تحریر دانیال رضا

فرینکفرٹ آنے سے قبل میں ایک لمبا عرصہ نارتھ جرمنی کے صوبے شلسس ویگ ہولسٹین کے خوبصورت درالحکومت کیل شہر میں رہا

جو دینا کا نیو یارک کے بعد دوسرا شہر ہے جو سمندر کے کنارے آباد ہے اور جس کے آگے ڈنمارک شروع ہو جاتا ہے ۔ جہاں آج بھی بہت زیادہ پاکستانی آباد نہیں ہیں اس لیے کہ یہاں صنعت بہت کم ہے اور زیادہ ٹورازم ہے جس وجہ سے روزگار کے مواقع بھی کم ہیں اور ویسے بھی ہر چیز تو ہر جگہ نہیں ملتی ۔ 

کیل میں میرے ایک بہت اچھے واقف چٹھہ صاحب تھے جو نہایت با اخلاق اور اعلی سماجی کردار کے مالک ہیں ۔ رمضان میں ایک بار ان کی طرف جانا ہوا تو باتوں باتوں میں روزہ افطار کا وقت ہو گیا ۔ میں تو روز کی طرح ہی تھا ، لیکن چٹھہ صاحب جن کا گجرات سے تعلق تھا ہر بار کی طرح اس بار بھی انکے پورے روزے چل رہے تھے اور آج بھی انکا روزہ تھا ۔ انہوں نے روزہ افطار کیا اور کچھ کھانے سے پہلے شراب کی ایک اچھی اور مہنگی سی بوتل کھول لی ۔ میں نے شراب کی بوتل دیکھی تو پریشان ہو گیا اور حیرت سے ادھر ادھر دیکھا تو تمام اپنے ہی دوست بیٹھے تھے جنہوں نے کو ئی نوٹس نہیں لیا اور اتنی دیر میں چٹھہ صاحب نے پیگ بنا یا اور ایک چوسکی بھی لے لی میں نے حیران ہو کر کہا 

جناب آج کل رمضان ہیں اور آپ کا تو روزہ بھی ہے اور آپ نے شراب سے افطار کیا ۔ ۔ ۔ ۔ 

چٹھہ صاحب مسکرائے اور کہا دانیال صاحب روزہ خدا کے لیے اور شراب اپنے لیے رب بھی راضی اور میں بھی خوش ۔ اور پھر مزید کہتے ہیں، کیا ہمارے صرف خدا کے لیے تما م فرائض ہی ہیں کچھ حقوق بھی تو ہونے چاہیں آخیر ہم انسان ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے صاف گو سادہ اور کھلا شخص جو آج کی منافقت بھری دنیا میں یقینا بہت کم ملتے ہیں ،شاید اسی وجہ سے میری ان سے دوستی ہوگئی ۔ 

اس رات انہوں نے ایک بات کہی جو میں بہت دیر تک سوچتا رہا ۔ کہتے ہیں دانیال صاحب کاش شراب بھی حلال ملنے لگے تو ، کم بخت یہ جو انجان سا حرام کا خوف ہے وہ بھی ختم ہو جائے ، زندگی اور آخرت دونوں سنور جائیں تب میں نے مسکرا کر کہا کہ چٹھہ صاحب حلال چیزیں تو عام چیزوں سے بہت مہنگی ہیں ، تو پھر یقینا حلال شراب بھی مہنگی ہو گئی انہوں نے کہا جہنم میں جائیں پیسے ۔ پیسوں کی تو کھبی پوری نہیں پڑنی ، کم از کم دل کو تو سکون ہوگا مہنگی ہی لے لوں گا، ملے تو سہی۔ 

میں نے دل میں سوچا کہ اگر کسی کارخانے دار یا سرمایہ کار کو یہ معلوم ہوجائے کہ بے شمار مسلمان حلال شراب کے بارے سوچتے ہیں ، تو وہ ایسے مسلمانوں کی نہایت خوبصورت حور نما لڑکیوں کی اشتہاری بازی سے خواب تسلی کرائیں اور یقینا بڑے منافع کا یہ مواقع ہاتھ سے کھبی نہ جانے دیں کیونکہ جہاں بہت سے چیزیں حلال کے سٹیکر سے مہنگے داموں بکتی ہیں وہاں شراب بھی سہی صرف ایک حلال کی مہر ہی تو لگنی ہے ۔ اور ویسے بھی مسلمانوں کا ایمان اور عقائد آج ایک حلال سٹمپ ہی تو ہے ۔ لیکن یہ مہر سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑا بزنس ہے جن پر فلحال مسلمان اور یہودی سرمایہ کاروإ کی اجارا داری ہے اور اس حلال ٹریڈ مارک کی برکات سے تو بہت سے غریب دوکاندار بڑے بڑے سرمایہ دار بن گئے ہیں ۔ 

گوشت تو گوشت اب تو ہم ، توتھ پیسٹ ، توتھ برش ، دوھ ، دہی ، ادویات ، جوس پانی بھی حلال کے ٹریڈ مارک کے بغیر نہیں خریدتے ۔ ہم تو حلال کی سٹمپ پر گدھے کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں ۔

جس طرح پاکستان لاہور میں ہیرا منڈی کی تمام داشتائیں مکمل با پردہ کوٹھوں سے باہر آتی ہیں کچھ اسی طرح لیکن مختلف انداز میں یورپ میں اکثر مسلم خواتین نیم بر ہنہ لباس میں حلال فورڈ تلاش کرتی نظر آتی ہیں ۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے شراب خانوں میں حلال فوڈ ملتا ہے اور جرمنی کے تو ایف کے کے چکلوں میں جو آزاد جسموں کا کلچر کہلاتے ہیں ان کے بھی زیادہ گاہک حلال فوڈ کھانے والے پکے مسلمان ہی ہیں ۔ 

معذرت بات کہیں اور کی اور ہی نکل گئی ، ہاں تو میں چٹھہ صاحب کا یہ واقعہ اکثر اپنے قریبی دوستوں کو سنتا تھا کہ کس کس طرح مسلمانوں نے اپنا اپنا اسلام بنا رکھا ہے ۔

پرسوں کا واقعہ ہے میرا ایک کولیگ جو مصری عربی ہے ایک گھنٹہ دیر سے آفس آیا جو ہمیشہ وقت پر آتا تھا میں نے اس سے پوچھا ، کیا ہوا ، خیر تھی جو آج دیر سے آئے ۔

اس نے مسکرا کر جواب دیا نہیں کوئی خاص بات تو نہیں بس رات ذرہ زیادہ شراب پی تھی اس لیے دیر سے آنکھ کھولی ۔ 

میں نے فوار کہا تم تو کوئی روزہ اور نماز نہیں چھوڑتے پھر یہ شراب ، سمجھے میں نہیں آیا

اس نے کہا ، کیا سمجھ میں نہیں آیا

میں نے بڑے اعتماد سے کہا ، شراب اسلام میں حرام ہے اور تم پیتے ہو

اس نے بڑی حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا تم کو کس نے کہا ہے کہ شراب اسلام میں حرام ہے۔

میں نے کہا ، بچپن سے پڑھتا اور سنتا آ رہا ہوں کہ شراب حرام ہے ۔

اس نے ایک قہقہ لگایا اور کہا تم کو عربی آتی ہے اور کھبی قرآن پڑھا ہے ۔

میں نے شرمندہ سا ہو کر ادھا سا جواب دیا کہ عربی تو نہیں آتی

اس نے کہا مجھے عربی کے علاوہ کچھ اور نہیں آتا اور اسلام میں شراب حرام نہیں ہے۔ پھر اس نے الٹا مجھ پر سوال کر دیا کہ شراب کس سے بنتی ہے ۔

میں نے کہا سب کو معلوم ہے شراب پھلوں سے بنتی ہے

تو اس نے کہا ، کیا پھل حرام ہیں 

میں نے فوار کہا نہیں پھل تو جنت میں بھی ملیں گئے ۔

اس نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ جو چیزیں جنت میں حلال ہیں وہ دنیا میں بھی حلال ہیں کیونکہ خدا ملا کی طرح دوغلا نہیں ہے بڑا انصاف اور رحم کرنے والا ہے( آخیر مسلمان مرد ہوں فوار حوروں کے خواب دیکھنے شروع کر دئیے سوچا کہ جنت میں تو نوئے حوریں بھی ملیں گئی اور دنیا میں ۔ ۔ ۔ مزید سوچنا میں نے پسند نہیں کیا کیونکہ خوف خدا سے زیادہ خوف بیوی سے ڈر گیا ، کہ کہیں بیوی کو معلوم نہ ہو جائے کہ میں کیا سوچ رکھتا ہوں)۔

میرے اس کولیگ نے مزید کہا کہ اسلام غیر منطقی نہیں ہے اور یہ ایک واضح منطق ہے کہ اگر پھل حلال ہیں تو پھر پھلوں سے تیار ہونے والی ہر چیز بھی حلال ہے وہ جوس ہو یا شراب ، جام ہو ملک شیک، اور شراب تو خالصتا پھلوں کا عرق ہے جو کھبی بھی حرام نہیں ہوسکتی اور اب تو بہت جلد حلال شراب بھی مارکیٹ میں آ رہی ہے ۔

اس نے پھر پوچھا پاکستان میں مذہبی علما آپ کو کچھ نہیں بتاتے۔ 

میں نے کہا یہ وہی تو بتاتے ہیں کہ شراب حرام ہے اور ہر نشہ آوار چیز بھی حرام ہے ۔۔

وہ سنجیدہ ہو گیا اور کہا اچھا اسی لیے پاکستان میں شاید مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد زیادہ ہیں کیونکہ انہوں نے اسلام اور قرآن پڑھا ہی نہیں اور اس کو سمجھا ہی نہیں اور اسکی غلط تصویر پیش کر کے لوگوں کو بھٹکا رہے ہیں اور لوگوں کو خدا سے ڈراتے ہیں ۔ یہ تو خدا کی توہین ہے کہ خدا کو کوئی خوفناک چیز بنا کر پیش کیا جائے اور اس سے ڈرایا جائے اور اس کے نام پر کمائی کی جائے ۔ اسی دوران ایک ایرانی دوست بھی جو کافی مسلمان ہے اور میرے سے اکثر مذہب پر الجھتا رہتا ہے ہمارے پاس کھڑا ہو کر ہماری باتیں سننے لگا اور پھر اس نے اس دانشوارانہ گفتگو میں ٹانگ آڑتے ہوئے کہا اگر نشہ حرام ہے تو پھر اسلام بھی حرام ہے کیونکہ اس میں نماز ، روزہ ، قرآن کی تلاوت ،اور اس سے رقت یا جھومنا ، غرض ہر مذہب اور اسکی عبادت ایک نشہ ہی تو ہے جو انسانوں کو انکے تمام دنیاوی تکلف دہ مسائل کو بھولا دیتا ہے ۔ جس کی ایک دفعہ عادت پڑے جائے تو پھر آسانی سے نہیں چھوٹتی یہ الگ بات ہے کہ اس کی بنیاد خوف خدا ہے یا لالچ جنت ۔ جس کو مسلمان مقدس یا پاکیزہ نشہ کہتے ہیں لیکن نشہ نشہ ہی ہے ، جب کوئی اس کے عادی ہو جاتے تو تو پھر اس کو چھوڑ نہیں سکتا جبکہ شراب کا عادی تو بے ضرر ہوتا پے لیکن مذہبی نشے کا عادی بہت خطرناک اور سیدھا آئی ایس کا ممبر بنتا ہے شعوری یا لاشعوری طور پر ۔ اس نے چند مقدس اسلامی ہستیوں کے نام لیے اور کہا کے وہ بھی پیتے تھے اس سے آگے میں مزید کچھ لکھنا نہیں چاہتا کیونکہ ہمارے پاکستانی بھائی بہت جذباتی ہیں قتل اور کفر کا فتوا تو جیسے انکی زبان ہر ہی رہتا ہے اس لیے عزت اسی میں ہے کہ آگے چلیں ۔

اس عربی اور ایرانی کولیگ کی باتوں سے مجھے غصہ تو بہت آیا کہ جیالا مسلمان بن کر انہیں یہیں پکڑ لو ں کیونکہ میرے پاس اب ان کے سوالوں کے جواب نہیں تھے ۔ اور ایک مرد مومن ہار کیسے مان سکتا ہے وہ تو تلوار کے بغیر بھی لڑجاتا ہے ۔ میں صرف اس لیے خاموش ہو گیا کہ مجھے کم از کم یہ علم ضرور تھا کہ اس کو قران کی زبان آتی ہے اور مجھے نہیں آتی ۔اور ہم ویسے بھی عربی سے متاثر نہیں بلکہ عربی کے نیچے لگے ہوئے ہیں۔ اور جرمنی میں آزادی اظہار رائے کے سخت قوانین کی وجہ سے میں دانت پیس کر رہ گیا جس وجہ سے میں ان کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا پھر میں نے دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ محبت سب کے لیے اور نفرت کسی کے لیے نہیں ہونی چاہیے لیکن دل میں کہہ رہا تھا کہ کاش یہ پاکستان میں ہوتے تب اس کو وہاں کے ملا بتاتے کہ شراب حلال ہے کہ حرام ۔

 کتابوں کے لیے یہاں کلک کریں 

 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh