر آتے ہیں۔ پتھر کے اوزاروں کی ساخت میں کاملیت کی جانب یہ سفر انسانی دماغ کے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک مخصوص جمالیاتی حس کی شروعات بھی شامل ہیں۔

جمالیات کے سلسلے میں بہت سی عجیب و غریب قسم کی غیر سائنسی بکواس سننے میں آتی ہے یعنی یہ احساس کہ خوبصورتی اور بدصورتی کیا ہے۔ جسے خوبصورتی کا نام دیا جاتا ہے وہ کیا چیز ہے؟پہلی نظر میں وہ ایک عجیب و غریب اور پر اسرار شے معلوم ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ خوبصورتی کیا ہوتی ہے؟ ہم سب سمجھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ خوبصورتی کیا ہوتی ہے اور بد صورتی کیا ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی جانتے ہیں؟ لیکن اگر ہم تاریخ کا اور مختلف انسانی سماجوں کا جائزہ لیں تو یہ بات فوراً واضح ہو جاتی ہے کہ خوبصورتی کا ایسا کوئی عمومی تصور موجود نہیں جس کا اطلاق تمام ادوار اور تمام اقسام کے سماجوں پر ہوتا ہو۔ خوبصورتی کے بارے میں انسان کے تصور نے اسی طرح سے ارتقاء پایا ہے جس طرح اخلاقیات اور تمام مذاہب نے ہزاروں نسلوں پر محیط ارتقا کا سفر طے کیاہے۔

یہاں چند الفاظ تاریخی مادیت کے بارے میں کہنا ضروری ہیں۔یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بالآخر، اور ہم یہاں لفظ ’’بالآخر‘‘ پر زور دینا چاہیں گے، انسانی سماج اور تہذیب و ثقافت ایک مادی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں جسے پیداواری قوتوں کے ارتقاء میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ صورت احوال یہ ہے کہ سماج کی ابتدائی ہئیتوں میں اس تعلق کا ثابت کرنا نسبتاً آسان ہے اور بعد کے زیادہ پیچیدہ سماجوں میں قدرے مشکل ہے۔

سماج کی معاشی بنیاد اور کلچر کے مابین تعلق فن کی ابتدائی ترین اشکال میں انتہائی واضح ہے۔ مثال کے طور پر ہم مشرقی افریقہ کے مسائی قبیلے کا جائزہ لیتے ہیں۔ان کے ہاں اس عورت کو انتہائی پرکشش خیال کیا جاتا تھا جس کی گردن بہت لمبی ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ نوجوان لڑکیوں کی گردنوں کو غیر معمولی حد تک لمبا کر کے زرافے جیسا تاثر پیدا کر دیتے تھے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ بہت زیادہ پرکشش معلوم نہیں ہوگا۔ لیکن اس کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ اس رسم کی شروعات کچھ یوں ہوئی تھیں۔ مسائی سماج کی دولت ایک جانب جانوروں کے گلوں اور دوسری جانب تانبے کی صورت میں ناپی جاتی تھی جو کمیاب ہونے کے باعث مہنگا تھا۔ اگر کوئی خاتون زیبائش کیلئے تانبے کی بہت سی چوڑیاں (بالخصوص گردن میں) پہنتی تھی تو اسے پر کشش خیال کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اپنی گردن کو طوالت دے کر خاتون ان تانبے کی چوڑیوں کی بڑی تعداد پہن سکتی تھی۔

ابتداء تو یوں ہوئی مگر طویل عرصے تک جاری رہنے کے بعد ایسی شروعات کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ تاہم جب یہ رسم و رواج کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو لوگ اس تصور کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ گویا ایک لمبی گردن بذاتِ خود کوئی خوبصورت چیز ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض افریقی قبائل میں سامنے کے دانت نکلوا دینے کا رواج ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جگالی کرنے والے بعض ایسے جانوروں کو پالتے تھے جو دولت اور حیثیت کی علامت ہوتے تھے۔ وہ خود بھی انہی جانوروں جیسے نظر آنے کی کوشش کرتے تھے۔

تواس سے ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟صرف یہ کہ خوبصورتی کا تصور کوئی حتمی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تاریخی طور پر ارتقاء ہوا ہے اور اس میں بہت مرتبہ تبدیلیاں آئی ہیں۔توہم یہاں ایک اندیشے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔خطرہ اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم سوال کو میکانکی انداز میں نہ لینا شروع کر دیں۔ مارکس نے وضاحت کی تھی کہ مذہب اور فنون جیسی چیزوں کو براہِ راست پیداواری قوتوں کی ترقی سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ہم مارکس کا ایک حوالہ پیش کرنا چاہیں گے۔اس نے لکھا کہ

’’جہاں تک نظریات کا تعلق ہے تو انکی پرواز اور بھی بلند ہوئی ہے، وہ بہت اونچی پرواز کر سکتے ہیں،وہ اپنی شروعات سے الگ ہو جاتے ہیں اور خود زندگی حاصل کر لیتے ہیں،ایک خود مختار وجود۔‘‘

مارکس یہاں مذہب اور فلسفے کے بارے میں رقم طراز ہے لیکن ہم ان میں فن کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔وہ مزید لکھتا ہے:

’’یہ قبل از تاریخ کے عہد سے تعلق رکھتے ہیں وہیں ان کی شروعات ہوئی تھیں‘‘۔دوسرے لفظوں میں ان کی جڑیں انسانی شعور میں بہت گہری ہیں اور اگر زیادہ نہیں تو یہ عرصہ لاکھوں برس پر محیط ہے۔’’جب تاریخ کا آغاز ہوا تو یہ پہلے ہی سے موجود تھے جہاں سے یہ سفر مزید آگے بڑھا۔‘‘

اگر ہم نفسیات کی اصطلاح میں بات کریں تو فن کی جڑیں ہمارے اجتماعی شعور میں بہت گہری ہیں۔ یہ مذہب کی طرح تاریخ اور ماقبل تاریخ کے دور افتادہ ادوار کے دھندلکوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر ہم فن کی ابتدائی اشکال کو دیکھیں تو پہلی چیز ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ اس کا بہت کم حصہ افتادزمانہ سے محفوظ رہ سکا ہے۔اس فن کا بہت بڑا حصہ ایسے مواد پر مشتمل تھا جو با آسانی فنا ہو جاتا ہے مثلاً لکڑی، ہڈی اور کھدے ہوئے نقوش کی صورت میں انسانی جلد۔ آپ میں سے بھی چند لوگوں نے یہ نقوش کھدوا رکھے ہیں۔غالباً آپ بھی تاریخ سے پہلے کے دور میں جانا چاہتے ہیں!اس قسم کا فن کم و بیش مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے اگرچہ سائبیریا میں تاریخ سے پہلے کے دور کی ایک خاتون کا منجمد جسم برآمد ہوا ہے جس کے بدن پر انتہائی دیدہ زیب نقوش کھدے ہوئے ہیں۔

غار کا فن (Cave Art) 

آج کل جب ہم تاریخ سے پہلے کے فن کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں غاروں کے اندرملنے والے نقوش کا خیال آتا ہے۔مثلاً فرانس میں دوردونئے اور شمالی سپین میں التا میرا کے علاقوں سے ملنے والی شاندار تصاویر ہیں۔ یہ تصاویریقیناًانسانی تہذیب و ثقافت اور فن کے ایک اعلیٰ مقام کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسکی بعض مخصوص خصوصیات ہیں جو اسے فن سے جدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کم و بیش تمام ہی تصاویر جانوروں کی شبیہوں پر مشتمل ہیں۔ انسانوں کی تصویریں نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بالکل نہیں ہیں۔ لیکن فرانسیسی تصاویر میں ایک بہت پر اسرار شکل موجود ہے جو نیم انسانی ہے یعنی اسکا دھڑ انسان کا ہے اور سر ہرن کا ہے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی جادوگر وغیرہ کی تصویر ہے۔

اگر ان میں انسان نہیں ہیں تو پھول بھی نہیں اور پودے بھی نہیں ہیں اور جن جانوروں کی تصاویر بنائی گئی ہیں وہ بھی مخصوص قسم کے جانور ہیں اور جس انداز میں ان جانوروں کے نقوش بنائے گئے ہیں وہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ ہزاروں برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ آج بھی ہمیں خوبصورت لگتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی حیران کن حقیقت نگاری اور فطری ہونے کی وجہ سے خوبصورت لگتے ہیں اور ان میں اعضاء کے بارے میں زبردست آگہی دیکھنے کو ملتی ہے جو حقیقتاً بہت سائنسی ہے۔ ان میں ہر جوڑ، ہر ہڈی اور ہر رگ کو نہایت صحت کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ یہ شاندار تصاویر ہمیں خوبصورت لگتی ہیں لیکن یہ اسی حوالے سے خوبصورت نہیں ہیں جس حوالے سے یہ ان لوگوں کے نزدیک خوبصورت تھیں جنہوں نے انہیں بنایا تھا یا جو لوگ اس وقت انہیں دیکھتے تھے۔ہم ابھی اس کی وضاحت بھی کر دیں گے لیکن آئیں ہم اپنے ابتدائی کلمات کی جانب لوٹیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فن اہم نہیں ہے، فن ضروری نہیں اور یہ کہ فن محنت کش طبقے کے لئے نہیں ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔آپ ایک ایسی دنیا کا تصور کرنے کی کوشش کریں جو فن سے محروم ہو، موسیقی، گانے، رقص اور شاعری کے بغیر دنیا، آپ محض ایک لمحے کیلئے یہ تصور ذہن میں لائیں تو آپ کو فوراً احساس ہوگا کہ فنونِ لطیفہ عوام کے لئے کتنے اہم ہیں، صرف دانشوروں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر کسی کے لئے۔ طبقاتی سماج اور خاص طور پر موجودہ مغربی سماج کے حوالے سے یہ بات بالکل درست ہے کہ فن پر مراعات یافتہ طبقات کی اجارہ داری ہے۔ یہ عوام کی پہنچ سے اکثر و بیشتر باہر ہے جو نہ صرف مادی بلکہ روحانی اعتبار سے بھی انتہائی نا گفتہ بہ حالات میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ سرمایہ داری نے عوام کی اکثریت کو گھٹیا، بدصورت اور بیگانگی کے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اور بد قسمتی سے یہ سچ ہے کہ مرد و زن اس قسم کے حالات کے عادی بھی بن سکتے ہیں۔دراصل انسان کم و بیش کسی بھی چیز کے عادی ہو سکتے ہیں۔

غلام کو اپنی زنجیروں سے پیار ہو سکتا ہے۔لوگ خراب رہائش گاہوں اور بری خوراک کے عادی ہو سکتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ بری خوراک پسند ہے، اور ایسے ہی گھٹیا ٹی وی پروگرام،گھٹیا موسیقی،خاص طور پر گھٹیا موسیقی، گھٹیا فلمیں اور گھٹیا اخبارات۔وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انہوں نے آزادانہ طور پر ان چیزوں کا انتخاب کیا ہے۔اس سلسلے میں لائی بنتز (Leibnitz) نامی فلاسفر نے کہا تھا کہ اگر مقناطیسی سوئی سوچنے کے قابل ہوتی تو وہ سمجھتی کہ وہ اپنی مرضی سے شمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دراصل ہم مطابقت پذیری کی وجہ سے اس قسم کی دیگر کئی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔

حکمران طبقات کے لئے یہ چیز بہت فائدہ مند ہے۔ عوام کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اس مادی و روحانی غربت کے حالات کو قبول کر لیں۔ جبکہ حکمران طبقہ خود خوبصورت گھروں میں رہتا ہے، تھیٹر میں بہت اچھے ڈرامے دیکھتا ہے، (بعض اوقات)بہت بہتر انداز میں لکھی گئی کتابیں پڑھتا ہے، زبردست قسم کی چھٹیاں مناتا ہے اور مہنگے ہوٹلوں میں کھانا کھاتا ہے۔ لہٰذا فطری طور پر وہ سمجھتا ہے کہ عوام کیلئے ہر قسم کی گندگی جائز و مناسب ہے۔ یہ بالکل فطری امر ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ، یہاں تک کہ وہ بھی جو بہت باشعور ہیں، اس بات پر یقین کرنے لگے ہیں کہ یہ معاملات نہ صرف فطری ہیں بلکہ تسلی بخش بھی ہیں۔

میں عام طور پر اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر نہیں کرتا لیکن اس موقع پر میں اپنے دادا کے بارے میں چند الفاظ ضرور بیان کروں گا۔ وہ ایک نفیس شخص تھا،ویلز کا رہنے والا، سٹیل مل کا محنت کش اور کمیونسٹ۔ میں نے سوانسی کے مزدوروں کے علاقے میں اسی کے گھر میں پرورش پائی۔ اس گھر میں ہمیشہ کتابیں موجود ہوتی تھیں جن میں اینگلز کی اینٹی ڈوہرنگ جیسی مارکسی کتب بھی شامل تھیں۔ کلاسیکی موسیقی بھی تھی جس میں اطالوی اوپیرا خاص پر قابلِ ذکر ہے جسے ویلز کے مزدور بہت پسند کرتے تھے کیونکہ وہ خود بھی عام طور پر اچھا گاتے تھے۔

میرے دادا نے سکول کے زمانے میں ہی مجھے مارکسزم سے متعارف کروا دیا تھا۔اس نے ایک بار ایسی بات کی تھی جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکا۔ اس نے کہا تھا:’کوئی بھی شے ایسی نہیں جو محنت کش طبقے کیلئے حد سے زیادہ اچھی ہو۔‘‘مجھے ذاتی طور پر اس وقت بہت غصہ آتا ہے جب درمیانے طبقے کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ محنت کشوں کو کلچر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ساری تاریخ گواہ ہے کہ یہ بات غلط ہے اور خاص طور پر انقلابات کی تاریخ جیسا کہ میں ثابت کروں گا۔

بیگانگی؛ حقیقی زندگی اور فنونِ لطیفہ کے درمیان یہ خلیج بہت سے عام محنت کشوں کو فن کے سلسلے میں مشکوک رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔’’مجھے یہ پسند نہیں ہے۔ مجھے موسیقی پسند نہیں ہے۔ مجھے اوپیرا پسند نہیں ہے۔‘‘ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے سمجھ نہیں پاتے اور انکے نہ سمجھنے کہ وجہ یہ ہے کہ انہیں کبھی ان چیزوں سے آشنا ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس قسم کے فن تک ان کی رسائی یا تو بالکل نہیں ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم فن اور زندگی کے درمیان یہ تقسیم ہمیشہ سے موجود نہیں تھی۔ ابتدائی سماج میں فن زندگی کاحصہ تھا۔ ہر مرد اور عورت کی زندگی کا یہ نہ صرف حصہ تھا بلکہ ایک اہم حصہ تھا۔

آیئے اب ہم ایک ایسے خیال کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جو انتہائی غلط خیال ہے۔ اسے بورژوا اور پیٹی بورژوا فنکاروں کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے۔ ’’فن برائے فن‘‘ کا تصور۔ یہ ایک انتہائی عام خیال ہے جو فن کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو خلاء میں معلق ہے، جس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، جو محض اپنے لئے وجود رکھتی ہے اور سماج اور حقیقی زندگی سے الگ انتہائی شاندار تنہائی میں اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ جیسا کہ عظیم مادیت پسند فلسفی چرنیشفسکی نے کہا تھا کہ یہ بیان ہی بکواس ہے۔ اس کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ’’لکڑی کا کام کرنے کا مقصد لکڑی کا کام کرنا ہے‘‘۔

فن کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور ایسا ہمیشہ سے تھا۔ اولین فن کی غرض و غایت کیا تھی؟غاروں میں بنائی جانے والی منقش تصاویر کا مقصد کیا تھا؟ یہاں ہمارا واسطہ ایک اسرار سے پڑتا ہے کیونکہ یہ تصاویر آرائش کی غرض سے نہیں بنائی گئی تھیں جیسے مینٹل پیس کے اوپر پرانی تصویریں لگائی جاتی ہیں۔ یہ قطعاً آرائش کے لئے نہیں ہیں اور اسے آسانی سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہ غار کے انتہائی گہرے اور دشوار گزار کونوں کھدروں میں بنائی گئی تھیں جو مکمل تاریکی میں تھے اور اگر آپ اس دور کی ٹیکنالوجی کو ذہن میں رکھیں تو یہ بات انتہائی نا قابلِ یقین دکھائی دیتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ تصاویر بنائی ہیں انہیں انتہائی دشوار حالات میں رینگتے ہوئے اس جگہ جانا پڑتا ہوگا اور پھر جانوروں کی چربی سے بنائے ہوئے دھواں چھوڑتے چراغ کی ٹمٹماتی روشنی میں کام کرنا پڑتا ہوگا۔ اگر آپ تھوڑا سا غور کریں تو بات انتہائی حیران کن لگے گی۔

اور اس کی وجہ کیا ہے؟ جہاں یہ تصویریں بنائی گئی ہیں وہاں لوگ نہیں رہتے۔ غالباً یہ لوگ غاروں میں رہائش پذیر بھی نہیں تھے اور اگر ان غاروں میں رہتے بھی تھے تو بیرونی حصوں میں رہتے ہوں گے جہاں تھوڑی بہت روشنی آتی تھی۔ یہ فن برائے فن نہیں تھا۔ یہ فن انتہائی عملی، سماجی اور معاشی مقصد کے حصول کے لئے تھا۔ در حقیقت اس وقت تک فن، سائنس اور مذہب کم و بیش ایک ہی چیز تھے۔ وہ آپس میں گڈ مڈ تھے۔

یہ وہ سماج تھے جنہیں ’’Hunter Gatherer‘‘ سماج کہا جاتا ہے۔ ان کا دارومدار شکار کرنے اور پھول پھل جمع کرنے پر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جانور کی تصویر بنانے سے شکاری کو اس جانور پر کسی طور برتری حاصل ہو جاتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ جادو تھا یا جادو سے ملتی جلتی کوئی چیز، جادو جو سائنس کا قبل از تاریخ ورژن تھا، یعنی مرد وزن کی طرف سے اپنے ماحول کو سمجھنے اور اس پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش۔ 

رقص اور موسیقی کے سلسلے میں بھی یہ بات سچ ہے۔ موسیقی نے رقص سے جنم لیا تھا اور قدیم لوگوں کے رقص اجتماعی ہوتے تھے۔ یہ انفرادی اچھل کود نہیں ہوتی تھی جیسا کہ آج کل ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کی اس انفرادی اچھل کود میں ہمیں جدید سماج کے انتشار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ رقص کرتے وقت ایک دوسرے کی جانب دیکھتے تک نہیں۔ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں گم رہتے ہیں لیکن ماضی میں صورتحال ایسی نہیں تھی۔ میں یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ رقص و موسیقی کے بارے میں میرے ذوق سے اتفاق نہیں کرتے مگر میں یہاں ایک اہم نقطے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ نقطہ یہ ہے کہ ابتدائی رقص اجتماعی نوعیت کے ہوتے تھے۔ ان میں سارا قبیلہ یا برادری شامل ہوتی تھی اور ان کا تعلق ہمیشہ پیداواری سرگرمی سے ہوتا تھا۔ امریکہ کے ابتدائی باشندوں کے رقص پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ ان پرندوں،بھینسوں اور دیگر جانوروں کی حرکات و سکنات کی نقالی پر مشتمل ہیں جن کا وہ شکار کیا کرتے تھے۔ یہاں ہمیں ایک اہم اور ضروری نوعیت کی سماجی سرگرمی دکھائی دیتی ہے نہ کہ عیاشی۔ 

اور شاعری کی ابتداء کے بارے میں کیا خیال ہے؟ شاعری فنونِ لطیفہ کی تمام اصناف میں سے غالباً سب سے زیادہ قدیم ہے۔ اسکی جڑیں ان قدیم سماجوں میں ہیں جن کا ہمارے پاس کوئی تاریخی ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں کیونکہ تحریر ایک نسبتاً حالیہ مظہر ہے جس کی عمر محض پانچ ہزار سال کے لگ بھگ ہے۔ آج کے دور میں کسی ایسے سماج کا تصور بھی محال ہے کہ جہاں ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ، کتابیں یا اخبارات موجود نہ ہوں۔ اس کے باوجود انسانی کلچر کو یا تو اگلی نسلوں تک منتقل کرنا پڑتا ہے یا وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ ہم بحثیت انسان ادنیٰ درجے کے جانوروں سے مختلف ہیں۔ ہم مختلف اس لئے ہیں کیونکہ ہم جو کچھ جانتے ہیں،ہمارا علم اور جمالیاتی حس، مذہب اور سائنس،ہمارے طریقے اور رویے، روایات اور اخلاقیات، یہ تمام وسیع اور پیچیدہ علم جینیاتی طور پر منتقل نہیں ہو سکتا جیسا کہ اکثر جانوروں کے معاملے میں ہوتا ہے۔

ان تمام معلومات پر عبور حاصل کرنا پڑتا ہے اور تحریر کی مدد کے بغیر یہ بہت دقت طلب مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ان ابتدائی سماجوں کے قوانین جنہیں ہم غلط طور پر پسماندہ کہتے ہیں کافی پیچیدہ ہوا کرتے تھے۔ تحریر موجود نہیں تھی لیکن اس تمام تر روایتی علم، اس انتہائی پیچیدہ قبائلی حکمت اور دیومالا کو اگلی نسل تک منتقل بھی کرنا ہوتا تھا۔ تو پھر اسے کس طرح سرانجام دیا جاتا تھا؟ صرف ایک ہی طریقہ تھا؛ زبانی طور پر۔ عہدِ بربریت میں جو رزمیہ شاعری عام تھی اس کی شروعات اسی طرح ہوئی تھیں۔

ہومر کے نام سے جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اسکی انتہائی شاندار مثال ہے حالانکہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ اس نام کے کسی شخص کا کوئی وجود بھی تھا۔ یہ انتہائی شاندار شاعری ہے اور اس کا تعلق نا قابلِ یقین حد تک پرانی زبانی روایت سے ہے۔ اس قدیم روایت کا ایک عملی مقصد تھا۔مثال کے طور پر اگر آپ ایلیڈ کی پہلی کتاب کا مطالعہ کریں تو آپ کو وہ قوانین ملیں گے جن کا تعلق جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک سے ہے۔ بعد ازاں آپ کو رتھوں کی دوڑ کے قوانین ملیں گے، آپ کو طبقاتی سماج کی شروعات کی دلچسپ منظر کشی بھی بہت واضح انداز میں پیش کی ہوئی ملے گی۔

ایلیڈ اور اوڈیسی میں جس سماج کی منظر کشی کی گئی ہے اس پر پہلے ہی سے اگامیمنان جیسے قبائلی سرداروں کا غلبہ ہے لیکن اس میں ابھی تک قدیم قبائلی جمہوریت کے عناصر بھی موجود ہیں۔ آپ کو ان کے اندر اس قسم کے مباحث ملیں گے جن میں بالکل سیدھی اور غیر پارلیمانی قسم کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ مثلاً اخیلیس اپنے آقا اور بادشاہ کو ’’کتے کے منہ والا‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتا ہے۔ اس سماج میں ایسا کردار بھی پایا جاتا ہے جسے شاعر اور قصہ گو (Bard) کہا جاتا تھا۔

قبائلی قصہ گو یا شاعر کا کام یہ تھا کہ وہ معلومات کے اس زبردست خزانے کو زبانی یاد کرے اور خصوصی مواقع پر سارے قبیلے یا برادری کے سامنے اسے تلاوت کی شکل میں پیش کرے۔ آج کے دور میں شائد بہت اچھی یاداشت رکھنے والے لوگ بھی ان کو زبانی یاد نہ کر سکیں۔ لیکن اس دور میں بعض لوگوں کے لئے ایسا کام کرنا معمول تھا۔ اس قدر طویل معلومات کو یاد رکھنے کے لئے وہ کچھ کرتب استعمال کرتے تھے۔ وہ لے، مخصوص اعادے، ایک جیسی آواز والے حروف کی تکرار، استعارے اور تشبیہات وغیرہ استعمال کرتے تھے جن سے انہیں یہ معلومات یاد رکھنے میں مدد ملتی تھی۔یہ ہے شاعری کی شروعات۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پہلے ہی طبقاتی سماج کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اور فنون و ثقافت کی نوعیت میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ہم کسی اور جگہ وضاحت کر چکے ہیں کہ قدیم اشتراکی نظام کا تختہ کیسے الٹا گیا تھا اور کس طرح سماج کی طبقات میں تقسیم کا عمل شروع ہوا تھا۔اور اس کی وجہ سے ہر چیز میں بنیادی تبدیلی واقع ہوئی۔ چاہے وہ عورت کی حیثیت ہو یا مرد کی ۔ اگر آپ یونانی دیومالا کا محتاط مطالعہ کریں تو آپ کو احساس ہو گا کہ اکثر یونانی قصوں کی بنیاد ایک ہی چیز پر ہے۔ مادر سری نظام کا دھڑن تختہ اور اس کی جگہ پدر شاہی نظام کا قیام۔

ابتدائی سماجوں میں دیوتا نہیں بلکہ دیویاں ہوتی تھیں۔ قدیم ترین مجسموں کا موضوع عورت ہے جیسے کہ قدیم حجری دور کی وینس۔ دوسری جانب اولمپس کے دیوتا نر ہیں جو اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ سماج پر مردوں کا غلبہ تھا۔

غلام داری اور کلچر

طبقاتی سماج کی پہلی قسم غلام داری سماج ہے جس میں عوام کو غلامی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہونا پڑا۔ ہمیں غلامی بری چیز لگتی ہے، ایک انتہائی قابل نفرت چیز۔ لیکن ہیگل جیسے گہرے فلسفی نے غلامی کے بارے میں یہ رائے دی ہے کہ ’’ بات اتنی سی ہے کہ انسان غلامی سے آزاد نہیں ہوتا ہے بلکہ انسان غلامی کے ذریعے آزاد ہوتا ہے۔‘‘ یہ بہت گہرے الفاظ ہیں۔ کیونکہ اگر ہم انسانی سماج کے ارتقاء کے بارے میں سوچیں تو ہمیں جو چیز بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ ابتدائی ترقی کی انتہا درجے سست رفتاری ہے۔ لاکھوں برس کے عرصے پر محیط ایک انتہائی سست رفتار، تکلیف دہ حد تک سست رفتار ارتقاء اور پھر تیز رفتار عمل شروع ہو جاتا ہے۔ کس کے ساتھ؟ غلام داری سماج کے ساتھ، ہماری تہذیب نے غلامی سے جنم لیا ہے۔

تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے ارسطو نے کہا تھا کہ انسان غور وخوض اس وقت شروع کرتا ہے جب اسے ضروریاتِ زندگی دستیاب ہوں۔ یہ ایک انتہائی اہم مشاہدہ ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ مصر میں علم الحساب اور علمِ فلکیات کی دریافت کی وجہ یہ تھی کہ پروہتوں کو کام دھندہ نہیں کرنا پڑتا تھا۔وہ کام کاج کی ضرورت سے آزاد تھے۔ ایک مارکسی مصنف پال لافارگ نے کہا ہے کہ سوشلزم کے تحت مرد و زن سب سے اہم حق حاصل کر لیں گے۔ بے کار رہنے کا حق، کچھ نہ کرنے کا حق۔ اس وقت یہ حق چند امیر استحصالیوں کی مراعت ہے جسے وہ خوب اچھی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ساحل سمندر پرلیٹ کر وقت گزارتے ہیں۔لیکن سبھی نہیں۔ اکثر لوگ اپنے فارغ وقت کو بہتر انداز میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہی فن، سائنس اور سارے کلچر کی ترقی کی بنیاد ہے۔

قدیم مصر کے پروہتوں کے پاس سوچنے کیلئے ضروری وقت تھا اور وہ ستاروں کو دیکھتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اہم دریافتیں کیں۔ یہ مصری کلچر کی بنیاد ہے۔ اس کا ظہور سماج کے طبقات میں بری طرح تقسیم ہو جانے سے ہوا اور پہلی بار فن عوام سے اور زندگی سے بالکل کٹ گیا۔ مصری فن کی بنیاد کیا ہے؟ ایک طرف تو یہ تمام سابقہ فن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے لیکن یہ بھی فن برائے فن نہیں ہے۔ یہ یقینی طور پر کسی مقصد کے لئے ہے۔ لیکن وہ مقصد اور وجہ کیا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مذہب کے متعلق فن ہے اور اس وجہ سے یہ انتہائی قدامت پرست فن ہے۔ علاوہ ازیں یہ گمنام فن ہے۔ وہاں عظیم الشاں فنکارانہ تخلیقات وجود میں آئیں لیکن ہم انکے خالقوں کے ناموں سے نا واقف ہیں۔ ہمیں کوئی مصری ریمبراں کوئی مصری پکاسو نظر نہیں آتا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ فن بھی اجتماعی اور سماجی تھا نہ کہ انفرادی۔ پروہت طبقے کا کام یہ تھا کہ وہ فن پر اپنی گرفت مضبوط رکھے۔ وہی اس کے تمام اصولوں کا حتمی طور پر تعین کرتے تھے اور فنکار ان میں سرِمُو تبدیلی کا مجاز نہیں تھا۔اس احمقانہ صورتحال سے اس امر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ مصری فنون میں ہزار سال تک کسی قسم کا ارتقاء کیوں نہ ہو سکا۔ اگرچہ اسکے فن پارے انتہائی نفیس ہیں، ہاں ان میں یونانی فن جیسی حیات و توانائی نہیں ہے۔

اس فن کا مقصد ایک شخص، فرعون، جسے خدا سمجھا جاتا تھا، کی شبیہ تخلیق کرنا ہے۔ عظیم الشاں اہرام اور دیو قامت مجسمے بھی اسی کی شان و شوکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ برٹش میوزیم میں آپ کو فرعون کا ایک بازو ملے گا جو انسان جتنا بڑا ہے بلکہ شائد اس سے بھی کچھ بڑا ہو۔ یہ فن آپ کو کچھ بتاتا ہے۔ اور یہ آپ سے کہتا ہے کہ ’’میں بادشاہ ہوں، میں قادر و مطلق ہوں، تم کچھ بھی نہیں ہو، اس لئے تم ہمیشہ میری اطاعت اور عبادت کرو گے۔‘‘

اسیری فن میں بھی آپ کو یہی پیغام ملے گا۔ یہ زیادہ تر مٹی کی لوحوں اور دیواروں پر ابھرے ہوئے نقوش کی شکل میں موجود ہے۔کیونکہ دجلہ و فرات کے خطے میں پتھر ناپید تھا۔ ان فن پاروں کے موضوعات انتہائی تشدد آمیز ہیں۔ لیکن پیغام وہی ہے۔ یہ جیتی جاگتی زندگی سے مشابہہ تصویریں ہیں جن میں بادشاہ کو رتھ پر سوار ہو کر شیروں کو مارتے دکھایا گیا ہے۔ ان کو بنانے والے علم الاعضاء پر کامل عبور رکھتے تھے۔ ان میں آپ کو بادشاہ کے طاقتور بازوؤں کے تمام رگ و ریشے دکھائی دیتے ہیں اور وہ انتہائی بے رحمی سے شیر کو ہلاک کر رہا ہوتا ہے۔ کسی زخمی شیر کے زخموں سے خون بہہ رہا ہے اور کوئی تیروں سے چھلنی ہے۔ یہ بے لگام اور بے رحم قوت کی تصویر ہے۔

جنگ کے مناظر میں بھی یہی تصور کارفرما ہے۔ بادشاہ فوج لے کر کسی شہر پر چڑھائی کر رہا ہے۔ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ عورتوں، بچوں اور جانوروں کو مالِ غنیمت کے طور پر لے جایا جا رہا ہے جبکہ مرد جنگی قیدی بادشاہ کے تخت کے سامنے دوزانو ہو کر رحم کی درخواست کر رہے ہیں۔ لیکن رحم ناپید ہے۔ تخت شاہی کے پہلو میں کٹے ہوئے سروں کا ڈھیر لگا ہے جبکہ دیگر زندہ جنگی قیدیوں کی کھالیں کھینچی جا رہی ہیں۔ یہ فن ایک مخصوص سماج کی دستاویز ہے۔ ایک انتہائی عسکریت پسند آمرانہ ریاست کی، جس کا حکمران انسان کے روپ میں ایک دیوتا ہے اور وہ اپنے دشمنوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے قہقہے لگاتا ہے۔ اس فن میں تناسب یا موزونیت کی قطعاً گنجائش نہیں۔ ایک شبیہ باقی تمام سے بلند و بالا ہے اور وہ بادشاہ کی ہے۔

زمانہ قدیم میں ہمیں کلاسیکی یونانی فن میں انتہائی اہم پیش رفت نظر آتی ہے۔ قدیم ایتھنز میں ذرائع پیداوار، سائنس اور تکنیک اس سطح تک پہنچ چکے تھے جہاں اس قدیم دور میں پہنچا جا سکتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام حاصلات غلاموں کی محنت کی مرہونِ منت تھیں لیکن ایتھنز کی آزاد افراد پر مشتمل آبادی حقیقی جمہوریت سے بہرہ مند ہوئی تھی۔ اور کسی نہ کسی طور آزادی کی یہ روح اس فن میں بھی شامل ہے خصوصاً اس دور کے شاندار مجسموں میں۔

یہ فن مصری فن جیسا نہیں ہے۔ یہ ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ یہاں ہمیں پہلی بار انسانی اظہار، انسانی کلچر اور انسانی فنون کی زبردست نشونما دیکھنے کو ملتی ہے۔اگرچہ یہ بالکل ابتدائی نوعیت کے ہیں لیکن ان میں ہمیں اس مستقبل کی ہلکی سی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے جو سوشلزم کے تحت ہوگا۔ یہاں پہلی بار فن مواد کے حوالے سے حقیقی معنوں میں انسانی بن جاتا ہے۔ لوگوں کے ذہن مذہب کی تنگ حدود سے آگے نکل گئے ہیں۔ یونانی فلسفہ کائنات کی وضاحت کے لئے دیوتاؤں کا محتاج نہیں ہے۔ یونانی فلسفہ دیوتاؤں کی مدد کے بغیر کائنات کی وضاحت کرنے کی ایک کاوش ہے۔

ذرا یونانی مجسمہ سازی کی حیرت انگیز حاصلات پر نظر دوڑایئے۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ انسان کے فنکارانہ ارتقاء کی معراج ہے۔بدقسمتی سے اس فن کے زیادہ تر نمونے ضائع ہو گئے ہیں۔وحشیوں کی ہاتھوں نہیں بلکہ عیسایوں کے ہاتھوں جنہوں نے دیدہ و دانستہ اس کا بڑا حصہ برباد کر دیا۔ لیکن اس شاندار فن کا اتنا حصہ ضرور محفوظ ہے کہ ہم اسکی خوبصورتی اور معانی کو داد دے سکیں۔

میں آپ سب لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں، ان کو بھی جو کہ آرٹ گیلریوں میں جانے کے عادی نہیں ہیں، کہ وہ کسی آرٹ گیلری میں جائیں اور کچھ دیر کیلئے ان میں سے کسی مجسمے کے آگے محض کھڑے رہیں۔ آپ کو یہ احساس ہوگا کہ آپ کے سامنے حقیقی انسانی تخلیق، انسانی فن موجود ہے۔ یوں لگتا ہے گویا یہ مجسمے آپ سے ہمکلام ہیں۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ مکمل حقیقت نگاری نہیں ہے۔ ہمارے سامنے جو کچھ موجود ہے وہ انسانی ہیئت ہے، مردوں اور عورتوں کے برہنہ اجسام کی خوبصورتی۔ لیکن حقیقت میں یہ خیال پرستانہ فن ہے۔ یہ یونانی فکر و فلسفے کی جزوی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں افلاطون اور فیثا غورث کے افکار کے سبب خیال پرستی ایک بہت بڑا کردار ادا کرتی تھی۔ فیثا غورث کا خیال تھا کہ ہندسوں کی بنیاد پر قائم حساب اور ہم آہنگی ہر شے کی بنیاد تھی اور اس سوچ کے اثرات یونانی فکر پر طویل عرصے تک قائم رہے۔ اسی وجہ سے یونانی فن بہت ہم آہنگ ہے جس میں تناسب کو برقرار رکھنے میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ یونان کے کلاسیکی فن تعمیر کے بارے میں بھی یہی بات صادق آتی ہے۔

رومن آرٹ یونانی آرٹ کا ہی تسلسل ہے لیکن یہ کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ اس مقام پر ہم ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوتے دیکھتے ہیں۔ فن کی تاریخ انسانی تاریخ کے ارتقاء کی ہوبہو عکاسی نہ تو کرتی ہے اور نہ ہی کر سکتی ہے۔ یہ ایک غلط تصور ہے جس کا مارکسزم سے کوئی تعلق نہیں۔مثال کے طور پر یہ قطعاً لازمی نہیں ہے کہ اگر پیداواری قوتیں آگے بڑھتی ہیں تو فن کا احیاء بھی یقینی طور پر ہوگا (جیسا کہ پچھلے پچاس برس کی تاریخ واضح طور پر ثابت کرتی ہے) اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بحران اور معاشی زوال کے دور میں عظیم فن تخلیق نہیں ہو سکتا۔

بعض اوقات سماج میں زوال کے دور میں ایک عجیب و غریب جدلیاتی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ انسانی شعور اپنے آپ پر ہی مرکوز ہو جاتا ہے اور نتیجے میں انتہائی اہم فلسفیانہ اور فنکارانہ تخلیقات جنم لے سکتی ہیں۔ تا ہم یہ بات درست ہے کہ آخری تجزیے میں تمام تر انسانی کلچر کا انحصار پیداواری قوتوں کی ترقی پر ہوتا ہے اور پیداواری قوتوں کے عمومی انہدام کا نتیجہ بالآخر انسانی کلچر کے عمومی زوال کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

تاریک دور

امریکی سوشلسٹ مصنف جیک لندن نے ایک شاندار کہانی لکھی ہے جو کامریڈ ٹیڈ گرانٹ کی پسندیدہ کہانی ہے۔ اس کا نام ہے ’’The Scarlet Plague‘‘۔ اس میں مستقبل کی خوفناک منظر کشی کی گئی ہے۔ اس میں ایک ایسا سماج دکھایا گیا ہے جہاں تمام بیماریوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ اچانک ایک نئی بیماری وجود میں آتی ہے جس کے لئے کوئی دوا کار گر ثابت نہیں ہوتی اور وہ کرۂ ارض کی بیشتر آبادی کا صفایا کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تہذیب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

یہ ایک انتہائی پر بصیرت افسانہ ہے کیونکہ اس میں پیداواری قوتوں اور کلچر کے درمیان تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے۔ تاہم پیداواری قوتوں یعنی سائنس، صنعت اور ٹیکنالوجی کے زوال کے اثرات ڈرامائی ہوتے ہیں۔ کسی بھی تباہی کی محض ایک نسل کے بعد جو بچے بڑے ہوئے ان کے خیال میں ان کا دادا، ایک سائنس دان جو اس بڑی تباہی سے بچ نکلا تھا، جو کاروں اور ریل گاڑیوں والے سماج کی باتیں کرتا تھا، محض ایک لغو کہانی تھی۔ تہذیب کی یاداشت کا بھی قصہ تمام ہو رہا تھا۔ اگرچہ دادا ابھی بھی نہایت شستہ انگریزی بولتا تھا لیکن پوتے جو زبان بولتے تھے وہ زیادہ قابل فہم نہیں تھی۔ وہ ایک دوسرے سے بے ہنگم آوازوں میں گفتگو کرتے تھے کیونکہ ایک پیچیدہ زبان کی ضرورت ختم ہو گئی تھی۔

تاریخ کی لکیر اگر اوپر کی جانب جاتی ہے تو نیچے کی جانب بھی آتی ہے جیسا کہ سلطنت روم کی تباہی کے وقت ہوا تھا۔ روم کو بھی آخر کار وحشیوں نے تباہ نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے محض اسے آخری دھکا دیا تھا۔ وہ اپنے داخلی تضادات کے باعث تباہ ہوا تھا۔ غلام داری کے داخلی تضادات کی وجہ سے پیداواری قوتوں کا انہدام ہو گیا تھا۔ اولین عیسائی ایک انقلابی اور اشتراکی تحریک کی نمائندگی کرتے تھے جسے زوال پذیر نظام کے رکھوالے بڑی حقارت سے عورتوں اور غلاموں کا مذہب کا قرار دیتے تھے جیسا کہ غریبوں اور محروموں کی انقلابی تحریکوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابتدائی عیسائیوں نے دنیا کو بدی قرار دیتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیا۔ وہ روم کے دولت مند طبقات کی عیاشانہ زندگی کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ روم کو دنیا بھر کی غلاظتوں اور فاخشاؤں کی ماں قرار دیتے تھے۔ ان کے دلوں میں سادگی کا جو جذبہ جا گزین تھا وہ آرٹ، کلچر اور سائنس کے سخت خلاف تھا۔

اس دوران تقریباً پانچویں صدی کے لگ بھگ انسانی تاریخ کی عظیم ترین نقل مکانی واقع ہوئی۔ سلاف اور جرمن قبائل کی مغرب کی جانب حرکت کی وجہ سے پرانا غلام داری سماج منہدم ہو گیا۔ اگرچہ یہ انہدام بہر صورت ہو ہی رہا تھا۔ اور اس انہدام کے ساتھ کلچر بھی مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ میرا خیال ہے کہ زوال کی گہرائی کا تصور کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ میں صرف ایک حقیقت بیان کروں گا جس سے قرونِ وسطیٰ کے بارے میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔ 1500ء میں، یعنی دیکھ بھال ترک ہونے کے ایک ہزار سال بعد بھی، رومنوں کی تعمیر کردہ سڑکیں یورپی براعظم کی بہترین سڑکیں تھیں۔ باقیوں میں سے اکثر اتنی ٹوٹی پھوٹی حالت میں تھیں کہ ناقابل استعمال تھیں۔ یورپ کی بندرگاہوں کا بھی آٹھویں صدی عیسوی تک یہی حال تھا جب تجارت کا دوبارہ احیاء ہوا۔

جن فنون کا خاتمہ ہوا ان میں اینٹوں کے استعمال کا فن بھی شامل تھا۔ دس صدیوں تک جرمنی، ہالینڈ، انگلینڈ اور سیکنڈے نیویا کے علاقوں میں گرجا گھروں کے علاوہ پتھروں سے بنی ہوئی عمارتیں کم ہی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں پیداواری قوتوں کے انہدام کے سبب کلچر کو مکمل طور پر گرہن لگ چکا تھا۔ ایسے خوفناک زوال کے حالات میں عوام کے حالاتِ زندگی پر کیا گفتگو کی جائے؟ایلفریک نامی ایک راہب نے ونچسٹر میں لاطینی زبان سکھانے کے لئے ایک کتاب تحریر کی تھی۔میں اس میں سے محض ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں۔

استاد: کسان، تم کیا کرتے ہو اور تم اپنا کام کیسے کرتے ہو؟

شاگرد: جناب میں بہت سخت مشقت کرتا ہوں،میں طلوعِ سحر کے وقت اٹھ کر بیلوں کو کھیتوں میں لے جاتا ہوں۔ اور انہیں ہل میں جوتتا ہوں۔ سردی کتنی بھی شدید کیوں نہ ہو میں مالک کے خوف کی وجہ سے گھر پر نہیں ٹھہرتا۔ اور بیلوں کو جوتنے اور ہل تیار کرنے کے بعد میں ہر روز ایک ایکڑ یا اس سے زیادہ زمین پر ہل چلاتا ہوں۔

استاد: تمہارے ساتھ اور بھی کوئی ہوتا ہے؟

شاگرد: میرے ساتھ بیلوں کو چھڑی سے ہانکنے کے لئے ایک لڑکا بھی ہوتا ہے اور اس کا گلا شدید سردی اور چلانے کے باعث بیٹھ گیا ہے۔

استاد: تم دن میں مزید کیا کام کرتے ہو؟

شاگرد: بہت سا کام کرتا ہوں۔ میں بیلوں کو چارہ ڈالتا ہوں،انہیں پانی پلاتا ہوں اور ان کا گوبر باہر لے جاتا ہوں۔

استاد: اور کیا یہ سخت کام ہے؟

شاگرد: ہاں یہ سخت کام ہے کیوں کہ میں آزاد نہیں ہوں۔

جاگیر داری سماج کا ابھار اپنے ساتھ ثقافتی جمود کا ایک طویل دور بھی لے کر آیا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک کوئی حقیقی ایجاد سامنے نہیں آئی۔ اس میں پن چکی اور ہوائی چکی کی ایجاد کو استثناء کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں سارے کلچر پر کیتھولک چرچ کا غلبہ تھا۔ میں بلاشبہ یورپی کلچر کی بات کر رہا ہوں۔ کیونکہ بدقسمتی سے میرے پاس عالمی کلچر پر گفتگو کے لئے وقت نہیں ہے۔ ہم ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کلچر پر گفتگو کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ اسلامی دنیا میں قرونِ وسطیٰ کے یورپ جیسے ثقافتی جمود کی کیفیت نہیں تھی۔ جب عیسائی یورپ بربریت میں ڈوبا ہوا تھا، مسلم سپین اور مشرقِ وسطیٰ کے اسلامی ممالک میں شاندار سائنسی اور ثقافتی پیش رفت ہو رہی تھی جس نے بعد ازاں یورپ کے کلچر کو جلا بخشنے میں مدد دی۔ دوسری جانب عربوں اور ایرانیوں نے جو ایجادات کیں ان کا ماخذ ہندوستان تھا۔

یہاں ہمارے پیش نظر بنیادی طور پر سرمایہ داری کا ارتقاء ہے جس کی شروعات غالب طور پر ایک یورپی مظہر کے طور پر ہوئی تھیں۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کی بنیادی خصوصیت چرچ کی ثقافتی آمریت تھی جو کہ کلاسیکی کلچر کی مکمل نفی کرتا تھا۔ یونانی اور رومن آرٹ میں انسانی جسم مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ جاگیردارانہ عیسائی آرٹ نہ صرف انسانی ہیئت بلکہ دنیا اور تمام انسانی سرگرمیوں کو مسترد کرتا تھا۔ وہ انسانوں کی نظروں کو آسمان کی جانب پھیرتا تھا۔ وہ ہمیں بتاتا تھا کہ یہ دنیا جنوں اور شیطانوں کی دنیا ہے۔یہ دنیا بھی بدی ہے اور جسم بھی۔

مرد اور عورت کے درمیان تعلق بھی بدی ہے۔ عورتیں بطورِ خاص بدی کی علامت سمجھی جاتی تھیں کیونکہ کتاب تخلیق کے پہلے باب میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تمام تر انسانی خرابیاں عورت کی وجہ سے ہیں۔

پہلے پہل کلیساؤں میں موسیقی پر پابندی تھی۔ میں سینٹ تھامس کی کتاب’’Summa Theologica‘‘ کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں ہمیں آلات موسیقی کی بدی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’’آلات(موسیقی) کو کلیساؤں اور عبادت سے اس لئے خارج کیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک جسم رکھتے ہیں۔ وہ دماغ میں خلل ڈالتے ہیں اور یہاں تک کہ نفسانی لطف کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘کسی کو نفسانی لطف کی طرف مائل کر سکتے ہیں، کیا خوفناک تصور ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے گرجے، گوتھک گرجا گھر، اس کلچر اس آرٹ کا نقطۂ نظر عروج ہیں۔ یہ بھی فرعون کے مصری مجسموں کی طرح ایک بیان ہے جو پتھر کی زبان میں رقم ہے۔ ان گرجا گھروں میں داخل ہوتے ہی آپ آواز دھیمی کر لیتے ہیں۔ یہاں تاریکی ہے، یہاں آنے والی روشنی بھی اکثر اوقات رنگدار شیشوں والی کھڑکیوں سے گزر کر آتی ہے۔ یہاں جو بھی تھوڑا بہت رنگ ہوتا ہے اسی کے سبب سے ہوتا ہے۔ یہ روح کی تاریکی کا اسرار ہے اور یہ دیو قامت عمارتیں جو آسمان کی طرف منہ کیے کھڑی ہیں اس لیے یوں تعمیر کی گئی ہیں تاکہ مرد و زن خود کو چھوٹا اور غیر اہم محسوس کریں۔ کچھ لوگوں کو یہ آرٹ پسند ہے۔ میرے خیال میں یہ انتہائی غیر انسانی آرٹ ہے۔ انسانیت کا خود اپنے حالات سے بیگانگی کا اظہار پتھر کی شکل میں۔

جاگیرداری کا بحران

اس تمام عرصے میں کروڑوں انسان اس روحانی آمریت کے تحت پیدا ہوئے اور مر گئے۔ انہیں یہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ گرجا گھروں میں کیا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ باتیں لاطینی زبان میں کی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود چرچ کے باہر سورج طلوح ہوتا تھا، پرندے گاتے تھے، مرد اور عورتیں پیار و محبت کے کھیل کھیلتے تھے، رقص و موسیقی کا جادو جاری تھا۔ اور پھر آخر کار سماج کے طبقاتی مواد میں تبدیلی پیدا ہوئی جس کے فن پر نہایت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

دی ڈیتھ اینڈ مزر

قرونِ وسطیٰ کے دور کے آخری مراحل میں یعنی کم و بیش تیرھویں صدی کے بعد سماج ایک گہرے بحران میں داخل ہو گیا۔ اور جب کوئی سماج اس قسم کے بحران میں داخل ہو جاتا ہے تو یہ کیفیت بہت عرصے تک قائم رہ سکتی ہے۔یہ عمل ایک سیدھی لکیر میں نہیں ہوتا، اس میں اتار چڑھاؤ آ سکتے ہیں لیکن اس کا عمومی رخ نیچے کی جانب ہی رہتا ہے۔

اسی قسم کے ادوار میں لوگ محسوس کرتے ہیں کہ سماج بحران کا شکار ہے، محض معاشی وجوہات کے سبب نہیں، بلکہ میں یہاں کہوں گا کہ بنیادی طور پر معاشی وجوہات کی بنا پر نہیں۔ زوال کا ایک عمومی احساس موجود ہوتا ہے، اخلاقیات کا بحران، خاندان کا بحران، چرچ کا بحران، عقیدے کا بحران، سائنس کا بحران، آرٹ کا بحران اور قرونِ وسطیٰ کے آخری ایام میں یہی صورتحال تھی۔ قحط، وباؤں، جنگوں، زوال اور عمومی ذلت و محرومی کے درمیان ایک زبردست تبدیلی جنم لے رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے اور در حقیقت یہ خاتمہ ہو رہا تھا۔ بذاتِ خود دنیا کا خاتمہ تو نہیں البتہ جاگیر داری کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ جاگیر دارانہ نظام کا انہدام ہو رہا تھا۔ دنیا کے خاتمے کے تصور کا اظہار فن کی دنیا میں Breugel the Elder اور خاص کر Hyeronimus کی شاندار پینٹنگز کی صورت میں ہوا جنہیں میڈرڈ کے پرادو میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بورژوازی کا ابھار 

بلاشبہ یہاں فیصلہ کن سوال نئے انقلابی طبقے کے ابھار کا تھا جو پرانے سماج، اسکے سماجی نظام، اس کے عقائد اور اس کے مذہب کو دعوت مبارزت دے رہا تھا۔ اسی طرح جیسے جدید محنت کش طبقہ مزدور تنظیموں کے ذریعے رفتہ رفتہ سماج میں اپنے لیے جگہ بناتا ہے۔

سرمایہ دار طبقے نے شہروں کو بالکل مختلف بنیادوں پر قائم کیا۔ انکی بنیاد زراعت اور پرانے جاگیردارانہ تعلقات پر نہیں تھی بلکہ تجارت، خرید و فروخت، پیسے اور سود کے کاروبار پر تھی۔ انہوں نے ایک نئے طرزِ زندگی کو ترویج دی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ بتدریج نئے ذوق اور نئے فنکارانہ تصورات ابھرے اور سب سے بڑھ کر ایک نئے مذہب پروٹسٹنٹ ازم نے جنم لیا۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مذاہب میں بنیادی نظریاتی فرق کیا ہے؟زیادہ تر لوگ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ لیکن یہ بہت آسان ہے۔ کیتھولک مذہب عملی کاموں کے ذریعے نجات کا درس دیتا ہے جبکہ پروٹسٹنٹ مذہب ایمان یا عقیدے کے ذریعے نجات دلاتا ہے۔ اگر ہم ایک غیر نفیس انداز میں اس فرق کی طبقاتی نوعیت کو بالکل واضح طور بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمان بہت سستا ہے۔ اس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا جبکہ عملی کاموں کو سر انجام دینا مہنگا پڑتا ہے۔ اس کا طبقاتی مفہوم کیا ہے؟ یہ بورژوازی اور جاگیر دار اشرافیہ کے مابین فرق کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ زراعت پر مبنی جاگیر داری نظام میں نئی ایجادات کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسی کسی چیز (اگر وہ دستیاب بھی ہوتی) میں سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ جاگیر داروں کے پاس مزارعوں کی شکل میں بے شمار افرادی قوت موجود تھی جو عملاً غلام تھے۔ اگرچہ وہ رسمی طور پر آزاد تھے لیکن زمین کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ اور اگر آپ کو محنت انتہائی سستے داموں دستیاب ہو تو آپ کو پیداواری کارکردگی میں اضافے کے لئے مشینری کی چنداں ضرورت نہیں۔ غلام داری سماج میں بھی اس قسم کی صورتحال موجود تھی۔ سکندریہ کے یونانیوں نے دخانی انجن ایجاد کر لیا تھا جو کام بھی کرتا تھا لیکن وہ محض ایک کھلونا اور عجوبہ ہی رہا۔ اس کا عملی اطلاق نہیں ہو سکا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوبارہ سرمایہ لگانے کہ ضرورت نہیں تھی تو پھر حکمران طبقہ زائد پیداوار کو کہاں کھپاتا تھا؟ ظاہر ہے کہ آپ اسے دوسروں کو بھی دے سکتے ہیں اور ان میں سے کچھ حضرات ایسا کرتے بھی تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ بہت سخی بھی تھے۔ان کے پاس سخاوت دکھانے کی گنجائش موجود تھی۔ آپ اسے مہنگے لباس، زیورات اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر خرچ کر سکتے ہیں جیسا کہ جاگیر داراشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کرتے تھے۔ آپ اسے چرچ کے حوالے بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ نے بدی کی زندگی گزاری ہو جیسا کہ ان میں اکثر گزارتے تھے تو اس پیسے کے عوض پادری اگلے پانچ سو سال کے لئے آپ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے دعا کر سکتا تھا تا کہ آپ کو جنت کے فرسٹ کلاس ٹکٹ کی ضمانت فراہم کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں جاگیر دار اشرافیہ سے حاصل شدہ دولت کے ذریعے عظیم الشاں گرجا گھر تعمیر کیے جا سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل میں چرچ کے عمارت کی شکل میں ہونے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ حضرت عیسیٰ نے کسی جگہ فرمایا ہے کہ ’’تم میں سے دو تین جہاں بھی میرے نام سے جمع ہو جائیں گے میں وہیں ہوں۔‘‘ لاطینی زبان کے لفظ ’Ecclesia‘ (جس سے کلیسا ماخوذ ہے) کا مطلب اجتماع ہے،عمارت ہرگز نہیں۔

مارٹن لوتھر

پھر لوتھر نام کا ایک شخص وارد ہوا جس نے بائبل کا ترجمہ جرمن زبان، نہایت اچھی جرمن زبان میں جو کہ جدید ادبی زبان کے لئے بنیاد بنی، میں کیا اور لوگوں نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا جس سے انقلاب کا آغاز ہو گیا۔ پروٹسٹنٹ فرقے کا مقصد یہ تھا کہ بائبل کے علاوہ کسی چیز کو بنیاد نہ بنایا جائے۔یہ خدا کے ا لفاظ تھے جنہیں اس نے براہِ راست انسان پر اتارا تھا۔ ’’اگر ہمارا ایمان پختہ ہو،اگر ہم بائبل کے وسیلے سے یسوع مسیح پر ایمان لے آئیں تو ہم بخشے جائیں گے۔‘‘اس دور کے حوالے سے یہ ایک انتہائی انقلاب آفرین پیغام تھا۔

یہ چرچ کے خلاف براہِ راست حملہ تھا۔اس کی روحانی آمریت کے خلاف، اس وسیع و عریض نوکر شاہی کے خلاف جس پر بے پناہ اخراجات اٹھتے تھے، جو زیاں کا باعث تھی اور جو ہر حوالے سے بد عنوان تھی۔ اس قابلِ نفرت روحانی اشرافیہ کے خلاف جو بلاوجہ ان پر ٹیکس عائد کرتی رہتی تھی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اس دور کا ذکر رہے ہیں جسے مارکس سرمائے کے ابتدائی ارتکاز کا دور کہتا ہے۔ بورژوا طبقہ اپنی دولت سرمایہ کاری کی غرض سے پس انداز کرنا چاہتا تھا۔ دو صدیوں کے بعد امریکی انقلابیوں کا نعرہ تھا کہ ’’نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں دیں گے‘‘جبکہ انیسویں صدی کے لبرل ’’سستی حکومت‘‘ کا مطالبہ کرتے تھے۔ لیکن بورژوا طبقے کا اولین نعرہ ’’سستے مذہب‘‘ کا تھا۔اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ہمیں ان چرچوں، پادریوں، بشپوں اور پوپ کی کوئی ضرورت نہیں اور بلاشبہ اس بات کا ایک جمالیاتی فنکارانہ اظہار بھی موجود تھا۔

بورژوا انقلاب

برطانوی Puritan فرقے کے لوگ انتہائی سادہ سیاہ لباس زیب تن کرتے تھے۔ یہ چیز بذاتِ خود ایک انقلابی بیان تھا۔ امیروں کے خلاف،نمود و نمائش کے خلاف،لباس پر بے جا توجہ کے خلاف،زیورات اور بد عنوانی کے خلاف،اس میں ایک واضح انقلابی مفہوم پنہاں تھا۔ غلام داری سماج اور جاگیر داری کے برعکس سرمایہ داری نظام نے تاریخ میں پہلی بار انسان کے حقوق کی تبلیغ کی، فرد کے حقوق کی تبلیغ کی۔ حقیقت میں انفرادیت اور سرمایہ داری ناقابل علیحدگی ہیں اور آرٹ پر اس کا ایک اہم اثر یہ ہوا کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار انفرادی فنکاروں کے شاہکار سامنے آئے کیونکہ اس سے پہلے تمام یا تقریباً تمام آرٹ گم نام آرٹ تھا۔

یہاں ہمیں فنکاروں کا ظہور نظر آتا ہے۔ ایسے لوگ جنہیں ہم افراد کے طور جانتے ہیں۔ چودھویں اور پندرھویں صدی میں پہلے شمالی اٹلی اور پھر ہالینڈ میں اس شاندار عہد کا آغاز ہوا جسے ہم نشاۃِ ثانیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس فن میں انوکھی چیز کیا ہے؟فلانڈرز میں ہمیں وان آٹک برادران، ہوبرٹ اور جان وان آئک مذہبی موضوعات کی ایک انوکھے انداز میں تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ مذہبی تھے لیکن ان تصاویر کا سارا مواد سابقہ آرٹ سے بالکل مختلف تھا۔

سر تھامس مور

اگر آپ اس فلینڈری آرٹ پر نظر ڈالیں تو آپ کو حقیقی مرد و زن نظر آتے ہیں۔ انسان فن کی دنیا میں واپس لوٹ آیا ہے۔ فلسفے میں ہمیں اس قسم کا مظہر انسان دوستی کے فلسفے کے ابھار کی صورت میں نظر آتا ہے جو فرد کے حقوق کے اسی قسم کے بورژوا تصور کا اظہار ہے۔ اس کی نمائندگی اراسمس اور سرتھامس مور جیسے لوگ کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ نئے مکاتبِ فکر اٹلی کی پیداوار تھے جہاں آرٹ یونان کے بعد ایک نئی معراج کو پہنچا تھا۔یہ بورژوا طبقے کے ابھار کا براہِ راست اظہار تھا۔

انسان کی انفرادیت کے اس انقلابی تصور کا انتہائی شاندار اظہار ہمیں بوتی چیلی جیسے لوگوں کے فن پاروں میں نظر آتا ہے۔ وینس کی پیدائش تصویر کشی کے فن میں ایک ارفع ترین حیثیت رکھتی ہے۔ اس خوبصورت تصویر کا عیسائیت یا قرونِ وسطیٰ کے دور سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس کا موضوع مذاہب کے ظہور سے پہلے کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ عشق و محبت کی دیوی’Aphrodite‘ لہروں سے جنم لے رہی ہے۔اس کے مرکز میں عورت کی ہیئت ہے، ایک عریاں جسم، یہ ایک ایسا موضوع ہے جو قرونِ وسطیٰ کے کلیسا کے لئے شجرِ ممنوعہ تھا کیونکہ اس کے نزدیک جسم بدی تھا اور عورت اس بنیادی گناہ کا باعث تھی جس کے سبب آدم کو جنت سے نکالا گیا تھا۔ یہاں اس کے برعکس انسانی جسم کا ایک شاندار جشن دیکھنے کو ملتا ہے۔ انسانی جوہر،بذاتِ خود حیات نکھر کر سامنے آئی ہے جیسے وہ قدیم یونان کے دور میں آیا کرتی تھی۔ اس تصویر میں جس انداز میں لہروں اور جسم کے علاوہ جس طرح ہوا کو پہنے کپڑے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اس میں ایک قسم کی آزادی پائی جاتی ہے۔ یہ ایک انقلابی بیان ہے جس میں پرانے جمود اور پرانی مذہبی مابعد الطبیعیاتی سوچ کی مکمل نفی کی گئی ہے۔ اس میں پرانی تاریکی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔یہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ کچھ بھی ساکت نہیں ہے ہر شے حرکت میں ہے، رقص کر رہی ہے اور قہقہے لگا رہی ہے۔یہاں پہنچ کر بالآخر آرٹ غیر انسانی نہیں رہا۔ یہ حقیقی معنوں میں انسانی آرٹ ہے۔

اس سے انسان کے اندر کائنا ت اور اس میں اس کے مقام کے تصور میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ وہی جرات مندانہ نقطہ نظر ہے جو سائنس کو تجربے اور تحقیق کے نئے عہد میں لے گیا اور سیاست کو براہِ راست جاگیر دارانہ کیتھولک رجعت کے خلاف ابھرتی ہوئی بورژوازی کے انقلابی نوعیت کے تصادم کی طرف لے گیا۔خاص طور پر ہالینڈ میں جہاں بورژوازی سب سے بڑی رجعتی قوت سپین،جسے آج کل کے امریکی سامراج سے مشابہہ قرار دیا جا سکتا ہے، کے خلاف ایک جرات مندانہ جدوجہد میں مصروف تھی۔

ہالینڈ کی بغاوت

ہالینڈ کے ایک گاؤں میں قتل عام کا ایک منظر

ہسپانوی ہالینڈ کی بغاوت کو ویت نام کی جنگ اور روسی انقلاب کے آمیزے سے مشابہت دی جا سکتی ہے۔ یہ ایک انتہائی جدید اور خون ریز جنگ تھی، ایک ایسی انقلابی جنگ جس کے دوران ایک مرحلے پر سپین کے بادشاہ نے چند استثناعات کو چھوڑ کر ہالینڈ کی ساری آبادی کو قابلِ گردن زنی قرار دے دیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کسی کے گھر سے بائبل کا برآمد ہونا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا انتہائی افسوسناک موت تھی۔ کسی کے منحرف ہو نے یعنی کیتھولک چرچ کے عقیدے سے اتفاق نہ کرنے کی سزا یہ تھی کہ اس شخص کو زندہ جلا دیا جائے۔ لیکن اگر وہ مکمل اعترافِ جرم کر لیتا اور پروٹسٹنٹ ازم سے تائب ہو جاتا تو مقدس ماں(چرچ) اس پر رحم بھی کھا سکتی تھی۔ اس صورت میں مردوں کا سر قلم کر دیا جاتا تھا اور عورتوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد ہالینڈ کی بورژوازی سپین سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس سے تجارت و خوشحالی کے علاوہ فنون و ثقافت کے فروغ کے دروازے کھل گئے۔ ہالینڈ کا یہ آرٹ کچھ عجیب و غریب خصوصیات کا حامل تھا۔ ان میں سے بہت سے فن پارے مکمل طمانیت،امن اور سکون کے مظہر ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی جڑیں گزشتہ دور میں پیوست ہیں۔ سپین کے خلاف خوفناک جدوجہد کے بعد ہالینڈ کی بورژوازی جو لمبے تڑنگے خوشحالی تاجروں پر مشتمل تھی، سکون کا سانس لینے کی متمنی تھی۔ وہ ایک ایسا دور چاہتی تھی جس میں وہ امن و سکون کی کیفیت سے حظ اٹھا سکے۔ ان میں سے اکثر تصاویر یہی تاثر دیتی ہیں یعنی ایک ایسے سماج کا تاثر جو انتہائی منظم اور مستحکم ہے۔

یہ وہ دور ہے جب تاریخ میں پہلی بار آرٹ حقیقی معنوں میں روز مرہ زندگی کو پیش کرتا ہے یعنی بورژوا طبقے کی روز مرہ کی پرسکون زندگی۔ بالوں میں کنگھی کرتی، چھوٹا پیانو بجاتی یا خط کا مطالعہ کرتی ہوئی خواتین جو اس مکتب کے عظیم ترین نمائندے ورمیر کی تصاویر میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان مناظر کی انتہائی عام نوعیت ایک گہری نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتی تھی۔ برسبیل تذکرہ یہاں بھی معاشیات اور طبقاتی سماج کی جھلک نظر آتی ہے۔

ایک نئی قسم کی تصویر کشی وجود میں آتی ہے؛ ایک ساکت زندگی۔ عام طور پر اس میں میزوں پر انتہائی اعلیٰ قسم کے کھانے، شراب سے لبریز صراحیاں، سیب اور دیگر انواع و اقسام کے پھل سجے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ پھل اتنے خوبصورت انداز میں بنائے جاتے ہیں کہ آپ کا دل چاہتا ہے ہاتھ بڑھا کر ایک سیب اٹھا کر کھانا شروع کر دیں۔ یہی اس خوشحال ولندیزی تاجر کا پیغام ہے جو کہتا ہے کہ ’لو میں آ گیا ہوں‘۔’دیکھو مجھے کیا کیا نعمتیں میسر ہیں‘۔ ’دیکھو میرے باورچی خانے میں کیا کیا کچھ ہے‘۔ یہاں تک کہ پھولوں کی تصاویر بھی ایک معاشی بنیاد رکھتی ہیں کیونکہ یہ قیاس آرائی یا سٹے بازی کے اولین معاشی بحران کا دور ہے۔ ہالینڈ کے گل لالہ (Tulip) کا سکینڈل جب ہر کوئی پھولوں کا دیوانہ تھا اور پھول انتہائی گراں قیمت تھے۔

زر اور فن
اس نئے آرٹ کی بنیاد ایک نیا صارف طبقہ ہے،خوشحال تاجر،جس کے پاس بہت بڑا گھر ہے جس میں بہت سی دیواریں ہیں جنہیں ڈھانپنے کی ضرورت ہے۔ہر جگہ تصویریں ہی تصویریں تھیں، دکانوں میں، سراؤں میں اور شراب خانوں میں۔اب آرٹ کوئی اسرار نہیں رہا تھا جیسا کہ ’’فن برائے فن‘‘ کے حوالے سے کہا جاتا ہے۔ یہ تجارت خیال کی جاتی تھی جیسے کسی بھی قسم کی تجارت ہوتی ہے۔ ورمیر نے اپنے آبائی قصبے ڈلفٹ کی بہت سی تصاویر بنائی تھیں۔ اس قصبے کے نانبائی کے پاس اس کی دو تصاویر تھیں جن کی مالیت اس وقت لاکھوں پاؤنڈ ہے۔ اس نانبائی کے پاس یہ تصاویر اس لیے موجود تھیں کہ انہیں روٹی خریدنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا کیونکہ ورمیر کے پاس روٹی خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ بہت سے عظیم فنکاروں کی طرح وہ بھی غربت کے عالم میں اس جہاں سے رخصت ہوا اور آج سرمایہ دار حضرات ان تصاویر کے عوض لاکھوں کما رہے ہیں۔
سرمایہ داری کے ابھار کے ساتھ ساتھ ہمیں زر کی اہمیت، لالچ اور اشیاء کی ملکیت کی خواہش کے عناصر فروغ پاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سترھویں صدی میں انگلینڈ میں بورژوا انقلاب برپا ہوا۔یہاں بھی نئے مذہب اور فنکارانہ تصورات کے ساتھ جاگیر دارانہ مطلق العنانیت کا وہی تصادم دکھائی دیتا

مشہور پینٹر سیموئیل کوپر کے ہاتھ سے بنایا ہوا اولیور کرامویل کاتاریخی پورٹریٹ

ہے۔ ڈچ مصور وان ڈانگ کی بنائی ہوئی تصاویر ملاحظہ فرمائیں جن میں سے کئی ایک نیشنل گیلری میں موجود ہیں۔ یہ انتہائی مزین تصاویر ہیں جن میں نفیس کپڑوں اور زیورات سے لدی پھندی جاگیر دار طبقے کی شخصیات نظر آتی ہیں۔ ان کے دشمن ’Puritan‘ سیاہ لباس زیبِ تن کرتے تھے اور انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ یہاں ہمیں جمالیات کے دو مختلف تصورات،دو مختلف اخلاقیات دکھائی دیتی ہیں جو دو متحارب طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ایک مشہور واقعہ ان دو طبقات کی سوچ کے فرق کو بہت واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ جب انگریز انقلابی اولیور کرامویل نے ایک مصور سے اپنی تصویر بنوائی تھی۔ وہ ایک اچھا بورژوا انقلابی تھا لیکن وہ کوئی خوبصورت شخص ہرگز نہیں تھا۔ کرامویل نے مصور سے کہا تھا’’میری تصویر ایسی ہی بناؤ جیسا کہ میں ہوں، کیل مہاسوں سمیت!‘‘ فن میں ایک نئی روح سما چکی تھی۔ برطانوی انقلاب نے کئی عظیم ادیب پیدا کیے جن میں Paradise Lost کا مصنف جان ملٹن اور اینڈریو مارویل جیسے شاندار شاعر شامل ہیں۔ لیکن میرے پاس تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔

قدیم بادشاہت اور فرانسیسی انقلاب
اگر ہم فرانس کو دیکھیں تو یہاں بھی ہمیں دو طبقات کا تصادم نظر آتا ہے اسکے علاوہ آرٹ میں بھی ہمیں دو ثقافتوں کا تصادم دکھائی دیتا ہے۔یقیناًیہ بات میں ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ ہمیں بالکل طے شدہ رشتوں کو متعین کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، یہ ایک غلطی ہوگی۔ اس کے باوجود بعض اوقات ایک عجیب و غریب اور مسخ شدہ شکل میں آپ کو سماجی رشتوں کے مدہم خدوخال آرٹ میں نظر آئیں گے۔ ہمیشہ نہیں، صرف کبھی کبھی۔ یہاں تک کہ بعض اوقت یہ چیز آپ کو باغبانی جیسے شعبے میں بھی نظر آسکتی ہے۔ کیا آپ کو فرانس میں ورسائی جانے کا اتفاق ہوا ہے؟ شائد آپ نے وہاں کے مشہور باغات بھی دیکھے ہوں، آپ کو وہاں کیا چیز نظر آئی؟ جیومیٹری کی اشکال اور خطوطِ مستقیم۔
یہ تصور کس چیز کی عکاسی کرتا ہے؟ یہ بھی ایک بیان ہے۔ فرانس کی مطلق العنان جاگیر دار اشرافیہ ہر شے پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں تھی، یہاں تک کہ فطرت پر بھی۔ ورسائی کے باغات اس تصور کو پیش کرتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو قابو میں لا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم فطرت کو، درختوں کو اور دریاؤں کو بھی قابو میں لا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ گھاس پر بھی ہماری اطاعت لازم ہے۔ اس تصور کا فن کارانہ اظہار کلاسیکیت (Classicism) ہے جس میں ڈرامے کے لئے انتہائی سخت اور نپے تلے ضابطے بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس کی بنیاد ارسطو کی باتوں کے بارے میں غلط فہمی ہے۔ ڈرامہ جو چوبیس گھنٹوں پر محیط اور ایک ہی جگہ ہونا چاہیے، اس میں المیہ (Tragedy) اور طربیہ (Comedy) کی آمیزش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ لوگ شیکسپیئر کو جاہل اور وحشی سمجھ کر اس کا مضحکہ اڑاتے تھے کیونکہ وہ المیہ اور طربیہ کو ملا دیتا تھا۔

فرانس کی ملکہ میری جس نے کہا تھا کہ عوام کے پاس روٹی نہیں تو کیک کھا لیں۔ انقلاب کے دوران اس کا سر قلم کر دیا گیا تھا

انقلاب کے وقت فرانسیسی ریاست دیوالیہ ہو چکی تھی اور بادشاہت کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی تھی۔ اس لیے یہ بات کسی حد تک متوقع تھی کہ اس دور میں حکمران طبقے کے آرٹ میں بڑی حد تک فراریت کا عنصر موجود تھا۔ Watteau کی تصاویر میں ہمیں جو غیر حقیقی دنیا نظر آتی ہے وہ خوابوں کی اس دنیا کی بالکل سچی عکاسی ہے جس میں تباہی کے دہانے پر کھڑا فرانس کا زوال پذیر حکمران طبقہ زندگی گزار رہا تھا۔میری انتوانت (ملکہ فرانس) نے اپنی جاگیر میں جھوٹ موٹ کے ’’کھیت‘‘ بنا رکھے تھے جہاں وہ چرواہن کا بھیس بدل کر گھومتی تھی۔ لیکن حقیقی دنیا میں حقیقی فرانس چروا ہے اور چرواہنیں جن مصائب کا شکار تھیں، ملکہ کی مصنوعی دنیا میں ان کا شائبہ تک موجود نہ تھا۔

حکمرانوں پر ہر شے کو قابو میں لانے یہاں تک کہ خوابوں کی دنیا کو بھی اپنے ماتحت کرنے کا جنون طاری تھا۔ 1789ء میں اس کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ فرانسیسی انقلاب نے ہر شے کو الٹ کر رکھ دیا۔قبل ازیں فرانسیسی انقلاب کی راہ ایک نظریاتی جدوجہد کے ذریعے ہموار ہوئی تھی جو بالخصوص فلسفے کے حوالے سے کی گئی تھی۔ انقلاب اس جدوجہد کو آرٹ کے شعبے میں لے گیا جہاں ابتدائی طور پر اس کا اظہار ’نئی کلاسیکیت‘ کی شکل میں ہوا جس میں عظیم انقلابی مصور ڈیوڈ کی تصاویر خصوصی اہمیت رکھتی تھیں۔ بعد ازاں اس کا اظہار رومانویت (Romanticism) کی شکل میں ہوا۔
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پرانی کلاسیکیت اور نئی کلاسیکیت میں فرق کیا ہے؟ فرق موجود ہے۔ مطلق العنانیت کی کلاسیکیت کی بنیاد سلطنت روم کا زوال پذیر آرٹ تھا جبکہ فرانسیسی انقلاب کی کلاسیکیت جمہوریہ روم کے حوالے سے تھی اور اس کا کردار انقلابی تھا۔ اس کو عزم و جرات، مشترکہ مفاد کے لئے ایثار و قربانی اور حب الوطنی کے جذبوں نے جلا بخشی تھی۔ یہ وہ خوبیاں تھیں جن کی انقلابی بورژوازی کو ضرورت تھی تاکہ وہ پرانے نظام کا تختہ الٹ سکے اور یورپ بھر کی بادشاہتوں کے خلاف اپنے اقتدار کا دفاع کر سکے۔

انقلابِ فرانس کے اثرات
انقلابِ فرانس نے صرف فرانس پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی پیمانے پر زبردست اثرات مرتب کیے۔انگلینڈ میں بہت سے عظیم شاعروں نے جنم لیا مثلاً بائرن، شیلے، ورڈز ورتھ، کولرج اور سکاٹ لینڈ میں رابرٹ برنز۔ ولیم بلیک ایک انتہائی انوکھا مصنف اور فنکار تھا جو اس دور سے اتنا آگے تھا کہ اسے دیوانہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر مجھ سے غلطی نہیں ہو رہی تو اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام پاگل خانے میں گزارے تھے۔اور اب اسے ایک عظیم فنکار اور مصنف تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان سبھی عظیم مصنفین نے زبردست جوش و خروش کے ساتھ انقلابِ فرانس کی حمایت کی تھی اگرچہ ایسا کرنا خطرناک تھا۔ برطانیہ میں جبر کی کیفیت بہت خوفناک تھی۔ ولیم بلیک نے لکھا تھا کہ اگر یسوع مسیح برطانیہ میں موجود ہوتے تو انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا۔ ورڈز ورتھ انقلاب کے وقت فرانس میں موجود تھا اور اس نے اپنی عظیم نظم ’The Prelude‘ میں کہا تھا کہ :

’’ اس صبحِ صادق کے وقت زندگی سعادت تھی
لیکن نوجوانی جنت مکانی سے کم نہ تھی۔‘‘

بعد ازاں جب انقلابی ریلا پیچھے ہٹ گیا اور بونا پارٹسٹ رجعت پرستوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا کولرج اور ورڈز ورتھ نے اس راستے کو ترک کر دیا۔ روسی انقلاب کی سٹالنسٹ سیاسی ردِ انقلاب کے ہاتھوں بربادی کے بعد بھی کچھ اسی قسم کی کیفیت دیکھنے میں آئی تھی لیکن ہر کسی نے شکست تسلیم نہیں کی۔شیلے ایک زبردست شاعر تھا جو نوجوانی میں ہی المناک موت کا شکار ہو گیا تھا۔ مارکس شیلے کا زبردست مداح تھا جو اپنے انقلابی عقائد پر سختی سے قائم رہا۔ عظیم سکاٹش شاعر رابرٹ برنز بھی اسی طرح ڈٹا رہا۔ صرف برطانیہ میں ہی نمایاں مصنفین اور فنکاروں نے انقلابِ فرانس سے تحریک حاصل نہیں کی۔ جرمنی میں گوئٹے اور شلر نے بھی جوش و خروش سے انقلابِ فرانس کو خوش آمدید کہا اور موسیقی کے شعبے میں تاریخ کے عظیم ترین موسیقار لڈوگ وان بیتھوون نے انقلابِ فرانس کے مقاصد کی حمایت تمام عمر جاری رکھی اور اس کے پاؤں کبھی نہیں لڑکھڑائے۔
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا انقلاب کے تصور کو موسیقی کے تصور کے ذریعے پیش کیا جا سکتا ہے؟ میرا جواب اثبات میں ہے۔ بیتھوون موسیقی کے شعبے سے تعلق رکھنے والا انقلابی تھا اور انقلاب سے تحریک حاصل کرتا تھا۔ اگر آپ بیتھوون کی موسیقی (Symphonies) کا موازنہ سابقہ موسیقی سے کریں تو آپ کو فوراً احساس ہوگا کہ یہ بالکل نئی ہے۔ اور سارے عظیم فن کا جوہر یہ ہے کہ اس میں کوئی نئی بات ہونی چاہیے، کوئی ایسی چیز جو ہم سے کوئی نئی بات کہے۔
آپ میں سے کچھ لوگ شائد بیتھوون کی تیسری سمفنی کی کہانی سے واقف ہوں جسے ’’Eroica Symphony‘‘ یعنی ایک ہیرو کی سمفنی کہا جاتا ہے۔ اس موسیقی میں ہمیں انقلابِ فرانس کی حقیقی روح ملتی ہے۔ شائد آپ سمجھتے ہیں کہ میں مبالغہ آرائی کر رہا ہوں لیکن اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔بیتھوون کا خیال تھا کہ نپولین انقلابِ فرانس کا ہی تسلسل ہے اور وہ اپنی تیسری سمفنی نپولین کے نام سے منسوب کرنا چاہتا تھا۔ در حقیقت وہ اس کا نام نپولین کی سمفنی رکھنا چاہتا تھا۔
ابھی وہ اسے لکھ ہی رہا تھا کہ اسے نپولین کے شہنشاہ بننے کی خبر ملی۔ اس نے فوراً ہی قلم اٹھایا اور نپولین کا نام کاٹ دیا۔ کاغذ کا یہ ٹکڑا اب بھی موجود ہے جسے عجائب گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس نے یہ نام اس قدر غصے کے عالم میں کاٹا ہے کہ کاغذ میں سوراخ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنی سمفنی کا نیا نام رکھا۔ایک ہیرو کی یاد میں۔
آپ میں سے بہت سے لوگ شائد کلاسیکی موسیقی پسند نہیں کرتے۔ یہ افسوس کی بات ہے۔ لیکن میں آپ سے درخواست کروں گا کہ سمفنی کو آغاز سے محض دو سیکنڈ کے لئے سنیں۔ یہ موسیقی میں ایک انقلاب ہے۔ اس سے پہلے لوگ،ظاہر ہے کہ امیر لوگ، موسیقی (Symphonic Concert) سننے کے لئے جاتے تھے اور وہاں بیٹھے رہتے تھے۔ سو جاتے تھے یا چند خوشگوار دھنیں گنگناتے گھر چلے جاتے تھے۔ آپ بیتھوون کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں کر سکتے۔ اور ہیرو کی سمفنی کا آغاز دو بھاری حربوں سے ہوتا ہے جیسے کوئی میز یا دروازے پر مکے مار رہا ہو۔ یہ موسیقی نہیں اور نہ ہی کوئی ٹیون یا تان ہے۔ یہ توجہ دلانے بلکہ ہتھیار اٹھانے کی دعوت ہے۔
بیتھوون کی پانچوں سمفنی بہت جانی پہچانی ہے۔ اس کا آغاز ایک انتہائی مشہور تھیم یا موضوع سے ہوتا ہے۔ یہ بھی کوئی تان نہیں ہے۔ ایک ڈچ موسیقار کا کہنا ہے کہ ’’یہ کوئی موسیقی نہیں ہے۔یہ سیاسی ایجی ٹیشن ہے۔ یہ ہم سے کہتی ہے کہ یہ دنیا بری ہے۔ خراب ہے ہمیں اس دنیا کو تبدیل کر دینا چاہیے۔ اٹھو چلو !‘‘ یہ میرا نہیں ہارننکورٹ کا کہنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک انگریز موسیقار جان ایلیٹ گارڈنر نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ بیتھوون کی پانچویں سمفنی کی بنیاد فرانسیسی انقلابی گیتوں پر رکھی گئی ہے۔ ہاں، موسیقی انقلاب کا اظہار کر سکتی ہے اور انقلاب کا اظہار کرتی ہے۔
فنکار اور سماج کے درمیان تعلق جدلیاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ آرٹ فرد کے اندر سے ابھرنا چاہیے۔ اس کے دل کی آواز ہونا چاہیے۔ لیکن ایسے لمحات بھی آ سکتے ہیں جب کسی فرد کے داخلی تضادات وسیع تر سماجی تضادات سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ اور اس سے عظیم آرٹ تخلیق ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ بیتھوون کی مثال سے ظاہر ہے۔ بیتھوون کی ذاتی زندگی المیوں سے بھری پڑی تھی۔ اٹھائیس سال کی عمر میں وہ بہرے پن کا شکار ہو گیا۔ اپنی نویں سمفنی کی تکمیل تک وہ مکمل طور پر بہرہ ہو چکا تھا۔
اس کی زندگی اذیت سے عبارت تھی جس کا عکس ہمیں بلاشبہ اس کی موسیقی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن بیتھوون ایک نابغہ روزگار تھا۔ اسکی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو برباد ہو جاتا لیکن وہ نہ صرف یہ کہ برباد نہیں ہوا بلکہ اپنی ذاتی صورتحال سے بلند تر ہوتا گیا اور اس نے اپنی موسیقی میں ذاتی مسائل کو نہیں بلکہ جبر و ستم کی شکار انسانیت کو درپیش المیوں اور تضادات کو اجاگر کیا۔

رومانویت (Romanticism)
انیسویں صدی کے اول نصف کے دوران حاوی فنکارانہ رجحان رومانویت کا تھا۔ رومانویت کا مطلب کیا ہے؟ وہ کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟
فرانس نے 1789-93ء میں ایک زبردست چھلانگ لگائی۔ اس نے آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی بنیاد پر ساری نسلِ انسانی کو ایک بہتر مستقبل کا خواب دیا۔ یہ بہت اعلیٰ مقاصد پر مبنی نعرے تھے۔ بورژوازی نے انہیں عوام کو لڑائی پر اکسانے کے لئے استعمال کیا۔ لیکن اس دور کی پیداواری قوتوں کی سطح کے پیش نظر انقلابِ فرانس ایک بورژوا انقلاب کی شکل میں سامنے آیا اور یہ صرف ایک بورژوا انقلاب ہی ہو سکتا تھا۔ بورژوا حکمرانی کے مستحکم ہوتے ہی فنکاروں اور اہلِ فکر کے وہ تمام خواب چکنا چور ہو گئے جنہیں انقلاب نے جنم دیا تھا۔ آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی بجائے انہیں بینکاروں، تاجروں اور سود خوروں کی حکمرانی ملی۔ سماج پر بورژوا طبقے کی سنگدلانہ لالچ کا غلبہ تھا جس کی عکاسی بالزاک نے اپنے ناولوں میں بہت عمدہ طریقے سے کی ہے۔
اس کے خلاف ردِ عمل کے طور پر بہت سے فنکاروں اور ادیبوں نے ایک قسم کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ بورژوا طبقے اور دولت کی حکمرانی کے خلاف اٹل جارحانہ رویہ رکھتے تھے۔ اور بلاشبہ آرٹ کو ہمیشہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ حقیقی آرٹ کو آزادانہ طور پر اس چیز کا اظہار کرنا چاہیے جو میرے اندر موجود ہے نہ کہ کوئی ایسی چیز جو کسی بھی طور پر باہر سے جبراً لاگو کی گئی ہو۔کیونکہ اس قسم کا آرٹ ہمیشہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا آرٹ ریاستی غلبے کو بھی اسی طرح مسترد کرتا ہے جیسے وہ مذہب اور چرچ کی آمریت کو مسترد کرتا ہے۔ وہ منڈی کی غنڈہ گردی کو مسترد کرتا ہے جو کہ فن اور تخلیق کی اٹل دشمن ہے۔ 1848ء کے انقلاب کی شکست تک یعنی انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں بہت سے فرانسیسی شاعر اور ادیب ایسے تھے جن میں انقلاب کی تڑپ موجود تھی۔ ڈیلا کوا، گوٹیئے، ڈومئے اور بودیلیئر سبھی نے 1848ء کے انقلاب کی حمایت کی اور اس میں حصہ لیا۔برسبیل تذکرہ میں موجودہ موضوع کے حوالے سے آپ کو تھوڑا سا حیران کرنا چاہتا ہوں۔ جرمنی میں جن لوگوں نے سرگرمی سے انقلاب میں حصہ لیا ان میں ایک نوجوان موسیقار بھی شامل تھا جس کا نام رچرڈ واگنر تھا۔ اس وقت وہ باکونن نامی انارکسٹ کا ذاتی دوست تھا۔اور اس نے ایک قدرے طویل اور اچھا مضمون تحریر کیا جس کا نام تھا ’’ سوشلزم اور آرٹ‘‘، اس میں وضاحت کی گئی تھی کہ سچا آرٹ اور موسیقی سرمایہ داری سے میل نہیں کھاتے۔
تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے فنکاروں کی اکثریت محنت کش طبقے اور 1848ء کے انقلاب کے ساتھ تھی لیکن پیٹی بورژوازی ایک انتہائی غیر متوازن طبقہ ہے۔ خاص طور پر دانشور نہایت ہی غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ انقلاب کی شکست کے بعد وہ دل برداشتہ ہو گئے۔ محنت کش طبقے پر ان کا اعتماد تیزی سے ختم ہو گیا اور وہ داخلیت کا شکار ہو گئے۔ یہ ہے ’’فن برائے فن‘‘ کے نام کی تھیوری کی تاریخی بنیاد جس کا ذکر ہم نے آغاز میں کیا تھا۔
علامتیت (Symbolism) کی تحریک کا بانی دراصل بودیلیئر تھا جو ایک انتہائی زبردست شاعر تھا۔ لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا اعتماد 1848ء کے بعد انقلاب سے اٹھ گیا تھا۔ اس نے داخلیت کا شکار ہو کر جنسیت اور تصوف جیسی چیزوں کو اپنا موضوع بنا لیا جیسا کہ ہر انقلاب کی شکست کے بعد اکثر و بیشتر دانشور کرتے ہیں۔ آپ کو یہ مظہر بارہا دیکھنے کو ملے گا۔
میں آپ کو ذاتی زندگی سے ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔ میں 1975ء کے انقلاب کے موقع پر پرتگال میں تھا۔ پچاس سالہ فاشسٹ آمریت کے بعد اس وقت محنت کشوں کی ایک زبردست تحریک موجود تھی۔ لزبن کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے آپ کو سینکڑوں لوگ گرما گرم سیاسی بحثیں کرتے نظر آتے تھے اور کتابوں کی دکانیں مارکس، لینن، ٹراٹسکی اور ماؤزے تنگ کی کتابوں سے بھری پڑی تھیں۔ انقلاب کی شکست کے چند سال بعد جب میں دوبارہ وہاں گیا تو بائیں بازو کی تمام کتابیں غائب تھیں اور ان کی جگہ فحش، مذہبی اور صوفیانہ کتابوں نے لے لی تھی۔
انقلاب کی شکست کے بعد رجعتی ثقافتی رجحانات کا ابھرنا ایک معمول کی بات ہے۔ لیکن جب گہرے سماجی بحرانوں کے باعث انقلاب کی لہر واپس آتی ہے تو آپ کو دانشوروں کے حلقے میں وہی پہلے جیسا جوش و خروش دکھائی دیتا ہے لیکن مجھے اپنی بات مختصر کرنی پڑے گی۔ کیونکہ ہم نے اس موضوع سے بھی نپٹنا ہے کہ آج فن کا مقام کیا ہے اور ہم نے یہ بھی جاننے کی کوشش کرنی ہے کہ آیا فن اور طبقاتی جدوجہد کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔

فن اور طبقاتی جدوجہد
اس سوال کے کئی مختلف جوابات دیئے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا ہمیں تمام آرٹ کو مارکسی نظریئے اور طبقاتی جدوجہد کے حوالے سے پرکھنا چاہیے تو میرے خیال میں ایسا کرنا مضحکہ خیز ہوگا۔ آرٹ لازمی طور پر انقلابی نہیں ہوتا اور ہمیں ایسا عظیم ادب بھی مل سکتا ہے جو قدامت پسندانہ یا رجعتی ہو۔ ہم آپ کے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔
فرانسیسی ادیب بالزاک جو کہ مارکس کا پسندیدہ ناول نگار تھا سیاسی طور پر قدامت پرست تھا بلکہ وہ مطلق العنانیت کا حامی تھا۔ تاہم جیسا کہ مارکس نے بھی کہا کہ وہ ایک ایسا عظیم حقیقت نگار تھا کہ آپ کسی بھی دوسری تحریر کے مقابلے میں اس کے ناولوں کو پڑھ کر انیسویں صدی کے اول نصف کی فرانسیسی تاریخ کے بارے میں زیادہ جان سکتے ہیں اور انقلابی نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔
بیسویں صدی کی تاریخ میں بھی بعض اوقات آرٹ نے انقلابی تصورات کی عکاسی کی ہے۔ مثال کے طور پر پابلو پکاسو کوئی سیاسی آدمی نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگ اسے پسند بھی نہ کرتے ہوں لیکن وہ ایسا شخص تھا جس نے پچھلی صدی کے آغاز میں سپین کی زرخیز ثقافتی زمین پر پرورش پائی تھی۔ یہ سپین میں زبردست شورش کا زمانہ تھا۔ پکاسو، فیڈریکو گارسیا لورکا کا دوست تھا جو بائیں بازو سے ہمدردی رکھتا تھا۔ لورکا غالباً جدید سپین کا عظیم ترین شاعر تھا جو فاشسٹوں کے ہاتھوں 1936ء میں قتل ہو گیا تھا۔
اس ملک میں بہت سے فنکار، شاعر، ادیب اور موسیقار ایسے پیدا ہوئے ہیں جن پر سماج کے عمومی ابھار نے اثرات مرتب کئے تھے۔ انہوں نے 1931-37ء کے انقلاب میں حصہ لیا اور ان میں سے کچھ لڑاکا بھی تھے۔ خاص طور پر میگیل ہر نانڈیز جو ایک عظیم شاعر تھا اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی زندگی فاشسٹوں کی قید میں تمام ہوئی۔
آیئے ایک لمحے کیلئے ہم درمیانے طبقے کے اس احمقانہ تعصب کی جانب واپس لوٹیں کہ عوام کو کلچر سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں اس میں کسی حد تک کچھ صداقت موجود ہے۔ کیونکہ عوام محسوس کرتے ہیں کہ بورژوا کلچر پر حکمران طبقے کا اجارہ ہے۔ یہ ہمارے لئے نہیں ہے۔ یہ کوئی انجان سی چیز ہے جس کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی سوچ موجود ہے۔ اور اس کی وجہ سے عام لوگ بعض اوقات آرٹ اور کلچر کو مسترد کر دیتے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے لیکن یہی بات سیاست کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ طبقاتی سماج میں معمول کے حالات میں عوام اہم باتیں دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی مقامی کونسلر، ٹریڈ یونین لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ وغیرہ۔
لہٰذا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عوام کو کلچر سے کوئی دلچسپی نہیں تو ہم دراصل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ طبقاتی سماج کے معمول کے حالات میں عوام غور و فکر کا کام عمومی طور پر دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ٹراٹسکی نے وضاحت کی ہے کہ انقلاب کا جوہر ہی یہ ہے کہ عام مرد و زن بڑی تعداد میں سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ خود کو حقیقی انسانوں کی سطح تک بلند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے کچھ مفادات و ضروریات بھی ہیں، جن کا انہیں قبل ازیں احساس نہیں تھا، کہ ان کا دماغ بھی ہے،ان کی شخصیت بھی ہے،ان میں انسانی وقار بھی ہے اور وہ ایک روح کے مالک بھی ہیں۔ انقلاب کے دوران یہ سب کچھ سامنے آجاتا ہے۔
میگیل ہرنانڈیز محاذِ جنگ پر جا کر خندقوں میں لڑنے والے ریپبلکن فوجیوں کو اپنی انقلابی شاعری سناتا تھا۔ محنت کش اور کسان ہر جگہ اس کا پر جوش استقبال کرتے تھے۔ ثقافت کے بارے میں دلچسپی عوام کے دل و دماغ میں رچی بسی ہوتی ہے لیکن یہ غیر منصفانہ اور وحشیانہ طبقاتی سماج اسے جبراً کچل ڈالتا ہے۔ لیکن انقلابی حالات میں یہ ابھر آتی ہے۔ اور ایک حقیقی انقلابی رجحان کے لئے ضروری ہے کہ اس کو سمجھے اور اس کو دل وجان سے عزیز رکھ کر پروان چڑھائے۔
سرریلزم (Surrealism) جیسی چیزوں میں ہمیں ایک مسخ شدہ شکل میں انقلاب کا عکس نظر آتا ہے۔ دادایت (Dadaist) کی تحریک سرریلسٹ تحریک کی پیش رو تھی جو پہلی عالمی جنگکے لگ بھگ بالخصوص جرمنی میں ابھری جہاں کچھ نمایاں فنکاروں اور ادیبوں نے عسکریت پسندی اور سرمایہ داری کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ انہوں نے کئی شاندار شاہکار تخلیق کئے۔ میرے ذہن میں خاص طور پر جارج گروس،کرٹ ویل اور برٹولڈ بریخت کے نام آ رہے ہیں۔ آخرالذکر دو ادیبوں نے مل کر ’’Threepenny Opera‘‘ لکھا تھا جو ایک مشہور نغمے ’میک دی نائف‘ (Mack the Knife) سے شروع ہوتا ہے۔
اس اوپرا میں جو گانے ہیں ان میں کچھ انتہائی شاندار مصرعے موجود ہیں خاص طور پر آخری گانے میں:

’’چونکہ کچھ لوگ اندھیرے میں رہتے ہیں اور کچھ لوگ روشنی میں،
آپ کو وہی نظر آتے ہیں جو روشنی میں ہوتے ہیں،
آپ کو وہ دکھائی نہیں دیتے جو اندھیرے میں رہتے ہیں۔‘‘

دادایت اور سرریلسٹ تحریکوں نے سرمایہ داری کے تضادات کو چبھنے والی مضحکہ خیز شکلمیں اجاگر کیا۔ ٹراٹسکی اس فن و ادب کی انقلابی صلاحیت سے بخوبی آگاہ تھا، خاص طور پر ادب اور سماج میں آمریت (فاشسٹ اور سٹالنسٹ) کے خلاف ہتھیار کی حیثیت سے وہ سرریلسٹ

تحریک میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔ درحقیقت اس نے فرانسیسی سرریلسٹ آندرے بریٹن کے ساتھ مل کر فن اور انقلاب پر ایک مینی فیسٹوبھی تحریر کیا تھا۔
یہاں تک کہ کیوب ازم (Cubism) بھی کسی نہ کسی طور سماج کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کس چیز کی عکاسی کرتا ہے؟ جنگیں اور انقلابات زبردست ہیجان ہوتے ہیں جو ہر شے کو تبدیل کرکے رکھ دیتے ہیں،لوگوں کے ذہن اور زندگیاں تبدیل کر دیتے ہیں۔ لوگ دنیا کو بالعموم کس طرح دیکھتے ہیں، کیوب ازم اس میں ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ 1914ء سے پہلے سرمایہ داری میں بتدریج ابھار کا ایک طویل دور آیا تھا۔ یہ کسی حد تک اس دور سے مشابہہ تھا جو ابھی ابھی گزرا ہے۔ اور پھر یکا یک یہ خواب، یہ سراب پہلی عالمی جنگ اور روسی انقلاب نے چکنا چور کر دیا تھا۔ اس کے بعد جرمنی اور ہنگری میں انقلاب آئے اور پھر اٹلی میں فاشزم کو عروج حاصل ہوا۔ ان باتوں نے لوگوں کی دنیا کو پارہ پارہ کر دیا۔ یہاں تک کہ انتہائی قدامت پرست افراد کی نفسیات بھی تبدیل ہو گئی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کی عکاسی آرٹ میں نہ ہوتی؟

آئیں ایک لمحے کے لئے پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے آرٹ کو ذہن میں لائیں۔ اس وقت غالب رجحان تاثریت یا ارتسامیت (Impressionism) کا تھا جس نے انیسویں صدی کے آخری عشروں میں فرانس میں جنم لیا تھا۔ ذاتی طور پر مجھے تاثریت پسند ہے۔ یہ ایک پر سکون اور پر امن تصور پیش کرتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پھول ہیں، دھوپ ہے اور لان میں پکنک منائی جا رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد اس قسم کی دنیا کی جانب واپسی کس طرح ممکن تھی؟ اس کا تصور بھی کیسے کیا جا سکتا تھا؟
پکاسو نے شروع شروع میں یعنی نام نہاد ’Blue Period‘ کے دوران جو تصاویر بنائی تھیں ان میں آپ کو غریبوں کی دنیا کی ایک ایسی جھلک دکھائی دے گی جس میں رحم دلی کا جذبہ موجزن ہے۔ ان میں زبردست تکنیکی مہارت نظر آتی ہے اور ایک وزن کا احساس بھی موجود ہے۔ ایک تصویر میں کرتب دکھانے والی لڑکی کو بہت بڑی گیند کے اوپر دکھایا گیا ہے۔ پیش منظر میں ایک زبردست ورزشی جسم کا مالک مرد اتھلیٹ ہے جو ایک بہت بڑے بلاک پر بیٹھا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا لڑکی تیر رہی ہے اور کششِ ثقل سے بے نیاز ہے۔ جبکہ دوسرا جسم ایک قسم کے وزن یا نیچے کی جانب کھینچنے والی کششِ ثقل کا احساس دلاتا ہے۔
یہ تکنیکی، کم و بیش جیومیٹری جیسی جہت رفتہ رفتہ ایک نئے مکتبہ فکر کی شکل اختیار کر گئی۔ انسانی جسم کو ایک عام سے انداز میں دکھایا جاتا ہے جسے ہم حقیقت نگاری (Realism) کہتے ہیں۔ انسانی ہیئت کو مختلف زاوئیوں سے یوں دکھایا جاتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ممکن نہیں۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ آرٹ نہیں ہے۔ لوگ اس طرح کے تو نہیں ہوتے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاؤں یہاں ہو، ایک ہاتھ کہیں ہو اور سر کے دونوں جانب چہرہ ہو؟
تاہم عظیم آرٹ کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ چیزوں کو اسی طرح پیش کر دیا جائے جیسی وہ ہیں یا بظاہر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فلسفے کے لئے ضروری قرار دے دیا جائے کہ وہ چیزوں کو جوں کا توں پیش کرے۔ آرٹ اور فلسفے کا حقیقی نصب العین یہ ہے کہ دنیا کی دکھنے والی ظاہریت کا نقاب نوچ کر حقیقت اور افراد کو اسی طرح دکھایا جائے جیسے وہ واقعتا ہیں۔
یہ پکاسو نہیں تھا جس نے لوگوں کو ان اجزائے ترکیبی میں تقسیم کیا۔ 1914ء سے 1918ء کے درمیانی دور میں وردیوں میں ملبوس کروڑوں افراد کو دھماکہ خیز مواد اور سنگینوں کی مدد سے کاٹ کر ان کو اجزائے ترکیبی میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اگر یہ آرٹ صدمے کا باعث ہے تو یہ بیسویں اور اکیسویں صدی کے سماج کے مقابلے میں کہیں کم صدمے کا باعث ہے۔
میرے ذہن میں پکاسو کی ایک تصویر خاص طور پر آ رہی ہے جسے ’’The Portrait of Lady‘‘ کہا جاتا ہے۔ غور فرمایئے کہ یہ کسی عورت کی تصویر نہیں بلکہ ’’خاتون‘‘ کی تصویر ہے۔اس میں جنسی اعضاء کو مبالغہ آمیز انداز میں بڑا کرکے پیش کیا گیا ہے مثلاً چھاتیاں وغیرہ لیکن اس کے ہاتھ نہیں ہیں۔ اس خاتون کے ہاتھ کیوں نہیں ہیں،کیوں کہ خاتون کام نہیں کرتی۔اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کا واحد فریضہ افزائش نسل کیلئے استعمال ہونے والے جانور کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ہے۔ برسبیل تذکرہ پکاسو نے ایک بار اپنے مطالعے کے کمرے کے دروازے پر یہ تحریر چسپاں کی تھی کہ’’میں کوئی بھلا مانس نہیں ہوں‘‘۔ اس سلسلے میں مزید گفتگو ہو سکتی ہے مگر میرے پاس وقت نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پکاسو کا عظیم ترین شاہکار اس کی پینٹنگ ’گوورنیکا‘ (Guernica) تھی۔ یہ غالباً تاریخ کا پر زور ترین فنکارانہ اعلامیہ ہے۔ پکاسو نے ایک بار کہا تھا کہ آرٹ آرائش و زیبائش کیلئے نہیں ہے۔ اسے جدوجہد کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اس تصویر کو غور سے دیکھیں جس میں باسک قصبے پر بمباری کی دہشت ناکی کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ لڑاکا آرٹ کی بہترین مثال ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ آرٹ لڑاکا ہو سکتا ہے۔

Guernica

بیسویں صدی نے ڈیگوریویرا جیسے کئی لڑاکا فنکار پیدا کیے ہیں۔ اور کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ٹریڈ یونین کے، نوجوانوں کے اور دیگر قسم کے کاموں کے ساتھ ساتھ ہم جدید ادیبوں اور فنکاروں میں موجود بہترین عناصر تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ انہیں محنت کش طبقے کے لڑاکا اتحادیوں میں تبدیل کیا جا سکے؟ مجھے پختہ یقین ہے کہ آرٹ ایک انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم ثابت کریں کہ ہم فنکاروں میں موجودبہترین عناصر کے ساتھ کھلے دل و دماغ کے ساتھ مکالمے کرنے کو تیار ہیں تاکہ انہیں محنت کش طبقے کی سرگرم خدمت کی غرض سے اپنے ساتھ جوڑا جا سکے۔

آرٹ اور اکتوبر انقلاب
کارل مارکس نے ایک بار کہا تھا کہ انقلاب تاریخ کو چلانے والا انجن ہے۔ اور اکتوبر انقلاب بذاتِ خود اس کا ایک شاندار ثبوت ہے۔ روسی انقلاب ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے ہر حوالے سے انسان کو آزاد کیا۔ اس نے محض پرولتاریہ کو ہی نہیں بلکہ عورتوں، محکوم قوموں، یہودیوں اور بذاتِ خود آرٹ کو آزادی دلائی۔
اکتوبر انقلاب نے آرٹ کو جکڑ بندیوں سے آزاد کر دیا۔ بالشوازم کے دشمنوں کی دشنام طرازیوں کے برعکس بالشویکوں نے کبھی بھی آرٹ پر اپنی پارٹی لائن مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اکتوبر انقلاب کے بعد کی دہائی پر جوش اور آزادانہ مباحث، تجربات اور دریافتوں کی دہائی تھی۔ روسی انقلاب کے بعد کے سالوں،بالخصوص 1920ء کی دہائی میں فنکاروں کی ایک کہکشاں تھی جس نے فن کے آسمان کو روشن کر دیا تھا۔آرٹ اور کلچر کو شاندار فروغ حاصل ہوا۔ ہمیں مایا کووسکی کی نظمیں ملتی ہیں جو ایک عظیم انقلابی شاعر تھا اور 1905ء سے بالشویکوں میں شامل تھا۔ اسے انقلاب کا نقیب بھی کہا جاتا تھا۔
اکتوبر انقلاب کے بعد ایک شاندار احیاء کا آغاز ہوا۔ تھیٹر میں مئیر ہولڈ، سینما میں آئزن سٹائن جسے میں تاریخ کا عظیم ترین ہدایت کار سمجھتا ہوں، موسیقی میں شوستا کووچ جسے محض انقلاب کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع حاصل ہوا اور اس نے 1928ء میں غالباً 26 سال کی عمر میں پہلی سمفنی تحریر کی۔
آئزک بیبل جیسے انوکھے ادیب جس نے خانہ جنگی پر ایک شاندار کتاب ’’Red Cavalry‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔مایا کووسکی کا میں نے ابھی ذکر کیا لیکن اس کے علاوہ اور بھی لوگ تھے جو بالشویک نہیں تھے لیکن انقلاب کے زیرِ سایہ پھلے پھولے۔
لیکن یہ خوبصورت اور خوشبودار پھول سٹالنزم کے بوٹ تلے بری طرح کچلا گیا۔ میرہولٹ کا انتقال ایک جبری مشقت کے کیمپ میں ہوا،بیبل بھی جبری مشقت کے کیمپ میں مرا،مایا کووسکی نے خود کشی کر لی، مینڈل شٹم بھی جبری مشقت کے کیمپ میں مارا گیا۔ ان کے علاوہ ایک طویل فہرست ہے فنکاروں اور ادیبوں کی جو ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔کلچر کے شعبے میں سٹالنزم نے جو جرائم کئے ہیں یہ اس کی محض ایک جھلک ہے۔

آرٹ اور سوشلزم
اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں کافی طویل گفتگو کر رہا ہوں پر جن نکات پر میں بات کرنا چاہتا تھا ان کا چوتھا حصہ بھی نہیں کر پایا۔ لیکن سوشلزم کے تحت آرٹ کے مستقبل کے سلسلے میں کچھ اظہارِ خیال ضرور کروں گا۔ ہمارا بنیادی فریضہ، ہمارا انتہائی ضروری فریضہ سرمایہ داری کا تختہ الٹنا ہے کیونکہ سرمایہ داری کے تسلسل سے محض معاشی زندگی کو ہی خطرہ نہیں بلکہ یہ انسانی تہذیب و ثقافت کیلئے بھی ایک جان لیوا خطرہ ہے۔ کیونکہ گزشتہ دس ہزار سالوں میں اگرچہ انسانی تہذیب نے انتہائی شاندار پیش رفت کی ہے تاہم انسانی کلچر اور تہذیب واقعتا ایک باریک تہہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
تہذیب حقیقت میں بہت نازک ہے اور کلچر کی اس باریک سی جھلی کے نیچے قدیم بربریت کی قوتیں ابھی تک موجود ہیں۔ آپ نے اس کا مشاہدہ ہٹلر کے جرمنی میں کیا ہوگا۔ اور ابھی حال ہی میں ہم نے بلقان کے خطے میں بھی اس کا مظاہرہ دیکھا ہے۔ اگر محنت کش طبقے نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں نہ لیا تو انسانی تہذیب و ثقافت کا مستقبل شدید خطرے سے دو چار ہو جائے گا۔ لیکن اس سوال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔
جدید حالات میں،پیداواری قوتوں،سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبردست ترقی کے باعث ایک سوشلسٹ انقلاب، خاص طور پر عالمی سطح پر برپا ہونے والا انقلاب تیزی سے ایک ایسے ثقافتی انقلاب کی طرف لے جائے گا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملے گی۔ سرمایہ داری کے عظیم ترین جرائم میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے عام انسانوں کی ان صلاحیتوں کو کچل کر رکھ دیا ہے جن سے کام لے کر وہ نئی چیزوں کو دریافت کرتے ہیں، تخلیق کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت کو کبھی یہ موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ ٹراٹسکی نے ایک بار کہا تھا کہ ’’کتنے ارسطو ہیں جو سوروں کے ریوڑ چرا رہے ہیں اور کتنے سور ہیں جو تخت نشین ہیں۔‘‘
صدیوں سے آرٹ پر مٹھی بھر لوگوں کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ وسیع تر اکثریت کے سامنے اسے پر اسرار،دشوار اور نا قابلِ رسائی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ فنکار کو ایک خاص قسم کے انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے پیدائشی طور پر نوازا گیا ہے اور وہ ہمارے جیسا نہیں ہے۔ ہم اس بات کی تردید نہیں کرتے کہ ہماری تشکیل میں ایک جینیاتی عنصر موجود ہے جو ہمیں ارتقاء کیلئے خصوصی امکان فراہم کرتا ہے۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ ہر کوئی موزارٹ جیسا موسیقار نہیں بن سکتا۔
موزارٹ کی جینیاتی تشکیل ایسی تھی جو اسے ایک عظیم موسیقار بننے کا امکان فراہم کرتی تھی۔لیکن اس امکان میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے اس ماحول نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جس میں اس کی پرورش ہوئی تھی۔ اس کا باپ لیوپولڈ موزارٹ ایک جانا پہچانا موسیقار تھا جو اپنے بچے کو بہت بلندیوں پر دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے بچپن ہی سے اس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ موسیقی میں دلچسپی لے۔ اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس بچے موزارٹ میں ایک عظیم موسیقار بننے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔ لیکن کیا کوئی شخص سنجیدگی سے اس بات پر یقین کر سکتا ہے کہ اگر وہ ایک خوشحال موسیقار کے گھر پیدا ہونے کی بجائے کسی ہندوستانی مزارعے کے گھر پیدا ہوتا تو پھر بھی وہ یہ عظیم موسیقی تخلیق کر پاتا ؟ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں تھا۔
اٹھارہویں صدی کے ایک انگریز شاعر نے کہا تھا:

’’ان گنت بے داغ موتی سمندری غاروں کی تاریک گہرائیوں میں دفن ہیں۔
ان گنت پھول نظروں سے اوجھل کھل کر مرجھا جاتے ہیں
اور صحرا کی باد سموم میں اپنی خوبصورتی لٹا جاتے ہیں۔‘‘

سرمایہ داری کے تحت انسانی صلاحیتیں جس طرح ضائع ہو رہی ہیں انہیں کس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
اگر آپ سوشلزم کی بنیادی تعریف جاننے کے خواہاں ہیں تو آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نسلِ انسانی میں جو صلاحیتیں موجود ہیں انہیں حقیقت کا روپ دیا جائے۔ اگر آپ انسانیت کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اس میں موزارٹ جیسے فطین انسانوں کی تعداد کس قدر کم ہے۔بہت ہی کم ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا بھر میں جو اربوں انسان بستے ہیں ان میں سے ہر ایک انسان موزارٹ بن سکتا ہے کیونکہ ایسا کہنا غلط ہوگا۔ لیکن اس بات میں رتی بھر شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ان میں بے شمار لوگ ایسے موجود ہیں جن میں مختلف شعبوں میں اس قسم کی فطانت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ذرا اپنے سکول کے دنوں کو یاد کریں۔ وہاں آپ کے جاننے والے کتنے بچے ایسے تھے جو مختلف حالات کے تحت ڈاکٹر، موسیقار، رقاص، فٹبال کے کھلاڑی بن سکتے تھے۔اور ان کا انجام کیا ہوا؟کیا ہم سبھی ایسے خواب نہیں دیکھتے؟ لیکن سرمایہ داری لوگوں کے ان خوابوں کو جلد ہی کچل ڈالتی ہے۔ وہ سنگدل اور وحشی بن جاتے ہیں اور بعض کی حالت تو جانوروں جیسی ہو جاتی ہے۔ نو عمری میں ہی ان کی صلاحیتیں کچل دی جاتی ہیں۔ سوشلزم کا حقیقی معنی یہ ہے کہ ان امکانی صلاحیتوں،انسانی صلاحیتوں کو بار آور کیا جائے۔
کامریڈز سوشلزم کا حقیقی مقصد روٹی کے ٹکڑے کے لئے لڑنا نہیں ہے۔ہم اس کیلئے نہیں لڑ رہے ہیں۔یہ محض پہلا قدم ہے اور یقیناًانتہائی اہم بھی ہے۔ بائبل میں لکھا ہے ’’انسان محض روٹی کھا کر ہی زندگی نہیں گزارے گا‘‘ اور درحقیقت انسان کبھی بھی محض روٹی کیلئے زندہ نہیں رہا۔ سوشلسٹ سماج میں مردو زن غربت اور محرومی سے آزاد ہوں گے اور ان کے پاس حقیقی معنوں میں انسان بننے کے لئے درکار وقت کی بھی کمی نہیں ہوگی۔ پہلی بار وہ خود کو ذہنی اور جسمانی اعتبار سے ترقی دینے اور اپنی شخصیت کو نکھارنے کیلئے آزاد ہوں گے۔
آپ ذرا غور کریں کہ کتنی زبردست تخلیقی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں گی۔ اس کی حاصلات کے مقابلے میں نشاۃِثانیہ بچوں کا کھیل معلوم ہوگی۔ تاریخ میں پہلی بار آرٹ از سرِ نو زندگی کا حصہ بنے گااور عجائب گھروں کی چاردیواری تک محدود نہیں رہے گا۔ ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ عجائب گھر آرٹ کیلئے جبری مشقت کے کیمپوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضروری ہے کہ آرٹ کو اس قید خانے سے آزاد کروا کر زندگی سے دوبارہ جوڑا جائے۔آآرٹ اور مستقبل
اکیسویں صدی کے آغاز پر انسانیت کو ایک انتہائی اہم مسئلے یعنی نام نہاد عالمگیریت کا سامنا ہے۔معاشی کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی پہلو بھی ہیں۔ مارکسی ہونے کے ناطے ہم بین الاقوامیت پسند ہیں اور ہمارے اندر قوم پرستانہ تعصب کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے۔ مارکس اور اینگلز نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں وضاحت کی تھی کہ سرمایہ داری کا ارتقاء عالمی معیشت کے رجحان کو پیدا کرے گا جس سے بالآخر ایک عالمی کلچر نمودار ہوگا۔
یہ بات کسی حد تک پہلے ہی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ پچھلے بیس تیس سالوں میں عالمی سطح پر ایک زبردست تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ عملاً آپ جہاں بھی جائیں، بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں اور روز افزوں کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی، نوجوان ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ایک جیسی موسیقی سنتے ہیں اور معیار کی یکسانیت کی طرف ایک عام رجحان پایا جا رہا ہے۔ یہ اچھی چیز ہے یا بری؟ اس مسئلے پر ہمیں احتیاط کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک جاہلانہ قوم پرستی پر مبنی موقف کا شکار نہ ہو جائیں۔ کیونکہ بہت سی گندگی اور غلاظت کی صفائی کے نتیجے میں بالآخر سوشلزم کے تحت ایک عالمی انسانی کلچر تشکیل پائے گا۔ تاہم سرمایہ داری کے تحت اس عالمی ’’کلچر‘‘ کا گھناؤنا ثقافتی غلبہ ہے جو اپنے منافع خوری کے مفادات کے لئے تمام دوسری ثقافتوں کو کچلتا ہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہو سکتی۔
برسبیل تذکرہ یہاں کسی نے ’’مزدوروں کی موسیقی‘‘ یا ’’مزدوروں کے آرٹ ‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ حقیقت میں اس قسم کی چیزوں کا کوئی وجود نہیں۔ مارکس نے بہت پہلے وضاحت کر دی تھی کہ ہر عہد کے غالب خیالات حکمران طبقے کے خیالات ہوتے ہیں۔ اور ٹراٹسکی نے وضاحت کی تھی کہ پرولتاریہ انقلاب سے پہلے اپنا کلچر تخلیق نہیں کر سکتا کیونکہ سرمایہ داری کے تحت اس کے حالاتِ زندگی اس کی اجازت نہیں دیتے۔ دوسری جانب سوشلسٹ انقلاب برپا ہونے کے بعد جو کلچر ابھرے گا وہ مزدوروں کا کلچر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک انسانی اور سوشلسٹ کلچر ہوگا۔
کامریڈز ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نظروں کو ذرا بلند کریں اور اپنے افق کو وسیع تر کریں۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ موجودہ غلاظت،موجودہ بحران اور کرۂ ارض کے ساتھ موجودہ بلادکار کے نتیجے میں ایک نئی چیز بھی نمودار ہونے کو ہے۔ تاریخ میں جب بھی کوئی نظام موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح بحران کا شکار ہوتا ہے تو اس حقیقت کا اظہار کئی طریقوں سے ہوتا ہے۔ خاندان کا بحران، اخلاقیات کا بحران، ثقافت کا بحران اور اب سرمایہ داری کے تحت یہ سبھی عناصر موجود ہیں۔
گلنے سڑنے کے عمل کے ساتھ ساتھ زوال اور بیماری کا عام احساس بھی پایا جا رہا ہے جس نے آرٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس وقت جو فن تخلیق ہو رہا ہے ذرا اس کو ملاحظہ فرمائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک کھلے ذہن کا شخص ہوں، میں فنکارانہ تجربات کے حق میں ہوں، مجھے نئے خیالات میں دلچسپی ہے لیکن جب میں لندن میں فنکاروں کی نمائش میں جاتا ہوں جہاں ایک مردہ بھیڑ کو محفوظ کرنے والے محلول میں ڈال کر اسے ایک فن پارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو میں تذبذب میں پڑ جاتا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ یہ بھی زوال پذیری اور گراوٹ کی ہی علامت ہے کہ لوگ اس کیلئے بہت سا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ کچھ فنکاروں نے اپنے بول و براز سے فن پارے تخلیق کئے ہیں۔ میں یہ بات مکمل سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ انہیں منڈی میں فروخت کرنے کیلئے رکھا جاتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان سے بہت سا پیسہ بنایا جاتا ہوگا۔ انگریزوں کے ہاں ایک پرانی کہاوت ہے کہ ’’جہاں غلاظت کا ڈھیر ہو وہاں پیتل بھی ہوتا ہے۔‘‘ اور سرمایہ داری کی دنیا میں جہاں بول و براز ہے وہاں پیسہ ہے۔ بورژوا طبقہ ہمیشہ کی طرح کسی بھی چیز سے پیسہ بنا سکتا ہے۔
اگر فن ایک آئینہ ہے جس میں سماج اپنا عکس دیکھ سکتا ہے تو یہ چیز پوری ایمانداری سے اکیسویں صدی کے بورژوا سماج کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کلچر کے بحران اور اس کی حتمی زوال پذیری کی نشاندہی کرتی ہے۔لیکن ایک حوالے سے اس فن میں بھی کچھ نہ کچھ ہے جو وہ ہمیں بتاتا ہے۔وہ ہمیں بتاتا ہے کہ سرمایہ داری کے تحت کلچر اب مزید ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک سنجیدہ پیغام ہے۔لہٰذا سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے بورژوا طبقے کی طرح پرولتاریہ پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس تمام گندگی اور غلاظت کو صاف کرکے ایک نئے سماجی نظام کیلئے راستہ ہموار کرے۔
میں یہ بات زور دے کر کہتا ہوں کہ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سرمایہ دار طبقہ ان بے پناہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہے جن کے ذریعے صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ اگر محنت کش طبقہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کی بنیاد پر انسانی ترقی کیلئے بے پناہ امکانات روشن ہو جائیں گے۔
ہم اسی چیز کے لئے لڑ رہے ہیں۔ہم محض پرولتاریہ کی معاشی آزادی کے لئے ہی نہیں لڑ رہے بلکہ ہم نسل انسانی کی روح کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے سماج کے لئے لڑ رہے ہیں جس میں ہر کسی کی صلاحیتیں پوری طرح پھل پھول سکیں۔ سرمایہ داری کی ذلت آمیز غلامی سے نجات حاصل کرکے ہم بالآخر حقیقی انسانی رتبے کو پا سکیں اور پھر ستارے ہماری پہنچ سے زیادہ دور نہیں ہوں گے۔
ایک سوشلسٹ سماج میں لوگ موجودہ بدہیت،غلیظ اور گنجان آباد عفریت نما شہروں کی جگہ نئے اور خوبصورت شہر آباد کریں گے۔ لوگ خوبصورت مکانوں میں رہنے کا حق رکھتے ہیں اور یہ حق انہیں ضرور ملنا چاہیے۔ وہ زندگی گزارنے کے لئے حقیقی معنوں میں انسانی حالات تخلیق کریں گے۔ گھر، کام کرنے کی جگہ اور گلی کوچے تک خوبصورت ہو جائیں گے ۔فن تعمیر دیگر فنون کا غریب رشتہ دار نہیں رہے گا بلکہ اس پر گرما گرم مباحثے ہونگے۔ اسے دوبارہ وہ مرکزی حیثیت اور وقار حاصل ہو جائے گا جو اسے قدیم ایتھنز میں ملا تھا۔
آرٹ، کلچر اور سائنس کو بے نظیر فروغ حاصل ہوگا اور اعلیٰ ترین اور اہم ترین فن یعنی بذاتِ خود زندگی گزارنے کا فن بھی بے مثال ترقی کرے گا۔ زندگی کو خوبصورت بنانے سے بڑا نصب العین اور کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمیں صرف ایک ہی زندگی ملتی ہے۔ جدلیاتی مادیت کو ماننے والوں کی حیثیت سے ہم موت کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ لوگوں کی زندگیاں خالی اور بے معنی نہ رہیں۔ بلکہ ہر کوئی بھرپور زندگی گزار سکے اور جب اس کو موت آئے تو وہ اس دنیا سے بغیر کسی پشیمانی اور افسوس کے رخصت ہو سکے۔
اینگلز کے الفاظ میں یہ ’’ جبر کی اقلیم سے آزادی کی اقلیم تک انسانیت کی چھلانگ‘‘ ہوگی۔ ہم اس نصب العین کیلئے لڑ رہے ہیں۔یہی وہ نصب العین ہے جس کیلئے لڑنا ایک اعزاز ہے۔ان تصورات سے مسلح ہو کر تقویت حاصل کرتے ہوئے ہم بالآخر فتحیاب ہوں گے۔

بارسلونا جولائی 2001ء

اختتامیہ

مندرجہ بالا سطور میں ایک ایسے موضوع کا محض معمولی سا خاکہ پیش کیا گیا ہے جو نہایت وسیع اور پیچیدہ ہے۔ مجھے اس موضوع پر بات کرنے کیلئے پورا دن چاہیے ہوگا اور ہمیں اس پر بحث کے لئے پورا ہفتہ درکار ہوگا۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہمیں اس موضوع سے انصاف کرنے کے لئے اس پر ایک کتاب لکھنی پڑے۔
آسٹریا کے مارکسسٹ ارنسٹ فشر نے سوال کیا تھا کہ آرٹ کا مطلب کیا ہے؟ آرٹ کیا ہے؟ اور اس نے جواب میں کہا کہ بھرپور زندگی کیلئے انسانیت کی جستجو کا نام آرٹ ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ طبقاتی سماج میں نہ عورتیں مکمل عورتیں ہیں اور نہ مرد مکمل مرد۔ بہترین صورت میں ہم محض نیم انسان کے درجے تک پہنچتے ہیں۔اگرچہ لوگوں کو اس بات کا مکمل ادراک نہیں ہوتا ۔ اکثر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس زندگی میں اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں ہے کہ کیوں لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں کسی چیز کی کمی ہے۔
لوگوں کی بہت بڑی اکثریت کیلئے سوال یہ نہیں کہ ’’آیا موت کے بعد بھی کوئی زندگی ہے‘‘۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ ’’آیا موت سے پہلے بھی کوئی زندگی ہے‘‘۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو لوگوں کیلئے باعث اذیت ہے۔ جب لوگ اپنی زندگی پر سوچنا ترک کردیتے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھتے ہیں:’’کیا یہی سب کچھ ہے؟ کیا زندگی میں بس یہی سب کچھ ہے؟‘‘ وہ موت کے بعد کی زندگی کی توقع اس لئے رکھتے ہیں کہ انہوں نے حقیقت میں زندگی جی ہی نہیں ہوتی۔ اور یہیں سے آرٹ کا عمل دخل شروع ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کو خواب دیتا ہے،انہیں ایک وسیع افق فراہم کرتا ہے۔ وہ خواب دیکھتے ہیں کہ معاملات بہتر ہو سکتے ہیں،زندگی بہتر انداز میں گزاری جا سکتی ہے۔ جن مردوں اور عورتوں کی زندگیاں پیار سے خالی ہیں وہ سینما گھروں میں جا کر احمقانہ قسم کے معاشقوں پر بنائی گئی فلمیں دیکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ حقیقی انسانی پیار، احساسات اورجذبات کے تمنائی ہوتے ہیں۔ انہیں رنگ میں کشش اس لئے محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان کی اپنی زندگیاں بے رنگ ہوتی ہیں۔ انہیں مذہب میں بھی دلچسپی اسی لئے ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک روح سے عاری دنیا میں رہتے ہیں۔ میں عوام کی بات کر رہا ہوں، دانشوروں کی نہیں۔ بہت سے لوگ سینما گھروں میں جاکر فلمیں دیکھتے ہیں، بہت سے لوگ ٹی وی پر وہ بے ہودہ پروگرام دیکھتے ہیں جنہیں انگلینڈ میں ’سوپ اوپیرا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ حقیقی زندگی کا ایک انتہائی خراب متبادل ہیں مگر انہیں لاکھوں کروڑوں لوگ صرف اس لئے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی زندگی ہی نہیں ہے۔ سینما گھروں یا ٹی وی کی سکرین کے سامنے بیٹھ کر گھڑی بھر کیلئے وہ ایکشن دیکھتے ہیں، جوش و خروش دیکھتے ہیں جس سے انہیں سرمایہ داری کی دی ہوئی ذلت آمیز بوریت سے بھری زندگی میں تھوڑا سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ آرٹ کی اہمیت یہ ہے: یہ ایک خواب ہے جو چاہے کتنے ہی مبہم انداز میں سہی یہ ضرور سمجھاتا ہے کہ انسانیت ایک زندگی، حقیقی زندگی کی مالک بھی ہو سکتی ہے۔ اور وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ مرد و زن اپنے دلوں کی گہرائیوں میں ایک مختلف قسم کی زندگی کی آرزو رکھتے ہیں، ایک ایسی زندگی کہ جو موجودہ زندگی سے بہتر ہو۔
لہٰذا ایک حوالے سے تمام آرٹ میں انقلابی عنصر کی موجودگی کا احتمال ہوتا ہے کیونکہ جو کچھ موجود ہے وہ اس سے عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔ بلاشبہ ہم آرٹ کی حدود کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آرٹ کا میدان ہماری جدوجہد کے لئے اولین ترجیح نہیں ہے۔لیکن ہمیں اس شعبے پر بات کرنی چاہیے اور مداخلت کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔اور بلاشبہ ہمیں فنکاروں میں سے بہترین کے ساتھ رابطے اور مکالمے کا اجراء کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ٓٓآرٹ جن تضادات کا اظہار کرتا ہے انہیں آرٹ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ سماج کے تضادات ہیں اور فن میں محض ان کی عکاسی کی جاتی ہے لیکن سماج میں انہیں صرف انقلابی جدوجہد کے ذریعے ہی
حل کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا آرٹ میں سچائی اور آزادی کی مستقل جستجو لازماً بالآخر سماجی انقلاب اور مارکسزم کے نظریات و پروگرام کی طرف لے کر جاتی ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh