تحریر ۔ دانیال رضا

سامراجی مالیاتی یلغار نے جہاں ترقی پذیر ممالک کو اپنا مکمل معاشی غلام بنا لیا ہے وہاں ان ترقی پذیر ممالک کی ثقافتی اقدار اور زبانوں کو بھی روند ڈالا ہے جس سے پاکستان میں آج مقامی علاقائی زبانیں اور کلچر تباہ ہو چکا ہے یا تباہی کے دھانے پر ڈگمگا رہاہے جس کی جگہ مغربی سامراجی زبانیں اور روایا ت لے رہی ہیں جبکہ کسی بھی قوم کی زبان اور ثقافت اسکی ہزاروں اور لاکھوں سالہ زندگی کا اثاثہ ہوتا ہے ۔ جو کسی بھی قوم کی پہچان اور اس کی زندگی کی احساس ہوتی ہے ۔ کسی قوم سے اسکی زبان اور ثقافت چھین لینا کا مطلب اسکی سفاکانہ جبری موت ہے یہ ایک الگ بحث ہے کہ زبان و ادب اور ثقافت کوئی مستقل اور مقدس چیز نہیں ہے بلکہ یہ سماجی ارتقا میں مسلسل تغیرو تبدل کا شکار رہتی ہے ۔

سیاست جہاں معیشت کی اعکاس ہے وہیں پر منڈی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جس کا پیسہ ہوگا اسی کی زبان اور اسی کی رسم ورواج بازار پر غالب ہوں گئیں ۔ موجودہ عالمی منڈی پر امریکی ، جرمن ، فرانس اور چینی حکمران مسلط ہیں جنکی حکمرانی کے فرائض امریکی حکمران اپنی بڑی منڈی اور زیادہ جنگی اسلحہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں ۔اس لیے دنیا میں امریکی حکمرانوں کا طوطی بولتا ہے اور انکی زبان اور کلچر کا ہر جگہ بول بالا ہے ۔ حالانکہ چین اس وقت دنیا کا بڑا ایکسپورٹر ملک ہے اور بڑی معیشت رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اسکو انگلش اور جرمن زبان کی ضرورت ہے ۔کیونکہ چین کی بڑی منڈی امریکہ اور یورپ ہے جو چینی معیشت کی جان ہے ۔ چینی معیشت جرمنی کی ہیوی انڈسٹری کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے چین میں آج انگریزی کے ساتھ ساتھ جرمن زبان بھی سکولوں اور یونیوسٹیوں کے نصاب کا حصہ ہے ۔اسی طرح آج جرمنی میں چینی اور انگریزی زبان بھی تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ ہے اور امریکہ میں جرمن اور چینی زبان نصاب میں شامل ہے ۔ دنیا میں آج انگریزی برطانیہ کی دم توڑتی کمزور منڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی بڑی منڈی کی وجہ سے حکمران زبان ہے۔

موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں ہر شے کی پیداوار اور خاتمے کا مقصد سرمایے میں اضافہ ہے اس لیے ہر مقدس رشتہ ، مقدس پیشہ ، ہر بولی ، ثقافت اور ہر دوستی اور دشمنی کو سرمایہ کی سستی لونڈی بناکر اس کی عزت کو خاکستر کر ڈالا ہے ۔ آج سرمایہ داری نے موجودہ زندہ انسانی سماج میں مردہ مال وزر کو اتنا باعزت اور طاقت وار بنا دیا ہے کہ اس نے ہر انسانی مخلص جذبے اور رشتے کو کچل دیا ہے ۔جہاں زندگی اور موت براہ راست سرمایہ کی محتاج ہو وہاں سرمایے کے جبر سے آزادی کے بغیر زبان و ادب اور کلچر کی بقا اور آزادی کے متعلق سوچنا بھی گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا مالیاتی دنیا میں صرف جہنم ہی ہے ۔

عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر بیرون ملک میں اردو ، پنجابی اور پاکستان کی دوسری زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے کئی تنظیمیں اور تحریکیں بڑی بے چارگی سے ہاتھ پاوں مارتی نظر آتی ہیں۔ اسی سلسلے میں بے شمار پروگراموں اور ادبی محفلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔ ان ادبی اور ثقافتی محفلوں میں ادب ، شاعری اور زبان کی نوعیت اور ہیت کو پڑھائی ، لکھائی اور اسکے ہنر تک محدود رکھتے ہوئے اسکی تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے لیکچر دئیے نہیں بلکہ پلائے جاتے ہیں اور ان پروگراموں میں زبان و ادب اور کلچر کو کسی دوسرے پہلو سے جس میں معاشی ، سیاسی اور سماجی پہلوشامل ہیں جائزہ لینا اور بات کرنا بے ادبی اور شجر ممنوع ہے ۔  اس شعبہ زندگی سے منسلک تمام شخصیتیں ، تنظیمیں اور تحریکیں اپنے نصاب کے علاوہ بقیہ تمام علوم کو اپنے لیے ناصر ف اچھوت سمجھتے ہیں بلکہ زہر قاتل بھی مانتے ہیں اسی لیے تمام زبان و ادب اور ثقافتی پروگراموں کے آغاز اور اختتام میں اپنے غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہونے کی دانش مندانہ یقین دہانی کرنے کی بے ہودہ کوشیش کرتے ہیں ۔ حالانکہ وہ اس کوشیش میں اپنی غیر دانش مندی کا یقین دلادیتے ہیں ۔ کیونکہ زبان ، ادب اور ثقافت سماج سے کٹا کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دوسرے سماجی مسائل کی طرح سماج میں گہرا پیوست معاشرتی مسئلہ ہے اور جب ہم اس کو دوسرے سماجی مسائل سے علیحدہ کر تے ہیں تو پھر یہ ایک تعصب اور کم ظرفی بن جاتی ہے جس پر استاد غالب نے کہا تھا ، ظرف خالی ہو صدا دیتا ہے ۔ بالکل اسی طرح آج زبان و ادب اور ثقافت کو مانے والے اور اس کے علمبردار بے ہنگم صدائیں دے رہے ہیں جو گداگروں کی صداوں سے مختلف نہیں ہیں جبکہ تفرقہ پرستی ان میں ملاوں سے بھی زیادہ ہے ۔ اور یہ ملا ہی تو ہیں لیکن یہ مذہب کی بجائے علم و ادب کا  دھندہ کرتے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر مفت میں اس لیے یہ ملاوں سے زیادہ زہیریلے ہیں ۔ ایک ہی زبان و ادب اور ثقافت کو مانے والوں کی بے شمار تنظیمیں اور تحریکیں ہیں جو ایک دوسرے سے ذاتی اور  سطحی دست و گریباں ہی نہیں ہیں بلکہ آستینوں میں سانپ بھی رکھتے ہیں ۔ کوئی بھی اپنے علاوہ کسی دوسرے کو دانش مند یا ادیب مانے کو تیار ہی نہیں ہے ۔ سب اپنے آپ کو حسین اور دوسرے کو یزید سمجھتے ہیں ۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ یہ علم و ادب اور ثقافت کے پاسبان ہیں یا کہ اس کے حقیقی دشمن؟ سرکاری علم وادب کی تنظیمیں بھی ہماری سرکار جیسی بد عنوانیوں  کے ڈھیر ہیں جس میں کہیں کہیں علم و ادب دبا پڑا مل جاتا ہے ۔ ایواڈ اور سندیں تو آج اتنی ہیں جیتنی سائنس نے آج تک بیماریاں دریافت نہیں کئیں کیونکہ یہ بھی سستی شہرت کی گھٹیا نمائش ہے۔ ان سب سے تو کئی درجے بہتر وہ جماعت  احمدیہ ہے جس سے بے شک ہمارے  نظریاتی تضادات ہیں انہوں نے جرمنی میں اردو بولنے اور سیکھنے کے لیے مفت سکول کھول رکھے ہیں جہاں بڑوں اور بچوں کو اردو پڑھائی اور لکھائی جاتی ہے اور فرینکفرٹ میں ایک بڑی  لائبر یری بھی قائم ہے جس میں زیادہ تر اردو کی کتابیں موجود ہیں ۔

پاکستان میں ایک قوم اور اسکی مشترکہ زبان اور ثقافت کی تعمیر وترقی نہ ہو سکنے میں موجودہ نظام کے پیدا کردہ اقتصادی اور سماجی مسائل کا عذاب حائل ہے جس وجہ سے اردو قومی زبان ہونے کے باوجو د بھی عملی طور پر قومی زبان نہیں ہے ۔ پاکستان میں زبان و ثقافت بھی ایک طبقاتی مسئلہ ہی ہے ۔ حکمرانوں کی زبان انگریزی ہے اور ثقافت یورپی کیونکہ دنیا کے تمام حکمرانوں کی ثقافت ہمیشہ مشترک ہی ہوتی ہے جنکا تعین انکے مشترکہ مفادات کرتے ہیں ۔ جبکہ عام غریب عوام انگلش میڈیم سکولوں میں تو کیا پڑھے گئے انکے پاس تو اردو پڑھنے لکھنے کے پیسے بھی نہیں ہیں جس سے یہی بدحال سماجی حالات انکے ثقافتی معیار کا تعین کرتے ہیں ۔ پاکستان کے احساس کمتری کے مارے حکمران جب غیرممالک جاتے ہیں تو انگریزی ہی بولتے ہیں جیسی اور جیسے بھی بولیں ۔ اور جب غیر ممالک کے حکمران پاکستان آتے ہیں تو انکی زبان کا بھی انگریزی میں ہی ترجمہ ہوتا ہے جس کو پاکستان کی اکثریتی عوام سمجھنے سے قاصر ہے تمام دفاتر میں انگریزی    ہی چلتی ہے اس کے باوجود اردو ہماری قومی زبان ہے جو ایک سفید جھوٹ ہے اور ریا کاری ہے ۔ زبان پر ہمارا کوئی تعصبی اور بنیاد پرستانہ نقطہ نظر نہیں ہو نا چاہیے تمام بولیاں عوام کی ہیں اور سب قوموں کو اس پر مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل ہونی چاہیے لیکن سرمایے کی بنیاد پر کسی بھی زبان کا استحصال اور اسکی تباہی ہمیں قابل قابل نہیں ہے جس کے خلاف تمام عوام کو متحد ہو کر لڑانا چاہیے جبکہ موجودہ ادبی فرقہ پرستی اسی اتحاد کو توڑنے کے لیے کمر بستہ ہیں ۔

پاکستان ایک ملک اور ایک قوم ہونے کے باوجود نہ تو ایک حقیقی ملک ہے اور نہ ہی ایک حقیقی قوم ہے ۔بلکہ یہ بہت سی قومیتوں اور زبانوں کا ایک ریاستی مالیاتی جبر کے زریعے زبردستی اکٹھ ہے جسے برطانوی سامراج نے ترتیب دیا ۔ کیونکہ پاکستانی ریاست آج تک اپنے سماجی اور معاشی مسائل کو حل ہی نہیں کر سکی بلکہ اس میں مزید ناقابل برداشت اضافہ ہونے سے ہر روز بڑھتے عدم استحکام اور انتشار نے پاکستان کے قیام اور وجود پر خود ہی بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ قومی اور مذہبی قتل و غارت نظریہ پاکستان کی دھجیاں بکھر رہی ہیں ۔ یہ حالات پاکستانی ریاست کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کے لیے کیا کافی نہیں ہیں جہاں انسانی زندگی کو اتنا بھیانک بنا دیا گیا ہے کہ عوام موت کی آغوش میں سکون محسوس کرتے ہیں ۔

اردو کسی حد تک رابطے کی زبان ضرور ہے لیکن مکمل رابطے اور اشتراک کی زبان 71 سال بعد آج تک نہیں بن سکی اور مستقبل میں تو سماجی او ر معاشی بدحالی نے اس کے آثار بالکل ہی مخدوش کر دیئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستانی ریاست آج تک وہ ٹھوس سماجی حالات پیدا ہی نہیں کر سکی جس پر ایک قوم اورایک زبان کی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے جس طرح مغرب میں ہوا تھا ۔ پاکستان کا قیام اس دور میں آیا جب دنیا میں سرمایہ داری عالمی مالیاتی شکل اختیا ر کرچکی تھی ۔ قومی ریاستوں اور قومی منڈیوں کا تصور مٹ رہا تھا ۔ اور جب بھی تاریخ میں وقت کے خلاف فیصلے کیے گئے تو وقت نے ایسی ہی سزا دی کیونکہ وقت بہت بے رحیم ہے اور اس کا انتقام بہت بھیانک ۔

زبان ، ثقافت اور ادب کوئی غیر سماجی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ان عناصر کا وجود معاشروں کو تعمیر کرنے کی انسانی جدوجہد کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا جسے آج کے جعلی دانشواروں اور ادبی حلقوں نے سماجی جدوجہد سے کاٹ کر تعصب زدہ بہودگی بنا دیا ہے ۔ جو جہالت اور پسماندگی کی معراج ہے ۔ لوگ آج انگریزی اس لیے پڑھتے اور سیکھتے ہیں کہ اس سے اچھی ملازمت ملتی ہے اور معاشی زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے جبکہ اردو ، پنجابی اور دوسری بولیاں آج پاکستانی عوام کو مالی سانسیں نہیں دے سکتیں اور یہ معاشی ضرورتیں ہی ہیں جو کسی بھی شخص کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے یہ کسی بھی انسان کے لیے پہلی لازمی ضروتیں ہیں جب انسانی زندگی ہو گئی تب ہی زبان و ادب اور ثقافت بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک اردو یا کسی علاقہ میں مقامی زبان یہ اہمیت ، حیثیت اور ضرورت اختیار نہیں کرلیتی جس سے عوام کی معاشی اور سماجی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اردو یا علاقائی زبانوں کو انکی موت سے کوئی نہیں بچا سکتا ادبی فرقے چاہے جتنا شور مچا لیں ۔

جبکہ دوسری طرف پاکستان کا تباہ حال سماجی ڈھانچہ ملک و قوم کا کوئی ایک مالی اور سماجی مسئلہ حل کرنے سے مکمل معذرت خواہ ہے ۔جس میں بجلی ، پانی ، گیس ، سڑکیں ، ٹرانسپورٹ ، صحت مند اور ہنر مند مزدور ہیں جو کسی بھی قوم اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اور لازمی حیثیت رکھتے ہیں یہ سب آج کمیاب اور ناپید ہو چکے ہیں ۔ یہ سماجی ٹھوس بنیادیں پاکستان کو اپنے آغاز سے ہی میسر نہیں تھیں اور یہاں کے حکمرانوں میں اتنی صلاحیت اور طاقت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ہے کہ وہ عالمی منڈی میں کسی قسم کا بھی مقابلہ کر سکیں جس سے وہ عالمی منڈی میں ایک ایجنٹ ، بھکاری اور غلام بن کر رہ گئے آج پاکستانی ریاست اور معاشرہ اسی کا اعکاس ہے ۔ جس سے سامراجی ممالک نے انہیں ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے ہر طرح سے استعمال کیا کیونکہ گماشتہ سرمایہ دار اور نیم جاگیردار پاکستانی ریاست صرف استعمال ہونے کے ہی قابل ہے ۔ اس طرح پاکستانی عوام کا خون مقامی اور عالمی حکمرانوں نے ملکر خوب چوسا جس سے اب بجلی ، گیس ، پانی اور پٹرول کی بلند ترین قیمتوں اور لوڈ شیڈنگ نے رہ سہی کسر بھی پوری کر دی اور یہی صنعت و حرفت جو کسی ملک و قوم کی زندگی کے لیے آکسجن ہے آج تقریبا نا پید ہو چکی ہے ۔ انہیں کمزور اور لاغر سماجی حالات نے خون ریز مذہبی جنون ، جنگی قومی مسئلہ پسماندہ علم وادب، ثقافت اور زبان کی بربادی کو ٹھوس جواز مہیا کیا ہے ۔ جنکی تبدیلی کے بغیر ہر نعرہ نہ صرف یوٹو پیائی بلکہ رستے زخموں کا ناسور ہے ۔

اس لیے علاقائی ثقافتوں ، زبانوں،علم وادب کی بقا کی جدوجہد براہ راست سماجی تبدیلی سے منسلک ہے جس کے لیے طبقاتی جدوجد ہی واحد راستہ ہے ۔ اشتراکی معاشرے کی تعمیر کے بغیر کوئی علم و ادب ، زبان اور ثقافت حقیقی آزاد اور انسانی نہیں ہو سکتے ۔ جہاں علم و ادب اور زبان و ثقافت سرمایے کے لیے ایک جنس اور ذاتی شہرت کی غلاطت نہیں ہو گئی بلکہ انسانوں کی انسانو ں کے لیے ، انکی روح کا احساس اور اسکی حقیقی ترجمان ہو گئی ۔ موجودہ نظام میں جہاں آج انسانی زندگی کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے وہاں بھلا کسی اور جنس کی بقا کی ضمانت ممکن کیسے ہو سکتی ہے ۔ یقیناًجھوٹے اور دغاباز ہی اس کی ضمانت دے سکتے ہیں ۔ لیکن ہم کہتے ہیں علم وادب ترقی پسند ہو تا ہے یا تنزل پسند۔ رجعتی اور قدامت پسند ادب صرف سماجوں کی بے رحمانہ بربادی پر بندر کی طرح تماشہ ہی کرسکتا ہے ۔ اگر آج علم و ادب کو طبقاتی جدوجہد اور عوامی انقلاب سے منسلک نہیں کیا جا سکتا تو پھر اسے کسی تاریخ کی غلیظ ترین ٹوکری میں پھنک دینا چاہیے ۔ کیونکہ دیر یا بدیر اسکا یہی انجام ہے ۔اور یہی ایک ٹھوس سچ ہے اس کے علاوہ تمام علم و ادب کی باتیں زبان درازی کی بہودگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ جو علم وادب زندگی نہیں دے سکتا یا اس کا سبب نہیں بن سکتا یا اسکی جدوجہد نہیں کرتا توپھر وہ زندہ سماجوں کا قبرستان بن جاتا ہے ۔

علم وادب کی بات چلی تو آخیر میں غالب کا ایک فارسی کا شعر یاد آگیا جو میرے نظریاتی استاد لال خان اکثر مجھے رات کی جوانی میں سنایا کرتے تھے جب آتش جوان تھا اس کے باوجود کے عمر میں وہ میرے سے کافی بڑے ہیں ۔ یہ شعر انہوں نے مجھے پہلی بار تب سنایا تھا جب میں نیا نیا انقلابی بنا اور روایتی بڑے ، بوڑھے اپنی روائتی باتوں سے انقلاب کے متعلق مجھ میں مایوسی پیدا کرنے کی مکمل کوشیش کرتے ۔ لیکن اس شعر نے مجھے ہمیشہ زندہ رکھا اس شعر کی فارسی تو یا د نہیں رہی لیکن اس کا ترجمہ کچھ ایسے ہے ۔ بوڑھوں کو چاہیے کہ وہ نوجوان کو مت سیکھائیں بلکہ ان سے سیکھیں کیونکہ بوڑھے گزرے ہوئے کل کی کمزور بیساکھیاں ہیں جبکہ نوجوان آنے والا مضبوط مستقبل ۔ غالب کو وہ آج بھی بڑا استاد شاعر کہتے ہیں ۔ نوجوانوں آگے بڑھو کہ مستقبل تمھارا ہے ۔

 

کتابوں کے لیے یہاں کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh