تحریر ۔ دانیال رضا

بازاری معیشت بمقابلہ منصوبہ بند معیشت  

پاکستان کے معرض وجود سے آج تک تقریبا چھیاسٹھ سالوں سے آمریت اور جمہوریت کے کھیل تماشوں میں مردار سرمایے کے نظام کو بچانے کی وحشت ناک سعی کی جا رہی ہے اس مالیاتی استحصا ل سے عوام کو بھوک ننگ اور افلاس کے عذاب میں زندہ درگور کر دیا گیا ہے اور سماج بجلی ، پانی ، گیس ، پٹرول ، علاج ، خواراک ، صفائی اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور برباد انفراسٹکچر سے بربریت کی اندھی کھائیوں میں دفن ہو رہا ہے جبکہ حکمران کڑور پتی نہیں بلکہ ارب پتی بنتے جا ر ہے ہیں کھبی ظلم اور کھبی آزادی کی آڑ میں سرمایہ داری نظام کو قائم رکھا جاتا ہے ۔

پاکستان میں موجود امریکی گماشتہ ،سرمایہ داری اور نیم جا گیردارانہ نظام کے خلاف یقیناًہر شخص نے اکثر وبیشتر طبقاتی جدوجہد کی بازگشت سنی ہو گئی ۔ اور خاص کر حالیہ یورپ اور امریکہ کی آکو پائی تحریکوں کے حوالے سے یہ ،، طبقاتی جنگ ،، کا نعرہ صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ اب ترقی یا فتہ ممالک میں بھی بہت مقبول عام ہو چکا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جب کال کوٹھری میں تھے تو انہوں نے بھی اس کا اقرار کیا کہ طبقاتی جدوجہد ناقابل مصالحت ہے اور انکی موت کی وجہ بھی دو طبقات کے در میان آبرومندانہ مصالحت کرانے کا نتیجہ تھی جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب ،، اگر مجھے قتل کر دیا گیا ،، میں کیا ۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ دو طبقات ،، مزدور اور سرمایہ دار ،، کے دومیان جنگ کا نتیجہ ہمیشہ کسی ایک کی فتح میں ہی ہو گا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اور متبادل نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ۔ 

کارل مارکس نے تما م انسانی تاریخ کو طبقاتی جدوجہد قرار دیا اور اسے حسابی اور سماجی سائنس کے قوانین سے داس کپیٹل میں طبقاتی استحصال کو عملی طور پرثابت کر کے تمام انسانی تاریخ اور دنیا بھر میں تہلکا مچا دیا جس کے بعد علامہ اقبال جیسے قدامت پرست  کو بھی لکھنا پڑا کہ مارکس ایک ایسا پیغمبر ہے جس کے پاس کتاب توہے لیکن نبوت نہیں ہے۔ 

مالیاتی حکمران اور انکا میڈیا تمام تر بھر پور پروپیگنڈے کے باجود آج تک مارکسی سوچ اور تحریکوں کو اس زمینی کرہ ارض پر ہر ظلم وجبر کے باوجود ختم کرنے میں ناکام اور نامراد رہا ۔ جوں جوں سرمایہ دارانہ استحصال بڑھ رہا ہے توں توں اس کے خلاف طبقاتی جدوجہدیں تمام دنیا میں ابھر رہی ہیں اور مختلف شکلوں میں مزید تیز ہو رہی ہے ۔

روس کے ٹوٹنے اور دیوار برلن کے گرنے پر طبقاتی جدوجہد اور اشتراکی انقلاب کے خلاف سامراجی حکمران کا کانوں کے پردے پھاڑ دینے والا جوشور تھا یونان ، اسپین ،آئر لینڈ، قبرص اور پرتگال کے بحرانوں اور عرب سرزمین ، ترکی اور برازیل میں انقلابی سورشوں نے اسے دفن کر دیا ہے لیکن عقل کے اندھے ، گونگے اور بہرے اب بھی شاید سوشلزم اور طبقاتی جدوجہد کی سچائی کو ماننے سے انکاری ہیں ۔ بدترین اندھا وہ ہوتا ہے جس میں دیکھنے کی کوئی خواہش بھی نہ ہو ۔ بہرہ وہ جو کچھ سننا بھی نہ چاہے اور گونگا وہ جو چند رٹے رٹا جملوں کا ہر وقت ورد کرئے ۔ یہی آج کے ناموار دانشوار اور مفکرین زرائع ابلاغ میں طبقاتی جدوجہد کے خلاف مکرو پراپیگنڈے کا زہر اگل رہے ہیں اور آج کی عوامی اور طبقاتی لڑائیوں کو تہذیبوں کے تصادم کے فریب سے گڈ مڈ کرنے کی ہر ممکن کوشیش کر رہے اور کہتے ہیں کہ انسانی تار یخ کا سفر ختم ہو چکا ہے ۔ صرف سرمایہ داری ہی اب انسانیت کا واحد مقدر ہے اور طبقاتی جدوجہد غیر موثر ہو چکی ہے ان اخباری بیونوں ، مکالوں اور کالموں کا عملی زندگی سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں کیونکہ انکی کالی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوتی کہ یورپ اور امریکہ کے اقتصادی بحرانوں سے جنم لینے والے دھماکہ خیز سماجی اور سیاسی خلفشار عالمی منظر نامے کو تبدل کرکے انہی کی سیاہی سے انکے منہ کالے کر دیتے ہیں ۔ دنیا بھر میں سامراجی خداوں کی تمام تر کوشیشوں کے باوجود سماجی اور اقتصادی بحرانوں بڑھتے اور پھلتے ہی جا رہے ہیں جو عوامی اور طبقاتی جدوجہد کو تیز ہونے کے لیے جواز اور ٹھوس حالات پیدا کر رہے ہیں ۔ 

ماضی کے سٹالنیسٹ جو آج سرمایہ داری کے پنڈت بن چکے ہیں انہوں نے بھی اپنے نام نہاد قومی جمہوری انقلاب کا نام چھوڑ کر اصلاحاتی این جی اوز میں سرمایہ کی حاکمیت کو قبول کر لیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف اس انسانی کرہ ارض پر بڑھتی معاشی ، سیاسی ، سماجی بد حالی اور انتشار کو تاریخ کے آئینہ میں دیکھیں تو معلوم ہو گاکہ جیتی ، آج ایک حقیقی تبدیلی اور سوشلسٹ انقلاب کی ضرورت ہے اتنی پہلے کھبی شاید نہ تھی اسی لیے در انقلابی قوتیں بھی آج اشتراکی انقلاب کو روکنے کے لیے انقلاب کے نعرے سے کھواڑ کررہے ہیں اور اور انقلاب کے نام پر در انقلاب کا کھیل ، کھیل رہے ہیں جس میں بھیانک ملائیت سے لے کر خوش لباس نام نہاد ترقی پسند بھی شامل ہیں ۔ ان حالات میں ہمیں انقلاب اور انقلابی جدوجہد کو سنجیدگی سے دیکھنا اور پڑھنا ہوگا تاکہ ہم اپنی منزل کا درست تعین کر سکیں تاکہ رجعت اور انتہا پسندی کی کھائی میں گرنے سے بچ سکیں ۔ 

طبقات اور طبقاتی جدوجہد کیا ہے ؟

انقلاب کے دشمن طبقاتی جدوجہد کی تعریف اور مفہوم کو نہایت مبہم اور غلط طریقہ سے پیش کرتے ہیں ۔ گرہوں اور سماجی پرتوں کو طبقات کہتے ہیں ۔جو بالکل غلط ہے کیونکہ طبقات ہمیشہ سے زرائع پیداوار کے گرد بنتے اور ٹوٹتے ہیں ۔ جب زمیں زریعہ پیداوار تھی اور اس کے گرد زندگی کی معاشی اور سماجی سرگرمیاں گھومتی تھیں تب یہی زمین انسانی ضروریات کو پورا کرنے کا آلہ کار تھی ۔ جسے ہم جاگیرداری نظام کہتے ہیں اس میں کسان اور زمیندار یا زرعی مزدور اور جاگیر دار ہوتے ہیں جن کے درمیان طبقاتی کشمکش تھی۔ یہ دو بنیادی طبقات تھے جبکہ موچی ، کمہار ، منشی سماجی پرتیں تو تھیں لیکن یہ بذات خود کوئی طبقات یا طبقہ نہیں ہیں بلکہ ملکیت سے محروم یہ تما م سماجی پرتیں محنت کش طبقے کا ہی اٹوٹ حصہ تھیں انکی الگ کوئی طبقاتی حیثیت نہیں تھی نہ ہی ہے اس لیے انکے درمیان کوئی طبقاتی تضاد موجود نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کی وجہ سے طبقاتی جڑت ناگریزہے ۔ جاگیرداروں کے خلاف جدید کسانوں او ر زرعی مزدور کی قیادت میں ہی بقیہ سماجی پرتوں نے ایک عوامی جدوجہد سے جاگیرداری کے خلاف بغاوت کر کے سرمایہ داری کی بنیاد رکھی جس نے جاگیرداری کی ہی کی کوکھ سے جنم لیا تھا ۔ انقلاب فرانس جاگیرداری کے خلاف سرمایہ داری کا ایک کلاسیکل انقلاب تھا ۔جو انسانی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے اور انسانی تاریخ کے میوزیم کا انمول حصہ ہے  آج بین الاقومی سطح پر دو واضح مضبوط طبقات موجود ہیں ایک سرمایہ دار جیسے بوژو ازی بھی کہتے ہیں اور دوسرا مزدور جیسے پرولتاریہ کہا جاتا ہے ۔ بوژوا طبقے سے مراد جدید سرمایہ داروں کا طبقہ ہے جو سماجی پیداوار کے زرائع کے مالک ہیں اور مزدوروں سے اجرت پر کام لیتے ہیں ۔جبکہ پرولتاریہ ملکیت سے محروم موجودہ زمانے کا اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا طبقہ ہے ۔ جس کے پاس اپنا کوئی زریع پیداوار نہیں اس لیے اسے زندہ رہنے کے لیے اپنی محنت بیچنا پڑتی ہے ۔جو اس کی زندگی کو قائم رکھنے کا واحد سبب ہے یعنی محنت مزدوری ۔ ان دونوں طبقات کے آپس میں متضاد مفادات ہیں ۔ جس کو طبقاتی لڑائی اور جدوجہد کہا جاتا ہے ۔ جس کو کارل مارکس نے حسابی اور سائنسی طریقہ سے یوں  ثابت کیا۔

مارکسزم کے تین بنیادی ستون ہیں جس میں تاریخی مادیت ،جدلیاتی مادیت اور مارکسی اقتصادیات ہیں تاریخی اور جدلیاتی مادیت میں تمام انسانی تاریخ میں سماج کے ارتقا کو جدلیاتی قانون سے ثابت کیا گیا ہے جبکہ مارکسسٹ اکانومی میں قدر اور قدر زائد مرکزی کردار کی حامل ہے ۔اور اسی سے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ سرمایہ درانہ طریقہ استحصال کیا ہے جو طبقاتی کشمکش کا محور ہے اور ناقابل مصالحت طبقاتی جنگ کا اعلان کرتا ہے ۔

قدر

محنت کرنے کی طاقت یا صلاحیت جب کسی قدرت کے عطیہ کو استعمالی جنس میں تبدیل کرتی ہے تو قدر کہلاتی ہے ۔ دنیا کی ہر جنس دو اشیا سے مرکب ہوتی ہے مادہ اور انسانی محنت ۔ مادہ قدرت کی طرف سے مفت عطا ہوتا ہے ۔ اس لیے جنس میں جو قدر پیدا ہوتی ہے ۔وہ صرف انسانی محنت کا نتیجہ ہے ۔قدرت مادے کی شکل بدلتی رہتی ہے ۔اور انسان بھی اپنی محنت سے مادہ کی شکل بدلتا رہتا ہے ۔

قدر دو اجزا کا مرکب ہے ۔مادہ اور انسانی محنت ۔ جس کا کلیہ ہے ۔ مادہ جمع انسانی محنت مساوی ہے قدر کے ۔ مثلا ، اگر کسی کپڑے کی فیکٹری میں دو لاکھ ، 20000روپے کے مساوی قدر موجودہ ہے تو وہ کپڑے میں دو لاکھ کے مساوی ہی قدر منتقل کر سکتی ہے ۔یہی حال دنیا کی ہر شے کا ہے جب کوئی قدر نئی جنس بنانے میں صرف ہوتی ہے تو استعمال ہوتے ہوتے یہ اپنی قدر کے مساوی قدر جنس میں پیدا کردیتی ہے اور خود خرچ ہو جاتی ہے ۔

کسی مشین کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ وہ جنس کی تیاری میں مکمل داخل ہوتی ہے لیکن اپنی قدر کا ایک جز ہی ایک دن میں جنس میں داخل کرتی ہے یہ عمل ہر روز برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ مشین اپنی تمام قدر دوسری نئی جنس میں منتقل کر دیتی ہے اور مشین کی عمر ختم ہو جاتی ہے ۔مشین کی قدر یعنی دو لاکھ روپے معیاری سماجی لازمی محنت کا دوسرا نام ہے ۔ مشین کسی شے میں وہ معیاری سماجی ضروری محنت منتقل کرتی ہے جو اس کے بنانے میں صرف ہوئی ۔ 

زندہ سرمایہ

زندہ سرمایہ وہ سرمایہ ہے جس سے مزدور کی کام کرنے کی صلاحیت یا طاقت خریدی جائے چونکہ مزدور کی کام کرنے کی طاقت اپنی قدر سے زیادہ قدر پیدا کرتی ہے اس لیے ہر کاروبا ر میں زندہ سرمایہ اپنی قدر سے زیادہ قدر پیدا کرتا ہے زندہ سرمایہ لچکدار ہو تا ہے اور کسی جنس میں یہی اصل قدر پیدا کرتا ہے جبکہ مردہ سرمایہ جس میں خام مال ، فیکٹری اور مشینیں وغیرہ شامل ہیں کوئی اضافی قدر پیدا نہیں کرتیں کیونکہ مردہ سرمایہ جنس میں جو قدر پیدا کرتا ہے وہ اپنی کل قدر کے برابر ہوتی ہے اس لیے یہ کسی منافعے یا قدر زائد کا باعث نہیں ہوتا کیونکہ یہ جنس کی تیاری میں اپنی تمام قدر آہستہ آہستہ منتقل کرکے ختم ہو جاتا ہے ۔ اس لیے منافعے اور قدر زائد کا اصل محرک انسانی محنت ہے جو مزدور پیدا کرتا ہے۔ 

انسانی محنت

انسانی قوتِ عمل کے اخراج کا نام انسانی محنت ہے جس کے کرنے سے انسان تھک جاتا ہے ۔یعنی محنت انسان کو اعصابی طور پر تھکا دیتی ہے ۔ اسطرح تمام محنتیں برابر ہوتی ہیں ۔وہ چاہیے جسمانی محنت ہو یا ذہنی محنت ،اعصاب شکن ہو تی ہیں۔ لیکن وہ انسانی محنت جو جنس میں قدر پیدا کرتی ہے ۔ یہ محنت سماج کے لیے ضروری اور رواج کے مطابق ایک خاص قوام ،، محنت کا عرق ،، سے جنس تیار کر تی ہے ۔ جو محنت کسی استعمالی جنس میں قدر پیدا کرتی ہے۔معیاری ضروری سماجی محنت کہلاتی ہے ۔

محنت کی نوعیت ۔۔۔۔۔۔ قدر استعمال ۔ ۔ ۔ ۔ محنت کمیت کے نقطہ نظر سے ۔۔۔۔۔۔ یہ انسانی محنت جنس میں قدر اصل پیدا کرتی ہیں ۔ جس میں محنت کرنے کی مدت اور شدت کو دیکھا جاتا ہے ۔ نہ کہ نوعیت کو جو جدا جدا بھی ہو سکتی ہیں ۔یہ انسانی قوت عمل کے اخراج کی پیمائش کا نام ہے ۔

مثلا ، ۔۔۔ دس پتلون برابر ہیں ایک کرسی کے جو برابر ہے ایک من گندم کے ۔ اس نسبتی زنجیر میں اجناس کو کیفیت ، نوعیت یا شکل کے اعتبار سے نہیں دیکھا جا رہا بلکہ کمیت ، شدت اور مقدار کے نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔یہ اجناس اس لیے مساوی ہیں کہ ان میں جو انسانی محنت کی مقدار موجود ہے وہ برابر ہے ۔ان تینوں چیزوں میں ایک شے مشترک ہے اور وہ ہے معیاری ضروری سماجی محنت ۔

محنت کیفت کے نقطہ نظر سے

کیفیت کے نقطہ نظر سے محنت کسی خاص نوعیت کی ہوتی ہے مثلا ، درزی یا موٹر مکینک کی محنت ۔درزی کی محنت ، نوعیت کے اعتبار سے موٹر مکینک کی محنت سے مختلف ہوتی ہے ۔ ہر مزدور کا اپنی صنعت میں کام کرنا اپنی محنت کو نوعیت کے سانچے میں ڈھالنا ہے ۔محنت کی نوعیت جنس کو کسی خاص استعمال کے قابل بناتی ہے اور جنس میں صرف قدر استعمال پیدا کرتی ہے ۔

محنت کمیت کے لحاظ سے

ہر محنت انسان کو اعصابی لحاظ سے تھکا دیتی ہے ۔اگر چہ محنت کی نوعیت جدا جدا ہوتی ہے لیکن ہر حال میں قوت عمل صرف ہوتی ہے ۔یہاں محنت کرنے کی مدت اور محنت کی شدت کو دیکھا جاتا ہے ۔محنت کا یہ رخ جنس میں قدر اصل پیدا کرتا ہے جس کو سرمایہ دار یا کوئی بھی مالک اپنے مزدور سے خریدتا ہے اور اجرت ادا کرتا ہے جس کا اتار چڑھاو ہی منافع کا تعین کرتا ہے ۔

قدر اصل

محنت کی کمیت کا اصل رخ قدر اصل پیدا کرتا ہے ۔استعمال کی جس شے پر بھی نظر ڈالی جائے وہ اس معیاری سماجی ضروری محنت اور وقت کا اظہار کرتی ہے جو اس کے بنانے میں صرف ہوتے ہیں جب کوئی شے سماج میں خریدہ وفروخت کے لیے بنائی جاتی ہے تو اس کی قدر کسی خاص کاری گر کی محنت سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس شے کی قدر اس معیاری محنت سے متعین ہوتی ہے جو سماج عام طور پر اس شے کے بنانے میں صرف کرتی ہے ۔ 

قدر زائد

اگر موجودہ سماج میں ایک مزدور کو اپنی کام کرنے کی طاقت یا صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے پانچ سو روپے درکار ہوتے ہیں اور یہ رقم پانچ گھنٹے کی معیاری سماجی ضروری محنت کا نتیجہ ہو تی ہے یا ان پانچ گھنٹوں کی مزدوری سے حاصل ہوتی ہے ۔تو ظاہر ہے کہ جب کوئی مزدور فیکٹری میں کام کرتا ہے تو صبح چھ بجے سے گیا رہ بجے دن تک تو وہ پانچ گھنٹے کی سماجی ضروری محنت کرکے صرف اتنی قدر پیدا کرتا ہے جو اس کی اجرت کے مساوی ہوتی ہے ۔ لیکن مزدور کی اس پانچ گھنٹے کی محنت سے کارخانے دار کو ایک پیسے کا بھی نفع نہیں ہوتا کیونکہ یہاں مزدوری اجرت کے بالکل برابر ہے ۔

مثلا ، ۔۔۔۔ فرض کریں ایک کپڑے کی فیکٹری میں مزدور چھ گھنٹے کام کرتا ہے اور یہ چھ گھنٹے وہ ضروری وقت ہے جس مدت میں یہ کسی جنس یعنی روئی میں سو روپے کے مساوی محنت کر کے ایک خاص قدر جنس یا روئی میں پیدا کرتاہے ۔ جس سے روئی کپڑا بن کر قابل استعمال ہو تی ہے۔ اگر یہ رقم مزدور کو اجرت کی شکل میں مل جاتی ہے تب اسکا مطلب یہ ہو گا کہ سرمایہ دار کے نفع کی شرح صفر ہے ۔اس طریقے سے سرمایہ دار کے لیے ملک کی صنعت و حرفت میں حصہ لینے کا کوئی مقصد نہیں رہتا ۔کیونکہ سرمایہ دار کا مقصد حیات قدر زائد پیدا کرنا ہے اس لیے وہ مزدوروں کے محنت کرنے کے اوقات کو ر زیادہ سے زیادہ طویل کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا منافع زیادہ سے زیادہ ہو ۔

مزدور کے 6گھنٹوں کا کام ضروری محنت ہے جس سے جنس قابل استعمال ہوتی ہے۔ اب مزدور کے کام میں ایک گھنٹے کا اضافہ ہو گیا یعنی 6گھنٹے کام سے مزدور نے اپنی مزدوری پیدا کی لیکن ایک 1 گھنٹہ زائد کام کر کے جو قدر پیدا کی وہ بلا معاوضہ سرمایہ دار نے لے لی ۔جس سے اس کو 3/12.6 فیصدی قدر مفت مل گئی اسی کا نام منافع یا نفع ہے جو سرمایہ دار ہمیشہ زیادہ سے زیادہ چاہتا ہے یعنی اس کا کاروبار میں بنیادی مقصد شرح منافع کا حصول ہوتا ہے ۔ اب 3گھنٹے کے زائد کام سے جو اب 9گھنٹے ہو گیا اور 6گھنٹے کی اجرت 100روپے ادا کی گئی جس سے منافع 50 فیصدہو گیا ۔ اور جب کام 12گھنٹے ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ دار کا منافع 100فیصد ہو گیا ۔ اس سے ثابت ہوتا کہ اگر سرمایہ دار مزدور کی محنت کے برابر اسکو اجرت ادا کرئے گا تو اس کو کوئی پیسہ نہیں ملے گا اس لیے مزدور کی جتنی محنت سرمایہ دار غصب یا چوری کرئے گا اس کا شرح منافع اتنا ہی بڑھے گا آسان الفاظ میں سرمایہ دار کا نفع اصل میں مزدور کی چوری کی ہوئی محنت یا اجرت ہے ۔ لہذا وہ وقت جس میں مزدور سرمایہ دار کے لیے کام کرتا ہے اور اس سے جو زائد پیداوار ہوتی ہے اس پیداوار کی قدر کو قدر زائد کہتے ہیں ۔

ناقابل مصالحت طبقاتی جدوجہد

سرمایہ دار کا فائدہ اس میں ہے کہ وہ مزدور کے کام کے اوقات کور زیادہ سے زیادہ بڑھائے یا انکی زیادہ سے زیادہ محنت کو کم سے کم وقت میں جدید آلات کے زریعے حاصل کرئے تاکہ مزدور زیادہ وقت یا زیادہ محنت سے زیادہ قدر زائد پیدا کر سکے جبکہ مزدور کا فائدہ اس میں ہے کہ اپنے کام کے اوقات کار اور محنت کو گھٹائے یا محنت کے عمل اخراج کو بچائے تاکہ مزدور کے کام کرنے کی طاقت کم صرف ہو اور وہ لمبا عرصہ کام کرکے اجرت حاصل کرتا رہے جو اسکی زندگی کی واحد ضمانت ہے ۔اس طرح یہاں مزدور اور سرمایہ دار کے مفاد میں ٹکراو اور تضاد پیدا ہوتا ہے ۔دونوں طبقات میں سیاسی کشمکش شروع ہوتی ہے ۔مغرب کے مزدوروں نے کئی دہائیوں تک سرمایہ دار طبقے سے سیاسی جنگ کی تب مزدوروں کے کام کے اوقات کار کا تعین ہوا ۔اسی لیے تو کارل مارکس نے لکھا تھا کہ طبقاتی جدوجہد نا گزیر طور پر سیاسی جدوجہد ہوتی ہے ۔ ان دو نوں طبقات کے درمیان جس میں مزدور اپنی زندگی اور صحت کے لیے اپنی محنت بچاتا ہے جسے سرمایہ دار اپنے زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے جلد از جلد مکمل نچوڑتا ہے یعنی ایک استحصال زدہ ہے اور دوسرا استحصال کرتا ہے انکا متضاد سمتوں میں معاشی جدوجہد کرناانکے متضاد سیاسی اور سماجی مفادات کا غماز ہے جو ناقابل مصالحت طبقاتی لڑائی کا آغاز اور اسکی کی بنیاد ی وجہ ہے ۔

کارل مارکس کا قدر زائد کا نظریہ سرمایہ داری اور اشترکیت میں تصادم کو ٹھوس حسابی قوانین سے بیان کرتا ہے اور طبقاتی جدوجہد کو ناقابل مصالحت ثابت کرتا ہے ۔

آج پاکستان یا دنیا بھر میں مزدوروں سے آٹھ گھنٹے کام لیا جاتا ہے ان آٹھ گھنٹوں میں مزدور صرف ایک سے دو گھنٹے اپنے لیے کام کرتا ہے جس کی اسکو اجرت ملتی ہے بقیہ چھ سے سات گھنٹے سرمایہ دار کے لیے قدر زائد پیدا کر تا ہے یعنی نفع مہیا کرتا ہے اور پاکستان کی نجی فیکٹریوں میں تو کام کے کوئی اقات کار ہیں ہی نہیں جہاں مزدور بارہ بارہ گھنٹے یا اس سے بھی زیارہ گھنٹے کام امیروں کی عیاشیوں کے لیے کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ سرمایہ دار محنت کا ضروری وقت کم سے کم کرنے کے لیے اورکثیر قدر زائد بٹورنے کے لیے انجینئر وں اور سائنسدانوں کو اجرت دے کر ان سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار کرنے کے لیے جدید آلات اور مشینیں تیار کرائی جاتی ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مزدورں کے لیے قابل استعمال اجناس یا پیداوار جو پہلے پانچ گھنٹے کی سماجی ضروری محنت سے پیدا ہوتی تھی اس کو مشینوں اور سائنس کی مددسے دو گھنٹوں کی سماجی ضروری محنت سے پیدا کر لیا جاتا ہے ۔یعنی اب مزدروں کی پہلے والی پانچ گھنٹے کی محنت مشین کے زریعے دو گھنٹوں میں نچوڑ لی جاتی ہے یعنی جدید آلات سے انسانی محنت پہلے سے کہیں گاڑی ہو جاتی ہے جہاں پہلے ایک مزدور ساٹھ سال کام کرسکتا تھا اب وہی کام پچیس سال میں کرتا ہے جس کے بعد اسکی محنت کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ۔ اس لیے سرمایہ دار آلاتی اور جدید مشینی ترقی کا دلدادہ ہوتا ہے جو انکے بے تحاشہ نفع کا زریع ہیں ۔ لیکن جب سائنس اور آلات کی ترقی سرمایہ دار کے نفع سے خارج ہوتے ہیں یا مزید نفع کا باعث نہیں ہوتے تب سرمایہ دار انکو بے دریغ فنا بھی کر دیتا ہے اس لیے آج ترقی یافتہ دور میں بھی مزدوروں کی وہی حالت ہے جو تاریخ کے تاریک دور میں غلاموں کی ہوا کرتی تھی ، یعنی موجودہ سرمایہ دار ی جدید غلامی کی ایک کڑی ہے یہ موجودہ نظام بھی محنت کی غلامی یا طبقاتی استحصال کا نظام ہے ۔

سرمایہ دار اپنے منافعوں کی شرح کو مسلسل بڑھانے کے لیے مختلف طریقہ کار اپنا تا ہے تاکہ وہ اس محنت کی لوٹ گھسوٹ کو مستقل جاری رکھ سکے اور مزدور اس کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں اس غرض کے لیے وہ محنت کش عوام کو سرمایہ دارانہ جمہوریت ، پارلیمنٹ ، فوج ، میڈے ،عدلیہ اور مختلف ریاستی اداروں میں جکڑ دیتا ہے تاکہ عوام کی مالیاتی استحصال کے خلاف ہر مذاحمت کو کچلا جا سکے ۔یہ سرمایہ دارانہ ریاستی ڈھانچہ بوژوازی نے خود تاریخی طور پر وقت کی ضرورت کے مطابق مالیاتی استحصال کے لیے تعمیر کیا ہے جس میں کھبی جمہوریت کھبی آمریت کھبی ملائیت اور کھبی سوشل ڈیموکریسی کی آڑ میں شرح منافع کو ہمیشہ قائم رکھا جاتا ہے موجود ریاستی ڈھانچے منڈی کی معیشت کو قائم رکھنے اور جمہوریت سیاسی انتظام کو چلانے کا طریقہ کار ہیں ۔ 

پاکستان اور عالمی دنیا میں تمام سیاسی معاشی اور سماجی بحران اسی شرح منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے بحران ہیں کیونکہ ایک طرف وافر مقدار میں زائد پیداوار ہے جو دنیا بھر کے تمام انسانوں کی تمام ضروریات زندگی کو آسانی سے پورا کر سکتیں ہیں لیکن یہ عوامی غربت کی وجہ سے بازار میں فروخت کے بعد شرح منافع کی ہوص کو پورا نہیں کر سکتیں اس لیے ان کو ضائع اور برباد کر دیا جاتا ہے جس سے غربت اور محرومیاں بڑھ رہی ہیں۔ نفع اور اپنی عیاشیوں کی خاطر حکمران انسانی معاشرے کو بربریت کی اندھی کھائی میں دھکیل رہے ہیں ۔ چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز نے عوام کی قو ت خرید کو تباہ کر دیا ہے جس سے سرد بازاری نے سیاسی اور سماجی بحرانوں کو پروان چڑھایا ۔ اس لیے کہ سیاست معیشت کا ہی عکس ہے اور یہ موجودہ سیاسی ، سماجی اور معاشی نظام بدلے بغیر اس کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے ۔

آج اس لوٹ کھسوٹ اور استحصالی سماج کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ استحصال زدہ عوام کو مارکسسٹ اور سوشلسٹ بنیادوں پر استحصال کرنے والوں کے خلاف منظم کیا جائے ایک انقلابی پارٹی جو مضبوط سماجی سائنسی نظرایات پر مبنی ہو اور اپنی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوامی تحریک کو ناقابل مصالحت طبقاتی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اشتراکی انقلاب کی جرات مند جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے ۔ آج دنیا کے پاس واحد ایک حل ہے سوشلزم یا پھر بربریت . جئے مزدور

کتابوں کے لیے یہاں کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh