رپورٹ ۔ چنگاری ڈاٹ کام ، فرینکفرٹ 

بروز پیر6مئی کو جرمنی  کے  شہر فرینکفرٹ میں پاک حیدری ایسوسی ایشن نے پاکستانی سفارت خانے کے باہر پاکستان میں ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے   اہل شعیہ  اور دوسرے بے شمار افراد  کی رہائی کے لیے  ایک  زبردست  اور پرامن مظاہرہ کیا  جس میں خواتین اور بچوں نے بھی بھر پور شرکت کی  اس  احتجاج میں پوسٹروں ، بینروں کے علاوہ  مظاہرین نے قیدیوں کی طرح  ہاتھوں میں لوہے کی زنجیریں بھی پہن رکھی تھیں   جو پاکستان میں     نام نہاد جمہوریت اور آزادی  کے آڑ  میں معاشی ، سماجی اور  فوجی غلامی کا اظہار تھا ۔ مقررین میں صدر صبور نقوی ، جنرل سیکرٹری شاہد علی خان،  صفدر عباس اور ساجد نقوی  اور دوسرے رہنماوں نے خطاب کیا جنہوں نے پاکستان بھر میں ایجنسیوں  کے ہاتھوں سینکڑوں اہل تشعہ  اور دوسرے  افراد کی جن میں پختون اور بلوچی  بھی شامل ہیں بے  وجہ  بغیر مقدموں  کے گرفتاریاں  اور  گمشدگیاں   جوآئے دن بڑھ رہی ہیں  اس کی بھر الفاظ میں مذمت کی اور سب کی فل فور رہائی کا مطالبہ کیا  اور کہا اگر کوئی مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور اس پر مقدمہ چلا جائے لیکن  ایجنسیوں کی یہ غنڈہ گردی  جس کے پیچھے وردی  ہے قطعی  قابل قبول نہیں کہ عام شہریوں کو دن دتہاڑے   چور اور ڈاکوں کی طرح اغوا کیا جاتا ہے  پھر انکو مار کر کہیں پھنک دیا جائے یا پھرمعذور بنا کر واپس  گھر بھج دیا جائے۔ مقررین نے سفارتی عملے کی تعصبانہ رویے کی بھی بھر پور انداز میں مذمت کی اور مقامی پریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ ناچ گانے  اور ٹھہرکی شعرو ادب کی محفلوں میں تو پریس کوریج کے لیے گھنٹوں پہلے پہنچ جاتے ہیں لیکن پاکستان کے حقیقی سنجیدہ مسائل کی انہیں کوئی خبر نہیں اور نہ ہی یہ سننا چاہتے ہیں  اور پھر اپنے آپ کو صحافی کہوانے کے شوقین بھی ٹھہرے ہیں ۔

مظاہرے  کے  آخیر میں  تنظیمی  پانچ  عہدیداران  ایک قرارداد  قائم مقام قونصلر جنرل شعب منصور کو دینے کے لیے سفارت خانے میں داخل ہونے لگے تھے کہ پولیس نے انہیں روک لیا  جو پولیس  سفارت خانے نے اپنی حفاظت کے لیے بلوا   رکھی تھی۔ پولیس نے کہا کہ  قونصلر جنرل کی اجازت کے بغیر کوئی شخص سفارت خانے میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ پھر پولیس سفارت خانے گئی اور واپسی پرشعب منصور کا پیغام  دیا  کہ  صرف تین افراد  پولیس کی نگرانی میں  بغیر موبائل ، کیمرے  اور پریس  افراد کے  اندر جا سکتے ہیں وگرنہ کوئی ایک فرد بھی اندر نہیں جا سکتا اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے جرمنی میں رہنے والے پاکستانی کوئی  خطرناک  دہشت گرد ہوں ۔

اس پر مظاہرین غصے میں آ گئے اور کوئی ایک بھی سفارت خانے نہیں گیا اور باہر  قونصلر جنرل اور سفارتی عملے کے خلاف شدید نعرہ بازی شروع کر دی جو کافی دیر تک جاری رہی ۔  

 فرینکفرٹ کا نام نہاد  گماشتہ پریس کلب( انجمن تاجران فرینکفرٹ)  جیسے باقاعدہ کئی بار  کوریج کے لیے کہا گیا اور مظاہرہ شروع ہونے کے بعد بھی کئی بار فون کیا گیا  لیکن وہ ٹالتے رہے اور آخیر تک تعفن زدہ  پریس کلب کا  کوئی  فرد یہاں  کوریج کے لیے نہیں آیا ۔ اس پریس کلب کی اتنی اوقات ہے کہ انکا نائب صدر اشرف جو کہ  دل کے مریض   اور عمر رسیدہ  ہیں  وہ مظاہرے  میں  زیادہ دیر کھڑے نہیں  رہ سکتے  تھے اس لیے سفارت خانے کے باہر ایک بینچ پر بیٹھ گئے  جنہیں کچھ ہی دیر بعد سفارتی عملے کے کہنے پر پولیس نے انہیں  وہاں سے اٹھا دیا ۔ اس سے سفارتی عملے  کے جارانہ کردار اور پریس کلب کا خسی پن نمایاں ہوتا ہے ۔پاکستانی سفارت خانے اور مقامی پاکستانی پریس  کلب اور  چند دوسرے  افراد نے نہایت مکرو تعصبانہ کرادر ادا کرتے ہوئے اس مظاہرے کا بائیکاٹ کیا ۔ جس طرح پاکستان میں لاپتہ افردا  کی رہائی کے لیے  کراچی میں صدر پاکستان کے گھر کے باہر  دھرنے کو ایک ہفتے سے زیادہ دن گزر چکے ہیں لیکن پاکستان میں کسی  میڈیے میں کوئی خبر نہیں  ہے ۔ لاپتہ افراد پر پاکستان کا تمام  میڈیا  آواز اٹھانا تو بہت دور کی بات ایک لفظ بھی نہیں کہتا ہے اور نہ ہی  سنتا ہے ۔ کیونکہ پیچھے سے آرمی کا ڈنڈہ ہے جو اس تمام تر حالات کی ذمہ دار ہے فوج میڈیے پر پریس کانفرنسوں کا تماشا روز لگائے رکھتی ہے حالانکہ فوج کا کام سرحدوں پر ہوتا ہے پریس میں نہیں اور یہ کسی دوسرے کو یہ حق بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنا موقف میڈیے میں پیش کر سکے جس سے پاکستانی میڈیے کا فوج گماشتہ کردار کھل کر سامنے آگیا ہے فوجی بوٹ تختے حکمرانی پر ہو یا نہ ہو تمام ریاست اس کے تلوئے چاٹ کر ہی حق حکمرانی حاصل کرتی ہے لیکن عوام اسے مسترد کرتے ہیں ملک کے اندر پی ٹی ایم اور دوسری بائیں بازور کی طاقتوں کی شکل میں اور ملک سے باہر جرمنی میں پاک حیدری ایسوسی ایشن سراپا احتجاج ہیں۔

پی ٹی ایم ، تحفظ پختون مومنٹ کا یہ نعرہ غلط نہیں ہے کہ ہر دہشت گردی کے پیچھے وردی ہی  ہے  اور  یہ وردی کی دہشت گردی  کوئی نئی نہیں ہے بلکہ بہت پرانی ہے  آج یہ  سوشل میڈے کی وجہ سے  ننگی ہوگئی ہے اور ناپاک فوج دفاعی پوزیشن میں ہے جس وجہ سے اسے بار بار میڈیے میں اپنی وضاحتیں پیش کرنی پڑتی ہیں ۔

فوج سے مراد کھبی بھی عام مزدور فوجی نہیں ہیں جو بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے فوج کی سخت ترین نوکری کم ترین اجرات پر کرنے پر مجبور ہیں ۔  فوج سے مراد ہمیشہ فوجی افسر شاہی ہے جو پاکستان میں سب سے زیادہ نکمے عیاش ترین حکمران ہیں اور عوام کا سب سے زیادہ ٹیکس ہڑپ کرتے ہیں  فوج اصل میں عام  فوجیوں کی ہے جو ملک کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی جانیں تک قربان کرتے ہیں ۔  جبکہ جنرل کرنل اور لیفٹینٹ ہر وقت عیاشی کرتے ہیں اور جب تک پاکستانی فوج کا یہ  کردار تبدیل ہو کر  عوامی نہیں ہوتا  اور فوجی اپنے رہنما خود منتخب نہیں کرتے فوج گردی جاری رہے گئی۔ فراز نے تو بہت پہلے اپنی مشہور زمانہ نظم میں فوجی گردی کو یوں بیان کیا  ۔

 

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

میں نے اکثر تمہارے قصیدے کہے

اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

اپنے شعروں کی حرمت پہ ہوں منفعل

اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں

پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں

اپنے دل گیر پیاروں سے شرمندہ ہوں

جب کبھی بھی مری دل زدہ خاک پر

سایۂ غیر یا دستِ دشمن پڑا

جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے

سرحدوں پر مری جب کبھی رن پڑا

میرا حرفِ ہنر تھا کہ خونِ جگر 

نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمہیں الوداعیں کہیں

رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمہیں

تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی

ہم نے پھر بھی کیا ہے گوارا تمہیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار میں بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

سینہ چاکانِ مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو بھی ہوا سو ہوا

شب گئی، خواب ہائے پریشاں گئے

کس رعونت کے تیور تھے آغاز میں

کس حجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے

طوق در گردن و پابجولاں گئے

یاد ہوں گے تمہیں پھر وہ ایام بھی

تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے

ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے

اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے

اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر

تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

کیا خبر تھی کہ تم سے شکستہ انا

اپنے زخموں کو بس چاٹنے آئیں گے

جن کے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا

ظلم کی سب حدیں پاٹنے آئیں گے 

قتلِ بنگال کے بعد بولان میں

شہریوں کے گلے کاٹنے آ ئیں گے

آج پشاور سے لاہور و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو!

اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے

کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو!

کس شہنشاہِ عالی کا فرمان ہے

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو!

جیسے برطانوی راج میں گورکھے

باغیوں پر ستم عام ان کے بھی تھے

جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں

حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے

آج تم ان سے کچھ مختلف تو نہیں

رائفلیں، وردیاں، نام ان کے بھی تھے

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے!

ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں

ہونٹوں پر جمی پپڑیاں خون کی

کہہ رہی ہیں کہ منظر قیامت کے ہیں

کل تمہارے لئے پیار سینوں میں تھا

اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں

خول اترا تمہارا تو ظاہر ہوا

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں

اب فقط مسئلہ تاجِ شاہی نہیں

  

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh