تحریر ۔ دانیال رضا 

اکیس مئی دو ہزار تیرہ کو لکھا گیا یہ مضمون ایک بار پھر شائع کیا جا رہا ہے ۔
پچھلے دنوں سے چند شرپسندوں نام نہاد صحافیوں نے فراینکفرٹ میں پریس کلب کو انجمن تاجران بنا ڈالا ہے انہوں نے ہمارے خلاف اسلام دشمن ، ملک دشمن ہونے کا پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے ۔ جس کو یہ لندن اور لوکل اخبارات کی زنیت بھی بنا رہے ہیں جو جرمنی اور یورپ میں ہمارے بڑھتے ترقی پسند نظریات کی طاقت کی علامت ہے جو رجعت پسندوں اور جعلی صحافیوں کی کمزوری اور شکست کا ثبوت ہے ۔
ویسے تو ہمیں ان افراد کو جواب دینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ یہ چند افراد فرینکفرٹ یا جرمنی میں ماسوائے سرکاری حلقوں کے کہیں اورمعروف خاص نہیں ہیں اور انکی تمام جدوجہد بھی سرکاری اداروں کی چمچہ گیری اور ان کے ساتھ کوٹ ، پنٹ اورٹائی کے ساتھ تصویریں اتار کر پریس میں چھپوانے کا جنون کمال ہے جو اسطرح اپنی علمی اور عملی احساس کمتری اور جہالت کی تسکین کرتے ہیں ۔ لیکن میں اس کا جواب اس لیے دے رہا ہوں یا دینا چاہتا ہوں ، تاکہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے مضبوط نظریات اور عوامی نقطہ نظر کو مزید واضح کر سکوں ۔اور خاص طور پر ملک اور مذہب کے حوالے سے کہ ہم مارکسٹوں کیا سوچ رکھتے ہیں ۔ 
جناب والا ۔ جس طرح آپ نے چیزوں کو بنیاد پرستانہ اور رجعتی بنا کر نہایت بے ہودگی سے پیش کیا چیزیں ایسی قطعی نہیں ہیں نہ ہوا کرتی ہیں۔ آپ نے جو بیان کیا اور جس طرح بیان کیا وہ نہایت تعصب پسندانہ ہی نہیں بلکہ غیر حقیقی بھی تھا جس سے عام عوام شاید کچھ سیکھنے اور سماجی ترقی میں ہاتھ بٹانے کی بجائے اس سے سماجی پسماندگی اور تخریب کا ر ی کا اندیشہ زیادہ ہے۔ جو کسی بھی صحافی اور دانش مندی کے دعویدار کو زیب نہیں دیتا اور ایسا تو بازاری لکھاری بھی کرنے سے گزیر کرتے ہیں ۔
جنہوں نے ہمیں اور ہمارے رجحان کو ملک اور مذہب دشمن قرار دیا انہوں نے شاید ملکوں ، مذہبوں اور انسانوں کی تاریخ نہیں پڑھی کیونکہ انسانی تاریخ ان ملکوں ، مذہبوں ، نسلوں ، قوموں ، زبانوں سے بہت پرانی اور اعلی ہے ۔ جب یہ سب نہیں تھے ۔ انسان تب بھی تھا اور انسان نے ہی ان سب کو اپنی بھلائی اور بہتری کے لیے اسے وجود بخشا اور استعمال کرکے سماجی ترقی حاصل کی ۔ کیونکہ ان تمام چیزوں کا تعلق انسانی زندگی سے ہے موت سے نہیں ہے ۔ اگر انسان ہو گا تو تبھی ملک بھی ہوگا اور مذاہب ، قوموں ، نسلیں ، زبانیں بھی ہوں گئیں ۔ انسان کے بغیر ان تمام چیزوں کا وجود ممکن نہیں ۔ ان سب کا وجود اتنا پرانا نہیں ہے جیتا انسان کا ہے ۔ یہ تمام چیزیں انسان کی پیدائش کے بعد آئیں۔ اس لیے میرے نزدیک مقدم انسان ہے ۔ میں تو تاریخ اور فلسفے کا ایک معمولی سا طالب علم ہوں لیکن آپ تواس کے استاد ہوں گئے جو اتنے بلند دعوے سے ہم پر الزمات لگادئیے (یعنی ملائیت کی طرح فتوے صادر کر دئیے جس سے آپ کی سوچ کی پراگندگی کا ااظہار ہو تا ہے ۔ ) آپ کو تو سب معلوم ہی ہوگا ۔ یہ تمام عناصر انسانی تاریخ کے ارتقا میں ہمیشہ تغیر کا شکار رہے اور رہیں گئے اور یہ کھبی مستقل اور ٹھوس نہیں رہے ہیں اور نہ ہی آئندہ رہیں گئے ۔ ان میں اتار چڑھاو ، ٹوٹ پھوٹ ، تعمیر وتخریب ، پیدائش اور موت کا عمل مسلسل جاری ہے ۔ اس سے کوئی تھوڑا سا پڑھا لکھا بھی اختلاف نہیں کرئے گا ماسوائے ملا کے وہ دینی درسگاہوں میں ہو یا صحافت کی بیمار گاہوں میں ۔
کیا کھبی کسی نے صحراوں ، پہاڑوں ، دریاوں ، سبزاروں اور آبشاروں کو ملک ،مذہب یا کچھ اور کہا ہے میرے خیال میں نہیں کیونکہ انسان کی پیدائش کے بعد ہی ان سب کو اپنے نام تک مل پائے یعنی انسان کاوجود ہی ان سب کی پہچان بن اور ہے ۔ یہاں تک کہ خدا کی پہچان بھی انسان سے ہی ہوئی ۔ ملکوں یا قومی ریاستوں کی تاریخ تو ویسے بھی اتنی پرانی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی مقدس ہے جتنی آپ نے بنا ڈالی۔ ہم کسی اور ملک کے بارے میں بات نہیں کرتے بلکہ اپنے ہی ملک کو لے لیتے ہیں۔ پاکستان کو بنے ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی ۔ کیونکہ تاریخ کے پروفیسر اس چیز کو مانے گئے کہ 64 چونسٹھ سال کسی ملک اور قوم کے لیے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوتا اور پھر ان چونسٹھ سالوں میں اس ملک کا ایک حصہ بھی ٹوٹ کر الگ ہو چکا ہے ۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش ہے جو پاکستان کے نام سے بھی نفرت کرتا ہے اور اس کے نام لیواں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں ۔ جس سے ہماری جغرافیائی شکل تبدیل ہوگئی ۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو آج جو پاکستان ہے وہ انیس سو اکہتر کے بعد والا ہے کیونکہ پہلے والی جغرافیہ شکل اب نہیں ہے اس لیے میرے خیال میں ہمارے پاکستان کو اصل میں اکتالیس سال ہوئے ہیں چونسٹھ سال نہیں کیونکہ آپ کے ہی مطابق آپ کسی بھی ملک کی تعریف اس کی مقدس سرحدی لاینوں کے حوالے سے ہی کرتے ہیں انسانی اور عوامی حوالے سے نہیں ۔ اس لیے پاکستان کا بے دریغ انسانی جانوں اور سرمایے سے دفاع بھی کیا جاتا ہے اور بے جان ملک کے جعلی تقدس کو زندہ عوام پر ترجیح دی جاتی ہے اسی لیے تو آپ کہتے ہیں کھاس کھائیں گئے بم بنائے گئے آپ کا اصل مطلب بھی یہی ہے کہ عوام کو کھاس کھلا ئیں اور خود عیاشی کریں ( جبکہ کوئی ملک اور قوم صرف کسی زمینی ٹکڑے پر لائین لگانے سے اور اس کے وحشیانہ دفاع سے نہیں بنتے بلکہ خوشحال عوام اور جدید سماجی ڈھانچے سے بنتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے جس کی اس مضمون میں گنجائش نہیں)۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جس میں میں غلط بھی ہو سکتا ہوں کیونکہ میں نہ تو کوئی اتھارٹی ہوں اور نہ ہی کو ئی پروفیسر اور نہ ہی آپ کی طرح کوئی عظیم دانشوار ہوں ۔ لیکن میں جمہوری حوالے سے اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتا ہوں اگر وہ حق آپ مجھے دیتے ہیں 
آپ جس پاکستان کا دشمن ہمیں کہتے ہیں کھبی اس کی حالت زار پر سنجیدگی سے غور بھی کیا۔ کہ وہاں عوام کا کیا حال اور کیا چال ہو چکی ہے ۔ کس معاشی ، سیاسی اور سماجی اذیت میں تڑپ رہی ہے۔ یا آپ صرف تقر ریں ہی کرتے ہیں ۔ آپ سوٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر یورپ کے ریسٹورنٹ کے آرام دہ ماحول میں پاکستان پر خوبصورت پر وقار تقاریر کرکے اور دوسروں پر الزمات لگا کر پاکستان کی اصل کرب ناک عوامی صورتحال کو نہیں بدل سکتے ۔ آپ ہی کے میڈیا کے مطابق آج صوبہ بلوچستان جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور پاکستان کا چھالیس فیصد ہے کے درالحکومت کوئٹہ کے صرف دس کلو میٹر کے اندر ہی پاکستان کا جھنڈا لہرایا جاتا ہے اور قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے بقیہ تمام بلوچستان میں بلوچوں کے اپنے پرچم اور ترانے ہیں جو وہ لہراتے ہیں اور گاتے ہیں ۔ آپ اس پاکستان کی بات کر رہے ہیں ۔ 
تین ہفتے قبل میں نے ایک بلوچی نوجوان کو جو بلوچ تنظیم بی ایس او ،، بلوچ سٹوڈنیس فیڈریشن ،، کا رہنما بھی ہے ۔ میں نے اس کو فیس بک پر دوستی کی دعوت بھجی اور اس نے جو آگے سے مجھے جواب دیا وہ شاید آپ سن نہ پائیں کیونکہ آپ بڑے محب وطن ہیں۔ اس نوجوان کے الفاظ میں جوں کے توں لکھ رہا ہوں ،، تم حرامی پنجابی اور پاکی(شراپ کے پیگ کو بد تمیزی سے پاکی کہتے ہیں اور کسی پاکستانی کو ذلیل کرنے کے لیے اسے پیگ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ برطانیہ کے پاکستانی اس لفظ سے خوب آشنا ہیں)ہم سے کیا چاہتے ہو ۔ تم کو معلوم ہے کہ ہم تم سے آزادی کی مسلح جنگ لڑ رہے ہیں ۔ تم ہمارے معاشی اور سماجی خون ریز مسائل کے ذمہ دار ہو تم قاتل ہو تم ڈاکو ہو تم نے ہمیں برباد کر دیا ہے آئندہ کبھی ایسی جرات نہیں کرنا ہماری تم سے صرف دشمنی ہے اور دوستی کھبی نہیں ہو سکتی ۔ یہ تمام عبارت آج بھی میرے پاس محفوظ ہے اگر آپ کہیں تو میں اپنی فیس بک پر اسے اوپن کر دیتا ہوں،، کیا آپ اس پاکستان کی بات کرتے ہیں،، ۔
اس نوجوان کو میں نے آپ کی طرح پاکستان اور اسلام دشمن قظعی نہیں کہا بلکہ اپنا ساتھی اور دوست کہا میں نے اس سے نفرت نہیں کی بلکہ محبت کی ۔ میں نے اسے دوتکارہ نہیں بلکہ گلے لگایا اور کہا کہ جس نظام اور حکمرانوں نے تم کو برباد کیا ہے انہوں نے ہی ہمیں بھی ذلت اور رسوائی کی موت پر مجبو ر کر دیا ہے اور آج پنجاب کی آدھی سے زائد آبادی بھوک ، ننگ ، افلاس ، بجلی، پانی، گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری سے ٹرپ رہی ہے جیسے آپ علاقائی سماجی مسائل سے تڑپ رہے ہو ۔ ہمارے تمھارے مسائل ایک ہیں ہماری جنگ ایک ہے سرمایہ داری ، جاگیر داری اور سرداری نظام کے خلاف تم ہمارے دشمن کھبی ہو ہی نہیں ہوسکتے بلکہ تم ہی تو ہمارے اصل اور حقیقی ساتھی ہو طبقاتی ساتھی اگر ہم مل جائیں تو اپنے دشمنوں کے خلاف مضبوط طاقت بن سکتے ہیں انہیں شکست دے سکتے ہیں اپنے طبقاتی دشمنوں کے خلاف ہمارا اتحاد ہی فتح کی واحد ضمانت ہے اور ہمارے اندار ٹوٹ ہی ہمارے دشمنوں کی جیت ۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس کے ساتھ میں نے چنگاری ڈاٹ کام کے چند آرٹیکل جو بلوچستان پر تھے اس کو میل کیے ۔ آج صرف یہ نوجوان ہی نہیں بلکہ بہت سارے بلوچی آج میری فیکس بک پر میرے ساتھی ہیں ۔ اور اب ہم مل کر ظلم و جبر اور استحصال کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں ۔ اب وہ مجھے پنجابی اور پاکی نہیں بلکہ کامریڈ کہتا ہے ۔ اور آپ نے اور آپ کے محب الوطن اور محب اسلام ساتھیوں نے مجھے اپنی فیس بک سے ہی نکل دیا ہے ۔ بہت اچھا کیا اس کے لیے بہت شکریہ ۔
آپ نے تو شاید جمال الدین کی ایک کتاب اور انٹرویو کو دیکھ کے انکو ملک دشمن کہا ہو لیکن آپ نے شاید بلوچستان اور سندھ میں ہر ماہ شائع ہونے والے بے شمار رسائل اور میگزین نہیں پڑھے۔
اگر پڑھنے کی خواہش ہو تو میری فیس بک پر ایک نظر ڈالیں۔ آپ جن کو محب وطن اور مسلمان کہتے ہیں ان حکمرانوں اور مذہبی درندے کے مظالم دیکھیں اور پڑھیں کہ کس طرح یہ بے گناہ اور معصوم عوام کو خونی غسل دے رہے ہیں ۔ آپ کو پورے بلوچستان، سندھ اور خیبر پختوان خواہ کے عوام پاکستان کے دشمن نظر آئے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ابھی چند دن قبل کراچی میں پاکستان اتحاد اور امن ریلی کا جو بھیانک خونی حال ہوا ہے وہ سب نے ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا ۔ اور جنہوں نے اس ریلی کایہ حال کیا وہ بھی آپ کی طرح پاکستان اتحاد اور امن کے بلند دعویدار ہیں ۔
آپ کی نظر میں وہ تمام محب وطن ہیں جنہوں نے آج پاکستان کے نام پر پاکستان کو لوٹ کر اسے بربریت کے اندھے دور میں دھکیل دیا ۔ جن سرمایہ داروں نے پہلے بازاری معیشت کے تحت عوام کے خون کا آخیری قطرہ تک نچوڑا کر پاکستان میں قوت خرید کو ختم کر دیا اور حکمرانوں سے مل کر پاکستان کو اجاڑ دیا ۔ اب جب اسکی سماجی اور معاشی حالت تباہ ہوگی ہے تو دوسرے ممالک کے عوام کا خون نچوڑنے چلے ہیں۔ یہ اپنا تمام سرمایہ ، دولت اور فیکٹریاں دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں ۔
پاکستان میں مزدوروں کو بے روزگاری اور موت کے منہ میں دھکیل کر خود پیسے کی ہوس کو پورا کرنے کے لیے ملک چھوڑ ئے جا رہے ہیں ۔ آپ کی نظر میں یقیناًیہی محب وطن ہیں ۔ جنہوں نے پاکستان کے قومی خزانے کو بڑی بے دردی سے لوٹ کر ودیسی بینکوں میں اپنی لوٹی ہوئی دولت جمع کرائی جن سامراجی ملکوں کے خلاف یہ دشمنی کا ڈنڈھورہ پیٹتے ہیں ۔آج پاکستان پر جتنے قرضے ہیں ان سے کئی گناہ زیادہ رقم آج ان محب وطنوں کی دشمن ممالک، یورپی اور امریکی بینکوں میں موجود ہے۔
ہاں وہ تمام پاکستانی عوام ملک دشمن ہیں جو مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت ، بجلی اور گیس کے خلاف محب وطنوں اور اسلام دوستو ں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ محب وطنوں اور اسلام کے عظیم ٹھکیداروں نے کراچی ، بلوچستان، وزیرستان ، خیبر پختوان خواہ اور پنجاب میں ملک اور اسلام کو بچانے کی خاطر خون کی ندیاں بہا رہے ہیں ۔ خود کش حملے کر رہے ہیں ، پورے پاکستان کو تباہی اور بربادی کی اندھی گہرائی میں دھکیل دیا ہے انہوں نے کھبی مذہب ، کھبی ملک ، کھبی قوم ، کھبی نسل اور کبھی زبان کے نام پر قتل گری اور لوٹ گھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے ، غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو عزت کی بجائے ذلت کا شکار کر دیا ہے جن سے پاکستان کو سب سے زیادہ زرمبادلہ ملتا ہے ۔ پھر بھی یہی حکمران محب وطن ہیں اور اسلام کے ٹھیکیدار ہیں ۔ اور جو ان کے خلاف احتجاج کر تے ہیں وہ کافر اور ملک دشمن ہیں ۔ تو جناب میں آپ کو یہ باور کرادوں کہ اگر یہ وحشی حکمران اور درندے ملا محب وطن اور مسلمان ہیں تو پھر آپ نے درست کہا ہم ایسے محب وطن اور مسلمان نہیں ہوسکتے اس سے ہم کافر اور ملک دشمن ہی بھلے ۔ ہم ہر ظلم و استحصال کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھائیں گئے بلکہ علمی اور عملی مذاحمت بھی کریں گئے جہاں تک ممکن ہوئی۔ آپ ہمیں ملک دشمن اور اسلام دشمن کہہ کر عوامی اور طبقاتی جدوجہد سے روک نہیں سکتے ۔ اور ویسے بھی ہم انقلابیوں پر یہ الزامات کوئی نئے نہیں ہیں اگر کوئی نئے ہوں تو وہ لائیں ۔
ہم فرقہ پرستی ، جنونیت ، جنس اور مذہب کے نام پر دوکانداری ، نفرت ، استحصال اور جبر کے مکمل خلاف ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے جس کے فرائض کی ادائیگی میں ہر ایک کو مکمل آزادی ہو ۔ ہم جہاں مذہب کے نام پر کسی کو اقلیت قرار دینا انسانی جرم سمجھتے ہیں وہاں عورتوں کو چادر ، چار دیورای اور جنس کی بنیاد پر تفریق اور استحصال کی بھی مخالفت کرتے ہیں ۔
بقول ڈاکٹر جاوید جان
مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کا فر ہیں
جو دین کا حرف آخر ہیں
ان جھوٹے اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھکیداروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہو مجھ پر ظلم کرو
جہاں سانسوں پر تعزیریں
جہاں بگڑی ہوئیں تقدیریں ہیں
ذاتوں کے کورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی ہے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں میں ناغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو
میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سر پر ظلم کا پھندہ ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں با غی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہو مجھ پر ظلم کرو
بھوک کا کوئی ملک ، مذہب ، جنس اور قوم نہیں ہوتی ۔ اور نہ ہی اس بھوک کے دوذخ میں یہ زندہ رہ سکتے ہیں ۔ پاکستان کا ایک حالیہ واقعہ شاید جو آپ کو یاد ہو کہ ایک خاندان قبروں سے مردے اکھاڑ کر کھاتے تھے اور زندگی کی سانس لے رہا تھا ۔ آپ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات کرتے ہیں یا پھر اس کی جس میں غربت کے ہاتھوں خود کرشیوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے پانچ اعشاریہ ایک فیصد کے قریب ، یا پھر اس اسلام اور پاکستان کی جس کے دوسرے بڑے شاندار اور ترقی یافتہ شہر لاہور میں ستاون ہزار نابالغ بچیاں غربت کے ہاتھوں جسم فروشی پر مجبور ہیں ۔ ۔۔۔۔ کہاں تک سناوں کہاں تک سنو گئے جناب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگر آپ سمجھا سکتے ہیں تو اس پاکستان کی تراسی فیصد عوام جو روزانہ دو ڈالر سے کم پر زندہ ہے ۔ زندگی جو ایک رحمت ہوتی ہے یہ زحمت بن چکی ہے جو جنت ہو تی ہے اسے جہنم بنا دیا گیاہے پاکستان میں آج جس عوام کی زندگی کسی بھیانک عذاب سے کم نہیں آپ ان کو پاکستان ، اسلام ، قوم ، ملک اور جمہوریت کے معنی بتائیں اور سمجھائیں ۔ جن کے نزدیک آج پاکستان اور اسلام کچھ اور ہی معنی رکھتا ہے جو یقیناًآپ سے بالکل متضاد ہیں ۔ ہاں آپ کے نزدیک پاکستان، اسلام ، جمہوریت کا مفہوم یقیناًاور ہے اور ہوگا۔ کیونکہ آپ کے وہ مسائل نہیں آپ کے وہ حالات نہیں ہیں کیونکہ اچھے مالی اور سماجی حالات میں یہ سب چیزیں بہت اچھی لگتی ہیں بلکہ جن کے پاس یہ سب کچھ ہے مال و دولت اور عیاشی کی زندگی یہ پاکستان بھی انہی کا ہے یقیناًعوام اور محنت کش طبقہ جلد ان سے چھن کر اسے اپنا پاکستان بنائیں گئے تب یہ عوامی جمہوری پاکستان ہوگا جو چند دولت مندوں اور ملاوں کا نہیں  بلکہ محنت کش عوام کا ہوگا ۔ 
بھوک ۔ بقول ساحر تہذیب کے سب آداب بھولا دیتی ہے ۔ اور اسلام میں بھی ہے کہ بھوکے پیٹ نماز جائز نہیں ۔ لیکن آپ نا جانے کس اسلام اور پاکستان کی بات کرتے ہیں جن کا تعلق یقینا عوام سے نہیں ہے ۔ اگرآپ اسلام اور دینی مداسوں کی بات کرتے ہیں تو کون سے اسلام اور اسکے کون سے دینی مدرسے کی ۔ کیونکہ آج اسلام تہتر نہیں بلکہ چوہتر پچہتر ہیں جنہیں ملائیت فرقوں کا نام دیتی ہے ۔ لیکن حقیقت میں اور عملی طور پر یہ ایک دوسرے کے ایسے خلاف ہے جیسے شاید ہندو مسلم بھی نہیں ہیں ۔ اسلام کے نام پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے جاتے ہیں۔ ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا ہے ، خود کش بمبار بھی مسلم ہیں اور اس میں مرنے والے بھی مسلم۔ مساجد ، اور امام بارگاہیں بناے والے بھی مسلمان اور انکو گرانے والے بھی مسلمان ، جنازے بھی مسلمانوں کے اور اس میں بم پھوڑنے والے بھی مسلم ، لال مسجد کو بچانے والے بھی مسلم اور اس پر مسلح حملہ کرنے والے بھی مسلم،القاعدہ بھی مسلم ، طالبان بھی مسلم بے گناہ مرنے والے عوام بھی مسلم ، پاکستان بھی مسلم ، زرداری ، نواز شریف ، الطاف بھائی بھی مسلم بھوک ، ننگ ، افلاس سے مرنے والے غریب بھی مسلم اور پاکستانی ۔آپ ذرا وضاحت کریں آپ کس اسلام اور پاکستان کی بات کرتے ہیں ۔ جس کے ہم دشمن ہیں ۔
آپ کا آخیری الزام یہ ہے کہ ہم علامہ اقبال سے اتفاق نہیں کرتے ۔ امید ہے کہ مندرجہ بالا مضمون سے آپ کوہمارا نقطہ نظر معلوم ہو گیا ہوگا کہ ہم کس سے اتفاق کرتے ہیں اور کس سے اختلاف کرتے ہیں ۔ لیکن آپ سب کے لیے عرض ہے کہ ہم ہر اس سوچ ، ریت ورواج، ثقافت، اخلاقیات ، نظام اور نظریہ کو نہ صرف فرسودہ اور پسماندہ کہتے ہیں بلکہ انسان اور سماج دشمن بھی کہتے ہیں اور اس کے خلاف مذاحمت بھی کر تے ہیں ۔ جو انسانوں کے دکھتے اور رستے مالی اورسماجی زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے اس پر نمک چھڑکے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ذاتی طور پر میں ساحر لودھیانیوی کا دلداد ہوں ۔ اس کے باوجود کہ میرا شاعرانہ پہلو کافی مضبوط نہیں ہے ۔ 
اقبال کی ذات کے خلاف ہم نہ کھبی تھے نہ ہوں گے ہم تو جناب آپ کی بھی بہت عزت کرتے ہیں شاید اقبال کی طرح نہیں لیکن اس سے کم بھی نہیں۔ ہم ذاتی طور پر ہر ایک کی عزت کرتے ہیں اور کسی کے خلاف نہیں ہیں ۔ ہم نظریاتی لوگوں کا شخصیات کی ذات پر تنقید کھبی موضوع ہی نہیں رہا ۔ ہاں البتہ پیٹی بوژوازی کی سوچ کا المیہ یہ ضرور رہاہے کہ لوگوں کو ذاتی اور مفاداتی حوالے سے دیکھو، پرکھو اور تعلقات استوار کرو ۔ اس لیے تو جو کوئی شخص نمایاں ہو تا ہے یا آپ کے مفادات کا پاسبان ہوتا ہے آپ اس کی پیغمبروں کی طرح پرستیش شروع کردیتے ہیں خدا نے بھی کہا کہ میں نے پیغمبروں کو بشر بنا کر بھیجا ۔ لیکن آپ نے کھبی یہ سننا بھی گوارا نہیں کیا ۔ اسی طرح آپ نے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو حضرت ، رضہ تعلی عنہ ہو ، رحمت اللہ اور کچھ تو علیہ اسلام بھی کہتے ہیں ۔ آپ یقیناًانہیں میں سے ہوں گئے ۔ لیکن کسی اور کی بات کیا کروں ہماری اپنی ایک محفل میں ایک دوست نے حضرت کارل مارکس رضہ تعلی عنہ ھو کہہ دیا تھا۔ لیکن یہ سوچ ہمارے حکمرانوں ، تعلیمی و تربیتی ادروں ، زرائع ابلاغ اور دینی مدرسوں نے تعمیر کی ہے ۔ تاکہ وہ افراد جو انکے مفادات اور حکمرانی، بداعنوانی، اور ظلم واستحصال کے حصول کا زریعے ہیں انکے متعلق کوئی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہو جائے یا ہمت ہی نہ کرئے ۔ یہ احساس محرومی اور رجعتی سوچ کی غلاظت ہے ۔ جو کسی بھی باشعور کے لیے قابل قبول ہی نہیں ہے بلکہ قابل نفرت بھی ہے ۔
ہم علمی اور فکری گفتگو کرتے جو کسی کی ذات پر نہیں ہوتی حالانکہ اقبال کو میں اسکی ذاتی زندگی کے حوالے سے بہت پسند کر تا ہوں جس پر آپ کو اعتزاز ہے۔ لیکن ہماری علمی محفلوں میں تنقید اور تعریف ، اختلاف اور اتفاق سبھی کچھ ہو تا کیونکہ ہم چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ جو سوچتے ہیں اس کا اظہار کریں تاکہ ذہنوں کا زنگ اور سوچوں کا جمود ٹوٹ گرئے ۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی سماجی ترقی اور تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ ہاں اس کے بغیر بھی ترقی ہو سکتی لیکن فرسودگی کی پسماندگی کی ، جہالت کی ، غلامی کی، ذلت اور محرومی کی جو آج ماشاللہ کافی ہے ۔ جسے کے خلاف ہماری جدوجہد ہے ۔ حضرت علی کا قول ہے علم حاصل کرنا ہے تو پھر سوال کرو اور تمام دنیا کے سماجی اور نفسیاتی علم دان اس پر متفق ہیں کہ تنقید ہی کسی بھی تعلیم اور علم کا آغاز ہے جبکہ اطاعت غلامی کی زنجیر ہے ۔ لیکن ہمیں سوال ، تنقید اور علمی بات چیت سے ایسے دور رکھا جاتا ہے جیسے حضرت آدم کو ایک شجر سے دور رہنے کا حکم تھا ۔ لیکن آج کاسوال یہ کہ کیا وہ اس درخت سے دور رہے ؟ 

اکتیس مئی دو ہزار تیرہ 

فرینکفرٹ ، جرمنی 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh