تحریر ۔ دانیال رضا

نومبر دنیا کے پہلے مزدور انقلاب کی سالگرہ کا مہینہ ہے جب عوام نے وقت اور تاریخ کا دھارہ موڑ کر اپنی طاقت کالوہا پوری دنیا کو منوایا تھا ۔ اس وجہ سے اس دن پر عالمی مزدور

جشن مانتے ہیں  جبکہ عالمی حکمران ماتم کرتے ہیں ۔7 سات نومبر کو تمام دنیا کی طرح پاکستان میں بھی بائیاں بازو, پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں یوم بالشویک ازم بڑے شاندار طریقہ سے مناتے  ہیں۔

دیواربرلن کے گرنے کے بعد مالیاتی سرمایہ کے تمام ناخداوں نے دنیا کو یہ پیغام بڑے غرور اور تکبر سے دیا کے آج سوشلزم ختم ہو گیا۔ امریکہ نے اسکوانسانی تاریخ کے خاتمے کا نام دیا اور سرمایہ داری کو ایک ابدی نظام کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیاتھا۔ لیکن دیوار برلن کے گرنے کے جشن کے ابھی10 دس سال بھی مکمل نہ ہوے تھے اور امریکہ میں صدر بش اور ریپبلیکن (سخت گیر سرمایہ داروں کی پارٹی)کی موجودگی میں ہی امریکہ کی کنپٹی پر لاطینی امریکہ  میں  انقلاب کی سرکشیاں ہونے لگیں۔ جس کا آغاز وینوزویلا سے ہوا جو بولیویہ ، مکسیکو ، چلی ، ایکواڈوراور پورے لاطینی امریکہ تک پھیل چکا ہے۔اور انہی تحریکوں کا اثر ہے کہ امریکہ کے اندر ریپبلیکن کا تختہ دھڑام ہو گیا ہے۔ انہیں سرخ ہواوں  کی وجہ سے  امریکہ میں بھی عوامی تحریکوں نے سر اٹھا لیا ہے جو ابھی عراق کی جنگ اور دوسری جنگی پالیسیوں کے خلاف اور غیرملکیوں کے خلاف قوانیں اور دوسری سیاسی اور سماجی اصطلاحات کے خلاف متحرک ہیں جو مستقبل میں انقلابی تحریکوں کا پیش خیمہ بنے گئیں ۔

ہم اکثر تمام میڈیے پر سوشلزم،کیمونزم اور انکے پیروں کاروں کے خلاف سخت گیر پراپیگنڈہ سنتے ہیں کہ یہ ناکام ہو چکا ہے ۔ یہ کفر ازم ہے۔ یہ ایک خیالی سوچ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اور وہ  افراد اس پر یقیں بھی کر لیتے ہیں جن  کا علم زیادہ اور وسیع   نہیں ہوتا یا پھر انکو مارکسزم اور روس کے انقلاب اور اسکی زوال پذیزی پر مواد میسر نہیں ہوتا۔ جس سے وہ حکمرانوں کی ہی زبان بولتے ہیں ۔

 آج کا تمام میڈیا   خود سرمایہ داروں کا یا ان کے ایجنٹوں کا ہے اور یہ کھبی بھی نہیں چاہیں گئے کے ان کے خلاف کوئی بھی سچ یا حقائق منظرے عام پر آے۔ جس سے انکے جھوٹ، فریب اور استحصال کا پردہ چاک ہو۔اور عوام ان سے نفرت کرنے لگیں اور انکے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جس سے انکی ظلم پر قائم حکمرانی کو چیلنج ہو جائے۔ اس لیے وہ عوام کی ہر جدوجہد، آواز اور آزادی کو بھرپور دباتے ہیں۔ سوشلزم عالمی محنت کشوں اور عوام کا اپنے حقوق اور آزادی کا نظریہ ہے۔ 1917 انیس سو  سترہ  کا روسی انقلاب اس کا عملی اظہار تھا۔ جو جوزف سٹالن کی سوشلسٹ  نظریہ سے غداری اور جرائم کی بالی چڑھ گیا ۔ اور عالمی سامراج کو موقعہ مل گیا کہ  وہ سوشلزم کے خلاف زہریلا اور جھوٹا پراپیگنڈہ کر سکیں۔ لیکن عوام اور محنت کشوں کو خود سچ اور حقائق تلاش کرنے ہیں۔

پرانے کیلنڈر کے مطابق اکتوبر اور نئے کے حوالے سے سات نومبرروسی انقلاب کا دن ہے۔  اس دن انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ محنت کش طبقے نے اپنی آزادی کی خواہش کو مارکسزم کی سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔ شوشلزم کو عمل میں ڈھالنے کا نام بالشویک ازم ہے۔اور انسانی مانگ کے خاتمے کا نام کیمونزم یا مارکسزم ہے۔

آج تک کی تمام ترقی جہاں محنت کشوں کی مرہون منت ہے وہاں یہ آج تک کے انسانوں کی زندگیوں کی ضمانت بھی رہی ہے۔ یہ انسانی ترقی کسی ایک مسلسل،متوازن اور غیر تغیر پذیز عمل نہیں بلکہ اس کے الٹ ایک جدلیاتی عمل ہے۔ جس کی ترقی کبھی تیز،سست اور اتار چڑھاو سے جاری رہی ہے۔ اور انقلابات نے انسانی معاشروں کو انتہائی مجزاتی ترقیاں بخشیں۔  ہمشہ جب بھی معاشرتی ارتقا ٹھہراوکا شکار ہوا تو عوامی بغاوتیں ابھریں۔اور انقلابات آئے۔ روم میں غلاموں کی بغاوتیں،عہد وسطی میں کیمونسٹوں کی سرکشیاں1971 انیس سو اکہتر میں پیرس کیمون اور 1905انیس سو پانچ میں روس کا انقلاب ۔ اسی طرح غلاموں کے بعد جاگیردارانہ نظام  پھر سرمایہ دارانہ نظام اور پھر عالمی مالیاتی نظام جو ایک کے بعد ایک آتے چلے گئے جس کے بعد دنیا میں شوشلسٹ تحریکیں ابھریں ۔ اور1917 انیس سو سترہ میں روس کے کیمونسٹ جو بالشویک کہلاتے تھے لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں شوشلسٹ انقلاب کی فتح سے ہم کنار ہوے۔

اس انقلاب نے دنیا میں اس چیز کو ثابت کر دیا کے مارکسزم ایک یوٹوپیائی(خیالی) نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی اور انسانی ترقی کے لیے آج ناگزیذ ضرورت ہے۔ اسی انقلاب نے روس جیسے ترقی پذیز اور پسماندہ ملک کو جس کے صنعتی مزدور صرف پانچ فیصد سے بھی کم تھے چند سالوں میں دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور بنا دیا ۔ سرمایہ داری، جاگیر داری اور منڈی کی معیشت  کے خاتمے جو سرمایے کے حصول اور شرح منافع میں اضافے کی بجاے منصوبہ بندی کی معیشت  جو انسانی ضرویات کی باز یابی کے لیے ہوتی ہے  نے روس کو خلائی نظام اور دوسرے کئی شعبوں میں دنیا میں اول حثیت دلائی۔ کم سے کم وقت میں یہ بلند ترین ترقی آج تک کی تمام انسانی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہو ئی اور اس سے  پہلے اتنی شاندار ترقی کھبی کس نظام حکومت میں نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی انسانی تاریخ میں کھبی دیکھی گئی  تھی  ۔

انیس سو نوے تک یو ایس ایس آر اسٹیل، مشین، ٹریکٹرز۔ ٹرکوں ۔سیمنٹ، کوئلہ، گیس، تیل ، ریلوئے، انڈرگرونڈ ٹرین(میترو) سمت 30 تیس اہم شعبوں اور بنیادی صنعتوں میں دنیا کی سب سے زیادہ پیداوار کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد 25پچیس  سالوں بعد مغربی ممالک کی نسبت روس نے1975 انیس سو پچہتر تک دو گناہ ترقی کی۔ فی کس آمدن میں ایک160 سو ساٹھ فیصد کا اضافہ ہوا۔ سماجی خرچ کی مد میں400 چار سو فیصد کا اضافہ ہوا۔ 5600000پانچ کڑوڑ ساٹھ لاکھ فلیٹ تعمیر ہوے۔ بنیادی اور ثانوی تعلیم تمام آبادی کے لیے لازمی اور مفت تھی ۔ شرح خواندگی ننانوے فیصد تھی ۔ دنیا میں سب سے زیادہ ڈاکٹر،انجنیرز،سائنس دان،اور ماہرین روس کے پاس تھے۔ روس ہی کو دنیا میں سب سے پہلے چاند پر جانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اور اس نے خلائی تیکنیک میں امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ چند سالوں میں ترقی کی شرح28 اٹھایس فیصد سے30 تیس فیصد تھی۔ جو آج تک کوئی سرمایہ دار ملک کرنے سے قاصر ہے۔ بے روز گاری یہاں ایک جرم تھا۔ روسی مزدوروں کا اپنی ضروریات زندگی پر خرچ کے بعد بھی تنخواہ کا50 پچاس فیصد بچ جاتا تھا۔ تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی اول ذمہ داری تھی۔

روس کو ترقی کی اس عظیم سطح پر لے کے جانے کا عمل صرف انقلاب ہی کر سکتا تھا۔ اس کے باوجود کے پہلی عالمی جنگ نے روس کو تباہ برباد کر دیا تھا ،اور انقلاب کے خوف سے 21 اکیس سامراجی ممالک نے فوجی جارحیت سے رہتی سہتی کسر بھی پوری کر دی اور روس کو کسی بھیانک کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔ اور پھر بالشویک انقلاب نے اس کھنڈر کو عالمی طاقت بنانے کا مجزہ کر دیکھایا جو آج تک کی انسانی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔ تقریبا 350000ساڑھے تیں لاکھ کی بد حال فوج کو انقلابی عمل کے ذریعے صرف18 اٹھارہ ماہ کے قلیل عرصے میں دفاع اور جنگ کے وزیر ٹراٹسکی نے تیس لاکھ کی مضبوط عوامی فوج میں تبدیل کر کے سامراجی یلغار کو شکست فاش دی۔ اس جنگ میں امریکہ، برطانیہ ، فرانس کے مزدوروں نے روس کے حق میں ہڑتالیں کر دیں۔ اور اپنی ہی فوج کی سپلائی بند کر دی ۔ بہت سے فوجیوں نے جنگ کرنے سے انکار کر دیا، اور بہت سارے فوجی جنگ چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔ جوالائی 1918انیس سو اٹھارہ میں لینن نے امریکی مزدوروں کو خط لکھا۔، ہم کو آزاد کراوں ،ہم نے اپنا سب کچھ اس انقلاب پر لگا دیاہے یہ کوئی مہم جوئی نہیں ہے بلکہ وقت اور عوام کی ضرورت تھی۔

اس کے بعد جرمنی، فرانس، اٹلی،ہنگری، اور برطانیہ میں انقلاب پھوٹ پڑے لیکں اپنی منزل سے ہم کنار نہ ہونے کی وجہ سے روسی انقلاب تنہا رہ گیا۔ جرمنی میں نومبر 1918 انیس سو اٹھارہ، جنوری1919 انیس سو انیس، مارچ1921 انیس سو اکیس، اور اکتوبر 1923انیس سو تییس میں  انقلابات تھے ۔

تیسری انٹر نیشنل  کے مرکزی مجلیس عاملہ میں لینن نے کہا تھا۔، جرمنی کا دل برلن ہے، اور جرمنی یورپ کا دل ہے۔ اور جرمن انقلاب کے لیے اگر ہمیں روس کا انقلاب قربان  بھی کرنا  پڑا تو ہم کر دیں گیں ۔ اس لیے کہ لینن ایک عالمی انقلاب کا حامی تھا اور  ہر سائنس کی طرح مارکسزم بھی  عالمی ہے۔ انقلاب کے بعد اس نے کہا تھا کے، آج ہم نے عالمی سرمایہ دارانہ غلامی کی زنجیر کو اس کے کمزور تریں حصے سے توڑ دیا یعنی اس نے عالمی مزدور انقلاب کو  کھبی بھی نظر انداز نہیں کیا  ۔ لینن نے انقلاب کی مضبوطی اور فروغ کے لیے چار اصول بناے تھے۔

 پہلا ، ہر ریاستی اہلکار پنچائتوں سے منتخب ہو گا اور ان کو ہی جواب دہ ہو گا۔

دوسرا ہر حکومتی اہلکار اپنی مدت پوری ہونے پر تبدیل ہو گا اور یہ اہلکار پنچائت میں اپنی حمائت کھونے سے یہ پہلے بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

 تیسرا ہر سرکاری  اہلکار کی تنخواہ ایک عام ہنر مند مزدور سے زیادہ نہ ہو گی ۔

 چوتھا کوئی الگ ریاستی فوج نہ ہوگی بلکہ تمام عوام مسلح ہونگے۔

  یہ بالشویک انقلاب چھ سال اپنی کلاسیک شکل میں موجود رہا۔ اس انقلاب کی کمزوری              میں عالمی  انقلاب   کے نہ آنے سے  تنہا رہ جانا ۔ جنگی حملوں سے دفاع میں بہت سے کیڈروں کی موت کی وجہ سے بہت سے مفاد پرست پارٹی میں چور دروازوں سے شامل ہونے لگے۔ جنگی تباہی سے معیشت  برباد ہو گی ۔ اور ملک قحط کا شکار ہو گیا۔ اس مانگ اور قلت نے ریاستی عناصر کو مضبوط کیا جو افسر شاہی کا جواز بنی ان بدتر  حالات نے جہاں بیوروکریٹک ڈھانچے کو  ٹھوس  سماجی بنیادیں مہیا کئیں وہاں سٹالین نے اس کو شعوری شکل دی ۔ 

اینگلز لکھتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جہاں فن سائنس اور حکومت ایک اقلیت کی ملکیت میں ہوں وہ اقلیت انکو اپنے مفادات کے حصول کے لیے غلط استعمال کر تی ہے۔ اور پوزیشن میں بددیانتی کرئے گی۔ اور ایسا ہی ہوا۔1930 انیس سو تیس کے بعد سٹالنیسٹ افسر شاہی نے مارکسزم سے انحراف کرتے ہوے تمام لینن کے اصولوں کو ختم کر دیا اور اپنی افسر شاہی کو مضبوط کیا۔ اس نے قومی شوشلزم کا تعصاب پسند اور غیر سائنسی غدارانہ نظریہ پیش کیا ۔ نظریہ مسلسل انقلاب کی جگہ قومی جمہوری انقلاب کا فرسودہ  نظریہ پیش کیا گیا ۔ تیسری  انٹرنیشنل کا سامراجی ممالک سے مصالحت کر کے   خاتمہ کر دیا گیا۔1928 انیس سو اٹھاتیس تک انقلابی سنٹرل کمیٹی کے 24چوبیس میں سے23 تائیس ارکان کو قتل کروا  دیا ۔ اس سے نہ صرف انقلاب پذیری کا عمل شروع ہو کر گہرا ہوا  بلکہ عالمی انقلابات کے راستے بھی بند ہو گئے۔ اور جو دنیا میں جو چند انقلابات آئے بھی ان کوسٹالننزم کی وجہ سے سخت نقصان ہوا جن میں چین ،کیوبا ، ویتنام ،کمبوڈیالاوس، موزبیق، انگولا۔ اور دوسرے ممالک تھے جہاں ریاستی بغاوتیں اور گوریلاجنگوں کے زریعے انقلاب لائے گئے جس میں محنت کش عوام کی شمولیت اور شرکت نہایت کم اور غیر موثر تھی جس وجہ سے یہاں سٹالنسٹ  یا اس جیسی افسر شاہانہ حکومتیں نمودار ہوئیں جو زیادہ پائیدار اور مستحکم نہیں تھیں جس کی وجہ یہاں ترقی میں زیادہ یا مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا  ۔

سٹالن نے سامراجیوں سے بقائے باہمی کے جعلی نظریے کے تحت مفاہمت کر لی تھی۔ سٹالنزم کا نظریہ ناقص، غیر سائنسی اور غیر مارکسی نظریہ تھا جس کو وقت اور تاریخ نے غلط ثابت کرکے تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں پھنک دیا جبکہ 70ستر سال تک جو یہ نظریہ قائم رہا اس کی وجہ بالشویک انقلاب تھا اور اس کی معاشی حاصلات اور ثمرات تھیں  جس نے سٹالنزم کے جرائم کو چھپائے رکھا  ۔ وگرنہ یہ اپنے آغاز ہی سے ایک مسترد سوچ تھی جس نے ایک عظیم انقلاب کو شکست سے دو چار کر دیا۔۔

کتابوں کے لیے لنکس یہاں کلک کریں

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh