تحریر ۔ دانیال رضا

جہاں آج تہذیبوں کے تصادم کے نظریہ کی جعل سازی کوبے رحیمی سے کچلنے کرنے کی ضرورت ہے وہاں سوشلزم اور کفر ازم کو گھڈ مڈ کرنے کی بھیانک سازش کو بھی بے نقاب کر کے ا س کی وضاحت ضروری ہے تاکہ حکمرانوں کے بھیانک چہرے کو ننگا کر کے عوام کے سامنے لایا جاے جو محنت کشوں کی جدوجہدکی تباہی اور ان پر استحصالی جکڑ کے لیے ہر لہمے نئے نئے جال بونتے رہتے ہیں۔

آج پوری دنیامیں سوشلزم اور کیمونزم کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں اور جھوٹا منافقانہ پراپیگنڈہ موجود ہے جو عالمی اور مقامی حکمرانوں اور ان کے حواری میڈیہ کا پھیلایا ہوا ہے جو عوام اور محنت کشوں کے انقلابی شعور کو سرمایے کی زنجیروں سے جکڑ کر پسماندہ کھنے کی انتہائی کو شیش ہے تا کہ نہ صرف ان کے ظلم کی حکمرانی قائم رہے بلکہ ان کی لوٹ گھسوٹ اور مالیاتی جبر کو عوام اف کیے بغیر خا موشی سے سرخم تسلیم کریں اور اپنا مقدر یا قسمت سمجھ کر اسے قبول کریں یہ بہادر اور دلیر عوام کو خسی کرنے کا ہتھیار  ہے تا کہ وہ اپنے مسائل اور اذیتی زندگی کے خلاف نہ لڑیں بلکہ سسک سسک کر زندگی گزرتے ہوے تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔

  سوشلزم کا نظریہ اور سوچ عوام کا وہ واحد سائنسی اور مضبوط ہتھیار ہے جس کے زریعے وہ اپنے تنگ دست حا لات کے خلاف لڑکر فتح یاب ہو سکتے ہیں یہ نظریہ محنت کش عوام کا عالمی طبقاتی اتحاد اور ہر تعصب سے پاک ناقابل تسخیر جڑت ہے اور یہ عوام کا عالمی اتحاد ہی ان کی جیت اور حکمرانوں کی ہار ہے اس لیے آج کے ہر ظالم کے لیے سوشلزم اور کیمونزم ایک اچھوت ہے کیونکہ یہ انکی عیاشیوں اور تماش  بینوں  کی موت ہے اور موت بھلا کیسی بھی ہو کون خوشی سے گلے لگاتا ہے اور پھر عیاش اور دولت مند جو معمولی سی بیماری سے بھی خوف زادہ ہے۔ اس لیے سرمایہ داروں،جاگیر داروں اور حکموں کے سوشلزم کے خلاف پراپیگنڈے کی جو تائئداور تقلید کر تا ہے وہ بھی عوام دشمن اور ظلموں کی صفوں میں شعوری یا لاشعوری طور پر کھڑا ہے۔

سوشلزم اور کیموم نزم کو جہاں تمام ممالک کے حکمران اور دولت مند غیریبوں ناداروں کانظریہ قرار دے کر حقارت اورنفرت کرتے ہیں اور عوام سے ان کے رویے اور سلوک میں بھی تمام منافقت کے باوجود یہ چیز نمایا ں ہے سا لانہ  بچٹ  اور تمام ملکی، سیاسی، سفارتی، معاشی، سماجی پالیسیاں اس کی غماز ہیں۔

غریب  عوام بھی آخیر انسان ہیں جن کو یہ درلت مندانسان نہیں مانتے  حالانکہ  غربت ایک جرم ہے جو غیریبوں نے نہیں کیابلکہ یہ امیروں کے جرائم ہیں جنکی سزا عوام بھگت رہی ہے ان کے خون پسنے پر امارات کے قعلہ تعمیر کرنے والے ہی آج  عوام اور ہر معاشرے اور دنیا کی ہر تباہی کے ذمہ دار ہیں جو اپنے منافوں کی اندھی حواص  میں اضافوں کےلیے اس کرہ ارض کو جہنم بنا رہے ہیں خونی اور بھیانک طاقت کے استعمال سے تیل ،سرمایہ اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار ہی آج جنگوں کا باعث ہے جنگل کے قانون کا ہر طرف راج ہے جو امن اور جمہوریت کی آڑ میں ہے جسکی آج  امریکہ سرپرستی اور سربراہی کرتا ہے۔

 سوشلزم کے خلاف اور اپنے مفادات کے لیے یہ عالمی زر دار اور ان کے زرائع ابلاغ مختلف ممالک میں مختلف ہتھکنڈے اپناتے ہیں خاص طور پر مقامی تہذیب، اطوار،رسموں رواج، ثقافتوں، رشتوں اور ان سے منسلک جذبات احساسات اور تقدس کوبھر پور طریقہ سے استعمال کرنے کی کوشیش کرتے       ہیں    اس غرض کے لیے وہ یہاں کی ہر پارٹی، تنظیم ، خاندان،  ویلفر سوسائٹی، حکومت، ریاستی ادارے،   پارلیمنٹ، عدالتیں، پولیس،فوج، افسرشاہی، تعلیمی اور تربیتی ادارے، مذاہب، کو اپنے حق اور جوازکی دھوکہ دہی میں مکمل شامل کرتے ہیں اور انکی لیڈر شپ بھی انہی میں سے ہوتی ہے یا پھر انکی زر خرید غلام ہے جو امیروں  کے ہر ظلم اور جرم کو ثواب اور عدل قرار دیتی ہے اور عوام کے اپنے حقوق اور زندگی کی ہر جدوجہد    کوگناہ  کبیرہ اور ناقابل معافی جرم کے فتوئے صادر کرکے قانون سازی کرتی ہے۔

پا کستان اور اسلامی ممالک میں سو شلزم کو کفر ازم بھی کہا جا تا ہے جو کم علمی وعقلی اورغلط انفارمیشن کی وجہ ہے یہاں اسلام کوسوشلزم کے خلاف استعمال کرنے کی سعی کی جاتی ہے اس کی وجہ لوگوں کا اسلام سے جذباتی لگاو ہے یہ استحصالی پراپیگنڈہ شائد عام حالات میں اثر رکھتا ہے، لیکن عوامی تحریک کے ادوار میں اس پراپیگنڈہ کا چھوٹ اپنے پاوں  کھو دیتا ہے1967-68کی عوامی تحریک میں اس کا ٹھوس ثبوت اور زندہ مثال ھمارے پاس ہے جب نہ صرف قومی اتحاد کے رد شدہ مولویوں بلکہ پاکستان کے تمام ملاو ں کے علاوہ خانہ کعبہ کے مولوی نے یہ فتوے صادر کیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو جو ووٹ دے گا وہ کافر ہو گا سوشلزم کو ووٹ کفر ازم ہے اور پی پی کوووٹ دینے سے شادی شدہ لوگوں کے نکاح ٹوٹ جائیں گئے۔ لیکن عوام نے تمام عالمی ملاوں  کے عوام کے خلاف اس اتحاد کوایک تاریخی شکست فاش دی اور انکی سامراجی غلامی کو بری طرح رد کر دیا۔ اور سوشلام کو ووٹ دیا ۔ اور تب عوامی طاقت نے پی پی کی جیت میں اپنا لوہا منوایا جس کا پروگرام ،مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان ،طاقت کا سر چشمہ عوام ، جمہوری  سیاست اور سوشلسٹ  معیشت  تھا یہ صرف ایک مثال نہیں ہے بلکہ ایک ٹھوس سچ اور زندہ حقیقت ہے کہ عام حالات میں جب کوئی عوامی تحریک موجود نہیں ہوتی یا پھر روائتی محنت کشوں کی پارٹیوں کی قیادتوں کی غداری اور بار بار کی دھوکہ دہی سے مایوسی کی غمازی رجعت پرستی کے رحجان سے ہوتی جو یہ کسی بھی تعصب،فرقہ واریت، قوم، نسل، زبان، علاقہ پرستی اور نفرت کی شکل  میں   اپنا اظہار کرتی ہے جو کہ دیر پا اور مستقل نہیں ہوتی بلکہ عارضی اور فروہی ہوتی ہے جسکو تھوڑا سا عوامی ارتعاش ہی اسے جھاگ کی طرح بیٹھا دیتا ہے حقیقی مسائل اور زندگی میدان عمل میں ہوتی ہے اور یہی انقلابی اور عوامی زندگی کی تبدیلی کی تحریکیں ہوتیں ہیں۔

پاکستان میں بھی آج رجعتی یلغار اور فوجی آمریت کی وجہ پاکستانی عوام کی روائتی پارٹی،پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا اپنے انقلابی منشور سے انحراف عوام کی معیار زندگی میں بہتری کی خواہشتات کا قتل، اور اپنے سوشلسٹ پروگرام سے بار بار غداری نے پاکستان کے عوام میں مایوسی کو جنم دے کر بڑھا یا ہے اور اس مایوسی میں ردانقلابی قوتیں اپنے پر پروزے نکل لیتی ہیں جسکو صرف اور صرف پھر محنت کش طبقہ کی انقلابی تحریک بھی شکست دی سکتی ہے،مشرف تو خود اسی رجعت پرستی کا حصہ ہے وہ بھلا کیسے اس بنیاد پرستی کی جنونیت کا خاتمہ کر سکتا ہے اس سے ایسی توقع کر نا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔

سوشلزم کی تعریف اور مفہوم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ،سوشلزم اور کیمونزم استحصال سے پاک معاشرے   کا قائم ہے جہان انسان کی مانگ کا خاتمہ ہو گا ۔ مارکسزم ایک سماجی سائنس ہے جس طرح زندگی کی بائیلوجی، مادے کی فزکس، کیمیکل کی   کیمسٹری ہے جومعاشرے میں انسان کو  اول  حثیت دے کر اس کی تمام ضروریات کی باز یابی کی مکمل ضمانت ہے طبقاتی اور غیر مساویانہ سماج کے خلاف ٹھوس اور مادی جہدوجہدکے قوانین کی آگاہی دیتی ہے انسان کو اپنا مقدر خود بنانے کی ترغیب اور تمام سماجی زریعے پیداوارکو بھر پور استعمال کر کے انسانی سماج سے استحصال بھوک ننگ افلاس کا مکمل خاتمہ کر کے روٹی کمانے کی ذلت آمیز مزدوری سے نجات اور اس محنت کو تخلیق اور تسخیر کائنات کے لیے کار آمد بناناہے نہ کہ ساری زندگی انسانوں کی ایک بڑی اکثریت چند لوگوں کی مراعات اورعیاشیوں کے لیے مزدوری اور غلامی کرتی رہے ۔ اس لیے سوشلزم کا بھی تمام مذاہب سے وہی تعلق ہے جو دوسری سائنسیس کا مذاہب سے ہے پھر یہ   سوچنے   کی بات ہے کہ صرف سوشلزم کی سماجی سائنس کے خلاف ہر وقت ہر جگہ اسی کے خلاف اتنا پراپیگنڈہ کیوں ہے؟

یہ با لکل صاف اور واضح ہے اور مارکسزم کا تھوڑا سا بھی علم رکھنے والا اس کا منہ تواڑ جواب بڑی آسانی سے دے گاکیونکہ یہ نظریہ عوام کواس کی اپنی زبان،عزت نفس،اپنی قسمت، تقدیر اوراپنی بے پناہ طاقت اور اسکی آگاہی عطا کر تا ہے۔

اور یہی دولت مندوں کو قابل قبول نہیں جس سے ان کا سرمایہ پر قائم رتبہ اور فضلیت کو نقصان پہنچے ملا،پنڈت اور پادری بھی اپنی مراعات کے لیے انہیں کے محتاج ہیں اس لیے یہ بھی انہیں کے گن گاتے ہیں اور معصوم اور لا علم شہریوں کو اپنے جہالت کے پھندے میں پھنسا کر اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں خود کش حملے کرنے والے انہیں کے مہرے بنتے ہیں جو وہ اپنی معاشی اور سماجی ضرورتوں کے تحت ان بے چاروں کے حا لات اور پسماندہ شعور سے فائدہ اٹھا کر چلتے ہیں۔ یہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو تو اپنے آج کو کل پر قربان کرنے کی نیک         ہدایت اور تلقین  کرتے ہیں جبکہ اپنا آج زیادہ سے زیادہ خونصورت اور حسین بناتے ہیں  ہمیں خاموشی سے تکلیفیں، دکھ،درد اور عذاب جو کہ موجودہ نظام کی دین ہے برداشت کرنے کو گناہوں کا ازلہ اور امتحان کی گھڑی کہہ کر صبر کا درس دیتے ہیں جبکہ یہ خود ہر امتحان اور گناہوں سے بالاہیں اور اپنے مفادات کے حصول میں یہ کمال کی بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آج پاکستان کے عوام کی شعوری تباہی اور ملکی تباہی، بربادی میں ان کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے ۔ جو یہ ہمیں علماء تبلیغ کرتے ہیں انکی اپنی ذاتی زندگی اس کے بالکل الٹ ہے انکا رہن سہن، خوراک، علاج سفر،غرض ہر سہولت اور آسائش موجود ہے انکی اولادیں یورپ اور امریکہ میں تعلیم اور ہر عیاشی کا مزہ لوٹ رہے ہیں،مذہبی جماعتوں کے رہنماو ں کی زندگیاں اور ان کے بچوں کے حالات آج عوام سے ڈھکے چھوپے نہیں ہیں جو عوام کی زندگیوں سے مختلف ہیں،جب کے یہ پھر بھی بڑی بے شرمی اور ہٹ دھرمی سے ہمیں صبر اور قناعت کاسبق دیتے نہیں تھکتے اور خود نہیں بلکہ صرف ہمیں ہی جہنم کے خوف سے ڈراتے ہیں، یہاں مجھے چور مچاے شور کی کہاوت  یاد آتی ہے۔ جبکہ یہ اپنے مفادات پر کسی قسم کی ہلکی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کرتے ان کی حفاظت کی فکر ان کو ہر وقت لاحق رہتی ہے،ایم،ایم ،اے کا حدود آرئینس کے خلاف تمام بدبو دار شور اور پراپیگنڈے کے باجود اسمبلیوں کی عیاشوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں   ہیں  ان کے قول اور فعل کا تضاد ایک بار بھر ثابت ہو چکا ہے اور یہ کوئی نیا اور پہلی بار نہیں ہوا بلکہ یہ ان کے جھوٹ، فراڈ اور دھوکہ دہی کا مسلسل تسلسل ہے،شرم مگر ان کو نہیں آتی۔ اور شوسلزم کے خلاف ان کا سفید جھوٹ اور الہامی پراپیگنڈہ بھی ان کی مراعات ،آسائشوں، با لادستی اور حکمرانی کا دفاع ہے اس سے زیادہ اس میں کوئی صداقت اور سچ نہیں ہے۔

آج عالمی سطح پربھی سوشلزم کو نہایت توڑ موڑ کر پیش کیا جاتاہے تا کہ ظلم اور طبقاتی استحصال کی حکمرانی کو قائم رکھا جا سکے اس کے لیے جہاں وہ مسلم ممالک میں مذاہب کو بڑی بے دردی اور بھونڈے طریقہ سے استعمال کر تے ہیں وہاں وہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کو آمریت اور ناکام نظریہ گردانتے ہیں اس کے لیے وہ روس اور مشرقی یورپ کو بطور بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ جھوٹ نہ صرف پاو ں کٹا ہے بلکہ سر کٹا بھی ہے اور یہ صرف ان حکمرانوں کا کمال ہے کہ انہوں نے اس کو کھڑا کیا ہوا ہے حالانکہ  یہ کوئی انسانی نہیں بلکہ خدائی کام ہی ہو سکتا ہے ویسے تو یہ بھی خدائی طاقت کے دعوے دار ہیں۔

حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔ پہلی اور فیصلہ کن متفقہ بات یہ ہے کہ کسی ناکامی یا کامیابی کوانسانوں پر استحصال کے لیے استعمال کر نا غیر انسانی ،قابل نفرت اور قابل مذاحمت ہے روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کو ہم بھی تسلیم کر تے ہیں کھلے دماغ اور وسیع ظرف سے لیکن اس طرح جس طرح سچ اور حقائق ہیں نہ کہ ظلم کے لیے جواز اور تنگ نظری سے۔

 روس اور مشرقی یورپ کی ناکامی کی بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ سوشلزم،  کیمونزم  کیا ہے؟کیا ان ممالک میں سوشلزم آیا تھا؟ کیسے؟اور کیوں؟ اور کس لیے؟ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کیا تبدیلیاں  ہوئیں؟اور پھر ہم اس کی ناکامی کے اسباب پر بات کرنے کے قابل ہو سکیں گئے ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے اور ان کے ماننے والوں کی  ان کے نزدیک اپنی جہالت پر ہٹ دھرمی سے ڈٹے رہناہی علم و دانش ہے اور اس کا ان کو چاہے رتی بھر بھی علم نہ ہو یہ ہر علم اور چیز کو چاہے ان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ اپنی برتری اور افضلیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم دانش علم کی دشمن ہوتی ہے۔

 حقائق اور تاریخ ہمیں یہ بتاتے ہیں کے روس میں لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں عوام کی ایک بڑی اکثریت نے ظالم ترین زار شاہی کی سرمایہ دارانہ حکومت کا تختہ الٹ کر مزدور جمہوریت قائم کئی تمام ذرائع پیدارار کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے  کر بھر پور استعمال میں لا کر زیادہ سے زیادہ پیداوار کر کے عوامی ضرورتوں کو پورا کرنے کی مکمل کوشیش کی گئی۔جس کے نتیجہ میں اس انقلاب نے رو س کو چند ہی دہائیوں میں ایک پسماندہ ترین ملک سے جو آج کے پاکستان سے بھی کہیں زیادہ ترقی پذیر اور پسماندہ       ملک تھا نہ صرف ترقی یافتہ بنادیا بلکہ سوویٹ یونین دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور بن کر ابھرایہ ترقی نہ صرف انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوئی تھی بلکہ سرمایہ دارنہ سماج میں ایسی اعلی اور تیز ترین ترقی کا تصور بھی ناپید ہے جس کی بدولت سماج میں انسان کی حقیقی آزادی کو ٹھوس مادی بنیادیں میسر آئیں ہمارے  دشمن بھی اس کا اقرار کریں گئے۔

خوندگی 99فیصد تھی،دنیا میں سب سے زیادہ یونیورسٹی ہولڈر، ڈاکٹر،انجنئیر،سائنس دان اور ماہرین روس کے پاس تھے ترقی کی شرح 28فیصد سے30فیصد تک پہنچ گئی تھی ،خلائی نظام میں میں بھی روس کو دنیا میں اول حثیت حاصل ہے، اس نے سب سے پہلے چاند پر خلائی شٹل بھج کر دنیا کو حیران کردیا،30 سے زائدبنیادی اور ا ہم صنعتوںمیں دنیا کی سب سے زیادہ پیداوار کر تا تھا ،آج بھی انڈر گرونڈ مترو کے نظام میں دنیا کے پہلے نمبر پر ہے، عورتوں کی مردانہ حاکمیت اور طبقاتی،درجاتی استحصال کے خلاف عملی اقدامات کیے گئے،بچوں،بوڑھوںاور عورتوں جو سرمایہ دارانہ سماج میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہوتے ہیں کو ریاستی مکمل تحفظ  دیا گیا ، بنیادی  اور  ثانوی تعلیم تمام آبادی کے لیے مفت اور لازمی تھی ، بے روزگاری     ایک جرم تھا ،وغیرہ وغیرہ۔

اس 1917کے بالشویک انقلاب نے نہ صرف دنیا پر اس حقیقت کو آشکار کیا کہ مارکسزم ایک خیالی اور خوابی نظریہ ہی نہیں بلکہ عملی اور آج انسانی ترقی اور سماجی ارتقا کے لیے ناگزید ہے۔ انقلاب کی تعمیر اور ثمرات کو نہ صرف قائم رکھنے بلکہ ان کو بڑھانے کے لیے لینن نے چار بنیادی اصول واضح کیے تھے۔

۔1تمام ریاستی اہکار پنجائتوں سے منتخب ہو کر اوپر آئیں اور اپنا عرصہ پورا کرنے کے بعد واپس جائیں ، بدعنوانی  کے الزام میں ملوث افراد کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے بھی واپس بولانے کا اختیار پنجائتوں کو ہو۔

۔2ایک مخصوص فوج کی بجائے تمام عوام کواجتماعی طور پر مسلح کیا جائے۔

۔3کسی بھی ریاستی اہلکار کی تنخواہ ایک عام ہنر مند مزدور سے زیادہ نہ ہو۔

۔4تمام معیشت  عوام کے جمہوری کنٹرول میں ہو۔

 یہ ایک انقلاب کے عبوری دور کا عبوری پروگرام تھا۔جس کے ساتھ لینن نے کہا تھا کہ روسی انقلاب کی مضبوطی،اور استحکام صرف ایک عالمی انقلاب کے پھیلا و  میں ہی ہے اور ہم کھبی بھی عالمی دنیا سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتے ہمیں اپنی تمام ترقوتوں کو عالمی انقلاب کے لیے خاص اہمیت دے کر متحرک کرنا ہو گا۔ لیکن 1923میں جب جوزف سٹالن برسراقتدار آیا تو اس نے نہ صرف لینن کے عبوری پروگرام کے خلاف ہر اقدام کیا بلکہ انقلاب کی بنیاد اور عالمی احساس تک کے نشان کو مٹا دیا۔ تیسری انٹرنیشنل کو باقاعدہ ختم کر کے قومی سوشلزم کا تباہ کن نظریہ متعارف کروا کے عالمی انقلابات کو برباد کر دیا۔سامراج کو شکست دینے کی نجائے اس سے دوستانہ ،مفادپرستانہ معاہدے کیے۔اسرائیل کی خونی جنونی بنیاد پرست سامراج گماشتہ ریاست کو سب سے پہلے تسلیم کر کے انسانیت کے منہ پر کلک تھوپ دیا۔

لینن کے اسباق کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا،ٹراٹسکی جو سرخ فوج کا وزیر تھا اور لینن کا قریبی دوست اور انقلاب کا بانی اور نظریہ دان سمیت مخلص اور دیانتدار بالشویک کیڈروں کا قتل عام کیا۔ کیونکہ یہ سٹالن کی آمریت اور انقلاب دشمنی کے خلاف صف آر ہو چکے تھے ٹراٹسکی نے اپنی کتاب ،انقلاب سے غداری،  میں لکھا تھا ،سوشلزم کو جمہوریت کی اتنی ضرورت ہے جتنی ایک زندہ جسم کو آکسیجن کی،اس نے مزید کہا کہ  سٹالن افسر شاہی انقلاب کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے جو مزید70 سال بعداس کی زوال پزیری کی شکل میں سامنے آئے گئی یہ حقیقی مارکسی سائنس پر کیا گیا تجزیہ آج ایک ٹھوس سچ ہے۔ جس سے انقلاب کی زوال پذیری کا عمل شروع ہوااور اپنے انجام کو پہنچاجو سٹالن ازم کی ناکامی،تباہی ہے نہ کہ سوشلزم کی بلکہ اس نے مارکسزم کی عالمی نظریاتی سچ کو اور بھی درست ثابت کیا ہے۔

آج عالمی مالیاتی نظام تاریخی استبداد کی نظر ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر ظلم اور زیادتی کے خلاف اٹھنے والی تحریک براہ راست سرمایہ داری اور سامراج کے خلاف اور سوشلسٹ  انقلاب کے راستے پر چل پڑتی ہے،وینوزویلاکا ہوگو شاویز جو ملک سے بدعنوانی اور غیریبوں پر ظلم کے خلاف میدان عمل میں آیا تھا یہ سوشلسٹ  نہ تھا اور نہ سرمایہ داری ختم کر کے سوشلسٹ  انقلاب چاہتا تھا لیکن آج اس کو اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ احسا س ہو ا چکاہے کے سرمایہ دارانہ نظام میں اصلا حات کی کوئی بھی گنجائش موجود نہیں ہے ملک میں کسی بھی برائی کے خا تمے کے لیے سرمایہ داری اورسامراج کو شکست دینا   ضروری ہے طاقت کو اشرفیہ سے چھین کر مزدوروں کو دینا ناگزیر ہے اور آج یہ ملکی اشرفیہ اور امریکی سامراج جو اس کے دشمن بن چکے ہیں کے خلاف سینہ سپرہے ،ایک عالمی عوامی اتحاد کی اشدضرورت ہے تاکہ وینوزویلا کے عوام اور انقلاب کا مضبوط دفاع اور تحفوظ کیا جائے اور عالمی سوشلزم کو پھیلایا جا ئے۔  سوشلزم کے خلاف شور کرنے والے پسماندگی، جہالت،بھوک،ننگ،افلاس،جنگ، قتل، جرائم، لوٹ مار، استحصال، دین  ،دھرم،ایمان،سب روپیہ، پیسہ اور اسکی حفاظت ہے اور اس فراڈ کے اوپر سبزچولا، پیلی ،سبز،کالی پگیں یا اسلام کا لیبل ہے اور بس۔

 ہمیں ڈٹ کر یہ بات عام کرنی چاہیے کہ اسلام یا کسی بھی مذہب کے نام پر کمائی اور دوکانداری کا  سلسلہ  فورا بند کیا جائے ۔  مذہب خاص شخصی معاملہ ہے ہر انسان کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ ۔مذہب ایک ذاتی اور جذباتی مسئلہ ہے اس پر بات یا پراپیگنڈے سے نہ صرف دوسرے عقائد کے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ اس سے تفرقہ بازی ،جنونیت اور قتل وغارت ہوتی ہے جسکی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ۔ریاست کو مذہب سے الگ کیا جائے تاکہ کسی ایک فرقہ یا مذہب کی بنیاد پر عوام کے طبقاتی استحصال کا خاتمہ کیا جا سکے۔  تمام مذہبی اور تفرقاتی مدرسوں، پارٹیوں اور تنظیموں پر فورا مکمل پابندی عائد کی جائے۔

 اس طرح ہم نہ صرف ترقی کی طرف ایک قدم اٹھائیں گئے بلکہ کفر ازم کے منافقانہ پراپیگنڈے کے استحصالی پردے کو بھی نوچ ڈالیں گئے اور تعصابات سے پاک خالص طبقاتی جدوجہد کو آگے بڑھیں جو تاریخ کا آج اہم ترین فریضہ اور وقت کی اشد ضرورت ہے۔

کتابوں کے لیے کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh